نماز میں کن آیتوں کی قراءت کے بعد کہنا چاہئے؟
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قَرَأَ مِنْکُمْ وَالتَّتِیْنِ وَا لزَّیْتُوْنِ فَانْتَھٰی اِلَی اَلَیْسَ اﷲُ بِاَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ فَلْیَقُلْ بَلٰی وَاَنَّا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ وَمَنْ قَرَاَ لَا اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَانْتَھٰی اِلَی اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی اَنْ یُحْیَی الْمَوْتٰی فَلْیَقُلْ بَلٰی وَمَنْ قَرَأَ وَ الْمُرْسَلَاتِ فَبَلَغَ فَبَأَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہ، یَؤْمِنُوْنَ فَلْیَقُلْ اٰمَنَّا بِاﷲِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ التِّرْمِذِیُّ اِلَی قَوْلِہٖ وَاَنَا عَلَی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نا مدار ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو آدمی سورت وا لتین و الزیتوں پڑھے اور (اس آیت) (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ ) 95۔ التین 8) یعنی کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟ پر پہچنے تو یہ الفاظ کہا کرے بلی و انا علی ذلک من الشھدین (یعنی ہا! اور میں اس کی شہادت دینے والوں میں سے ہوں) اور جو آدمی سورت لا اقسم بیوم القیمۃ پڑھے اور (اس آیت) الیس ذلک بقدر علی ان یحییٰ الموتی (یعنی کیا اس اللہ) کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے) پر پہچنے تو کہے بلی (یعنی ہاں وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے) اور جو آدمی سورت والمرسلات پڑھے اور اس (آیت) فبای حدیث بعدہ یومنون یعنی اس کے بعد یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے) تو کہے امنا باللہ (یعنی ہم اللہ پر ایمان لائے) ابوداؤد اور ترمذی نے اس روایت کو (والتین کی آیت) وانا علی ذلک من الشاھدین تک نقل کیا ہے۔
تشریح
ان آتیوں یا اس قسم کی دوسری آیتوں کے جواب دینے کے سلسلے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ خواہ یہ آیتیں نماز میں پڑھی جائیں یا نماز سے باہر پڑھی جائیں بہر صورت ان کے جواب میں مذکورہ الفاظ کہنے چاہئیں اور نماز خواہ نفل ہو یا فرض۔ حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ نماز سے باہر پڑھنے اور نفل نمازوں میں قرأت کرنے کی شکل میں تو جواب دینا چاہیے فرض نمازوں میں نہیں! حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ صرف نماز سے باہر پڑھنے کی صورت میں جواب دیا جائے نماز میں نہیں، خواہ فرض ہو یا نفل تاکہ یہ وہم نہ ہوجائے کہ یہ الفاظ بھی قرآن ہی کے ہیں۔ علامہ تور پشتی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی حدیث کے ظاہری اطلاق پر نظر کرتے ہوئے کہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم تو نمازی کے بارے میں ہے (لہٰذا چاہیے کہ یہ جواب نماز میں بھی دیئے جائیں) تو ہم کہیں گے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ حکم نفل نمازوں کے بارے میں ہو، فرض نمازوں کے بارے میں نہ ہو۔ کیونکہ خود آقائے نامدار ﷺ کے بارے میں حضرت حذیفہ ؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات (یعنی تہجد، کی نماز میں جب کسی آیت پر پہنچتے جس میں رحمت الٰہی کا ذکر ہوتا تھا تو آپ ﷺ اس جگہ قرأت روک کر پروردگار سے طلب رحمت کی درخواست کیا کرتے تھے اور جب کسی آیت پر پہنچتے جس میں عذاب الہٰی کا ذکر ہوتا تھا تو آپ ﷺ اس جگہ قرأت روک کر پروردگار کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے نیز یہ کہ آپ ﷺ کے اس معمول یا حکم کو کسی صحابی نے بھی جہری فرائض نماز کے سلسلے میں روایت نہیں کیا ہے۔
نماز میں کن آیتوں کی قراءت کے بعد کہنا چاہئے؟
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَی اَصْحَابِہٖ فَقَرَأَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃَ الرَّحْمٰنِ مِنْ اَوَّلِھَا اِلَی اٰخِرْھَا فَسَکَتُوْا فَقَالَ لَقَدْ قَرَأْ تُھَا عَلَی الْجِنِّ لَیْلَۃَ الْجِنِّ فَکَانُوْا اَحْسَنُ مَرْدُوْدًا مِنْکُمْ کَنْتُ کُلَّمَا اٰتَیْتُ عَلٰی قَوْلِہٖ فَبِاَیِّ اٰلَا ءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ قَالُوْ الَا بِشَیْ ءٍ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ( ایک دن) آقائے نامدار ﷺ اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے سورت رحمن اول تا آخر پڑھی صحابہ خاموشی اختیار کئے رہے۔ آپ ﷺ نے (جب سورت ختم کرلی تو) فرمایا کہ یہ سورت میں نے جنات کے سامنے اس رات میں پڑھی تھی جبکہ وہ اسلام قبول کرنے اور قرآن سننے کے لئے) جمع ہوئے تھے اور وہ جواب دینے میں تم سے بہتر تھے چناچہ جب میں اس آیت (فَبِاَيِّ اٰلَا ءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) 55۔ الرحمن 13) (یعنی اللہ کی کون سے نعمتوں کو تم جھٹلاتے ہو؟ ) پر پہنچتا تو وہ یہ جواب دیتے لا بشی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد (یعنی اے پروردگار! ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے اور تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
دونوں رکعتوں میں ایک سورت پڑھنا
عَنْ مُعَاذِ ابْنِ عَبْدِا ﷲِ الْجُھَنِی قَالَ اِنَّ رَجُلًا مِنْ جُھَیْنَۃَ اَخْبَرَہ، اَنَّہ، سَمِعٌ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَرَأَ فِی الصُّبْحِ اِذَا زُلْزِلَتْ فِی الرَّکْعَتَیْنِ کِلْتَیْھِمَا فَلَا اَدْرِی اَنَسِیْ اَمْ قَرَأَذٰلِکَ عَمْدًا۔ (ابوداؤد)
حضرت معاذ ابن عبدا اللہ جہنی (رح) (تابعی) فرماتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے آقائے نامدار ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں سورت اذازلزلت الارض پڑھتے سنا ہے اور میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے قصد ایسا کیا تھا یا آپ ﷺ بھول گئے تھے۔ (ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت اذا زلزلت الارض اس طرح پڑھی کی پہلی رکعت میں پوری سورت پڑھی پھر دوسری رکعت میں بھی وہی سورت پوری پڑھی اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایسا قصدا بیان جواز کے لئے کیا تھا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اصل سنت اس طرح بھی ادا ہوجاتی ہے۔ ویسے جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے تو بات یہی ہے کہ افضل عدم تکرار ہے۔ یعنی ایک ہی سورت دو رکعتوں میں مکرر نہ پڑھی جائے اور خصوصا فرائض میں تو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔
دونوں رکعتوں میں ایک سورت پڑھنا
وَعَنْ عُرْوَۃَ قَالَ اِنَّ اَبَابَکْرِ الصِّدِّیْقَ صَلَّی الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِیْھِمَا بِسُوْرَۃِ البَقَرَۃِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ کِلْتَیْھِمَا۔ (رواہ امام مالک)
اور حضرت عروہ ابن زبیر (رح) (تابعی) فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فجر کی نماز پڑھی اور دونوں رکعتوں میں سورت بقرہ پڑھی۔ (مالک)
تشریح
دونوں رکعتوں میں سورت بقرہ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سورت کا کچھ حصہ تو آپ ﷺ نے ایک رکعت میں پڑھا اور کچھ حصہ دوسری رکعت میں اور یہ بھی بیان جواز کے لئے کیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس پر مداومت ثابت نہیں ہے آپ ﷺ اکثر ایک رکعت میں پوری سورت ہی پڑھتے تھے دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت اس طرح متفرق طور پر پڑھانا نادر ہے۔
حضرت عثمان نماز فجر میں سورت یوسف کثرت سے پڑھتے تھے
وَعَنِ الْفَرَافَصَۃِ بْنِ عُمَیْرِ الْحَنَفِیِّ قَالَ مَا اَخَذْتُ سُوْرَۃَ یُوْسُفَ اِلَّا مِنْ قِرَاءَ ۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ اِیَّا ھَا فِی الصُّبْحِ مِنْ کَثْرَۃِ مَا کَانَ یُرَدِّدُھَا۔ (رواہ مالک)
اور حضرت فرافصہ (رح) ( فرافصہ مدینہ طیبہ کے رہنے والے اور مشہور تابعی ہیں۔ آپ قبیلہ بنی حنفیہ کی طرف نسبت کی وجہ سے حنفی کہے جاتے ہیں) ابن عمیر حنفی (تابعی) فرماتے ہیں کہ میں نے سورت یوسف، حضرت عثمان بن عفان ؓ سے (سن سن کر) یاد کی ہے کیونکہ وہ اس سورت کو فجر کی نماز میں کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ (مالک)
تشریح
اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ علماء تو نمازوں میں کسی خاص متعین سورت پر مداوت کرنے کو مکروہ لکھتے ہیں تاکہ قرآن کی بقیہ سورتوں کا ترک کرنا لازم نہ آئے حالانکہ حضرت عثمان ؓ کا یہ معمول اس کے منافی ہے تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ علماء جو مکروہ لکھتے ہیں اس سے ان کی مراد تمام نمازوں میں کسی متعین سورت پر مداومت کرنا ہے اور حضرت عثمان ؓ کا جو معمول ثابت ہے وہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو صرف فجر کی نماز ہی میں سورت یوسف بہت کثرت سے پڑھتے تھے تمام نمازوں میں نہیں۔ بعض علماء نے سورت یوسف کا یہ اثر نقل کیا ہے کہ سورت یوسف کے پڑھنے پر مداومت کرنا شہادت کی سعادت حاصل ہونے کا سبب ہے جس کا واضح ثبوت خود حضرت عثمان ؓ کی ذات گرامی ہے کہ آپ شہید ہوئے۔
حضرت عثمان نماز فجر میں سورت یوسف کثرت سے پڑھتے تھے
وَعَنْ عَامِرِ ابْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ صَلَّیْنَا وَرَاءَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِیْھِمَا بِسُوْرَۃِ یُوْسُفَ وَ سُوْرَۃِ الْحَجِّ قِرَاءَ ۃً بَطِیْئَۃً قِیْلَ لَہُ اِذَا لَقْدَ کَانَ یَقُوْمُ حِیْنَ یَطْلُعُ الْفَجْرُ قَالَ اَجَلْ۔ (رواہ امام مالک)
اور حضرت عامر ابن ربیعہ ( حضرت عامر آل خطاب کے حلیف تھے۔ آپ کی کنیت ابوعبداللہ ہے آپ بدر اور دوسرے غزوات میں شریک رہے اور ٣٢ ھ میں آپ کی وفات ہوئی) فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) ہم نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی۔ انہوں نے دونوں رکعتوں میں سورت یوسف اور سورت حج کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ کسی نے حضرت عامر سے پوچھا کہ حضرت عمر ؓ فجر کے طلوع ہوتے ہی (نماز کے لئے) کھڑے ہوجاتے ہوں گے؟ (یعنی وہ اول وقت میں نماز شروع کردیتے ہوں گے کیونکہ اتنی طویل قرأت جب ہی ممکن ہے) انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ (مالک)
تشریح
فجر کی نماز کے لئے اول وقت کھڑے ہوجانا متفقہ طور پر سب کے نزدیک جائز ہے لہٰذا یہ حدیث جواز پر محمول ہے مختار یعنی اولیت پر نہیں۔ اس لئے کہ اس حدیث سے کسی طرح بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عمر ؓ ہمیشہ اول وقت کھڑے ہوتے تھے۔
حضرت عثمان نماز فجر میں سورت یوسف کثرت سے پڑھتے تھے
وَعَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ مَا مِنَّ المُفَصَّلِ سُوْرَۃٌ صَغِیْرَۃٌ وَلَاکَبِیْرَۃٌ اِلَّا قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَؤُمُّ بِھَا النَّاسِ فِی الصَّلَاِۃ المَکْتُوْبَۃِ۔ (رواہ مالک)
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا ( حضرت عبدا اللہ) سے نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ مفصل کی کوئی بھی چھوٹی بڑی سورت ایسی نہیں ہے جو میں نے آقائے نامدار ﷺ سے لوگوں کو فرض نماز پڑھاتے وقت نہ سنی ہو۔ (مالک)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے بیان جواز کے طور پر مفصل کی سورتیں مختلف اوقات میں نمازوں میں پڑھ کر لوگوں کو بتادیا کہ نماز میں ہر سورت کا پڑھنا جائز ہے۔
حضرت عثمان نماز فجر میں سورت یوسف کثرت سے پڑھتے تھے
وَعَنْ عَبْدِا ﷲِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَرَأَرَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ بِحٰم ا لدُّخَانِ رَوَاہُ النَّسَائِیُّ مُرْسَلًا۔
اور حضرت عبدا اللہ ابن عتبہ ابن سعود (تابعی) فرماتے ہیں کہ آقائے نا مدار ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورت حم دخان پڑھی ہے اس روایت کو نسائی نے مرسلاً نقل کیا ہے (کیونکہ عبدا اللہ ابن عتبہ تابعی ہیں)۔
تشریح
یہاں دونوں ہی احتمال ہیں کہ یا تو آپ ﷺ نے مغرب کی دونوں رکعتوں میں حم دخان پوری سورت پڑھی یا پھر یہ کہ اس کا کچھ حصہ تھوڑا تھوڑا کر کے دونوں رکعتوں میں پڑھا۔ وا اللہ اعلم
لغت میں رکوع کے معنی جھکنا ہیں اور اصطلاح شریعت میں یہ نماز کا ایک رکن ہے یعنی وہ حالت ہے جب کہ قیام میں قرأت سے فارغ ہو کہ جھکتے ہیں جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے اس بارے میں یہ امتیاز امت محمدیہ کو ہی حاصل ہے کہ رکوع صرف اسی امت کی نماز میں مشروع ہے دوسری امتوں کی نمازوں میں مشروع نہیں تھا۔
رکوع و سجود کو ٹھیک طریقے سے ادا کرنا چاہیے
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَقِےْمُوا الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ فَوَاللّٰہِ اِنِّی لأَرٰکُمْ مِنْ بَعْدِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ آقاء نامدار ﷺ نے فرمایا مسلمانو! رکوع اور سجود ٹھیک طریقے سے کیا کرو، اللہ کی قسم میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھ لیا کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اقیموا الرکوع والسجود کا مطلب یہ ہے کہ رکوع و سجود قاعدہ کے مطابق اور ٹھہر ٹھہر کر نہایت اطمینان و سکون کے ساتھ کیا کرو۔ ان ارکان کو جلدی جلدی ادا نہ کیا کرو کہ جس سے نہ رکوع ہی پوری طرح ادا ہو اور اور نہ سجدہ ہی حقیقی معنے میں کہلانے کا مستحق ہو۔ اپنے پیچھے سے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم لوگ میرے سامنے ہونے کی صورت میں نظر آتے ہو اسی طرح ازراہ معجزہ تم لوگ میرے پیچھے رہنے کی حالت میں بھی میری نظروں میں رہتے ہو اور تمہاری حرکات و سکنات سب پر میری نظر رہتی ہے۔ اس مسئلے کی وضاحت اچھے طریقے پر باب صفۃ الصلوۃ کی تیسری فصل میں کی جا چکی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا قومہ و سجدہ
عَنِ الْبَرَآئِ قَالَ کَانَ رُکُوْعُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَسُجُوْدُہُ وَبَےْنَ السَّجْدَتَےْنِ وَاِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوْعِ مَا خَلَا الْقِےَامَ وَالْقُعُوْدَ قَرِےبًا مِنَ السَّوَآئِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت براء ابن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ قیام و قعود کے علاوہ آقائے نامدار ﷺ کا رکوع، سجدہ، دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور رکوع سے سر اٹھانا یہ چاروں چیزیں مقدار میں تقریباً برابر ہوتی تھیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ارکان نماز کی مقدار اس طرح بیان کی جاری ہے کہ چار ارکان یعنی رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ سب آپس میں تقریباً برابر ہوتے تھے البتہ قیام میں چونکہ قرأت کرتے تھے اور قعود میں التحیات پڑھتے تھے اس لئے یہ دونوں ارکان بقیہ ارکان کے مقابلہ میں طویل ہوتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کا قومہ و سجدہ
وَعَنْ اَنَسٍ صقَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَاقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ قَامَ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ اَوْھَمَ ثُمَّ ےَسْجُدُ وَےَقْعُدُ بَےْنَ السَّجْدَتَےْنِ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ اَوْھَمَ۔ (مسلم
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نا مدار ﷺ جب سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر (رکوع سے) کھڑے ہوتے تو (اتنی دیر تک ٹھہرے رہتے کہ ہم (اپنے دل میں) کہنے لگتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت چھوڑ دی پھر آپ سجدے میں جاتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ ہم (اپنے دل میں) کہتے کہ آپ ﷺ نے یہ سجدہ چھوڑ دیا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت انس ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو قومہ میں کافی دیر تک کھڑے رہا کرتے تھے یہاں تک کہ بسا اوقات آپ ﷺ کا اتنی دیر تک قومہ میں رہنا ہمیں اس گمان میں مبتلا کردیتا تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے اس رکعت کو کہ جس کے رکوع سے آپ ﷺ فارغ ہوئے ہیں ختم کردیا ہے اور اب از سر نو نماز شروع کردی ہے اس طرح آپ ﷺ سجدے سے اٹھ کر دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ ہمیں خیال گزرتا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے اس سے پہلے سجدے کو کہ جس سے ابھی آپ ﷺ نے سر اٹھایا ہے ختم کردیا ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قومہ و جلسہ میں اتنی طوالت نفل نمازوں میں کرتے ہوں گے اور یہ بھی امکان ہے کہ بیان جواز کی خاطر فرض نمازوں میں بھی کبھی کبھی کرلیتے ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ کا قومہ و سجدہ
وَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یُکْثِرُ اَنْ ےَّقُوْلَ فِیْ رُکُوْعِہٖ وَسُجُودِہٖ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ےَتَاَوَّلُ الْقُرْآن۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ قرآن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے رکوع و سجود میں یہ دعا بہت کثرت سے پڑھتے تھے۔ سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی اے اللہ تو پاک ہے، اے ہمارے پروردگار! میں تیری تعریف بیان کرتا ہوں، اے اللہ تو میرے گناہ بخش دے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قرآن میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ فسبح بحمد ربک واستغفرہ یعنی اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کرو اور اس سے مغفرت مانگو اس لئے رسول اللہ ﷺ اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کے لئے رکوع و سجود میں اپنے پروردگار کی تسبیح و تعریف کرتے اور اس سے مغفرت مانگتے تھے کیونکہ خشوع و خضوع کے تمام مواقع و احوال میں رکوع و سجود ہی افضل ترین مواقع و محل ہیں۔ بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ رکوع و سجود کے علاوہ بھی اس دعا کا ورد کرتے تھے چناچہ بعض احادیث میں مذکور ہے کہ سورت اذاجاء کہ جس میں یہ آیت مذکور ہے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کا آخر عمر میں یہی ذکر تھا۔
رسول اللہ ﷺ کا قومہ و سجدہ
وَعَنْھَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖ سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ اپنے رکوع و سجود میں یہ کہا کرتے تھے۔ سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح فرشتوں اور روح (یعنی جبرائیل) کا پروردگار بہت پاک ہے اور نہایت پاک ہے۔ (صحیح مسلم)
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلَا اِنِّی نُھِیتُ اَنْ اَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاکِعًا وَسَاجِدًا فَاَمَّا الرُّکُوْعُ فَعَظِّمُوْا فِیہِ الرَّبَّ وَاَمَّا السُّجُوْدُ فَاجْتَھِدُوْا فِی الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ اَنْ یستَجَابَ لَکُمْ۔ (مسلم
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا لوگو خبردار رہو! مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں اس حالت میں رکوع یا حالت سجدہ میں قرآن پڑھوں! لہٰذا تم رکوع میں اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرو اور سجدے میں دعا کی پوری پوری کوشش کیا کرو۔ مناسب ہے کہ یہ دعا تمہارے لئے قبول کی جائے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
بعض حضرات تو فرماتے ہیں کہ یہ نہی تنزیہی ہے اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ نہی تحریمی ہے اور قیاس بھی یہی کہتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز کی تمام حالتوں (ہیتوں میں سے ہر حالت وہیبت کو ذکر کی انواع میں سے ہر ایک نوع کو ذکر کے لئے مقرر کیا ہے مثلاً قیام کو جو کہ نماز کی تمام حالتوں وہیتوں میں سب سے زیادہ افضل اور رکن اعظم ہے قرآن پڑھنے کے لئے مقرر کیا ہے جو تمام اذکار میں سے سب سے افضل و اعلیٰ درجے کا ذکر ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی جانب سے حالت قیام کو صرف قرآن پڑھنے کے لئے مقرر کرنے کے بعد کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کے خلاف کیا جائے اور اگر کوئی اس کے خلاف کرے گا تو وہ یا فعل حرام کا مرتکب ہوگا یا اس کا یہ فعل مکروہ ہوگا۔ اسی طرح دوسرے ارکان کے بارے میں قیاس کیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع و سجود میں قرآن پڑھوں کیونکہ رکوع و سجود اس لئے مقرر کئے گئے ہیں کہ ان میں پروردگار عالم کی بڑائی بیان کی جائے اور دعا مانگی جائے۔ رکوع میں بڑائی بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سبحان ربی العظیم پڑھو۔ سجدہ میں دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے تو سمجھ لیجئے کہ دعا کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ دعا کی ایک قسم تو یہ ہوتی ہے کہ پروردگار سے اپنے مطلب و مراد کے لئے درخواست کی جائے اور دعا کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ پروردگار کی حمد و ثنا اور تکبیر کی جائے اور اس کے ذکر میں مشغول رہا جائے کیونکہ رحیم و کریم کی تعریف وغیرہ بیان کرنا اور اس کے ذکر میں مشغول رہنا بھی حقیقت میں دعا ہی ہے۔ لہٰذا سجدے میں کثرت سے دعا کرنے کا جو حکم فرمایا گیا ہے وہ دونوں قسم کی دعاؤں پر شامل ہے اس سے معلوم ہوا کہ حنفیہ کا ذکر پر اکتفا کرنا اور صریحا دعا سے منع کرنا بھی دعا کے حکم میں عین بجا آوری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ من شغلہ ذکری عن مسلتی اعطیتہ افضل اعطی السائلین (یعنی جس آدمی کو میرے ذکر نے مجھ سے سوال کرنے سے روکا (اس طرح کہ وہ آدمی میرے ذکر میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجھ سے سوال نہ کرسکا) تو میں اس آدمی کو اس چیز سے کہ جو مانگنے والوں کو دیتا ہوں (بہتر (چیز) بخشتا ہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ آدمی اس وقت پروردگار کے ذکر میں خلوص دل سے مشغول رہے۔ بعض محققین حنفیہ نے ان دونوں چیزوں میں یہ تطبیق دی ہے کہ نوافل میں تو صریح دعا مانگنی چاہئے اور فرائض میں صرف تسبیحات پر اکتفاء کرنا چاہئے۔
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَالَ الِامَامُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدَُفَاِنَّہُ مَنْ وَّافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِغُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا۔ جب امام (رکوع سے اٹھتے ہوئے) سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم لک الحمد کہو کیونکہ جس آدمی کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ہم آہنگ ہوجائے تو اس کے پہلے کئے ہوئے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس موضوع سے متعلق باب القرائۃ کی پہلی فصل میں اچھی طرح وضاحت کی جا چکی ہے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی عمل اختیار کرے گا تو انشاء اللہ اس وعدے کے مطابق اس کے تمام صغیرہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ کبیرہ گناہوں کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے گا تو انہیں بھی ازراہ فضل و کرم بخش دے گا کیونکہ اس کی ذات بڑی رحیم و کریم اور غفور ہے۔
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ اَوْفٰی صقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا رَفَعَ ظَھْرَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْأُ السَّمٰوٰتِ وَمِلْأُالْاَرْضِ وَمِلْأُ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ءٍ بَعْدُ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب رکوع سے اپنی پشت مبارک اٹھاتے تو یہ کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اس آدمی کی حمد کو جس نے اس کی حمد و ثنا کی۔ اے اللہ اور اے ہمارے پروردگار! تیرے ہی لئے تمام تعریف ہے آسمانوں بھرنے، زمین بھرنے اور بقدر بھر نے اس چیز کو جس کو تو آسمانوں اور زمینوں کے بعد پیدا کرنا چاہئے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حنفیہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں مذکورہ کلمات میں ربنا لک الحمد کے بعد کے کلمات یعنی ملا السموت سے آخر تک صرف نفل نمازوں میں پڑھنے چاہئیں۔ فرائض میں نہیں
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدِنِ الْخُدْرِیِّص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا رَفَعَ رَاسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَالَ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْأُالسَّمٰوٰتِ وَمِلْأُ الْاَرْضِ وَمِلْأُ مَا شِئْتَ مِنْ شَےْئٍ بَعْدُ اَھْلَ الثَّنَآءِ وَالْمَجْدِ اَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کہتے تھے اے اللہ اور اے ہمارے پروردگار! تیرے ہی لئے تمام تعریف ہے آسمانوں بھرنے زمین بھرنے اور اس چیز کے بھرنے کی بقدر جس کو تو آسمانوں اور زمین کے بعد پیدا کرنا چاہے۔ اے ہر قسم کی تعریف اور بزرگی کے مستحق تیری ذات اس تعریف سے بالاتر ہے جو بندہ کرتا ہے ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔ اے اللہ! تو نے جو چیز عطا فرما دی ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو نے دینے سے روک دیا اس کو کوئی دینے والا نہیں اور دولتمند کو اس کی دولتمندی تیرے عذاب سے کوئی نفع نہیں دیتی (یعنی عذاب سے نہیں بچا سکتی )۔ (صحیح مسلم)
وَعَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍص قَالَ کُنَّا نُصَلِّیْ وَرَآءَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقَالَ رَجُلٌ وَّرَآءَ ہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِےْرًا طَےِّبًا مُّبَارَکًا فِےْہِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ مَنِ الْمُتَکَلِّمُ اٰنِفًا قَالَ اَنَا قَالَ رَاَےْتُ بِضْعَۃً وَّثَلٰثِےْنَ مَلَکًا ےَّبْتَدِرُوْنَھَا اَےُّھُمْ ےَکْتُبُھَا اَوَّلُ۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت رفاعہ ابن رافع ؓ فرماتے ہیں کہ ہم آقائے نامدار ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے چناچہ آپ ﷺ جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ (یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی حمد و ثنا کو قبول کیا جس نے اس کی حمد و ثنا کی) کہتے (ایک دن آپ ﷺ نے جب رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات کہے تو) ایک آدمی نے جو آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا کہا ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ (یعنی اے ہمارے پروردگار! تیرے لئے ہی تعریف اور بہت تعریف ہے (ایسی تعریف) جو (شرک و ریا کی آمیزش سے) پاک اور (کثرت اخلاص و حضوری قلب کی وجہ سے) بابرکت ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ابھی (ان کلمات کو) کون پڑھ رہا تھا؟ اس آدمی نے عرض کیا کہ میں تھا! آپ ﷺ نے فرمایا میں نے کچھ اوپر تیس فرشتوں کو دیکھا جو آپس میں اس بات میں جلدی کر رہے تھے کہ ان کلمات کے ثواب کو پہلے کون لکھے۔ (صحیح البخاری )
تعدیل ارکان کا حکم اور ائمہ کے مسلک
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاتُجْزِیُّ صَلَاۃُ الرَّجُلِ حَتّٰی یُقِیْمَ ظَھْرَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَ السُّجُوْدِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ التِّرْمِذِیُّ وَ النِّسَائِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ وَ قَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔
اور حضرت ابومسعود انصاری ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا کسی آدمی کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ رکوع اور سجدے میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی) اور امام ترمذی نے فرمایا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
شرح منیۃ المصلی میں لکھا ہے کہ تعدیل ارکان یعنی رکوع و سجود میں اتنا ٹھہرنا کہ جسم کے تمام اعضاء بدن اپنی اپنی جگہ آجائیں۔ اس حدیث کی بنا پر حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک، حضرت امام احمد بن حنبل اور حنفیہ میں حضرت امام بو یوسف رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کے نزدیک فرض ہے اور اس کی ادنیٰ مقدار ایک تسبیح کے بقدر ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک تعدیل ارکان واجب ہے۔ پھر منیۃ المصلی میں یہ بھی لکھا ہے کہ رکوع سے اٹھ کر کھڑے ہونا یعنی قومہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا یعنی جلسہ اور طمانیت یہ سب چیزیں بھی حضرت امام ابویوسف کے نزدیک فرض اور حضرت امام ابوحنفیہ و حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک سنت ہیں۔ علامہ ابن ہمام (رح) کی رائے یہ ہے کہ قومہ اور جلسہ کے بارے میں مناسب اور بہتر یہ ہے کہ ان دونوں کو واجب کہا جائے۔ وا اللہ اعلم۔