نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 6 of 27

802Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے روز نماز فجر کی قراءت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الْفَجْرِ ےَوْ مَ الْجُمُعَۃِ بِاَلۤمّ تَنْزِےْلُ فِی الرَّکْعَۃِ الْاُوْلٰی وَفِی الثَّانِےَۃِ ھَلْ اَتٰی عَلیَ الْاِنْسَانِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جمعہ کے روز نماز فجر کی پہلی رکعت میں الم تنزیل اور دوسری رکعت میں ھل اتی علی الانسان پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرات شوافع اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جمعہ کے روز نماز فجر میں حدیث میں مذکورہ سورتیں ہی پڑھنی چاہئیں مگر حنفیہ چونکہ تعین سورت سے منع کرتے ہیں اس لئے فرماتے ہیں کہ یہ اولیٰ نہیں ہے کہ کسی خاص سورت کو کسی روز خاص نماز کے ساتھ اس طرح متعین کرلیا جائے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسری سورت پڑھی ہی نہ جائے۔ ان حضرات کے نزدیک تعین قرأت و سورت کی ممانعت کی وجہ صرف یہ ہے کہ اگر کسی خاص نماز کے ساتھ کسی خاص سورت کو متعین کردیا جائے گا تو لوگ اسی ایک سورت کو لازم و واجب سمجھ کر پڑھیں گے اور اس کے علاوہ دوسری سورتوں کو پڑھنا مکر وہ سمجھیں گے۔ ہاں اگر کوئی آدمی مثلاً اس حدیث کے مطابق جمعہ کے روز نماز فجر کی پہلی رکعت میں الم تنزیل سورت السجدہ) اور دوسری رکعت میں ھل اتی علی الانسان (سورۃ دہر) حضرت ﷺ کی قرأت کی برکت حاصل کرنے اور اتباع سنت کے جذبے سے پڑھا کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ ان سورتوں کے علاوہ کبھی کبھی کوئی دوسری سورت بھی پڑھ لیا کرے تاکہ کم علم اور عوام یہ نہ سمجھیں کہ ان سورتوں کے علاوہ کوئی دوسری سورت پڑھنی جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حنفیہ کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس عمل پر رسول اللہ ﷺ کا دوام ثابت نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کبھی کبھی یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے لہٰذا کبھی کبھی پڑھنا تو ہر آدمی کے لئے افضل ہے۔ اس موقعہ پر یہ مسئلہ بھی سن لیجئے کہ اگر کوئی آدمی صبح کی نماز میں سورت سجدہ پڑھے تو اسے سجدہ تلاوت بھی کرنا چاہئے اگرچہ شوافع کے کچھ علماء نے بعض ایام میں امام کے لئے اس کو ترک کرنا ہی اولیٰ قرار دیا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ سے سجدہ تلاوت کرنا ہی ثابت ہے۔

803Mishkaat-al-Masabih

نماز جمعہ کی قراءت

وَعَنْ عُبَےْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ قَالَ اْستَخْلَفَ مَرْوَانُ اَبَا ھُرَےْرَۃَ عَلَی الْمَدِےْنَۃِ وَخَرَجَ اِلٰی مَکَّۃَ فَصَلّٰی لَنَا اَبُوْ ہُرَےْرَۃَ الْجُمُعَۃَ فَقَرَأَ سُوْرَۃَ الْجُمُعَۃِ فِی السَّجْدَۃِ الْاُوْلٰی وَفِی الْاٰخِرَۃِ اِذَا جَآءَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ بِھِمَا ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عبیداللہ ابن رافع ؓ فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو مدینہ میں خلیفہ (یعنی اپنا قائم مقام گورنر) مقرر کیا اور خود مکہ چلا گیا چناچہ (اس کی عدم موجودگی میں) حضرت ابوہریرہ ؓ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی اور انہوں نے پہلی رکعت میں سورت جمعہ اور دوسری رکعت میں سورت اذا جائک المنافقون پڑھی اور فرمایا کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کو جمعہ کے روز (یعنی نماز جمعہ) ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (صحیح مسلم)

804Mishkaat-al-Masabih

نماز عیدین و جمعہ کی قراءت

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِےْرٍص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الْعِےْدَےْنِ وَفِی الْجُمُعَۃِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی وَھَلْ اَتٰکَ حَدِےْثُ الْغَاشِےَۃِ قَالَ وَاِذَا اجْتَمَعَ الْعِےْدُ وَالْجُمُعَۃُ فِیْ ےَوْمٍ وَّاحِدٍ اَقَرَأَ بِھِمَا فِی الصَّلٰوتَےْنِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ عیدین و جمعہ کی نماز میں سبح اسم ربک الاعلی اور ھل اتاک حدیث الغاشیۃ (یہ سورتیں) پڑھا کرتے تھے۔ اور حضرت نعمان فرماتے ہیں کہ جب عید اور جمعہ ایک دن جمع ہوجاتے تو آپ ﷺ (عید و جمعہ میں) کی دونوں نمازوں میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کی عیدین اور جمعہ کی نماز میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب موکدہ ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے۔

805Mishkaat-al-Masabih

نماز عیدین و جمعہ کی قراءت

وَعَنْ عُبَےْدِ اللّٰہِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ اَبَا وَاقِدٍ اللَّےْثِیَّ مَا کَانَ ےَقْرَأُ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ فَقَالَ کَانَ ےَقْرَأُ فِےْھِمَا بِقۤ وَالْقُرْآنِ الْمَجِےْدِ وَاِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبیدا اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت ابو وا قد لیثی سے پوچھا کہ آقائے نامدار ﷺ عید اور بقر عید کی نماز میں کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ان دونوں نمازوں میں سورت ق والقران المجید اور سورت اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت عمر فاروق ؓ رسول اللہ ﷺ سے کمال قرب رکھتے تھے اور آپ ﷺ کے احوال و کوائف سے بخوبی واقف تھے اس لئے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے حضرت ابو واقد لیثی سے یہ سوال اس لئے کیا تھا تاکہ ان نمازوں میں رسول اللہ ﷺ کی قرأت کے بارے میں جان سکیں البتہ یہ کہا جائے گا کہ اس سوال سے ان کا مقصد یہ تھا کہ حاضرین اس سوال و جواب سے رسول اللہ ﷺ کی قرأت کا علم بخوبی حاصل کرسکیں اور اس واقفیت کو اپنے ذہن میں قائم رکھ سکیں۔

806Mishkaat-al-Masabih

فجر کی نماز سنت کی قراءت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَرَأَ فِیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ قُلْ ےَآ اَےُّھَا الْکٰفِرُوْنَ وَقُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ فجر کی دونوں سنت رکعتوں میں سورت قل یا ایھا الکافرون و قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے۔ (رواہ صحیح مسلم)

807Mishkaat-al-Masabih

فجر کی نماز سنت کی قراءت

وَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِیْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ قُوْلُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَےْنَا وَالَّتِیْ فِیْ اٰلِ عِمْرَانَ قُلْ ےَۤا اَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَاءٍ بَےْنَنَا وَبَےْنَکُمْ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ فجر کی دونوں سنت رکعتوں میں سورت بقرہ کی یہ آیت قولوا امنا باللہ وما انزل الینا اور (سورۃ آل عمران کی) یہ آیت قل یا اھل الکتب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح پہلی آیت جو سورت بقرہ کی ہے پورے طور پر یوں ہے۔ آیت (قُوْلُوْ ا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰ ى اِبْرٰھ مَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَا اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَا اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَه مُسْلِمُوْنَ ) 2۔ البقرۃ 163) (مسلمانو! ) کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسحق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا ہوئیں ان پر اور جو دیگر پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں ان سب پر (ایمان لائے) ہم ان پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدا واحد) کے فرمانبردار ہیں۔ دوسری آیت جو سورت آل عمران میں ہے وہ پوری یہ ہے۔ آیت ( قُلْ یَاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدُ اِلَّا اللہ وَلَا نُشْرِکَ بِہ شَیْأً وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ ا فَاِنْ تَوَلَوْا فَقُوْلُوْا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔ (ال عمران ٣ ٦٤) (اے محمد ﷺ فرما دیجئے کہ اے اہل کتاب (یہودیو اور عیسائیو جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں ( تسلیم) کی گئی ہے اس کی طرف آؤ۔ وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے۔ اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (اللہ کے) فرما نبردار ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ فجر کی سنتوں میں کبھی کبھی تو یہ دونوں آیتیں پڑھتے ہوں گے اور اکثر بیشتر قل یا ایہا لکافرون اور قل ھو اللہ احد پڑھتے ہونگے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں سورت کا کچھ حصہ خاص طور سے سورت کے درمیان سے پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔

808Mishkaat-al-Masabih

ابتداء نماز میں بسم اللہ پڑھنا

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَفْتَتِحُ صَلَا تَہ، بِبِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ لَیْسَ اِسْنَادَہُ بِذَاکَ۔

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں آقائے نامدار ﷺ اپنی نماز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرتے تھے اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ہے۔ تشریح بسم اللہ سے شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ابتدا نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم آہستہ آواز سے پڑھتے اس کے بعد قرأت شروع کرتے تھے۔ آہستہ آواز کی قید اس لئے لگائی ہے تاکہ یہ حدیث پہلے گذرنے والی احادیث کے خلاف نہ رہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی نماز کی ابتداء الحمد اللہ رب العالمین سے فرمایا کرتے تھے۔ میرک شاہ نے کہا ہے کہ امام جامع ترمذی کا اس کو ضعیف الاسناد کہنا محل غور ہے کیونکہ یہ حدیث حسن ہے اور اس کی اسناد بالکل صحیح ہے۔

809Mishkaat-al-Masabih

آمین بآواز بلند کہی جاے یا آہستہ

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَرَأَ غَیْرَ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِیْنَ فَقَالَ اٰمِیْنَ مَدَّبِھَا صَوْتَہ،۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤ، والدارمی و ابن ماجۃ)

اور حضرت وائل ابن حجر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ نے (نماز میں) غیر المغضوب علیھم ولا الضالین پڑھا اور پھر دراز آواز سے آمین کہی۔ (ابوداؤ، دارمی، جامع ترمذی ) تشریح دراز آواز سے آمین کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے آمین بآواز بلند کہی یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے لفظ آمین میں الف کو مد کے ساتھ یعنی کھینچ کر کہا۔ آمین کہنے کا مسئلہ بھی ائمہ کے یہاں مبحث فیہ ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ بات جاننی چاہیے کہ اس مسئلے میں تو سب ائمہ متفق ہیں کہ سورت فاتحہ کے بعد آمین کہنا ہر نمازی کے لئے سنت ہے خواہ منفرد ہو یا امام کے ساتھ اسی طرح مقتدی کو بھی آمین کہنا سنت ہے خواہ امام کہے یا نہ کہے۔ اب اختلاف اس چیز میں ہے کہ آیا آمین بآواز بلند کہی جائے یا آہستہ آواز سے؟ چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک آمین بآواز بلند کہنی چاہئے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک آمین آہستہ آواز سے کہنی چاہئے چناچہ وہ ان احادیث کے بارے میں جن سے آمین بآواز بلند کہنا ثابت ہے اور جو شافع وغیرہ کی مستدل ہیں یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام احادیث اس بات پر محمول ہیں کہ ابتداء اسلام میں آپ ﷺ تعلیم کی خاطر آمین بآواز بلند کہتے تھے تاکہ صحابہ کرام یہ جان لیں کہ سورت فاتحہ کے بعد آمین کہنا چاہئے۔ صحابہ جب یہ سیکھ گئے تو آپ ﷺ آمین آہستہ آواز سے کہنے لگے چناچہ حضرت ابن ہمام (رح) نے کہا ہے کہ احمد، ابویعلی، طبرانی، دارمی اور حاکم نے شعبہ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ علقمہ ابن عائل اپنے والد مکرم حضرت وائل سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے (یعنی وائل) نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی چناچہ رسول اللہ ﷺ جب غیر المغضوب علیھم ولا الضالین پر پہنچے تو آہستہ آواز سے آمین کہی۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں امام کو آہستہ آواز سے پڑھنا چاہئے۔ (١) اعوذ با اللہ (٢) بسم اللہ (٣) سبحانک اللہم (٤) آمین حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ بھی آمین آہستہ آواز سے کہتے تھے اس کے علاوہ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کلمات دعا کو آہستہ آواز سے پڑھنا ہی اولی اور صحیح ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ) 7۔ الاعراف 55) یعنی اپنے رب سے دعا گڑ گڑا کر اور چپکے سے کرو۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آمین بھی دعا ہی ہے لہٰذا آمین کو آہستہ سے کہنا اس آیت عمل پر کرنا ہے۔ نیز یہ کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ آمین قرآن کا لفظ نہیں ہے اس لئے مناسب یہی ہے کہ اس کی آواز قرآن کے الفاظ کی آواز سے ہم آہنگ نہ ہو جس طرح کی مصحف (یعنی اوراق قرآن) میں لکھنا جائز نہیں ہے۔

810Mishkaat-al-Masabih

آمین کی برکت

وَعَنْ اَبِیْ زُھَیْرٍ النُّمَیْرِیِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَاٰ تَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ قَدْ اَلَحْ فِی الْمَسَاَلَۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَوْجَبَ اِنْ خَتَمَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بَاَیِّ شَیْئٍ یَخْتِمُ قَالَ بِاٰۤمِیْنَ۔(رواہ ابوداؤد)

اور حضرت ابوزہیر نمیری فرماتے ہیں کہ ایک رات کو ہم آقائے نامدار ﷺ کے ہمراہ (باہر) نکلے اور ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو دعا کرنے میں از حد ازاری کر رہا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واجب کیا اگر ختم کیا ایک آدمی نے پوچھا کہ (یا رسول اللہ ﷺ کس چیز کے ساتھ ختم کرے؟ فرمایا آمین کے ساتھ۔ (ابوداؤد) تشریح واجب کیا اگر ختم کیا کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آدمی اپنی دعا پر آمین کہہ کر مہر لگا دے یا آمین پر ختم کر دے تو اس کے لئے جنت و مغفرت واجب ہوگئی یعنی یہ جنت و مغفرت کا حق دار ہوگیا یا اس کی دعا قبول ہوگئی۔ ختم کے دو معنی نقل کئے گئے ہیں مہر لگانا یا ختم کرنا۔ پہلے معنی اس حدیث امین خاتم رب العالمین کی مناسب سے زیادہ اولی و بہتر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آمین اللہ رب العالمین کی مہر ہے اس کی وجہ سے آفات و بلائیں ختم ہوتی ہیں جس طرح سے کہ مہر سے خط محفوظ رہتا ہے یا وہ چیزیں قابل اعتماد ہوتی ہیں جن پر مہر لگی ہوئی ہوتی ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنے پروردگار سے دعا مانگے تو اس کو چاہئے کہ دعائیہ کلمات کہنے کے بعد آمین بھی کہے تاکہ اس کی برکت کی وجہ سے وہ بارگاہ قاضی الحاجات میں مقبولیت کے مرتبے سے نوازی جائے اور وہ دعا کامل رہے کیونکہ آمین بمنزلہ مہر کے ہے۔

811Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ مغرب میں طویل قراءت بھی کرتے تھے

وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ اِنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی الْمَغْرِبَ بِسُوْرَۃٍ الْاَعْرَافِ فَرَّقَھَا فِیْ رَکْعَتَیْنِ۔ (رواہ النسائی )

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورت اعراف (اس طرح) پڑھی کہ اسے دونوں رکعتوں میں تقسیم کردیا۔ (سنن نسائی) تشریح یوں تو رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز میں قرأت مختصر کرتے تھے مگر کبھی کبھی آپ ﷺ بیان جواز کے لئے طویل قرأت بھی کرتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ مغرب کی نماز میں طویل قرأت کرنا جائز ہے۔ چناچہ مغرب کی نماز میں سورت اعراف پڑھنا اسی مقصد کے تحت تھا جہاں تک تنگی وقت کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مغرب کا وقت طویل قرأت کی گنجائش رکھتا ہے خصوصاً جب شفق کا اطلاق سفیدی پر کیا جائے۔ دونوں رکعتوں میں تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس سورت کا کچھ حصہ تو پہلی رکعت میں پڑھا اور کچھ حصہ دوسری رکعت میں۔ اس طرح پوری سورت کو دونوں رکعتوں میں ختم کیا۔

812Mishkaat-al-Masabih

معوذتین کی فضیلت

وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ کُنْتُ اَقُوْدُ لِرَ سُوْلِ صلی اللہ علیہ وسلم نَاقَتَہ، فِی السَّفَرِ فَقَالَ لِیْ یَا عُقْبَۃُ اَلَا اُعَلِّمُکَ خَیْرَ سُوْرَتَیْنِ قُرِائَتَا فَعَلَّمَنِیْ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ فَلَمْ یَرٰنِیْ سُرِرْتُ بِھِمَا جِدًا فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ صَلَّی بِھِمَا صَلَاۃَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ اِلْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ یَا عُقْبَۃُ کَیْفَ رَاَیْتَ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابوداؤالنسائی )

اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں آقائے نامدار ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑے چل رہا تھا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں جو پڑھی گئی ہیں (یعنی مجھ پر نازل کی گئی ہیں) نہ بتلا دوں؟ چناچہ آپ ﷺ نے مجھے (معوذتین یعنی) قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سکھائیں۔ عقبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ان دونوں سورتوں سے زیادہ خوش نہیں دیکھا۔ پھر جب آپ ﷺ صبح کی نماز پڑھنے کے لئے اترے تو لوگوں کو نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھائیں۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا عقبہ! تم نے (ان کی فضیلت کو) دیکھا؟۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح بہترین سورتوں کا مطلب یہ ہے کہ شیطان مردود کے مکر و فریب اور نفس کی گمراہی سے اللہ کی پناہ مانگنے کے سلسلہ میں معوذتین بہترین سورتیں ہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عقبہ ؓ کو یہ سورتیں سکھانے کے بعد جب دیکھا کہ وہ ان سورتوں کو دیکھ کر کچھ زیادہ خوش نہیں ہوئے کیونکہ دوسری سورتوں کی طرح ان سورتوں میں اللہ کی وحدانیت اور پاکیزگی کا بیان نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں انہیں سورتوں کو پڑھ کر فرمایا کہ عقبہ! تم نے اس سورتوں کی فضیلت دیکھی کہ میں نے ان کو فجر کی نماز میں جو تمام نمازوں سے افضل نماز ہے اور جس میں طویل قرأت کرتا مستحب ہے پڑھا۔

813Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے روز نماز مغرب کی قراءت

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقْرَاُ فِیْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ لَیْلَۃَ الجُمُعَۃِ قُلْ یَا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ وَقُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَدٌ رَوَاہُ فِیْ شَرْحِ السُّنَّۃِ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ لَیْلَۃَ الجُمُعَۃِ۔

اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جمعہ کے روز مغرب کی نماز میں قل یا ایھا الکافرون اور قال ھو اللہ احد پڑھا کرتے تھے یہ حدیث شرح السنتہ میں منقول ہے اور ابن ماجہ نے یہ حدیث عبداللہ ابن عمر سے ؓ نقل کی ہے لیکن اس میں لیلۃ الجمعۃ کے الفاظ نہیں ہیں۔ تشریح حدیث میں مغرب سے مغرب کی فرض نماز مراد ہے یعنی آپ جمعہ کے روز مغرب کی فرض نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے اور یہ بھی احتمال ہے کہ نماز مغرب سے مغرب کی سنتیں مراد ہوں۔ وا اللہ اعلم ابن حبان نے قل ھو اللہ کے الفاظ کے بعد یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ وفی العشاء سورت الجمعۃ والمنافقون یعنی شب جمعہ میں آپ ﷺ عشاء کی نماز میں سورت جمعہ اور سورت منافقون پڑھا کرتے تھے۔ ابن مالک نے کہا ہے کہ یہ حدیث یا اسی قسم کی دوسری حدیث دوام پر محمول نہیں ہیں یعنی آپ ﷺ کا یہ ہمیشہ کا معمول نہیں تھا۔ بلکہ کبھی آپ دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے اور کبھی ان سورتوں کی قرأت کرتے تھے تاکہ لوگ یہ جان لیں کہ ہر ایک سورت کو پڑھنا جائز ہے۔ کسی خاص سورت کو پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

814Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے روز نماز مغرب کی قراءت

وَعَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ مَا اُحْصِیْ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقْرَاُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃَ الْفَجْرِ بِقُلْ یَااَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ وَقُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَدٌ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ َبعْدَ الْمَغْرِبْ۔

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کتنی مرتبے آقائے نامدار ﷺ کی مغرب کی نماز کے بعد اور فجر کی نماز سے پہلے دونوں سنتوں میں قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد پڑھتے سنا ہے اس حدیث کو ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا مگر ان کی روایت میں بعد المغرب کے الفاظ نہیں ہیں۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی دونوں سنتوں اور فجر کی دونوں سنتوں میں قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد دونوں سورتیں اتنی کثرت سے پڑھا کرتے تھے کہ میں ان کا شمار نہیں کرسکتا۔

815Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے روز نماز مغرب کی قراءت

وَعَنْ سُلَیْمَانَ ابْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ مَا صَلَّیْتُ وَرَاءَ اَحَدٍ اَشْبَہَ صَلَاۃٍ بِرَ سُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ فُلَانٍ قَالَ سُلَیْمَانُ صَلَّیْتُ خَلْفَہ، فَکَانَ یُطِیْلُ الرَّکْعَتَیْنِ الْاُوْلَیَیْنِ مِنَ الظُّھْرِ وَ یُخَفِّفُ الْاُ خْرَیَیْنِ وَیُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَیَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَیَقْرَأُ فِی الْعِشَاءِ بِوَسْطِ المُصَفَّلِ وَیَقْرَأُ فِی الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ رَوَاہُ النِّسَائِیُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ اِلٰی وَیُخَفِّفُ الْعَصْرَ۔

اور حضرت سلیمان ابن یسار (رح) (تابعی) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کسی آدمی کے پیچھے آقائے نامدار ﷺ کی نماز کے مشابہ نماز نہیں پڑھی مگر فلاں آدمی کے پیچھے سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے بھی اس آدمی کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں کو طویل پڑھتے تھے اور آخری دونوں رکعتوں کو ہلکی پڑھتے تھے، عصر کی نماز میں تخفیف کرتے تھے۔ مغرب کی نماز میں قصار مفصل اور عشاء میں اوساط مفصل اور فجر کی نماز میں طوال مفصل پڑھا کرتے تھے اور ابن ماجہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے مگر ان کی روایت صرف و یخفف العصر تک ہے (سنن نسائی ) تشریح فلاں آدمی کے تعین کے سلسلے میں بعض حضرات تو یہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات مراد ہے اور بعض حضرات کی رائے ہے فلاں آدمی سے مراد وہ آدمی ہے جس کو خلیفہ مروان نے مدینہ میں حاکم مقرر کر رکھا تھا۔ اس حدیث میں ظہر اور عصر کی قرأت کا اجمالی طور پر ذکر کیا ہے یہ نہیں کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز میں طوال مفصل پڑھتے تھے۔ بلکہ صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ ظہر کی نماز میں طویل قرأت کرتے تھے۔ اسی طرح عصر کی نماز کے بارے بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ اس میں قصار مفصل پڑھتے تھے یا اوساط مفصل؟ صرف اتنا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ عصر کی نماز میں تخفیف کرتے تھے بہر حال نمازوں کی قرأت کے سلسلے میں فقہاء نے ایک اصول و نہج بنایا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ نمازوں میں قرأت کرنے کے سلسلے میں عملی طور پر کوئی خلجان واقع نہ ہو اور وہ یہ کہ فجر اور ظہر کی نماز میں طوال مفصل و عصر اور عشاء میں اوساط مفصل اور مغرب قصار مفصل پڑھی جائیں۔ اس مسئلہ کی وضاحت اس سے پہلے بھی ایک حدیث کی تشریح کے ضمن میں کی جا چکی ہے اور وہاں اس کے اصطلاحی ناموں کی تعریف بھی کی گئی ہے چناچہ ایک مرتبہ پھر سمجھ لیجئے کہ فقہاء کی اصطلاح میں مفصل سے سورت حجرات سے سورت والناس تک کی سورتیں مراد ہیں ان سورتوں کو مفصل اس لئے کہا گیا ہے کہ فصل کے معنی جدا ہونے کے ہیں چناچہ سورت حجرات سے ان چھوٹی چھوٹی سورتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو ایک دوسری سے درمیان میں بسم اللہ ہونے کی وجہ سے جدا ہوتی چلی جاتی ہیں۔ پھر مفصل یعنی سورت حجرات سے سورت و الناس تک کی سورتوں کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ (١) چھوٹی سورتیں (٢) متوسط سورتین (٣) بڑی سورتیں۔ سورت حجرات سے سورت بروج تک کو طوال مفصل یعنی مفصل کی بڑی سورتیں فرماتے ہیں۔ سورت بروج سے سورت لم یکن (البینہ) تک کو او ساط مفصل یعنی مفصل کی متوسط سورتیں فرماتے ہیں۔ اور سورت لم یکن سے سورت و الناس تک کو قصار مفصل کی چھوٹی سورتیں کہتے ہیں۔

816Mishkaat-al-Masabih

امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھنے کا بیان

وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامَتِ قَالَ کُنَّا خَلْفَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ فَقَرَاَ افَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَۃُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لَعَلَّکُمْ تَقْرَأُوْنَ خَلَفْ اِمَامِکُمْ قُلْنَا نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ لَا تَفْعَلُوْا اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَاِنَّہ، لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأبِھَا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ التِّرْمِذِیُّ وَلِلنِّسَائِیُّ مَعْنَاہُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِاَ بِیْ دَاؤدَ قَالَ وَاَنَا اَقُوْلُ مَالِیْ یُنَازِ عُنِی الْقُرْآنُ فَلَا تَقْرَأُوْ بِشَیْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ اِذَا جَھَرْتُ اِلَّا بِاُمِّ الْقُرْآنْ۔

اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ہم لوگ فجر کی نماز میں آقائے نامدار ﷺ کے پیچھے تھے آپ ﷺ نے جب قرأت شروع کی تو آپ ﷺ پر پڑھانا بھاری ہوگیا۔ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ شاید تم لوگ امام کے پیچھے قرأت کیا کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا سوائے سورت فاتحہ کے کچھ نہ پڑھا کرو اس لئے کہ جو آدمی یہ سورت نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی) نسائی نے یہ روایت بالمعنی نقل کی ہے اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ ﷺ نے (صحابہ کا جواب سن کر) فرمایا جب ہی تو میں یوں کہتا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے کہ قرأت مجھ پر بھاری ہو رہی ہے، جب میں بآواز بلند پڑھا کروں تو تم لوگ بجز سورت فاتحہ کے اور کچھ مت پڑھا کرو۔ تشریح رسول اللہ ﷺ نماز میں بآواز بلند قرأت کر رہے تھے، آپ ﷺ کے پیچھے مقتدی صحابہ کرام بجائے اس کے کہ خاموشی اختیار کر کے آپ ﷺ کی قرأت سنتے خود بھی قرأت کرنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقتدیوں کی قرأت رسول اللہ ﷺ کی قرأت پر اثر انداز ہوئی اور آپ ﷺ کی نماز میں خربطہ پیدا ہوا جس کی وجہ سے آپ ﷺ کے لئے قرأت کرنا مشکل ہوگیا کیونکہ بسا اوقات کامل چیز پر ناقص چیز بھی اثر انداز ہوجاتی ہے جیسا کہ کتاب الطہارت کی ایک حدیث میں گذر چکا ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں قرأت شروع کی اور پھر اچانک رک گئے اور پھر اس رکنے کا سبب یہ بیان کیا کہ کچھ ایسے لوگ میرے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں جو ٹھیک طرح سے وضو نہیں کرتے یعنی ان کا وضو نا قص رہ جاتا ہے جو میری نماز و قرأت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بظاہر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ائمہ کے ہاں (اس مسئلے میں) اختلاف ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ امام اور منفرد یعنی تنہا نماز پڑھنے والے کے لئے سورت فاتحہ پڑھنا واجب ہے مگر مقتدی کے لئے واجب نہیں ہے خواہ نماز بلند آواز کی ہو یا آہستہ آواز کی۔ اس کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے آیت ( وَاِذَا قُرِي َ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَه وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ) 7۔ الاعراف 204) (نماز میں) جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور خاموشی اختیار کرو۔ امام صاحب اس حدیث کو ابتداء پر محمول کرتے ہیں یعنی یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا پھر بعد میں منسوخ ہوگیا۔

817Mishkaat-al-Masabih

امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنْصَرَفَ مِنْ صَلَاۃٍ جَھَرَ فِیْھَا بِا لْقِرْاءَ ۃِ فَقَالَ ھَلْ قَرَأَ مَعِیَ اَحَدٌ مِنْکُمْ اٰنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ اِنِّیْ اَقُوْلُ مَالِیْ اُنَازَعُ الْقُرْاٰنَ قَالَ فَانْتَھَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَ ۃِ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْمَا جَھَرَ فِیْہِ بِالْقِرَائَۃِ مِنَ الصَّلٰواتِ حِیْنَ سَمِعُوْا ذٰلکِ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ۔&& (رواہ مالک و احمد بن حنبل و بوداؤدو الترمذیو النسائی و روی ابن ماجۃ نحوہ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) آقائے نامدار ﷺ (جہری) نمازی سے جس میں قراءت بآواز بلند کی جاتی ہے فارغ ہوئے (اور نمازیوں کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟ ایک آدمی نے عرض کیا ہاں! یا رسول اللہ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( میں جبھی تو دل میں) کہتا تھا کہ کیا ہوگیا ہے کہ میں قرآن پڑھنے میں الجھتا ہوں حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے یہ سنا تو ان نمازوں میں جن میں رسول اللہ ﷺ قرأت بآواز بلند کرتے تھے آپ کے ساتھ قرأت کرنے سے رک گئے۔ (مالک، مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے بصراحت سے معلوم ہوگیا ہے کہ صحابہ جہری نماز میں امام کے پیچھے مطلقاً کچھ نہیں پڑھتے تھے نہ تو سورت فاتحہ کی قراءت کرتے تھے اور نہ کسی دوسری سورت و آیت کی لہٰذا حنفیہ کا مسلک ثابت ہوا کہ امام کے پیچھے مقتدیوں کے لئے قرأت کرنا جائز نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث اس سے پہلے گذرنے والی حدیث کے لئے ناسخ ہو جس میں کہا گیا ہے کہ امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھنی چاہئے کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ بعد میں اسلام لائے ہیں اس لئے ان کی روایت کردہ حدیث بھی اس حدیث کے بعد کی ہوئی اور ظاہر ہے کہ بعد کا حکم پہلے حکم کے لئے ناسخ ہوا کرتا ہے۔

818Mishkaat-al-Masabih

امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھنے کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالبَیَا ضِیِّ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ المُصَلِّیَ یُنَاجِیْ رَبَّہ، فَلْیَنْظُرْ مَا یُنَا جِیْہِ وَلَا یَجْھَرُ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ بِالْقُرْاٰنِ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اور حضرت بیاضی روایت کرتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا نمازی اپنے پروردگار سے (حالت نماز میں) مناجات کرتا ہے لہٰذا اسے چاہئے کہ جو مناجات وہ کرتا ہے اس پر غور کرے (یعنی ذکر و قرأت حضور قلب اور خشوع اور خضوع کے ساتھ کرے) اور قرآن کو پڑھنے میں تم میں سے کوئی ایک دوسرے سے اونچی آواز نہ کرے۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی قرآن پڑھے خواہ نماز میں پڑھے یا نماز کے علاوہ پڑھے تو اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی آواز دوسرے نمازی یا دوسرے قاری کی آواز سے اونچی نہ ہو۔ اس طرح کسی ذکر کرنے والے یا سونے والے کے سامنے بھی اونچی آواز سے نہ پڑھے تاکہ ان لوگوں کو اس کی وجہ سے تکلیف نہ پہچنے

819Mishkaat-al-Masabih

امام کی متابعت ضروری ہے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَہَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا جُعِلَ الْاِ مَامُ لِیُؤْ تَمَ بِہٖ فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُ وْاوَاِذَا قَرَأَ فَاَ نْصِتُوْا۔ (رواہ ابوداؤد والنسائی و ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح فاذا اکبر فکبروا کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ ابن حجر عسقلانی (رح) نے فرمایا ہے کہ مقتدی تکبیر، امام کے تکبیر کہنے کے بعد کہیں۔ نہ تو اس کے ساتھ ساتھ کہیں اور نہ اس سے پہلے کہیں اور یہ حکم تکبیر تحریمہ میں تو واجب ہے البتہ دوسری تکبیرات میں مستحب ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء فاذا قرا سے مراد مطلق ہے یعنی خواہ امام بلند قراءت کرے یا آہستہ سے پڑھے۔ دونوں صورتوں میں مقتدیوں کو خاموشی سے اس کی قرأت سننا چاہئے اس کے لئے آپ ﷺ نے فانصتوا یعنی چپ رہو فرمایا۔ فا ستمعوا یعنی سنو نہیں فرمایا ارشاد ربانی ہے۔ آیت (وَاِذَا قُرِي َ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَه وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ) 7۔ الاعراف 204) یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو (بلند آواز سے پڑھنے کی صورت میں) اسے سنو اور آہستہ آواز سے پڑھنے کی صورت میں) خاموش رہو۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ امام کے پیچھے مقتدیوں کے لئے کچھ پڑھنا مطلقاً ممنوع ہے خواہ نماز جہری (بآواز بلند ہو یا سری بآواز آہستہ) سورت فاتحہ کی قراءت میں ائمہ کے مسلک حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مقتدی کو سورت فاتحہ پڑھنا خواہ نماز جہری ہو یا سری واجب ہے اور سورت فاتحہ کے علاوہ کوئی سورت وغیرہ پڑھنا جائز ہے۔ حضرت امام احمد، حضرت امام مالک اور ایک قول کے مطابق خود حضرت امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا بھی مسلک یہ ہے کہ مقتدی کے لئے سورت فاتحہ کا پڑھنا صرف سری نماز میں واجب ہے جہری نماز میں محض امام کی قرأت سننا کافی ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے ہاں خواہ نمازی سری ہو یا جہری دونوں صورتوں میں مطلقاً قرأت مقتدی کے لئے ممنوع ہے نیز صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک بھی مقتدی کو پڑھنا مکروہ ہے۔ حضرت امام محمد جو حضرت امام اعظم کے جلیل القدر شاگرد اور فقہ حنفیہ کے امام ہیں فرماتے ہیں کہ صحابہ کی ایک جماعت کے قول کے مطابق امام کے پیچھے مقتدی اگر سورت فاتحہ کی قرأت کرے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ لہٰذا احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ عمل اس دلیل پر کیا جائے جو زیادہ قوی اور مضبوط ہو، چناچہ حنفیہ کی دلیل یہ حدیث ہے۔ الحدیث ( مَنْ کَانَ لَہ اِمامٌ فَقِرَاءَ ۃٌ الْاِ مَام قِرَاءَ ۃٌ لَہ،۔ یعنی (نماز میں) جس آدمی کا امام ہو تو امام کی قرأت ہی اس (مقتدی) کی قرأت ہوگی۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔ البخاری و مسلم کے علاوہ سب ہی نے اسے نقل کیا ہے اور ہدایہ میں تو یہاں تک مذکورہ ہے علیہ اجماع الصحابۃ یعنی اسی پر صحابہ کا اتفاق تھا۔

820Mishkaat-al-Masabih

جو آدمی قراءت پر قادر نہ ہو وہ کیا پڑھے

وَعَنْ عَبْدِا ﷲِ بْنِ اَبِیْ اَوْ فٰی قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَال اِنَّی لَا اَسْتَطِیْعُ اَنْ اَخُذَ مِنَّالقُرْاٰنِ شَیْئًا فَعَلِّمْنِی مَا یُحْزِئُنِی قَالَ قُلْ سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ قَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲ ھٰذَا لِلّٰہِ فَمَاذَا الِی قَالَ قُلْ اَللّٰھُمَّ رْحَمْنِی وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِی وَارْزُقْنِی فَقَالَ ھٰکَذَا بَیَدَیْہِ وَقَبَضَھُمَا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَّا ھَذَا فَقَدْ مَلَا یَدَیْہِ مِنَ الْخَیْرِرَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَانْتَھَتْ رِوَایَۃُ النَّسَائِیِّ عِنْدَ قَوْلِہٖ اِلَّا بِاﷲِ۔

اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آقائے نامدار ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں (فوری طور پر) قرآن میں سے کچھ یاد کرلینے پر قادر نہیں ہوسکتا اس لئے آپ ﷺ مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو میرے لئے کافی ہو آپ ﷺ نے فرمایا تم یہ پڑھ لیا کرو سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر و لا حول ولا قوۃ الا باللہ یعنی اللہ پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ بہت بڑا ہے، گناہوں سے بچنے کی توفیق اور عبادت کرنے کی طاقت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو اللہ کے لئے ہے میرے لئے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اپنے لئے) تم یہ پڑھ لیا کرو۔ اللھم ارحمنی وعافنی واھدنی وارزقنی یعنی اے پروردگار مجھ پر رحم فرما، مجھ کو عافیت سے رکھ! مجھے ھدایت عطا کر! اور مجھے رزق دے پھر اس آدمی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کیا اور ان کو بند کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس آدمی نے اپنے دونوں ہاتھ نیکی سے بھر لئے۔ (سنن نسائی کی روایت الا باللہ تک ختم ہوگئی ہے)۔ تشریح حدیث کے آخری جملوں کا مطلب یہ ہے کہ جب سائل نے قرأت کا کوئی بدل دریافت کیا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے بتادیا تو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور ان کو بند کیا اور اپنے اس عمل سے گویا اس بات کا اقرار کیا کہ آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے میں نے اسے سچ و برحق جانا اور اسے یقین و اعتماد کے ساتھ اپنے دل و دماغ میں جا گزین کرلیا ہے جس طرح کہ جب کسی آدمی کو کوئی قیمتی و اعلی چیز ہاتھ لگتی ہے تو وہ اس چیز کو اپنی مٹھی میں بند کرلیتا ہے۔ مصنف مشکوٰۃ (علیہ الرحمتہ) نے اس حدیث کو باب القرائۃ میں نقل کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سائل قرآن میں سے اتنا بھی یاد نہ کرسکتا تھا جس سے اس کی نماز درست ہوجاتی۔ مگر یہاں ایک اشکال واقع ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بات کچھ بعید ہی معلوم ہوتی ہے کہ ایک آدمی جو عربی زبان سے پوری طرح واقف تھا کیا وہ اتنا بھی یاد نہ کرسکتا تھا کہ وہ نماز میں پڑھ سکے۔ پھر یہ کہ جتنے کلمات اسے بتائے گئے ہیں۔ اگر وہ ان کلمات کی بقدر بھی قرآن میں سے کچھ یاد کرلیتا تو اس کی نماز کی ادائیگی کے لئے کافی تھا۔ اس اشکال کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ سائل اسی وقت مسلمان ہوا تھا کہ نماز کا وقت آگیا اور چونکہ وہ فوری طور پر اس قادر نہیں ہوسکتا تھا کہ قرآن میں سے کچھ یاد کرسکے اس لئے آسانی و سہولت کے پیش نظر یہ کلمات سکھا دئیے گئے۔ یا پھر اس حدیث کو ابتدائے اسلام پر محمول کیا جائے گا کہ ان دونوں احکام و مسائل کے نفاذ کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ آسانی و سہولت کو پیش نظر رکھا گیا تھا یہ توجیہ زیادہ اولیٰ ہے۔

821Mishkaat-al-Masabih

احکام الہیٰ پر رسول اللہ ﷺ کے عمل کی ایک مثال

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَلنَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا قَرَأَ سَبْحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی قَالَ سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلٰی۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نا مدار ﷺ جب (کسی نماز میں) سبح اسم ربک الا علی پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلی کہتے تھے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد) تشریح رسول اللہ ﷺ احکام الہٰی پر کس قدر عمل کرتے تھے؟ اس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے آپ ﷺ کی زندگی کا بنیادی اصول یہی تھا کہ پروردگار عالم جو حکم دے فوراً اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اس کے بعد اس حکم پر اپنے متبعین کو بھی عمل کرائیں۔ چناچہ آپ ﷺ جب بھی نماز میں سورت اعلیٰ پڑھا کرتے تھے چونکہ اس سورت کے ابتدائی الفاظ سبح اسم ربک الاعلی کا مطلب ہے کہ اپنے پروردگار کی پاکی بیان کرو جو بلند مرتبہ ہے اس لئے آپ اس حکم کی بجا آواری یہ کہہ کر کیا کرتے تھے کہ سبحان ربی الاعلی میں اپنے پروردگار کی پاکی بیان کرتا ہوں جو بلند مرتبہ ہے۔