رسول اللہ ﷺ نماز میں دو جگہ خاموشی اختیار کرتے تھے
وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّہ، حَفِظَ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سَکْتَتَیْنِ سَکْتَۃً اِذَا کَبَّرَ وَ سَکْتَۃً اِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَ ۃِ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ فَصَدَّقَہ، اُبَیُّ بْنُ کَعْبِ۔ (رواہ ابوداؤد رووی الترمذی و ابن ماجۃ والدارمی نحوہ)
اور حضرت سمرۃ ابن جندب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے آقائے نامدار ﷺ سے دو سکتے (یعنی چپ رہنا) یاد رکھے ہیں۔ ایک سکتہ تو تکبیر تحریمہ کہہ لینے کے بعد اور ایک سکتہ آپ ﷺ اس وقت کرتے تھے جب آیت (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ ) پڑھ کر فارغ ہوتے تھے۔ حضرت ابی ابن کعب نے (بھی سمرہ کے) اس قول کی تصدیق کی ہے۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
تکبیر تحریمہ کے بعد خاموشی اختیار کرنے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ اس وقت بآواز بلند نہیں پڑھتے تھے چناچہ اس موقعہ پر دعائے استفتاح (یعنی سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ الخ) پڑھنے کے لئے خاموشی اختیار کرنا تمام آئمہ کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ دوسری جگہ یعنی سورت فاتحہ ختم کرنے کے بعد خاموشی اختیار کرنا حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک سنت ہے تاکہ مقتدی اس عرصے میں سورت فاتحہ پڑھ لیں اور امام کے ساتھ منازعت لازم نہ آئے جو ممنوع ہے حنفیہ اور مالکیہ مسلک میں سورت فاتحہ پڑھنے کے بعد خاموشی اختیار کرنا مکروہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نماز میں دو جگہ خاموشی اختیار کرتے تھے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا نَھَضَ مِنَ الرَّکْعَۃِ الثَّانِےَۃِ اِسْتَفْتَحَ الْقِرَآءَ ۃَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِےْنَ وَلَمْ ےَسْکُتْ ھٰکَذَا فِیْ صَحِےْحِ مُسْلِمٍ ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب دوسری رکعت پڑھنے کے بعد اٹھتے تو الحمد اللہ رب العالمین شروع کردیتے تھے اور خاموش نہ رہتے تھے (صحیح مسلم) اس روایت کو حمیدی نے اپنی کتاب افراد میں ذکر کیا ہے۔ نیز صاحب جامع الاصول نے بھی اس روایت کو مسلم سے نقل کیا ہے۔
تشریح
چونکہ یہ وہم ہوسکتا تھا کہ دوسری رکعت کے بعد دوسرا شفعہ شروع ہونے کے وقت شاید سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ پڑھنے کے لئے خاموشی اختیار کرتے ہوں اس لئے حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس کی وضاحت کردی کہ جب آپ ﷺ دوسری رکعت کے بعد دوسرے شفعہ کے لئے اٹھتے تھے تو سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ نہیں پڑھتے تھے بلکہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِینَ شروع کردیتے تھے۔ یہ بھی محتمل ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ جب آپ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تھے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِینَ کردیتے تھے۔ واللہ اعلم۔
تکبیر تحریمہ کے بعد کی دعا
عَنْ جَابِرْ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ اِنَّ صَلَا تِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ، وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَ عْمَالِ وَاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ لَا یَھْدِیْ لِاَ حْسَنِھَا اِلَّا اَنْتَ وَقِنِیْ سَیِّئَ الْاَعْمَالِ وَسَیِّئَ الْاَ خْلَاقِ لَا یَقِیْ سَیِّئَھَا اِلاَّ اَنْتَ۔ (رواہ النسائی )
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب نماز شروع کرتے تو (پہلے) تکبیر تحریمہ (یعنی اللہ اکبر) کہتے پھر یہ دعا پڑھتے اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ، وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَ عْمَالِ وَاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ لَا یَھْدِیْ لِاَ حْسَنِھَا اِلَّا اَنْتَ وَقِنِیْ سَیِّئَ الْاَعْمَالِ وَسَیِّئَ الْاَ خْلَاقِ لَا یَقِیْ سَیِّئَھَا اِلاَّ اَنْتَمیری نماز میری عبادت میری زندگی اور میری موت (سب کچھ) پروردگار عالم ہی کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان (یعنی فرما نبردار) ہوں۔ اے اللہ! نیک اعمال اور حسن اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر کیونکہ بہترین اعمال و اخلاق کی طرف تو ہی رہنمائی کرسکتا ہے اور مجھے برے اعمال و بد اخلاقی سے بچا کیونکہ برے اعمال و اخلاق سے تو ہی بچا سکتا ہے۔ (سنن نسائی)
تشریح
اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنْ (یعنی میں سب سے پہلا مسلمان ہوں) کی تشریح میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ خصوصیت صرف رسول اللہ ﷺ کو ہی حاصل ہے کہ سب سے پہلا اسلام آپ ﷺ کا ہے کیونکہ پیغمبر اپنی امت میں سب سے پہلا مسلمان ہوتا ہے چونکہ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کو اس کا حکم دیا گیا ہے کہ اس طرح کہیں اس لئے آپ ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے یہ بات کہ وہ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنْ کہنادرست نہیں ہے بلکہ ایک قسم کو جھوٹ ہوگا چناچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اگر کوئی آدمی نماز میں اس طرح کہے تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ لیکن اس سلسلے میں صحیح یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی ان الفاظ کو آیت قرآن کی تلاوت کی نیت سے نہ کہ اپنی حالت کی خبر دینے کی نیت سے ادا کرے تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔ اس مسئلے میں ایک خیال یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اس جملے کو خبر قرار نہ دے بلکہ اس کا مقصد تجدید ایمان و اسلام کی انشاء اور اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جیسا کہ امراء و سلاطین کے تابعدار لوگ کسی حکم کے صادر ہونے کے وقت کہتے ہیں کہ جو بھی حکم ہو اس کی اطاعت پہلے جو کرے گا وہ میں ہوں گا۔ گویا اس طرح اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔
تکبیر تحریمہ کے بعد کی دعا
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ قَالَ اَنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ یُصَلِّیْ تَطَوُّعًا قَالَ اﷲُ اَکْبَرُ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَذَکَرَ الْحَدِیْثَ مِثْلَ حَدِیْثِ جَابِرٍ اِلَّا اَنَّہُ قَالَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ثُمَ قَالَ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْمٰلِکُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ثُمَّ یَقْرَأُ۔(رواہ النسائی )
اور حضرت محمد بن مسلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب نماز نفل پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ کہتے اللہ اَکْبَرُ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ترجمہ اللہ بہت بڑا ہے۔ میں نے اپنا منہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے در حالیکہ میں توحید کو ماننے والا ہوں اور مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ (اس کے بعد راوی نے) حضرت جابر ( کی مذکورہ بالا حدیث) کی مانند حدیث بیان کی ہے لیکن محمد نے (وَ اَنَا اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ کی جگہ) وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ کے الفاظ ذکر کئے ہیں۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ یہ فرماتے ہیں اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْمٰلِکُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے اور تیرے ہی لئے تعریف ہے۔ اس کے بعد (تعوذ و بسملہ پڑھ کر) قرأت کرتے تھے۔ (سنن نسائی )
کتنی رکعتوں میں قرأت فرض ہے نماز میں قرأت یعنی قرآن کریم پڑھنا تمام علماء کے نزدیک متفقہ طور پر فرض ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ کتنی رکعتوں میں پڑھنا فرض ہے؟ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک پوری نماز میں قرأت فرض ہے۔ حضرت امام مالک (رح) کے ہاں للا کثر حکم الکل (اکثر کل کے حکم میں ہے) کے کلیہ کے مطابق تین رکعت میں فرض ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق در رکعتوں میں قرأت فرض ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مسلک قول مشہور ہے کے مطابق امام شافعی (رح) کے مسلک کے موافق ہے۔ حضرت حسن بصری اور حضرت زفر رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک صرف ایک رکعت میں قرأت فرض ہے۔
نماز میں سورت فاتحہ پڑھنے کا بیان
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا صَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ ےَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّمُسْلِمٍ لِمَنْ لَّمْ ےَقْرَأْ بِاُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا۔
حضرت عبادہ بن صامت ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے (نماز میں) سورت فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز پوری نہیں ہوئی۔ (صحیح البخاری، مسلم) اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں اس آدمی کی نماز نہیں ہوتی جو سورت فاتحہ اور اس کے بعد قرآن سے کچھ نہ پڑھے۔
تشریح
صحیح مسلم کی آخری روایت کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ کے ساتھ قرآن کی کوئی اور سورت یا اور کچھ آیتیں پڑھنا بھی ضروری ہے۔ نماز میں سورت فاتحہ پڑھنے کے مسئلے میں آئمہ کے مسلک اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ پڑھنا فرض ہے اگر کوئی آدمی سورت فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔ چناچہ اسی حدیث سے امام شافعی (رح) نے اور ایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل (رح) نے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ پڑھنا فرض ہے کیونکہ حدیث نے صراحت کے ساتھ ایسے آدمی کی نماز کی نفی کی ہے جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہیں پڑھی۔ حضرت امام اعظم (رح) کے نزدیک نماز میں سورت فاتحہ پڑھنا فرض نہیں ہے بلکہ واجب ہے۔ اس حدیث کے بارے میں امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں نفی کمال مراد ہے یعنی سورت فاتحہ کے نماز ادا تو ہوجاتی ہے مگر مکمل طور پر ادا نہیں ہوتی۔ اس کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے آیت ( فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ) 73۔ المزمل 20) (یعنی قران میں سے جو پڑھنا آسان ہو وہ پڑھو، اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سورت فاتحہ پڑھنا فرض نہیں بلکہ مطلق قرآن کی کوئی بھی سورت یا آیتیں پڑھنا فرض ہے۔ اس کے علاوہ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک اعرابی کی نماز کے سلسلے میں یہ تعلیم فرمائی تھی کہ فاقرؤ ماتیسر معک من القران (یعنی تمہارے لئے قرآن میں سے جو کچھ پڑھنا آسان ہو وہ پڑھو) بہر حال۔ حنفیہ مسلک کے مطابق نماز میں فرض کہ جس کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی قرآن کی ایک آیت یا تین آیتوں کا پڑھنا ہے خواہ سورت فاتحہ ہو یا دوسری کوئی سورت اور سورت فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اس کے بغیر نماز ناقص ادا ہوتی ہے۔
سورت فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز ناقص ادا ہوتی ہے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلّٰی صَلٰوۃً لَّمْ ےَقْرَأْ فِےْھَا بِاُمِّ الْقُرْآنِ فَھِیَ خِدَاجٌ ثَلٰثًا غَےْرُ تَمَامٍ فَقِےْلَ لِاَبِیْ ھُرَےْرَۃَ اِنَّا نَکُوْنُ وَرَآءَ الْاِمَامِ قَالَ اقْرَأْ بِھَا فِیْ نَفْسِکَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی قَسَمْتُ الصَّلٰوۃَ بَےْنِیْ وَبَےْنَ عَبْدِیْ نِصْفَےْنِ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ فَاِذَا قَالَ الْعَبْدُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ وَاِذَا قَالَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِےِْمِ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ وَاِذَا قَالَ مَالِکِ ےَوْمِ الدِّےْنِ قَالَ مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ وَاِذَا قَالَ اِےَّاکَ نَعْبُدُ وَاِےَّاکَ نَسْتَعِےْنُ قَالَ ھٰذَا بَےْنِیْ وَبَےْنَ عَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ فَاِذَا قَالَ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِےْمَ صِرَاطَ الَّذِےْنَ اَنْعَمْتَ عَلَےْھِمْ غَےْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَےْھِمْ وَلَا الضَّآلِّےْنَ قَالَ ھٰذَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَأَلَ ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا جو آدمی نماز پڑھے اور اس میں سورت فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی وہ نماز ناقص ہے (آپ ﷺ نے یہ) تین مرتبہ (فرمایا کہ وہ نماز ناقص ہے) حضرت ابوہریرہ ؓ سے (یہ سن کر) کسی نے پوچھا کہ جب ہم امام کے پیچھے ہوں (تو اس وقت بھی پڑھیں؟ ) انہوں نے کہا کہ (ہاں! مگر) اپنے دل میں آہستہ سے پڑھو کہ بس تم ہی سن سکو اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے کہ میں نے نماز (یعنی سورت فاتحہ) اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے۔ (اس طرح کہ حمد و ثنا تو میرے لئے ہے اور دعا بندے کے لئے) اور بندہ جو کچھ مانگے وہ اسے دیا جائے گا چناچہ جب بندہ کہتا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِینَ (یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا پروردگار ہے) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف بیان کی، جب بندہ کہتا ہے الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ (یعنی اللہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا بیان کی جب بندہ کہتا ہے ملک یوم الدین کہ اللہ انصاف کے دن کا مالک ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعظیم کا اظہار کیا ہے جب بندہ کہتا ہے ایاک نَعْبُدُ وَاِیاکَ نَسْتَعِینُ یعنی (اے پروردگار! ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے (یعنی عبادت اللہ کے لئے ہیں اور مدد مانگنا بندے کے لئے ہے) اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔ جب بندہ کہتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمْتَ عَلَیھِمْ غَیرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیھِمْ وَلَا الضَّآلِّینَ یعنی ( اے پروردگار) ہم کو سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کے راستے جن پر تیرا فضل و کرم رہا ہے نہ کہ ان کے راستے پر جن پر تیرا غضب رہا ہے اور نہ گمراہوں کے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے بندہ کے لئے ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قسمت الصلوۃ بینی و بین عبدی نصفین (میں نے نماز اپنے اور بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے) میں نے نماز سے مراد سورت فاتحہ ہے جیسے کہ ترجمے میں ظاہر کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے مقتدی کو بھی سورت فاتحہ پڑھنے کے لئے کہا اور مابعد کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جب سورت فاتحہ کی ایسی فضیلت ہے تو مقتدی کو بھی سورت فاتحہ پڑھنی چاہئے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ سورت فاتحہ کی سات آیتیں ہیں۔ تین آیتیں یعنی الحمد سے ملک یوم الدین تک تو خالص اللہ تعالیٰ کی مدح و ثنا میں ہیں اور ایک آیت یعنی ایاک نعبد وایاک نستعین میں بندے کی جانب سے حاجت کی طلب اور مدد کی درخواست ہے اور بعد کی جو تین آیتیں ہیں وہ صرف بندے کی دعا پر مشتمل ہیں۔ بسم اللہ سورت فاتحہ کا جزء نہیں ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بسملہ (یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم) داخل فاتحہ اور اس کا جزء نہیں ہے جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک ہے کیونکہ اگر بسم اللہ کو سورت فاتحہ کا جزء قرار دے کر بجائے ساتھ کے آٹھ آیتیں شمار کی جائیں تو تقسیم صحیح نہیں ہوگی اور ایک طرف تو ساڑھے چار آیتیں ہوجائیں گی اور ایک طرف ساڑھے تین رہ جائیں گی لہٰذا اس صورت میں نصف نصف تقسیم صحیح نہیں رہے گی۔ نیز یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ سورت فاتحہ کی سات آیتوں میں سے صراط الذین انعمت علیھم بھی ایک آیت ہے۔ سورت فاتحہ کے سلسلے میں اس باب کے پہلی حدیث کے فائدہ کے ضمن میں آئمہ کے مذاہب کو نقل کیا گیا تھا اور حنفی مسلک کی وضاحت کی گئی تھی لیکن اس موقعہ پر اس بحث میں کچھ تشنہ رہ گئی تھی اس لئے ہم یہاں کچھ وضاحت کے ساتھ اس بحث کو پیش کرتے ہیں۔ مقتدی کو سورت فاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں سورت فاتحہ کے سلسلے میں ائمہ کے ہاں دو بحثیں چلتی ہیں اول تو یہ کہ مطلقاً سورت فاتحہ پڑھا فرض ہے یا نہیں؟ چناچہ اس بحث کی توضیح پہلے کی جا چکی ہے کہ امام شافعی (رح) کے نزدیک سورت فاتحہ پڑھنا فرض ہے اور امام اعظم کے نزدیک واجب ہے۔ دوسری بحث یہ ہے کہ سورت فاتحہ مقتدی کو پڑھنی چاہئے یا نہیں؟ حضرت ابوہریرہ ؓ کے اس قول سے تو یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ مقتدی کو سورت فاتحہ پڑھنی چاہئے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) سے صحیح روایت میں منقول ہے کہ مقتدی پر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے خواہ بلند آواز کی نماز ہو یا آہستہ آواز کی۔ اور یہی حضرت امام احمد کا بھی مسلک ہے، امام مالک کے نزدیک فرض نہیں مگر آہستہ آواز کی نماز میں مستحب ہے ہمارے امام اعطم ابوحنیفہ اور صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف و امام محمد کا مذہب یہ ہے کہ آہستہ آواز اور بلند آواز دونوں قسم کی نمازوں میں سورت فاتحہ پڑھنا مقتدی پر فرض نہیں ہے بلکہ حنفی فقہاء تو اس کو مکروہ تحریمی لکھتے ہیں۔ امام محمد کے مسلک کی تحقیق ابھی ہم نے اوپر لکھا ہے کہ حضرت امام اعظم اور صاحبین کا متفقہ طور پر یہ مسلک ہے کہ مقتدی پر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے مگر اس سلسلے میں کچھ غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے جس کی بنیاد پر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امام محمد کا مسلک امام اعظم اور امام ابویوسف سے کچھ مختلف ہے چناچہ ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اور کچھ دوسرے علماء نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ امام محمد اس کے قائل ہیں کہ آہستہ آواز کی نماز میں مقتدی پر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے ہم سمجھتے ہیں کہ امام محمد کی طرف اس قول کی نسبت کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے کیونکہ امام محمد کی کتابوں سے بالکل صاف طریقہ یہ پر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلہ میں شیخین یعنی امام اعظم اور امام ابویو سف سے بالکل متفق ہیں۔ چناچہ امام محمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ لا قرأَۃَ خلف الا مام فیما جھر فیہ ولا فیما لم یجھر بذلک جاءت عامۃ الاثار وھو قول ابی حنیفہ (رح)۔ نماز خواہ بلند آواز کی ہو یا آہستہ آواز کی کسی حال میں بھی امام کے پیچھے قرأت نہیں ہے اسی کے مطابق ہمیں بہت سے احادیث پہنچی ہیں اور یہی قول امام ابوحنیفہ کا ہے۔ نیز امام موصوف نے اپنی دوسری تصنیف کتاب الاثار میں قرأت خلف الامام کے عدم اثبات میں احادیث و آثار کو نقل کرتے ہوئے تحریر فرمایا وبہ ناخذلانری القراء ۃ خلف الا مام شیء من الصلوۃ یجھر فیہ او لا یجھر فیہ۔ اور یہی (یعنی عدم قرأت خلف الامام) ہمارا بھی مسلک ہے ہم قرأت خلف الامام کو کسی بھی نماز میں خواہ وہ بلند آواز کی نماز ہو یا آہستہ آواز کی نماز روا نہیں رکھتے۔ بہر حال مذکورہ بالا مذہب کو دیکھتے ہوئے یہ بات ظاہر ہوئی کہ سورت فاتحہ کے سلسلہ میں حنفیہ دو چیزوں کے قائل ہیں۔ اول تو یہ مقتدی پر سورت فاتحہ کا پڑھنا کسی بھی حال میں فرض نہیں خواہ وہ نماز بلند آواز کی ہو یا آہستہ آواز کی اور دوسری یہ کہ اگر کوئی مقتدی سورت فاتحہ پڑھتا ہے تو گویا وہ مکروہ تحریمی کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس موقعہ پر ہم صرف اتنی بات صاف کریں گے کہ مقتدی پر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض کیوں نہیں ہے اور اس کے دلائل کیا ہیں۔ تو جانتا ہے کہ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مقتدی پر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے اس کی سب سے بڑی دلیل اس باب کی پہلی حدیث ہے یعنی لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب ان حضرات کے نزدیک امام کا پڑھنا مقتدی کے حق میں کافی نہیں بلکہ ہر ایک آدمی کو بطور خود پڑھنا ضروری ہے۔ امام اعظم فرماتے ہیں کہ امام کا پڑھنا مقتدی کے لئے کافی ہے۔ جب امام نے پڑھا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پوری جماعت نے پڑھا، چناچہ وہ اپنے اس قول کی تائید میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں من کان لہ امام فقراء ۃ الا مام قراء ۃ لہ (یعنی جو آدمی کسی امام کے پیچھے نماز پڑھے۔ تو اس امام کی قرأت اس (مقتدی) کی بھی قرأت سمجھی جائے گی) گو بعض علماء نے اگرچہ اس حدیث کی صحت میں کلام کیا ہے۔ مگر حقیقت میں ان کا کلام صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث بہت سی اسناد سے ثابت ہے جن میں سے بعض اسناد تو اس درجے کی صحیح وسالم ہیں کہ اس میں کسی کلام کی گنجائش ہی نہیں۔ بہر حال اس حدیث سے یہ بات بصراحت ثابت ہوتی ہے۔ کہ مقتدی کو قرأت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ تو سورت فاتحہ کی اور نہ کسی اور سورت کی۔ اس موقع پر یہ احتمال بھی پیدا نہیں کیا جاسکتا کہ شاید اس حدیث کا تعلق بلند آواز کی نماز سے ہو کیونکہ یہ بات بھی صحیح طور پر ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد عصر کی نماز کے وقت تھا۔ جو آہستہ آواز کی نماز ہے اور جب آہستہ آواز کی نماز میں یہ حکم ہے تو بلند آواز کی نماز میں تو بدرجہ اولی یہی حکم ہوگا۔
بسم اللہ بآواز بلند پڑھنی چاہئے یا آہستہ
وَعَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانُوْا ےَفْتَتِحُوْنَ الصَّلٰوۃَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِےْنَ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آقاء نامدار ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ نماز الحمد اللہ رب العالمین سے شروع کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
بظاہر تو اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے وقت سورت فاتحہ سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے لیکن سورت فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا تمام ائمہ کے نزدیک متفق علیہ ہے کیونکہ دوسری احادیث سے بسم اللہ کا پڑھنا ثابت ہوتا ہے خواہ بسم اللہ کو سورت فاتحہ کا جزء مانا جائے جیسا کہ شوافع فرماتے ہیں خواہ نہ مانا جائے جیسا کہ حنفیہ فرماتے ہیں۔ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہاں الحمد اللہ رب العالمین سے مراد سورت فاتحہ ہے یعنی آپ ﷺ سورت فاتحہ سے نماز شروع کرتے تھے جیسا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں آدمی نے الم پڑھا تو اس سے مراد سورت بقرہ ہی لی جاتی ہے اور یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک بسم اللہ سورت کا جزء ہے لہٰذا اس قول سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔ حنفیہ کی جانب سے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہاں مطلق نفی مراد نہیں ہے بلکہ اس قول کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ بسم اللہ بآواز بلند نہیں پڑھتے تھے بلکہ آہستہ سے پڑھتے تھے اور بآواز بلند نماز کی ابتداء الحمد اللہ رب العالمین سے کرتے تھے کیونکہ یہ بات پوری صحت کی ساتھ ثابت ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ، خلفاء راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین بسم اللہ بآواز بلند نہیں پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ بآواز بلند پڑھی جانے والی نماز میں بھی آہستہ سے پڑھتے تھے۔ حضرت شیخ ابن ہمام نے بعض حفاظ حدیث (یعنی وہ لوگ جن کو بہت زیادہ احادیث زبانی یاد رہتی تھیں) سے نقل کیا ہے کہ کوئی بھی ایسی حدیث ثابت نہیں ہے جس میں بسم اللہ کا بآواز بلند پڑھنا بصراحت ثابت ہو تو وہاں اگر کوئی ایسی حدیث ثابت بھی ہے کہ جس سے بسم اللہ بآواز بلند پڑھنا ثابت ہوتا ہے تو اس کی اسناد میں کلام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صحابہ وتابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی جماعت سے بسم اللہ آہستہ پڑھنا بکثرت منقول ہے اور اگر اتفاقی طور پر کسی کے بارے میں بآواز بلند پڑھنا ثابت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو انہوں نے لوگوں کی تعلیم کے لئے بسم اللہ بآواز بلند پڑھی ہوگی یا پھر ان مقتدیوں کی روایت ہے جو ان کے بالکل قریب نماز میں کھڑے ہوتے تھے کہ اگر وہ، بسم اللہ آہستہ سے بھی پڑھتے تھے تو مقتدی سن لیتے تھے اور اسی کو انہوں نے بآواز بلند پڑھنے سے تعبیر کیا۔ امام ترمذی (رح) نے اپنی کتاب جامع ترمذی میں اس مسئلے سے متعلق دو باب قائم کئے ہیں ایک باب میں تو ان احادیث کو نقل کیا ہے جن سے بسم اللہ بآواز بلند پڑھنا ثابت ہے اور دوسرے باب میں وہ احادیث نقل کی ہیں جو آہستہ آواز سے پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں اور امام موصوف نے ترجیح انہیں احادیث کو دی ہے جن سے بآواز آہستہ پڑھنا ثابت ہوتا ہے اور کہا ہے کہ اس طرف ( یعنی بسم اللہ آہستہ پڑھنے کے مسلک کے حق میں) اکثر اہل علم مثلاً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان غنی، حضرت علی ؓ اور تابعین کرام وغیرہ ہیں۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَمَّنَ الْاِمَامُ فَاَمِّنُوْا فَاِنَّہُ مَنْ وَّافَقَ تَامِےْنُہُ تَاْمِےْنَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ قَالَ اِذَا قَالَ الْاِمَامُ غَےْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَےْھِمْ وَلَا الضَّالِّےْنَ فَقُوْلُوْا اٰمِےْنَ فَاِنَّہُ مَنْ وَّافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ھٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ نَّحْوَہُ وَفِی اُخْرٰی لِلْبُخَارِیِّ قَالَ اِذَا اَمَّنَ الْقَارِیْ فَاَمِّنُوْا فَاِنَّ الْمَلٰئِکَۃَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَّافَقَ تَاْمِےْنُہُ تَاْمِےْنَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نا مدار ﷺ نے فرمایا جب امام ( سورت فاتحہ کی قرأت کے بعد) آمین کہے تو (چونکہ اس وقت فرشتے آمین کہتے ہیں اس لئے) تم بھی آمین کہو۔ کیونکہ جس آدمی کی آمین فرشتوں کے آمین سے مل جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام غیر المغضوب علیھم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس آدمی کا (آمین) کہنا فرشتوں کے کہنے سے مل جاتا ہے اس کے پہلے سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہ الفاظ صحیح البخاری کے ہیں مسلم کی حدیث کے الفاظ بھی اس کے مثل ہیں۔ اور صحیح البخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب قرآن کا پڑھنے والا (یعنی) امام یا کوئی بھی مطلقاً پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ (اس وقت) فرشتے آمین فرماتے ہیں اور جس آدمی کی آمین فرشتوں کی آمین سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے تو اس کے پہلے سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
تشریح
آمین کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ! میری دعا قبول کر! چناچہ جب امام غیر المغضوب علیھم ولا الضالین پڑھے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ آمین کہیں۔ آمین کہنے والے فرشتوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اعمال کو لکھتے ہیں لیکن بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں ان کے علاوہ دوسرے فرشتے مراد ہیں۔
وَعَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلَّےْتُمْ فَاَقِےْمُوا صُفُوْفَکُمْ ثُمَّ لِےَؤُمَّکُمْ اَحَدُکُمْ فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا وَاِذَا قَالَ غَےْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَےْھِمْ وَلاَ الضَّآلِےْنَ فَقُوْلُوْا اٰمِےْنَ ےُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ فَاِذَا کَبَّرَ وَرَکَعَ فَکَبِّرُوْا وَارْکَعُوْا فَاِنَّ الْاِمَامَ ےَرْکَعُ قَبْلَکُمْ وَےَرْفَعُ قَبْلَکُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَتِلْکَ بِتِلْکَ قَالَ وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ےَسْمَعُ اللّٰہُ لَکُمْ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَّفِیْ رِوَاےَۃٍ لَّہُ عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ وَقَتَادَۃَ وَاِذَا قَرَأَ فَاَنْصِتُوْا۔
اور حضرت ابوموسی اشعری ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا جب تم (با جماعت) نماز پڑھو تو (پہلے) اپنی صفوں کو سیدھی کرو پھر (تم میں سے) ایک آدمی تمہارا امام بنے، چناچہ جب وہ امام تکبیر تحریمہ یعنی) اللہ اکبر کہے تو تم (بھی اللہ اکبر) کہو، جب امام غیر المغضوب علیھم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا اور جب امام (رکوع میں جانے کے لئے) اللہ اکبر کہے اور رکوع میں جائے تم بھی اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں چلے جاؤ اور امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امام کا پہلے سر اٹھانا پہلے رکوع کرنے کا بدلہ ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو اللہ تمہاری تعریف سنتا ہے۔ اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ فتلک بتلک یعنی امام سے پہلے سر اٹھانا پہلے رکوع کرنے کا بدلہ ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ امام مقتدی سے پہلے رکوع سے سر اس لئے اٹھاتا ہے تاکہ امام اور مقتدی کے رکوع کی مقدار برابر ہوجائے۔ گویا آپ ﷺ کا یہ ارشاد واضح طور پر یوں ہے کہ جب امام رکوع میں تم سے پہلے گیا تو گویا اس وقت تمہارے اور امام کی رکوع کی مقدار برابر نہ رہی مگر جب امام نے رکوع سے تم سے پہلے سر اٹھایا اور تم نے اس کے بعد سر اٹھایا تو گویا تمہاری اس تاخیر سے وہ لمحہ پورا ہوگیا جس میں امام نے رکوع میں جانے میں تم سے پہل کی تھی اور جس طرح تم رکوع میں امام کے بعد گئے اس طرح رکوع سے اٹھے بھی امام کے بعد ہی لہٰذا امام اور مقتدی دونوں کے رکوع کی مقدار پوری ہوگئی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب امام سمع اللہ لمن حمد کہے تو مقتدی اللہم ربنا لک الحمد کہیں مگر ایک دوسری روایت میں ربنا و لک الحمد ( واؤ کے ساتھ) کے الفاظ مروی ہیں۔ نیز ایک روایت میں اللہم ربنا ولک الحمد بھی مروی ہے۔ یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کی اس مسئلے میں مستدل ہے کہ امام رکوع سے اٹھتے ہوئے صرف سمع اللہ لمن حمدہ کہے اور مقتدی ربنا لک الحمد کہیں حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک امام، مقتدی اور منفرد تینوں ہی کو یہ دونوں کلمات کہنے چاہئیں صاحبین سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے لیکن اس قید کے ساتھ کہ امام ربنا لک الحمد آہستہ آواز سے کہے۔ منفرد یعنی تنہا نماز پڑھنے والے آدمی کے بارے میں متفقہ طور پر یہ حکم ہے کہ وہ دونوں کلمات کہے اگرچہ صرف ایک پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اکتفاء ربنا لک الحمد پر کیا جائے۔ دونوں کلمات کہنے کی صورت میں سمع اللہ اٹھتے ہوئے اور ربنا لک الحمد حالت قیام میں کہا جائے۔ حدیث کا آخری جملہ واذا قرأ فانصتوا (یعنی جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو) حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کی دلیل ہے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے خاموش رہنا چاہئے قرأت نہ کرنی چاہئے خواہ نماز بلند آواز کی ہو یا آہستہ آواز کی۔
وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الظُّھْرِ فِیْ الْاُوْلَےَےْنِ بِاُمِّ الْکِتٰبِ وَسُوْرَتَےْنِ وَ فِیْ الرَّکْعَتَیْنِ الْاُخْرَےَےْنِ بِاُمِّ الْکِتَابِ وَےُسْمِعُنَا الْاٰےَۃَ اَحْےَانًا وَّےُطَوِّلُ فِی الرَّکْعَۃِ الْاُوْلٰی مَا لَا ےُطِےْلُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِےَۃِ وَھٰکَذَا فِی الْعَصْرِ وَھٰکَذَا فِی الصُّبْحِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوقتا دہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ ظہر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور دو سورتیں (یعنی ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور ایک سورۃ) پڑھتے تھے اور بعد کی دونوں رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے اور کبھی کبھی ہمیں (بھی) آیت سنا دیا کرتے تھے اور دوسری رکعت کی بہ نسبت پہلی رکعت کو زیادہ طویل کرتے تھے اسی طرح عصر اور فجر کی نماز میں بھی کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ظہر کی نماز میں یوں تو قرأت سری (یعنی آہستہ آواز سے) سے ہوتی ہے اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی پڑھتے تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بسا اوقات ظہر کی نماز میں کوئی آیت یا سورت بآواز بھی پڑھ دیا کرتے تھے اور اس سے آپ ﷺ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ جان لیں کہ سورت فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا کوئی آیت بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ یا لوگوں کو اس بات کا علم ہوجائے کہ آپ ﷺ فلاں سورت کی قرأت کر رہے ہیں۔ اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ یہاں ظہر کی تخصیص تقیدی ہیں ہے بلکہ اتفاقی ہے۔ یعنی آپ ﷺ ہر نماز میں ایسا ہی کرتے تھے۔ پہلی رکعت کو طویل کرنے کا مسئلہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی رکعت کو دوسری رکعتوں سے زیادہ طویل کرنا چاہئے چناچہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا مسلک یہی ہے کہ تمام نمازوں میں پہلی رکعت کو دوسری رکعت کی بہ نسبت زیادہ طویل کرنا چاہئے۔ حنفیہ میں سے حضرت امام محمد (رح) کا بھی مسلک یہی ہے، ان حضرات نے ظہر، عصر اور صبح کی نمازوں میں پہلی رکعت کو طویل کرنے کے مسئلے کو احادیث سے ثابت کیا ہے اور مغرب و عشاء کو ان تینوں پر قیاس کیا ہے۔ عبدالرزاق نے اس حدیث کے آخر میں معمر سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ہمارا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت کو اس لئے طویل کرتے تھے کہ لوگ پہلی رکعت پالیں، امام ابوداؤد اور ابن خزیمہ رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نے بھی یہی لکھا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک پہلی رکعت کو طویل کرنا صرف فجر کی نماز کے ساتھ خاص ہے کیونکہ وہ وقت نیند و غفلت کا ہوتا ہے۔ ورنہ تو دونوں رکعتیں چونکہ استحقاق قرأت میں برابر ہیں۔ اس لئے مقدار قرأت میں بھی برابر ہونی چاہئیں چناچہ ایک حدیث میں اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں تیس آیتوں کی مقدار قرأت کیا کرتے تھے جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے کہ جس سے پہلی رکعت کو طویل کرنے کا اثبات ہوتا ہے تو یہ اس بات پر محمول ہے کہ چونکہ پہلی رکعت میں دعا کے استفتاح (یعنی سبحانک اللہم اور اعوذ باللہ و بسم اللہ پڑھی جاتی ہے اس لئے پہلی رکعت طویل معلوم ہوتی تھی نیز یہ کہ طوالت تین آتیوں سے بھی کم کی مقدار میں ہوتی تھی۔ خلاصہ میں لکھا ہے کہ حضرت امام محمد (رح) کا مسلک احب یعنی اچھا ہے۔
نماز میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کی مقدار
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدِنِ الْخُدْرِیِّص قَالَ کُنَّانَحْزُرُ قِےَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِےَامَہُ فِی الرَّکْعَتَےْنِ الْاُوْلَےَےْنِ مِنَ الظُّہْرِ قَدْرَ قِرْآءَ ۃِ آلۤمّ تَنْزِےْلُ السَّجْدَۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ ثلٰثِےْنَ اٰےَۃً وَّحَزَرْنَا قِےَامَہُ فِی الْاُخْرَےَےْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَالِکَ وَّحَزَرْنَا فِیْ الرَّکْعَتَےْنِ الْاُوْلَےَےْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلٰی قَدْرِ قِےَامِہٖ فِی الْاُخْرَےَےْنِ مِنَ الظُّھْرِ وَفِی الْاُخْرَےَےْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَالِکَ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر کی نماز میں آقائے نامدار ﷺ کے قیام (کی مقدار) کا اندازہ کرتے، چناچہ ہم نے اندازہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں الم تنزیل السجدہ پڑھنے کے بقدر قیام کرتے تھے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہر رکعت میں تیس آیتیں پڑھنے کے بقدر قیام کرتے تھے اور (ظہر کی) آخری دو رکعتوں میں اس کے نصف کے بقدر قیام کا ہم نے اندازہ کیا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
الم تنزیل السجدہ کے بقدر کا مطلب یا تو یہ ہے کہ دونوں رکعتوں میں آپ ﷺ کے مجموعی قیام کی مقدار سورت الم تنزیل السجدہ ہوتی تھی یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ ہر رکعت میں الم السجدہ پڑھنے کے بقدر قرأت کرتے تھے اس آخری مطلب کی تائید دوسری روایت بھی کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر رکعت میں تیس آیتوں کے بقدر قرأت کرتے تھے اور الم تنزیل السجدہ میں انتیس آیتیں ہیں، اگر پہلے مطلب کو صحیح مانا جائے تو یہ دوسری روایت کے خلاف ہوگا لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ یہ کہا جائے کہ آپ ﷺ ہر رکعت میں سورت ا الم تنزیل السجدہ کی بقدار قرأت کرتے تھے۔ آخری رکعتوں میں قرأت کا مسئلہ حدیث کی ان الفاظ و حزرنا قیامہ فی الا خرین یعنی (ظہر) کی آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف کا ہم نے انداز کیا ہے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں میں بھی سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورت جو پہلی دونوں رکعتوں کی سورتوں سے مختصر ہوتی تھی پڑھتے تھے چناچہ امام شافعی (رح) کا مسلک قول جدید کے مطابق یہی ہے لیکن ان کے ہاں فتوے ان کے قول قدیم پر ہے جو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق ہے کہ آخری دونوں رکعتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث کی تاویل یہ ہوگی کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فعل سنت پر محمول نہیں بلکہ بیان جواز پر محمول ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ آخری دونوں رکعتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ کبھی کبھی کوئی اور سورت بھی ملا کر قرأت کرتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اس طرح پڑھنا بھی جائز ہے لیکن اتنی بات جان لینی چاہئے کہ تمام ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھنا ہی سنت ہے بلکہ حنفیہ کا کہنا تو یہ کہ اگر کوئی آدمی سورت فاتحہ بھی نہ پڑھے بلکہ صرف تسبیح (یعنی سبحان اللہ وغیرہ کہہ لے تو بھی جائز ہے لیکن قرأت افضل ہے، امام نخعی، امام ثوری اور کوفہ کے تمام علماء کرام کا قول بھی یہی ہے۔ محیط میں یہ لکھا کہ اگر کوئی آدمی آخری دونوں رکعتوں میں سورت فاتحہ پڑھنے کے بجائے قصدًا سکوت اختیار کرے تو یہ خلاف سنت ہونے کی وجہ سے ایک غلط فعل ہوگا۔ حسن بن زیاد نے حضرت امام اعظم (رح) کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ آخری دونوں رکعتوں میں قرأت کرنا واجب ہے۔ ابن شیبہ نے حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت ابن مسعود ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ پہلی دونوں رکعتوں میں قراءت کرو اور آخری دونوں رکعتوں میں تسبیح پر اکتفاء کرو اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی آدمی آخری دونوں رکعتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت بھی پڑھ لے تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا اور یہی صحیح بھی ہے کیونکہ آخری دونوں رکعتوں میں سورت فاتحہ کا پڑھنا سنت ہے اور کسی دوسری سورت کا ترک کرنا واجب نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ سجدہ سہو کسی واجب کو چھوڑ دینے یا واجب پر عمل نہ کرنے ہی کی وجہ سے ضروری ہوتا ہے۔ حضرت امام احمد (رح) کے ہاں اولی اور صحیح یہ ہے کہ آخری دونوں رکعتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ کسی دوسری سورت کا پڑھنا مکروہ نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ آخری دونوں رکعتوں میں کبھی کبھی سورت فاتحہ کے علاوہ اور کوئی سورت یا کچھ آیتیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے لیکن سورت فاتحہ کے ساتھ کسی دوسری سورت کا نہ پڑھنا ہی مستحب ہے۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ صقَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَءُ فِی الظُّہْرِ بِاللَّےْلِ اِذَا ےَغْشٰی وَفِی رِوَاےَۃٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی وَفِی الْعَصْرِ نَحْوَ ذَالِکَ وَفیِ الصُّبْحِ اَطْوَلَ مِنْ ذَالِکَ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ ظہر کی نماز میں سورت واللیل اذا یغشی پڑھا کرتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سورت سبح اسم ربک الاعلی پڑھا کرتے تھے اور عصر کی نماز میں بھی اسی قدر (کوئی آیت یا سورۃ) پڑھتے تھے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قرأت کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
جس طرح دیگر احادیث میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فلاں نماز میں فلاں سورت پڑھتے تھے اور اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ وہ سورت پہلی رکعت میں پڑھتے تھے یا دوسری میں۔ یا ایک رکعت میں بغیر پہلی دوسری کے تعین کے پڑھتے تھے۔ اس طرح اس حدیث میں بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز میں سورت واللیل اذا یغشی کس رکعت میں پڑھتے تھے آیا پہلی رکعت میں یا دوسری میں؟ اس سلسلہ میں دوہی احتمال ہوسکتے ہیں یا تو یہ کہ آپ ﷺ ایک ہی سورت کو دونوں رکعتوں میں پڑھتے تھے یا یہ کہ ایک سورت کا کچھ حصہ تو پہلی رکعت میں پڑھتے تھے اور کچھ حصہ دوسری رکعت میں (پہلے احتمال میں تکرار لازم آئے گا اور دوسرے میں تبعیض (یعنی کسی ایک سورت کا کچھ حصہ پہلی رکعت میں اور کچھ حصہ دوسری رکعت میں پڑھنا لازم آئے گا اور یہ دونوں یعنی تکرار و تبعیض غیر اولی ہیں اگرچہ جائز ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے تکرار و تبعیض ثابت نہیں ہے۔ چناچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ ایک رکعت میں پوری سورت پڑھنا اگرچہ وہ چھوٹی ہو افضل ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ ایک رکعت میں کسی سورت کا کچھ حصہ پڑھا جائے اگرچہ وہ سورت طویل ہو۔ ہاں اس مسئلے میں تراویح مثتثنیٰ ہے کیونکہ اس میں تو پورا قرآن سارے مہینہ میں ختم کرنا افضل ہے لہٰذا ان سے دونوں احتمالات اور ان میں پیدا شدہ اشکالات کو دیکھتے ہوئے کوئی ایسا تیسرا حتمال پیدا کیا جائے گا جو حدیث کی منشاء کے مطابق اور اس سے مناسب ہو اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ مذکورہ سورت کے علاوہ کوئی دوسری سورت بھی پڑھتے تھے خواہ پہلی رکعت میں پڑھتے ہوں یا دوسری میں۔
وَعَنْ جُبَےْرِ بْنِ مُطْعَمٍ صقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِالطُّوْرِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت جبیر ابن مطعم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورت طور پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
فقہاء کی جانب سے نمازوں میں تعین قراءت کی دلیل
وَعَنْ اُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ام فضل بنت حارث ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورت والمرسلات عرفا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
یہ احادیث اور وہ حدیث جس میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز میں سورت اعراف، سورت انفال اور سورت دخان پڑھتے تھے یا اسی قسم کی دوسری احادیث سب اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نمازوں میں کسی خاص اور متعین سورت کا پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ نمازی کی آسانی و سہولت پر موقوف ہے کہ وہ جس نماز میں جو بھی سورت چاہے پڑھ سکتا ہے۔ فقہا جو یہ لکھتے ہیں کہ فجر و ظہر میں طوال مفصل، عصر و عشاء میں او ساط مفصل اور مغرب میں قصار مفصل پڑھنا چاہئے تو ان کے تعین قرأت کی اصلی دلیل یہ ہے کہ حضرت امیر المومنین عمر فاروق ؓ نے حضرت ابوموسی اشعری ؓ کو جو اس زمانہ میں کوفہ کے گورنر تھے ایک خط لکھا تھا اس میں یہ مذکورہ تفصیل لکھی تھی اس کے مطابق نمازوں میں قرأت کا اس طرح تعین قرار پایا۔ اس مسئلہ کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ اقدس میں طول و قصر کے سلسلے میں قرأت کا مسئلہ اختلاف احوال و اوقات اور مصلحت جواز کے ساتھ مختلف تھا پھر بعد میں حضرت عمر فاروق ؓ کے اس مکتوب گرامی کی روشنی میں قرأت کا ایک نہج اور اصول مقرر کیا گیا جس کو فقہاء کی اصطلاح میں طوال مفصل ( طوال مفصل سورت حجرات سے سورت والسماء ذات البروج تک اور اوساط مفصل سورت والسماء ذات البروج سے سورت لم یکن (البینۃ) تک اور قصار مفصل سورت لم یکن کے بعد سے سورت الناس تک کی سورتوں کو کہا جاتا ہے ١٢)۔ اور اوساط مفصل اور قصار مفصل کا نام دیا گیا اور ہوسکتا ہے کہ اس سلسلے میں حضرت عمر فاروق ؓ کو کوئی دلیل براہ راست رسول اللہ ﷺ کے کسی قول و فعل سے ہاتھ لگی ہو اور رسول اللہ ﷺ اسی طریقہ کے مطابق کبھی کبھی قرأت کرتے ہوں جس کو حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے مکتوب گرامی میں تحریر فرمایا ہے اور کبھی کبھی اس کے برعکس آپ ﷺ کا وہی معمول رہتا ہو جو ان احادیث میں مذکور ہے۔ بہر حال ہم تو سمجھتے ہیں کہ فقہاء کے مقرر کردہ اس اصول کے لئے حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ قول ہی دلیل کے لئے کافی ہے؟
فرض نماز پڑھنے والے کو نفل نماز پڑھنے والے کی اقتدارء کرنا جائز ہے یا نہیں؟
وعَنْ جَابِرٍ صقَالَ کَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ےُّصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ ےَاتِیْ فَےَؤُمُّ قَوْمَہُ فَصَلّٰی لَےْلَۃً مَّعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم الْعِشَآءَ ثُمَّ اَتٰی قَوْمَہُ فَاَمَّھُمْ فَافْتَتَحَ بِسُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلّٰی وَحْدَہُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوْا لَہُ اَنَافَقْتَ ےَا فُلَانُ قَالَ لَا وَاللّٰہِ وَلَاٰتِےَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَاُخْبِرَنَّہُ فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا اَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّھَارِ وَاِنَّ مُعَاذًا صَلّٰی مَعَکَ الْعِشَآءَ ثُمَّ اَتٰی قَوْمَہُ فَافْتَتَحَ بِسُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ فَاَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی مُعَاذٍ وَّقَالَ ےَا مُعَاذُ اَفَتَّانٌ اَنْتَ اِقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا وَالضُّحٰی وَالَّےْلِ اِذَا ےَغْشٰی وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ابن جبل ؓ آقائے نامدار ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ کر آتے اور پھر اپنی قوم کو نماز پڑھایا کرتے تھے چناچہ ( ایک دن) انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عشاء کی نماز پڑھی اور پھر آکر اپنی قوم کی امامت کی اور (نماز میں) سورت بقرہ شروع کردی (جب قرأت طویل ہوئی تو) ایک آدمی سلام پھیر کر جماعت سے نکل آیا اور تنہا نماز پڑھ کر چلا گیا لوگوں نے (جب یہ دیکھا تو اس سے کہا کہ فلا نے! کیا تو منافق ہوگیا ہے (کیونکہ جماعت سے جان بچا کر نکل بھاگنا تو منافقوں ہی کا کام ہے) اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم (میں منافق نہیں ہوا ہوں) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر حقیقت حال بیان کروں گا چناچہ وہ آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم اونٹوں والے ہیں، دن کو کام کرتے ہیں (یعنی) اونٹوں کے ذریعے پانی کھینچ کر درختوں کی آبپاشی کرتے ہیں اور دن بھر محنت و مشقت میں لگے رہتے ہیں) معاذ رات کو آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ کر آئے اور ہمیں نماز پڑھائی اور سورت بقرہ شروع کردی (لمبی قرأت ہونے اور اپنے تھکے ہوئے ہونے کی وجہ سے میں بددل ہوگیا) یہ سن کر رسول اللہ ﷺ حضرت معاذ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا معاذ! کیا تم فتنے پیدا کرنے والے ہو؟ (یعنی کیا تم لوگوں سے جماعت ترک کرا کر انہیں دین سے بیزار اور فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ بہتر یہ ہے کہ) تم سورت والشمس وضحھا سورت والضحی سورت واللیل اذا یغشی اور سورت سبح اسم ربک الا علی پڑھا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ آدمی نعوذ باللہ جماعت یا نماز سے متنفر نہیں ہوا تھا بلکہ چونکہ دن بھر کی محنت و مشقت کی وجہ سے تھکا ماندہ تھا اس لئے جب قرأت لمبی ہوئی اور نماز نے طوالت اختیار کی تو یہ مجبور ہو کر جماعت سے نکل آیا اور اپنی نماز تنہا پڑھ لی۔ اسی وجہ سے جماعت سے نکلتے ہوئے باوجود اس کے کہ سلام پھیرنے کا کوئی موقعہ و محل نہ تھا اس نے سلام پھیرا کیونکہ اس نے سوچا کہ نماز سے سلام پھیر کر نکلے تاکہ کم سے کم نماز پوری ہونے کی مشابہت تو ہو ہی جائے۔ ایک دوسری روایت میں سبح اسم ربک الاعلی کے بعد کچھ اور سورتیں بھی ذکر کئی گئی ہیں مثلاً اذا السماء انفطرت اذا السماء انشقت اور سورت بروج و سورت طارق۔ حضرات شوافع نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ فرض نماز پڑھنے والے کو نفل نماز پڑھنے والے کی اقتدا کرنا جائز ہے اس لئے کہ حضرت معاذ ابن جبل جب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھتے تھے تو ان کی فرض نماز ادا ہوجاتی تھی اور اپنی جماعت کے ساتھ جو نماز پڑھتے تھے نفل رہتی تھی اور ان کے مقتدیوں کی نماز فرض ہوتی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کے اس عمل کو جائز رکھا انہیں اس عمل سے منع نہیں کیا۔ علماء حنفیہ کے نزدیک چونکہ فرض نماز پڑھنے والے کے لئے نفل نماز پڑھنے والے کی امامت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اس لئے حضرات سوافع کو جواب دیا جاتا ہے کہ نیت ایک ایسی چیز ہے جس پر کوئی دوسرا آدمی مطلع نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ خود نیت کرنے والا یہ نہ بتائے کہ اس نے کیا نیت کی تھی۔ لہٰذا یہ غالب ہے کہ حضرت معاذ ابن جبل رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بہ نیت فرض نہیں بلکہ آپ ﷺ سے طریقہ نماز سیکھنے اور آپ ﷺ کی نماز کی برکت و فضیلت حاصل کرنے نیز تہمت نفاق سے بچنے کی خاطر بہ نیت نفل نماز پڑھتے ہوں پھر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں فرض نماز پڑھاتے ہوں گے تاکہ دونوں فضیلتیں حاصل ہوجائیں لہذا حضرت معاذ ؓ کے اس عمل کو اس صورت پر محلول کرنا اولیٰ ہے کیونکہ یہ شکل تو بالا تفاق سب علماء کے نزدیک جائز ہے بخلاف پہلی شکل کے کہ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام کو مقتدیوں کی رعایت کرنی چاہئے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام کے لئے ضعیف و کمزور مقتدیوں کی رعایت کے پیش نظر نماز میں تخفیف کرنا سنت ہے اگر اسے اس بات کا احساس ہو کہ پیچھے مقتدی ضعیف و کمزور ہیں یا دن بھر کی محنت و مشقت سے تھکے ماندے ہیں یا نہیں کوئی دوسری مجبوری و تکلیف لا حق ہے تو اسے نماز ہلکی پھلکی پڑھانی چاہے اتنی لمبی قرأت نہ کرنی چاہئے جس سے ضعیف و کمزور لوگ تکلیف و پریشانی محسوس کریں اور اس بناء پر جماعت کو ترک کرنے پر مجبور ہوجائیں۔
وَعَنِ الْبَرَآئِص قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الْعِشَآءِ وَالتِّےْنِ وَالزَّےْتُوْنِ وَمَا سَمِعْتُ اَحَدًا اَحْسَنَ صَوْتًا مِنْہُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کو عشاء کی نماز میں سورت والتین و الزیتون پڑھتے ہوئے سنا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سے اچھی کوئی آواز نہیں سنی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
سرکار دو عالم ﷺ جس طرح باطنی طور پر دنیا کے سب سے مکمل و اکمل انسان تھے اسی طرح مبداء فیاض نے آپ ﷺ کو ظاہری جسمانی حس و خوبصورتی کے بھی سب سے اعلیٰ وارفع مرتبے پر فائز کیا تھا پھر یہ کہ جس طرح اللہ نے آپ ﷺ کو حسن صورت کا سب سے اعلیٰ نمونہ بنایا تھا اسی طرح آپ ﷺ کو حسن آواز میں بھی سب سے امتیازی درجہ عنایت فرمایا تھا۔ چناچہ حضرت براء ابن عازب ؓ کی یہ شہادت کہ میں نے آپ ﷺ کی آواز سے زیادہ کوئی اچھی آواز نہیں سنی محض ایک جذباتی عقیدت کا تاثر یا مبالغہ آرائی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت کی شہادت ہے جس کی صداقت کو اپنے تو الگ رہے کبھی بیگانوں نے بھی چیلنج کرنے کی جرات نہیں کی۔ جیسا کہ ابھی حدیث نمبر ٨ کی تشریح کے ضمن میں ذکر کیا جا چکا ہے۔ یہاں بھی اس حدیث جس کی یہی وضاحت ہے کہ آپ ﷺ عشاء کی نماز میں سورت والتین و الزیتوں ایک رکعت میں پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں کسی دوسری سورت کی قرأت فرماتے تھے۔
وَعَن جَابِرٍ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الْفَجْرِ بِقۤ وَالْقُرْآنِ الْمَجِےْدِ وَنَحْوِھَا وَکَانَتْ صَلٰوتُہ& بَعْدُ تَخْفِےْفًا۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ فجر کی نماز میں سورت ق والقران المجید یا ایسی ہی (طویل) کوئی دوسری سورت پڑھتے تھے اور آپ ﷺ فجر کی نماز کے بعد کی دوسری نماز ہلکی پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ فجر کی نماز کے علاوہ اوقات کی نمازیں زیادہ لمبی نہیں پڑھتے تھے اور فجر کی نماز میں طویل قرأت کیا کرتے تھے کیونکہ ہنگام صبح گا ہی بارگاہ الوہیت میں دعاوئوں کے قبول ہونے اور برکت وسعادت حاصل ہونے کا وقت ہوتا ہے۔
وَعَنْ عَمْرِ وبْنِ حُرَےْثٍص اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُ فِی الْفَجْرِ وَاللَّےْلِ اِذَا عَسْعَسَ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عمرو ابن حریث ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے آقائے نامدار ﷺ کو فجر کی نماز میں واللیل اذا عسعس (یعنی سورت اذا الشمس کورت) پڑھتے سنا ہے۔ (صحیح مسلم)
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ السَّائِبِص قَالَ صَلّٰی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمالصُّبْحَ بِمَکَّۃَ فَاسْتَفْتَحَ سُوْرَۃَ الْمُؤْمِنِےْنَ حَتّٰی جَآءَ ذِکْرُ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ اَوْ ذِکْرُ عِےْسٰی اَخَذَتِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم سُعْلَۃٌ فَرَکَعَ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عبدا اللہ ابن سائب ؓ فرماتے ہیں کہ (فتح مکہ کے بعد ایک مرتبہ) آقائے نامدار ﷺ نے ہمیں مکہ میں فجر کی نماز پڑھائی اور سورت مومن یعنی قدافلح المومنون شروع کی جب آپ موسیٰ و ہارون یا عیسیٰ کے ذکر پر پہنچے تو آپ ﷺ کو کھانسی اٹھی ( جس کی وجہ سے سورت پوری کئے بغیر) آپ ﷺ رکوع میں چلے گئے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے قرأت میں سورت قدا فلح المومنوں شروع کی اور جب آپ ﷺ اس آیت (ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَاَخَاهُ هٰرُوْنَ ) 23۔ المومنون 45) پر کہ جس میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا ذکر ہے یا اس آیت (وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّه) 23۔ المومنون 50) پر کہ جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے پہنچے تو ان جلیل القدر پیغمبروں کے ذکر سے آپ ﷺ کا دل بھر آیا اور رونے لگے جس کی وجہ سے کھانسی کا غلبہ ہوگیا چناچہ آپ ﷺ اس گریہ و کھانسی کی وجہ سے سورت پوری نہ کرسکے اور اس آیت پر قرأت ختم کر کے رکوع میں چلے گئے۔