نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 4 of 27

762Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ کے بعد دونوں ہاتھ کہاں اور کس طرح رکھنے چاہئیں

وعَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ص قَالَ کَانَ النَّاسُ ےُؤْمَرُوْنَ اَنْ ےَّضَعَ الرَّجُلُ الْےَدَ الْےُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْےُسْرٰی فِی الصَّلٰوۃِ۔ (رواہ البخاری)

اور حضرت سہل ابن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حکم کیا جاتا تھا کہ نمازی کو نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کو اوپر رکھنا چاہئے۔ (صحیح البخاری ) تشریح اس حدیث سے اس طرح اشارہ مقصود ہے کہ احکم الحاکمین اور پروردگار عالم کے سامنے کھڑے ہونے والے کے لئے لازم ہے کہ وہ ادب و احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے بلکہ انتہائی ادب و احترام کے ساتھ کھڑا رہے جس کا طریقہ یہ ہو کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ناف کے نیچے رکھا رہے اور جیسا کہ بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔

763Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ کے بعد دونوں ہاتھ کہاں اور کس طرح رکھنے چاہئیں

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ ےُکَبِّرُ حِےْنَ ےَقُوْمُ ثُمَّ ےُکَبِّرُ حِےْنَ ےَرْکَعُ ثُمَّ ےَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ حِےْنَ ےَرْفَعُ صُلْبَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ ثُمَّ ےَقُوْلُ وَھُوَ قَآئِمٌ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ثُمَّ ےُکَبِّرُ حِےْنَ ےَھْوِیْ ثُمَّ ےُکَبِّرُ حِےْنَ ےَرْفَعُ رَاْسَہُ ثُمَّ ےُکَبِّرُ حِےْنَ ےَسْجُدُ ثُمَّ ےُکَبِّرُ حِےْنَ ےَرْفَعُ رَاْسَہُ ثُمَّ ےَفْعَلُ ذَلِکَ فِی الصَّلٰوۃِ کُلِّھَا حَتّٰی ےَقْضِےَھَا وَےُکَبِّرُ حِےْنَ ےَقُوْمُ مِنَ الثِّنْتَےْنِ بَعْدَ الْجُلُوْسِ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرۃ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب نماز کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہونے کے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع میں جانے کے وقت تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے پھر کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر جب (سجدے کے لئے) جھکتے تو تکبیر کہتے اور (سجدے سے) سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ پھر نماز پوری کرنے تک ساری نماز میں یہی کرتے تھے اور جب دو رکعتیں پڑھنے کے بعد اٹھتے تو تکبر کہتے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح اس حدیث میں تکبیر تحریمہ اور رکوع و سجود کے مواقع پر صرف تکبیرات کا ذکر کیا گیا ہے ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

764Mishkaat-al-Masabih

افضل نماز کون سی ہے؟

وَعَنْ جَاِبرٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ طُوْلُ الْقُنُوْتِ ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا سب سے بہتر نماز وہ ہے جس میں قیام طویل (لمبا) ہو۔ (مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں طویل قیام کرنا یعنی زیادہ دیر تک کھڑے رہنا اور لمبی سورتیں پڑھنا افضل اور اعلیٰ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے مشقت و محنت زیادہ ہوتی ہے اور جذبہ خدمت اور اطاعت کا اظہار ہوتا ہے جو عبادت کی روح ہے۔ نماز میں قیام افضل ہے یا سجود؟ علماء کے ہاں اس بات میں اختلاف ہے کہ نماز میں آیا قیام افضل ہے یا سجود؟ چناچہ بعض حضرات تو فرماتے ہیں کہ نماز میں سجود افضل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ قیام افضل ہے ان حضرات کی دلیل یہی حدیث ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قیام میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور سجدے میں تسبیح پڑھی جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن تسبیح سے افضل ہے۔ حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے۔

765Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ

عن ابی حمید الساعدی قال فی عشرۃ من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلمانا اعلمکم بصلاۃ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلمقال فاعرض قال کان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلماذا قام الی الصلاۃ رفع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ ثم یکبر ثم یقراثم یکبر ویر فع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ ثم یرکع ویضع راحتیہ علی رکبتیہ ثم یعتدل فلا یصبی راسہ ولا یقنع ثم یرفع راسہ فیقول سمع اﷲ لمن حمدہ ثم یرفع یدیہ حتی یحاذی بھما مبکبیہ معتد لا ثم یقول اﷲ اکبر ثم یھوی الی الارض ساجد افیجا فی یدیہ عن جنبیہ ویفتح اصابع رجلیہ ثم یرع راسہ ویثنی رجلہ الیسری فیقعد علیھا ثم یعتدل حتی یرجع کل عظم موضعہ معتد لا ثم یسجد ثم یقول اﷲ اکبر و یرفع ویثنی رجلہ الیسری فیقعد علیھا ثم یعتدل حتی یرجع کل عظ الی موضعہ ثم ینھض ثم یصنع فی الرکعۃ الثانیۃ مثل ذلک ثم اذا قام من الرکعتین کبرورفع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ کما کبر عند افتتاح الصلاۃ ثم یصنع ذلک فی بقیۃ صلا تہ حتی اذ کانت السجدۃ التی فیھا التسلیم اخرج رجلہ الیسری وقعد متور کا علی شقہ الا یسر ثم سلم قالوا صدقت ھکذا کان یصلی رواہ ابوداؤد والدارمی وراوی الترمذی وابن ماجۃ معناہ وقال الجامع ترمذی ھذا حدیث حسن صحیح وفی روایۃ لا بی داؤدمن حدیث ابی حمیدثم رکع فوضع یدیہ علی رکبتیہ کانہ قابض علیھا ووتر یدیہ فنحا ھما عن جنبیہ وقال ثم سجد فامکن انفہ وجبھتہ الارض ونحی یدیہ عن جنبیہ ووضع کفیہ حزو منکبیہ وفرج بین فخذیہ غیر حامل بطنہ علی شی من فخذیہ حتی فرغ ثم جلس فافترش رجلہ الیسری واقبل بصدر الیمنی علی قبلتہ ووضع لفہ الیمنی علی رکبتہ الیمنی وکفہ الیسری علی رکبتہ الیسری و اشار اصبحہ یعنی السایۃ و فی اخری لہ و اذا قدرخی الرعتین فعد علی بطن قدمہ الیسری و نصب الیمنی وذا کان فی الرابعۃ افضی بورلہ الیسری الی الارض و اخرج قدمیہ من ناحیۃ و احدۃ۔

حضرت ابوحمید ساعدی ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے آقائے نامدار ﷺ کے دس صحابہ کی جماعت سے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (کے طریقے) کو تم سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں صحابہ کی جماعت نے کہا کہ اچھا بیان کیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر کندھوں کے برابر لے جاتے اور تکبیر کہتے پھر قرأت کرتے۔ اس کے بعد تکبیر کہہ کر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع میں جا کر دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنے پر رکھتے اور کمر سیدھی کرلیتے اور سر کو نہ نیچا کرتے تھے اور نہ بلند کرتے تھے (یعنی پیٹھ اور سربرابر رکھتے تھے) پھر سر اٹھاتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے الگ رکھتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کو موڑ کر (ان کے رخ قبلے کی طرف) رکھتے تھے پھر سجدے سے سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں موڑ کر (یعنی بچھا کر) اس پر سیدھے بیٹھ جاتے تھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر برابر آجاتا تھا۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے (دوسرے) سجدے میں چلے جاتے اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے (سجدے سے) اٹھتے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس اطمینان سے بیٹھتے (یعنی جلسہ استراحت کرتے) یہاں تک کہ بدن کا ہر عضو اپنی جگہ پر آجاتا تھا پھر دوسری رکعت میں بھی (سوائے ابتدائے رکعت میں سبحانک اللھم اور اعوذ باللہ) پڑھنے کے اسی طرح کرتے تھے اور جب وہ دو رکعت پڑھتے (یعنی تشہد) کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے جیسے کہ نماز کو شروع کرنے کے وقت تکبیر کہتے تھے پھر باقی نماز اسی طرح پڑھتے تھے اور جب وہ سجدہ (یعنی آخری رکعت کا دوسرا سجدہ) کر چکتے جس کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے تو اپنا بایاں پاؤں باہر نکالتے اور بائیں طرف کو لھے پر بیٹھ جاتے اور پھر (تشہد وغیرہ پڑھنے کے بعد) سلام پھیرتے تھے۔ (یہ سن کر) وہ سب صحابہ بولے کہ بیشک تم نے سچ کہا ہے آنحضرت ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے (ابوداؤد و دارمی) ترمذی اور ابن ماجہ نے اس روایت کو بالمعنی نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں جو ابوحمید سے مروی ہے۔ یہ الفاظ ہیں پھر رکوع میں جا کر دونوں ہاتھ زانو پر اس طرح رکھے جیسے انہیں مضبوطی سے پکڑا ہو اور اپنے ہاتھوں کو (کمان کے) چلے کی طرح رکھا اور کہنیوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھا (گویا) کہ کہنیاں چلے کے مشابہ تھیں اور پہلو کمان کے مشابہ اور راوی فرماتے ہیں کہ پھر سجدے میں گئے تو اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر رکھا اور ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھا اور دونوں ہاتھوں کو کندھوں کی سیدھ میں اور دونوں رانوں کو کشادہ رکھا اور اپنے پیٹ کو دونوں سے الگ رکھا یہاں تک کہ سجدے سے فارغ ہوئے اور پھر اس طرح بیٹھے کہ بایاں پیر تو بچھا لیا اور داہنے پاؤں کی پشت قبلے کی طرف کی اور داہنا ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور (اشھد ان لا الہ الا اللہ کہنے کے وقت) اپنی انگلی یعنی سبابہ سے اشارہ کیا۔ (اور ابوداؤد ہی کی ایک اور دوسر روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھتے تو بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیتے تھے اور جب چوتھی رکعت پڑھ کے بیٹھتے تو بائیں کو لھے کو زمین سے ملاتے اور دونوں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے تھے۔ تشریح انا اعلمکم بصلوۃ رسول اللہ ﷺ ( یعنی میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے طریقہ کو تم سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں) ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی کسی خاص مصلحت و ضرورت کی بناء پر بغیر کسی غرور وتکبر اور نفسانیت کے اظہار کے طور پر اپنے علم کی زیادتی کا دعوی کرے تو جائز ہے۔ تکبیر تحریمہ سے پہلے ہاتھ اٹھانے چاہئیں حدیث کے الفاظ رفع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ ثم یکبر سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پہلے رفع یدین کرتے اس کے بعد تکبیر تحریمہ کہتے چناچہ امام اعظم کا مسلک بھی یہی ہے کہ پہلے ہاتھ اٹھائے جائیں اس کے بعد تکبیر تحریمہ کہی جائے۔ سجدے کی تکمیل زمین پر ناک اور پیشانی دونوں رکھنے سے ہوتی ہے فامکن انفہ وجبھتہ الارض سے معلوم ہوا کہ سجدہ پیشانی اور ناک دونوں کو زمین پر رکھ کر کرنا چاہئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ مستقل طور پر سجدہ اسی طرح کرتے تھے اور احادیث بھی اس کے موافق وارد ہیں لہٰذا سجدہ مکمل تو جب ہی ہوتا ہے کہ ناک اور پیشانی دونوں کو زمین پر رکھا جائے۔ اگر کسی مجبوری اور عذر کی بناء پر سجدے میں ان دونوں میں سے کسی ایک کو زمین پر نہیں رکھا تو مکروہ نہیں ہے۔ اور اگر بغیر کسی عذر اور مجبوری کے ایسا کیا تو اس میں یہ صورت ہوگی کہ اگر زمین پر پیشانی رکھی ہے ناک نہیں رکھی تو یہ متفقہ طور پر جائز ہوگا البتہ سجدہ مکروہ ہوگا اور اگر پیشانی نہیں رکھی بلکہ ناک رکھی تو امام اعظم کے نزدیک یہ بھی بکراہت جائز ہے مگر حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک جائز نہیں ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ سبابہ کی تحقیق سبابہ شہادت کی انگلی کو کہتے ہیں۔ سب کے لغوی معنی گالی کے ہیں ایام جاہلیت میں اہل عرب جب کسی کو گالی دیتے تھے اس انگلی کو اٹھاتے تھے اس مناسب سے اس انگلی کا نام اسی وقت سے سبابہ رائج ہوگیا پھر بعد میں اس انگلی کا اسلامی نام مسبحہ اور سباحہ ہوگیا کیونکہ تسبیح و توحید کے وقت اس انگلی کو اٹھاتے ہیں۔ بہر حال۔ حدیث کے الفاط کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے التحیات میں کلمہ شہادت پڑھتے وقت اس انگلی سے اس طرح اشارہ کیا کہ نفی یعنی اشھد ان لا الہ کہتے وقت انگلی اٹھائی اور اثبات یعنی الا اللہ کہتے وقت انگلی رکھی دی

766Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ اور ہاتھ اٹھانے کا طریقہ

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرِ اَنَّہ، اَبْصَرَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلمحِیْنَ قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی کَانَتَا بِحِیَالِ مَنْکِبَیْہِ وَحَاذیَ اِبْھَامَیْہِ اُذُنَیْہِ ثُمَ کَبَّرَ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَفِیْ رِوَایَۃٍ یَرْ فَعُ لَہ، اِبْھَا مَیْہِ اِلَیْ شَحْمَۃِ اُذُنَیْہِ۔

اور حضرت وائل ابن حجر ؓ راوی ہیں کہ انہوں نے آقائے نامدار ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اتنے اٹھائے کہ کندھوں کے برابر پہنچ گئے اور دونوں انگوٹھوں کو کانوں تک لے گئے پھر تکبیر کہی۔ (سنن ابوداؤد) اور سنن ابوداؤد ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ آپ ﷺ انگوٹھوں کو کانوں تک اٹھاتے تھے۔ تشریح یہ حدیث بھی حضرت امام اعظم کے مسلک کی تائید کر رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہاتھ اٹھانے کے بعد تکبیر کہتے تھے اور انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک اٹھاتے تھے۔

767Mishkaat-al-Masabih

ہاتھ باندھنے کا طریقہ

وَعَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ ھُلْبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَؤُمُّنَا فَیَاْخُذُشِمَالَہ، بِیَمِیْنِہٖ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ)

اور حضرت قبیصہ ابن ہلب اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ ہم لوگوں کو نماز پڑھاتے تو (قیام میں) اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

768Mishkaat-al-Masabih

تعدیل ارکان کی تعلیم

وَعَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَعِدْ صَلَا تَکَ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَقَالَ عَلِّمْنِیْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ کَیْفَ اُصَلِّی قَالَ اِذَا تَوَ جَّھْتَ اِلَی الْقِبْلَۃِ فَکَبِّرْ ثُمَّ اَقْرَاْبِاُمِّ الْقُرْآنِ وَمَاشَآءَ اﷲُ اَنْ تَقْرَاَ فَاِذَا رَکَعْتَ فَاجْعَلْ رَاحَتَیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ وَمَکِّنْ رُکُوْعَکَ وَامْدُدْ ظَھْرَکَ فَاِذَا رَفَعْتَ فَاَقِمْ صُلْبَکَ وَارْفَعْ رَاْسَکَ حَتّٰی تَرْجِعَ الْعِظَامُ اِلٰی مَفَاصِلِھَا فَاِذَا سَجَدْتَ فَمَکِنَّ السُّجُوْدَ فَاِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلٰی فَخِذِکَ الیُسْر یٰ ثُمَّ اصْنَعْ ذٰلِکَ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ وَسَجْدَۃٍ حَتّٰی تَطْمَعِنَّ ھٰذَا لَفْظُ المَصَابِیْحِ وَرَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ مَعَ تَغْیِیْرٍ یَسِیْرٍ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ وَ النَّسَائِیُّ مَعْنَاہُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلتِّرِمِذِیِّ قَالَ اِذَا قُمْتَ اِلَی الصَّلَاۃِ فَتَوَضَّا کَمَا اَمَرَکَ اﷲُ بِہٖ ثُمَّ تَشَّھَّدْ فَاَقِمْ فَاِنْ کَانَ مَعَکَ قُرْآنٌ فَاقْرَ اَوَ اِلَّا فَاحْمَدِ اﷲَ وَ کَبِّرْہُ وَھَلِّلْہُ ثُمَّ ارْکَعْ۔

اور حضرت رفاعہ ابن رافع ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھی، پھر آقائے نامدار ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے (سلام کا جواب دے کر) فرمایا کہ۔ اپنی نماز دوبارہ پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی اس آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! آپ ﷺ مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ بتا دیجئے کہ نماز کس طرح پڑھوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم قبلے کی طرف متوجہ ہو تو اللہ اکبر (یعنی تکبیر تحریمہ) کہو پھر سورت فاتحہ اور جو کچھ اللہ چاہے پڑھو (یعنی سورت فاتحہ کے ساتھ جو سورت چاہو پڑھو) اور جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے زانوؤں پر رکھو رکوع میں (اطمینان سے) قائم رہو اور اپنی پشت کو ہموار رکھو اور جب تم (رکوع سے) سر اٹھاؤ تو اپنی پشت کو سیدھا کرو اور سر اٹھاؤ (یعنی بالکل سیدھ ہوجاؤ) یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آجائیں اور جب سجدہ کرو تو اچھی طرح سجدہ کرو اور جب تم سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح ہر ایک رکوع و سجدے میں کرو، یہاں تک کہ رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ) گویا ہر ایک رکن کی صحیح ادائیگی پر تمہیں اطمینان ہوجائے۔ حدیث کے یہ الفاظ مصابیح کے ہیں اور ابوداؤد نے اسے تھوڑے سے تغیر و تبدل کے ساتھ نقل کیا ہے نیز ترمذی اور نسائی نے بھی اس روایت کو بالمعنی نقل کیا ہے اور ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو اس طرح وضو کرو جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے پھر کلمہ شہادت پڑھو (جیسا کہ وارد ہے کہ وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھنا ہی فضیلت کی بات ہے یا یہ کہ کلمہ شہادت سے مراد اذان ہے) پھر اچھی طرح نماز ادا کرو (یا فاقم کا مطلب یہ ہے کہ تکبیر کہو) اور قرآن میں سے جو کچھ تمہیں یاد ہو اس کو پڑھو اور کچھ یاد نہ تو الحمد اللہ، اللہ اکبر اور لا الہ لا اللہ کہو۔ پھر رکوع کرو۔ تشریح حدیث کے آخری الفاظ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جس آدمی کو قرآن کی کوئی سورت و آیت یاد نہ ہو تو اسے چاہئے کہ وہ قرأت کی جگہ سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الہ الا اللہ وا اللہ اکبر پڑھ لیا کرے۔ چناچہ یہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی کافر مسلمان ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز کا وقت آنے تک قرآن کی کم سے کم اتنی آیتیں جتنی آیات کا پڑھنا نماز میں فرض ہے یاد کرلے۔ اگر اس عرصہ میں اسے کچھ بھی یاد نہ ہوسکے تو وہ قرأت کی جگہ ذکر اور تسبیح و تہلیل کرلیا کرے اس کی نماز ادا ہوجائے گی۔

769Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد دعا مانگنی چاہئے

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلصَّلَاۃُ مَثْنٰی مَثْنٰی تَشَھُّدٌ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَخَشُّعٌ وَّتَضَرُّعٌ وَّتَمَسْکُنٌّ ثُمَّ تُقْنِعُ یَدَیْکَ یَقُوْلُ قَدْاِرْفَعْھُمَا اِلٰی رَبِّکَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُوْنِھِمَا وَجْھَکَ وَتَقُوْلُ یَا رَبِّ یَا رَبِّ وَمَنْ لَّمْ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فَھُوَ کَذَا وَ کَذَا وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَھُوَ خِدَاجٌ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت فضل ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا۔ (نفل) نماز دو رکعت ہے اور ہر دو رکعت میں التحیات ہے اور (نماز کی روح) خشوع، عاجزی اور اظہار غریبی ہے پھر (نماز پڑھنے کے بعد) اپنے پروردگار کی طرف دونوں ہاتھ اٹھاؤ، (حضرت فضل فرماتے ہیں کہ ثم تقنع یدیک سے رسول اللہ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ نماز پڑھنے کے بعد تم) اپنے پروردگار کی طرف اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھاؤ کہ ہاتھوں کی دونوں ہتھیلیاں منہ کی جانب ہوں (جو دعا کا طریقہ ہے) اور یہ کہو کہ اے میرے رب! اے میرے رب! اور جو آدمی ایسا نہ کرے (یعنی مذکورہ بالا طریقے پر عمل نہ کرے اور دعا نہ مانگے) تو اس کی نماز ایسی ہے، ویسی ہے (یعنی ناقص ہے) اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کی نماز ناقص ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح اس حدیث سے تین چیزوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ یعنی پہلی چیز تو یہ ہے کہ نفل نماز دو رکعت پڑھی جائے خواہ دن ہو یا رات۔ یعنی ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیا جائے چار رکعتوں کے بعد سلام نہ پھیرا جائے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) نے اسی حدیث پر عمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ نفل نماز دو رکعت کر کے ہی پڑھنا افضل ہے۔ حضرت امام اعظم (رح) فرماتے ہیں کہ چاہے رات ہو چا ہے دن، نفل نماز چار چار رکعتیں کر کے پڑھنا ہی افضل ہے، حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک رات کو دو دو اور دن کو چار چار رکعتیں کر کے پڑھنا افضل ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کی دلیل تو یہی حدیث ہے۔ حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نے تراویح پر قیاس کرتے ہوئے یہ حکم دیا ہے اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اپنی دلیل کے طور پر فرماتے ہیں کہ یہ بات صحیح طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے، نیز ظہر کی نماز میں آپ ﷺ سے چار رکعتیں پڑھنا ثابت ہے۔ پھر اس کے علاوہ ایک چیز یہ بھی ہے کہ چار چار رکعت پڑھنے میں تحریمہ کے اندر زیادہ دیر تک رہنے کی وجہ سے زیادہ مشقت و محنت برداشت کرنی پڑتی ہے اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ جس عبادت میں مشقت زیادہ ہوتی ہے وہ افضل ہوتی ہے۔ امام ابوحنیفہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد ( الصلوۃ مثنی مثنی) کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس ارشاد کی مراد یہ ہے کہ نفل نماز طاق نہیں ہے بلکہ اولیٰ درجہ دو رکعتیں ہیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ نماز کی روح اور نماز کی معراج خشوع و خصوع اور اظہار عاجزی ہے، بندہ نماز کے اندر جس قدر خشوع کرے گا خضوع سے کام لے گا اور پروردگار کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی بڑائی و عظمت اور اپنی انتہائی بےچارگی و محتاجگی کا اظہار کرے گا نماز اسی قدر مقبولیت کے درجات کو پہنچے گی۔ خشوع کا مطلب یہ ہے کہ باطن میں بندہ اپنے عجز کا احساس کرے اپنے نفس کو عاجزی و انکساری کے راستے پر لگائے رہے گویا خشوع عجز باطنی کا نام ہے اور خضوع کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ظاہری طور پر اپنے ہر عمل اور ہر زوایے سے اپنے عجز و انکساری کا اظہار کرے گو یا خضوع عجز ظاہری کا نام ہے۔ تیسری چیز یہ کہ نماز کے بعد دعا مانگنی چاہئے۔ یعنی جب بندہ اللہ کے دربار میں حاضری دے اور نماز پڑھ کر اپنی عبودیت و فرما نبرداری کا اظہار کر دے تو اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نماز کے بعد اللہ کی درگاہ میں اپنے ہاتھوں کو اٹھا دے اور اپنی محتاجگی ولا چارگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی دینی دنیوی بھلائی میں اللہ کی مدد و نصرت کا طلب گار ہو۔

770Mishkaat-al-Masabih

امام تکبیرات بآواز بلند کہے

وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلّٰی قَالَ صَلّٰی لَنَا اَبُوْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ فَجَھَرَ بِالتَّکْبِیْرِ حَیْنَ رَفَعَ رَاْسَہ، مِنْ السُّجُوْدِ وَ حِیْنَ سَجَدَ وَحِیْنَ رَفَعَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ وَقَالَ ھٰکَذَا رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم۔(رواہ البخاری)

اور حضرت سعید ابن حارث ابن معلی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی چناچہ جب انہوں نے سجدے سے اپنا سر اٹھایا اور جب سجدے میں گئے نیز جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھے تو بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا میں نے آقائے نامدار ﷺ کو اسی طرح (بآواز بلند تکبیرات کہتے) دیکھا ہے۔ (صحیح البخاری ) تشریح اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ امام کو چاہئے کہ وہ درمیان نماز تمام تکبیرات بآواز بلند کہے۔ یہاں صرف ان تین موقعوں کی تکبیرات کا ذکر یا تو اتفاقا کیا گیا ہے یا پھر کچھ لوگوں نے ان اوقات کی تکبیرات کا انکار کیا ہوگا اس لئے راوی نے صرف انہیں تکبیرات کو ذکر کیا۔ ویسے اسماعیل کی روایت میں بقیہ تکبیرات کا ذکر بھی موجود ہے چناچہ ان کی روایت کے ابتداء میں یہ الفاظ بھی مذکور ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں چلے گئے تھے تو (ان کی عدم موجودگی میں) حضرت ابوسعید نے نماز پڑھائی چناچہ انہوں نے نماز شروع ہونے اور رکوع میں جانے کے وقت تکبیرات بآواز بلند کہیں اس کے بعد بقیہ حدیث بیان کی گئی ہے۔

771Mishkaat-al-Masabih

امام تکبیرات بآواز بلند کہے

وَعَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ شَیْخٍ بِمَکَّۃَ فَکَبَّرَا ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً فَقُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہ، اَحْمَقٌ فَقَالَ ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ سُنَّۃُ اَبِیْ القَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (رواہ البخاری)

اور حضرت عکرمہ (آپ عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے نام عکرمہ اور کنیت ابوعبدا اللہ تھی ١٠٥ ھ بمعر ٨٠ سال آپ کا انتقال ہوا)۔ فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ میں ایک بوڑھے آدمی (یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے نماز میں بائیس (مرتبہ) تکبیرات کہیں چناچہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے کہا کہ (معلوم ایسا ہوتا ہے) کہ یہ آدمی احمق ہے (جو اتنی زیادہ تکبیریں کہتا ہے) حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا تیری ماں تجھے روئے یہ طریقہ تو حضرت ابوالقاسم محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ (صحیح البخاری ) تشریح چار رکعتوں میں مع تکبیر تحریمہ کے بائیس تکبیرات ہوتی ہیں۔ چونکہ اس زمانہ میں مروان اور بنی امیہ نے نماز میں تکبیریں بآواز بلند کہنی چھوڑ دی تھیں اس لئے جب حضرت ابوہریرہ ؓ نے تکبیرات بآواز بلند کہیں تو حضرت عکرمہ ؓ کو سخت تعجب ہوا۔

772Mishkaat-al-Masabih

امام تکبیرات بآواز بلند کہے

وَعَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ مُرْسَلًا قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُکَبِّرُفِی الصَّلَاۃِ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَلَمْ تَزَلْ تِلْکَ صَلَا تُہ، صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی لَقِیَ اﷲُ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت علی بن حسین ابن علی بطریق مرسل روایت فرماتے ہیں کہ۔ آقائے نامدار ﷺ نماز میں جب جھکتے (یعنی رکوع و سجود میں جاتے) اور جب (قومہ، جلسہ اور قیام کے وقت) اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ آپ ﷺ ہمیشہ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے ملاقات فرمائی ( یعنی وفات پائی)۔ (مالک)

773Mishkaat-al-Masabih

رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہے

وَعَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ لَنَا اِبْنُ مَسْعُوْدٍ اَلَا اُصَلِّی بِکُمْ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلَّی وَلَمْ یَرْ فَعْ یَدَیْہِ اِلَّا مَرَّۃً وَاحِدَۃً مَعَ تَکْبِیْرِ الْاِفْتِتَاحِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ وَقَالَ اَبُوْدَاؤدَ لَیْسَ ھُوَ بِصَحِیْحٍ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنٰی۔

اور حضرت علقمہ ؓ راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں آقائے نامدار ﷺ کی سی نماز نہ پڑھاؤں؟ چناچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ نے ہمیں (رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق) نماز پڑھائی اور صرف تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے۔ (جامع ترمذی و ابوداؤد، سنن نسائی) اور ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث اس طرح صحیح نہیں ہے۔ تشریح امام ترمذی (رح) نے اپنی کتاب میں رفع یدین کے مسئلہ سے متعلق دو باب قائم کئے ہیں۔ ایک باب تو رفع یدین کے اثبات میں اور دوسرا باب عدم رفع یدین کے اثبات میں۔ اسی دوسرے باب میں امام موصوف نے یہ حدیث نقل کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں براء ابن عازب سے بھی حدیث منقول ہے اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن ہے اس کے تابع صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت ہے۔ نیز سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا مسلک بھی اسی حدیث کے مطابق ہے۔ البتہ امام موصوف نے پہلے باب میں عبداللہ ابن مبارک (رح) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ رفع یدین کی حدیث ثابت ہے اور عدم رفع یدین کے سلسلے میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی حدیث جو حنفیہ کی مستدل ہے ثابت نہیں ہے۔ بہر حال اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حنفیہ کے مسلک عدم رفع یدین کے اثبات میں اس حدیث کے علاوہ اور بہت سی احادیث و آثار وارد ہیں جن کو پہلے ذکر بھی کیا جا چکا ہے۔

774Mishkaat-al-Masabih

رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہے

وَعَنْ اَبِیْ حُمَیْدِ السَّاعِدِیِّ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ اِسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ وَقَالَ اﷲُ اَکْبَرْ۔(رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوحمید الساعدی ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو (پہلے) قبلے کی طرف متوجہ ہوتے (پھر) دونوں ہاتھ اٹھاتے اور (اس کے بعد) اللہ اکبر فرماتے۔ (سنن ابن ماجہ)

775Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کا اپنے پیچھے کی چیزوں کا معجزہ کے طور پر دیکھنا

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلظُّھْرَ وَفِیْ مُؤَخَّرِ الصُّفُوْفِ رَجُلٌ فَاَسَاءَ الصَّلَاۃَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاہُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَا فُلَانُ اَلَا تَتَّقِی اﷲَ اَلَا تَرٰی کَیْفَ تُصَلِّیْ اِنَّکُمْ تَرَوْنَ اِنَّہ، یَخْفٰی عَلَیَّ شَیْئٌ مِمَّا تَصْنَعُوْنَ وَاﷲِ اِنِّیْ لَاَریٰ مِنْ خَلْفِیْ کَمَا اَرٰی مِنْ بِیْنَ یَدَیْ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے (ایک مرتبہ) ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ آخر صف میں ایک آدمی کھڑا تھا جس نے ٹھیک طرح نماز نہیں پڑھی۔ جب اس آدمی نے سلام پھرا (تو رسول اللہ ﷺ نے اسے آواز دے کر فرمایا کہ اے فلاں! کیا تم اللہ بزرگ و برتر سے نہیں ڈرتے؟ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے نماز کس طرح پڑھی ہے؟ تم تو یہ جانتے ہو ہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو مجھے معلوم نہیں ہوتا حالانکہ اللہ کی قسم جس طرح میں اپنے سامنے کی چیزیں دیکھتا ہوں اسی طرح اپنے پیچھے کی چیزیں بھی دیکھ لیتا ہوں۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح اللہ تعالیٰ نے سرکار دو عالم ﷺ کو اس دنیا میں شریعت حق دے کر مبعوث فرمایا تو جہاں آپ ﷺ کی رسالت و نبوت کے دلائل و شواہد میں بہت ساری چیزیں دیں وہیں آپ ﷺ کو کچھ معجزات بھی عنایت فرمائے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کے ذہن و فکر پر رسول اللہ ﷺ کی عظمت و برتری اور آپ ﷺ کی سچائی و صداقت عیاں ہو سکے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ آپ ﷺ جس طرح اپنے سامنے اور آگے چیزوں کو دیکھ لیتے تھے ایسے ہی اپنے پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھنے پر قادر تھے اور یہ دیکھنا خرق عادت یعنی معجزہ کے طور پر ہوتا تھا جس کی راہنمائی الہام کے ذریعے ہوتی تھی۔ مگر اتنی بات یاد رکھ لیجئے کہ اس معجزے سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ آپ ﷺ کو علم غیب حاصل تھا کیونکہ اول تو یہ بتایا جا چکا ہے کہ آپ ﷺ کو یہ خصوصیت صرف معجزے کے طور پر حاصل تھی۔ نیزیہ کہ آپ ﷺ اس وصف پر از خود قادر نہ تھے بلکہ اس سلسلے میں وحی الہام کے ذریعے آپ ﷺ کی رہنمائی کی جاتی تھی۔ پھر یہ کہ آپ ﷺ کو یہ وصف ہمیشہ حاصل نہیں رہتا تھا بلکہ کبھی کبھی ایسا ہوجاتا تھا۔ اگر آپ ﷺ کو علم غیب حاصل ہوتا تو نہ صرف یہ کہ آپ ﷺ وحی الہام کی راہنمائی کے بغیر از خود اس وصف پر قاد ہوتے بلکہ یہ وصف آپ ﷺ کو ہمیشہ ہمیشہ حاصل ہوتا چناچہ اس کی تائید خود ایک روایت سے ہوتی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کہیں غائب ہوگئی، جب بہت زیادہ تلاش کے بعد بھی اس کا کہیں پتہ نہ چلا تو منافقین نے کہنا شروع کیا کہ محمد ﷺ تو یہ فرماتے ہیں کہ میں آسمان کی باتیں تم تک پہنچاتا ہوں تو کیا وہ اتنا بھی نہیں جان سکتے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں تو صرف انہیں چیزوں کو جان سکتا ہوں جن کے بارے میں میرا اللہ مجھے علم دے! اور اب میرے اللہ نے مجھے (بتا دیا اور) دکھا دیا ہے کہ میری اونٹنی فلاں جگہ ہے اور اس کی مہار ایک درخت کی شاخ میں اٹکی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ میں انسان ہوں، میں تو (ا اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر) یہ بھی نہیں جانتا کہ اس دیوار کے پیچھے کیا ہے؟ شیخ سعدی (رح) نے اس حقیقت کی ترجمانی اس طرح کی ہے گہے برطارم اعلی نشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینم بہر حال۔ رسول اللہ ﷺ کی حالت نماز آپ ﷺ کی دوسری حالتوں کے مقابلے میں زیادہ افضل و اعلیٰ ہوتی تھی اس لئے دوسرے مواقع کی بہ نسبت آپ ﷺ پر حالت نماز میں کائنات کی چیزوں کی حقیقت و معرفت کامل طور پر واضح و ظاہر ہوتی تھی۔ پھر یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا نماز میں اللہ کے سامنے حاضر ہونا اور متوجہ الی اللہ ہونے کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ ﷺ کائنات سے بیخبر ہوجاتے تھے بلکہ نماز کی حالت میں آپ ﷺ اشیاء کائنات سے پوری پوری طرح باخبر رہتے تھے اور آپ ﷺ کا احساس و شعور پوری قوت سے اشیائے عالم کا ادراک کرتا تھا، چناچہ اللہ کے وہ نیک و فرمانبردار بندے بھی جو ریاضیت و مجاہدہ اور تعلق مع اللہ کی بناء پر کاملین کے درجے میں ہوتے ہیں حالت نماز میں کائنات کی اشیاء سے باخبر رہتے ہیں۔ اگر ایک طرف ان کے قلوب بارگاہ الٰہی میں پوری طرح حاضر رہتے ہیں تو دوسری طرف ان کے احساس و شعور دنیا کی چیزوں سے بھی مطلع رہتے ہیں اسی وجہ سے مشائخ فرماتے ہیں کہ نماز مقام کشف و حضور ہے نہ کہ محل غیبت اور استغراق!۔ بعض حضرات نے ان تمام مباحث سے ہٹ کر یہ بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان دو سوراخ تھے جن کے ذریعے آپ ﷺ پیچھے کی جانب دیکھتے تھے۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی ثبوت ہے بلکہ کسی ذہن کی افتراع محض ہے۔

776Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان

نماز کے شروع میں جن دعاؤں اور اذکار کا پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً انی وجھت الخ یا سبحانک اللھم الخ یا ان کے علاوہ دیگر دعائیں ان سب کو یا بعض کو فرائض و نوافل میں پڑھنا امام شافعی کے نزدیک مستحب ہے، امام اعظم، امام مالک اور امام احمد فرماتے ہیں کہ صرف سبحانک اللہم الح پڑھا جائے اور اس کے علاوہ جو دعائیں ثابت ہیں وہ سب نوافل پر محمول ہیں یعنی رسول اللہ ﷺ ان دعاؤں کو نفلوں میں پڑھا کرتے تھے۔ حضرت امام ابویوسف کے نزدیک سبحانک اللہم الخ اور انی وجہت الخ دونوں دعاؤں کو پڑھنا چاہئے۔ امام طحاوی نے بھی اس کو اختیار کیا ہے ان دونوں دعاؤں کی ترتیب میں نمازی کو اختیار ہے خواہ وہ پہلے سبحانک اللہم پڑھے یا انی وجہت کو پہلے پڑھ لے ویسے مشہور یہی ہے کہ انی وجہت، سبحانک اللہم کے بعد پڑھا جائے۔

777Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان رسول اللہ ﷺ کی دعا

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَسْکُتُ بَےْنَ التَّکْبِےْرِ وَبَےْنَ الْقِرَآءَ ۃِ اِسْکَاتَۃً فَقُلْتُ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِسْکَاتُکَ بَےْنَ التَّکْبِےْرِ وَبَےْنَ الْقِرَآئَۃِ مَا تَقُوْلُ قَالَ اَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَےْنِیْ وَبَےْنَ خَطَاےَایَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَےْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اَللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنَ الْخَطَاےَا کَمَا ےُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْےَضُ مِنَ الدَّنَسِ اَللّٰھُمَّ اغْسِلْ خَطَاےَایَ بِالْمَآءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان مکمل خاموشی اختیار کرتے تھے (یعنی بآواز بلند نہ پڑھتے تھے) چناچہ میں نے (ایک دن) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپ ﷺ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان خاموش ہوئے کیا پڑھا کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں یہ ( دعا) پڑھا کرتا ہوں۔ اَللّٰھُمَّ بَاعِدْبَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَا یَایَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ اَللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَ بْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ اَللّٰھُمَّ اغْسِلْ خَطَایَایَ بِالْمَآءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ اے اللہ! مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنا فاصلہ پیدا کر دے جیسا کہ تو نے مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ پیدا کر رکھا ہے (یعنی میرے گناہوں کو کمال بخشش عطا کر) اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑے سے میل دور کیا جاتا ہے (یعنی مجھے گناہوں سے کمال پاکی عطا کر) اے اللہ! میرے گناہ پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح دعا کے آخر جملہ (اے اللہ میرے گناہ پانی، برف اور دلوں سے دھو ڈال) سے یہ مراد ہے کہ الہ العالمین! میرے گناہوں کو اپنے فضل و کرم کے مختلف طریقوں سے بخش دے۔ گویا یہاں بخشش میں مبالغہ مقصود ہے نہ کہ حقیقۃً ان چیزوں سے گناہوں کو دھونا۔

778Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان رسول اللہ ﷺ کی دعا

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِےْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِےْنَ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْےَایَ وَمَمَا تِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِےْنَ لَا شَرِےْکَ لَہ، وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِےْنَ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْمَلِکُ لَااِٰلہَ اِلَّا اَنْتَ اَنْتَ رَبِّیْ وَاَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِےْعًا اِنَّہُ لَا ےَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ وَاھْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ لَا ےَھْدِیْ لِاَحْسَنِھَا اِلَّا اَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَےِّئَھَا لَا ےَصْرِفُ عَنِّیْ سَےِّئَھَا اِلَّا اَنْتَ لَبَّےْکَ وَسَعْدَےْکَ وَالْخَےْرُ کُلُّہُ فِیْ ےَدَےْکَ وَالشَّرُّ لَےْسَ اِلَےْکَ اَنَا بِکَ وَاِلَےْکَ تَبَارَکْتَ وَتَعَالَےْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَےْکَ وَاِذَا رَکَعَ قَالَ اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِی فَاِذَ رَفَعَ رَأْسَہُ قَالَ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْاَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَےْنَھُمَا وَمِلْاَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ وَاِذَا سَجَدَ قَالَ اَللّٰھُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ وَصَوَّرَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ تَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِےْنَ ثُمَّ ےَکُوْنُ مِنْ اٰخِرِ مَا ےَقُوْلُ بَےْنَ التَّشَھُّدِ وَالتَّسْلِےْمِ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَسْرَفْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ )۔و فی روایۃ اللشافعی فی و الشد لیس الیک و المھدی من ھدیت انک بک و الیک لا منجا منک ولا ملحا الا الیک تبارکت۔

رسول اللہ ﷺ کس کس موقع پر کون کون سی دعائیں پڑھتے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب نماز پڑھنے کھڑتے ہوتے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جب نماز شروع کرتے تو (پہلے) تکبیر (تحریمہ) کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے۔ ( انی وجھت وجھی للذی فطر السموت والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین اللھم انت الملک لا الہ الا انت انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی جمیعا انہ لا یغفر الذنوب الا انت واھدنی لا حسن الاخلاق لا یھدی لا حسنھا الا انت واصرف عنی سیھا لا یصرف عنی سیھا الا انت لبیک وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک و الشر لیس الیک انا بک والیک تبارکت و تعالیبت استغفرک واتوب الیک) ترجمہ میں نے اپنا منہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے درحالی کہ میں حق کی طرف متوجہ ہونے والا اور دین باطل سے بیزار ہوں اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو شرک کرتے ہیں، میری نماز، میری عبادت میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے جو دونوں جہانوں کا پروردگار ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم کیا گیا ہے اور میں مسلمانوں (یعنی فرما نبرداروں) میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا ہی بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں (چونکہ تو نے فرمایا ہے کہ جو بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف و اقرار کرتا ہوا میری بارگاہ میں آئے میں اسے بخش دوں گا) لہٰذا تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ اور کوئی گناہ نہیں بخش سکتا اور بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر کیونکہ تیرے سوا اور کوئی بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتا اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے کیونکہ بجز تیرے اور کوئی بد اخلاقی سے مجھے نہیں بچا سکتا۔ میں تیری خدمت میں حاضر ہوں اور تیرا حکم بجا لانے پر تیار ہوں۔ تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور برائی تیری جانب منسوب نہیں کی جاتی، میں تیرے ہی سبب سے ہوں اور تیرا حکم ہی کی طرف رجوع کرتا ہوں تو بابرکت ہے اور اس بات سے بلند ہے (کہ تیری ذات وصفات کی حقیقت و کنہ تک کسی عقل کی رسائی ہوسکے) میں تجب سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیرے ہی سامنے توبہ کرتا ہوں۔ اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ (دعا) پڑھتے۔ (اللھم لک رکعت وبک امنت ولک اسلمت خشع لک سمعی وبصری ومخی وعظمی وعصبی ) ترجمہ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لی رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لئے اسلام لایا اور میری سماعت، میری بینائی، میرا ذہن میری ہڈی اور میرے پٹھے جھکے ہوئے ہیں۔ اور جب (رکوع سے) سر اٹھاتے تو یہ (دعا) پڑھتے۔ اللھم ربنا لک الحمد ملا السموت والارض وما بینھما دملا ما شت من شی بعد اے اللہ! رب ہمارے! تیرے ہی لئے حمد ہے آسمانوں اور زمینوں کے برابر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے برابر اور اس چیز کے برابر جو بعد میں تو پیدا کرے یعنی آسمانوں اور زمین وغیرہ کے بعد اور جو معدوم چیزیں پیدا کرنا چاہئے۔ اور جب سجدہ میں جاتے تو یہ (دعا) پڑھتے۔ اللھم لک سجدت وبک امنت ولک اسلمت سجد وجھی للذی خلقہ وصورہ وشق سمعہ وبْصرۃ تبارک اللہ احسن الخالقین اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لئے اسلام سے بہرہ ور ہوا، میرے منہ نے اسی ذات کو سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا اس کو صورت دی، اس کے کان کھولے اور اس کی آنکھ کھولی۔ اللہ بہت بابرکت اور بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ اور پھر سب سے آخری دعا جو التحیات اور سلام پھیرنے کے درمیان ہوتی یہ ہے۔ اللھم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم بہ منی انت المقدم وانت الموخر لا الہ الا انت اے اللہ! میرے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دے اور ان گناہوں کو بخش دے جو میں نے پوشیدہ اور اعلانیہ کئے ہیں اور (اس) زیادتی کو بخش دے (جو میں نے اعمال اور مال خرچ کرنے میں کی ہے) اور ان گناہوں کو بھی بخش دے جن کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے اور تو اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے عزت و مرتبہ میں آگے کرنے والا اور جس کو چاہے پیچھے ڈالنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ (صحیح مسلم) اور امام شافعی کی روایت میں (پہلی دعا میں یدیک) کے بعد یہ الفاظ ہیں۔ والشر لیس الیک والمہدی من ھدیت انا بک والیک لا منجا منک ولا ملجا الا الیک تبارکت یعنی برائی تیری طرف منسوب نہیں ہے اور ہدایت یافتہ وہی ہے جس کو تو نے ہدایت بخشی اور میں تیری ہی قوت کے ذریعے ہوں اور تیری طرف رجوع کرنے والا ہوں۔ نہیں ہے نجات (اور بےپروائی) تیری ذات سے اور نہیں ہے پناہ مگر تیری طرف اور تو ہی بابرکت ہے۔ تشریح والشر لیس الیک (یعنی برائی تیری طرف منسوب نہیں ہے) کا مطلب یہ ہے کہ از راہ ادب و تعظیم برائی کی نسبت تیری طرف نہیں کی جاتی اگرچہ برائی و بھلائی کا خالق تو ہی ہے اگر تو نے ایک طرف بھلائی کو پیدا کیا ہے تو دوسری طرف برائی کی بھی تخلیق کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر حق تعالیٰ نے برائی کو پیدا کیا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ اگر کوئی قباحت و برائی ہے تو وہ بندہ کے ارتکاب میں ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ من شر ماخلق یعنی میں مخلوق کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ والشر لیس الیک کے معنی یہ ہیں کہ برائی وہ چیز ہے جو تیرے تقرب اور تیری خوشنودی کے حصول کا ذریعہ نہیں ہے یا یہ کہ برائی تیری طرف صعود نہیں کرتی تیری بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ بھلائی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ الیہ یصعد الکلم الطیب یعنی (اس پروردگار) کی طرف نیک و پاکیزہ باتیں صعود کرتی ہیں یعنی مقبولیت کا درجہ پاتی ہیں)۔

779Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان رسول اللہ ﷺ کی دعا

وَعَنْ اَنَسٍ صاَنَّ رَجُلًا جَآءَ فََدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَہُ النَّفَسُ فَقَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِےْرًا طَےِّبًا مُّبَارَکًا فِےْہِ فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوتَہُ قَالَ اَےُّکُمُ الْمُتَکَلِّمُ بِالْکَلِمَاتِ فَاَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ اَیُّکُمُ الْمُتَکَلِّمُ بِالْکَلِمَاتِ فَاَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ اَےُّکُمُ الْمُتَکَلِّمُ بِھَا فَاِنَّہُ لَمْ ےَقُلْ بَاْسًا فَقَالَ رَجُلٌ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِیَ النَّفْسُ فَقُلْتُھَا فَقَالَ لَقَدْ رَاَےْتُ اثْنَیْ عَشَرَ مَلَکًا ےَّبْتَدِرُوْنَھَا اَےُّھُمْ ےَرْفَعُھَا۔ (مسلم

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ( ایک دن) ایک آدمی آیا اور نماز کی صف میں شامل ہوگیا۔ اس کا سانس چڑھا ہوا تھا اس نے کہا اللہ اکبر، الحمد اللہ حمد طیبا مبارکا فیہ (یعنی اللہ بہت بڑا ہے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ایسی تعریفیں جو بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت ہیں) جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تو پوچھا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ سب لوگ (جو نماز میں حاضر تھے اس خوف سے کہ شاید ہم سے کوئی خطا سرزد ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار ہے) خاموش رہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے تھے؟ پھر بھی کسی نے جواب نہیں دیا، آپ ﷺ نے پھر (تیسری مرتبہ) فرمایا کہ تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے تھے (اور خوف نہ کرو کیونکہ) جس نے یہ کلمات کہے تھے اس نے کوئی بری بات نہیں کی ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جب میں آیا تو میرا سانس چڑھا ہوا تھا اور میں نے یہ کلمات کہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے جلدی کر رہے تھے کہ ان کلموں کو (پروردگار کی بارگاہ میں) پہلے کون لے جائے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے استفسار پر جو یہ کہا کہ جب میں آیا تو میرا سانس چڑھا ہوا تھا اور میں نے یہ کلمات کہے تھے تو اس کا یہ کہنا بیان حقیقت اور اظہار واقعہ کے طور پر تھا۔ ان کلمات کے کہنے کے سلسلہ میں کسی عذر کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا۔

780Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ کے بعد کی دعا

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ قَالَ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکْ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَ قَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ لَا نَعْرِفُہ، اِلَّا مِنْ حَارِثَۃَ وَ قَدْ تُکَلِّمَ فِیْہِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِہٖ۔

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب نماز شروع کرتے تو (تکبیر تحریمہ کے بعد) یہ پڑھا کرتے تھے۔ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکْ اللہ تو پاک ہے اور ہم تیری پاکی تیری تعریف کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلندو برتر ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ یہ حدیث ترمذی اور ابوداؤد نے نقل کی ہے نیز ابن ماجہ نے (بھی) اس روایت کو ابوسعید ؓ سے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو ہم سوائے (بواسطہ) حارثہ راوی کے نہیں جانتے اور اس میں قوت حافظہ کے فقدان کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے۔ تشریح علامہ طیبی شافعی نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ حدیث حسن مشہور ہے اور اس حدیث پر خلفائے راشدین میں سے حضرت عمر فاروق ؓ نے عمل کیا ہے نیز یہ حدیث مسلم میں بھی منقول ہے۔ اس موقعہ پر علامہ موصوف نے اس حدیث کی تقویت کے بارے میں بہت لمبی چوڑی بحث کی ہے جسے اہل علم و نظر ان کی کتاب میں دیکھ سکتے ہیں۔

781Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ کے بعد کی دعا

وَعَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ اَنَّہ، رَاٰی رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمیُصَلِّی صَلَاۃً قَالَ اَﷲُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا اَﷲُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا اَﷲُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا وَسُبْحَانَ اﷲِ بُکْرَۃَ وَّاصِیْلَا ثَلَاثًا اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ نَفْخِہٖ وَنَفَثِہٖ وَھَمَزِہٖ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃَ اِلَّا اَنَّہ، لَمْ یَذْکُرْوَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَذَکَرَ فِیْ اٰخِرِہٖ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ وَقَالَ عُمَرُ نَفْخُہُ الْکِبْرُ وَ نَفْثُہُ الشِّعْرُ وَ ھَمْزُہُ المُؤْتَۃُ۔

اور حضرت جبیر ابن مطعم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے چناچہ آپ (تکبیر تحریمہ کے بعد کہتے تھے اَ اَکْبَرُ کَبِیْرًا اَ اَکْبَرُ کَبِیْرًا اللہ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا وَسُبْحَانَ ا بُکْرَۃَ وَّاصِیْلَا (یعنی اللہ بہت بڑا و برتر ہے اللہ بہت بڑا و برتر ہے، اللہ بہت بڑا و برتر ہے، اللہ کے واسطے بہت تعریف ہے۔ اللہ کے واسطے بہت تعریف ہے میں اور پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی صبح و شام، تین مرتبہ پہلے کلمات کی طرح وَسُبْحَانَ ا بُکْرَۃَ وَّاصِیْلَا کو بھی تین مرتبہ کہتے تھے اور پھر اس کے بعد یہ کہتے تھے) اَعُوْذُ بِا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ نَفْخِہ وَنَفَثِہ وَھَمَزِہ (یعنی شیطان کے تکبر، اس کے شعروں اور اس کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں، اس حدیث کو ابوداؤد اور سنن ابن ماجہ نے نقل کیا ہے البتہ ابن ماجہ نے وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا ذکر نہیں کیا ہے اور آخر میں مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ ذکر کیا ہے۔ نیز حضرت عمر ؓ فرماتے تھے کہ شیطان کے نفخ سے تکبر، اس کے نفث سے شعر اور اس کے ہمز سے جنون مراد ہے۔ تشریح نفح شیطان سے مراد تکبر و خود پسندی ہے جس میں شیطان آدمی کو اس طرح پھنساتا ہے کہ اس کو خود اس کی نظر میں اس حیثیت سے دکھاتا ہے کہ وہ آدمی اپنے آپ کو اچھا اور اعلیٰ سمجھ کر تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے اس طرح شیطان آدمی سے تکبر کا ارتکاب کراتا ہے۔ گویا نفح شیطان کا مطلب یہ ہوا کہ شیطان آدمی میں تکبر کی لہر پھونک دیتا ہے۔ نفث سے جس کے معنی دم کرنے یعنی پھونکنے کے ہیں سحر مراد لیا گیا ہے جو شیطان آدمی پر کرتا ہے یا آدمی سے کسی دوسرے پہ کراتا ہے یہ معنی ارشاد ربانی آیت ( وَمِنْ شَرِّالنَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ) سورت الناس) کی مناسبت سے زیادہ اولیٰ ہے کیونکہ اس آیت کریمہ میں نَفّٰثٰتِ سے مراد سحر کرنے والی عورتیں ہیں۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ نفثت سے مراد غیر سنجیدہ اور برے مضمون کے اشعار ہیں جنہیں شیطان آدمی کے تخیل میں ڈالتا ہے اور پھر انہیں اس کی زبان سے صادر کراتا ہے جیسے برے منتر یا وہ غلط اشعار جن میں مسلمانوں کی ہجو اور کفر و فسق کے الفاظ ہوتے ہیں۔ ھمز سے مراد غیبت کرنا اور لعن و طعن کرنا ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ ہمز شیطان سے اس کا وسوسہ مراد ہے جیسا کہ اس آیت (وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ ) 23۔ المومنون 67) میں ہمزات سے مراد شیطان کے وسو سے لئے گئے ہیں۔ بہر حال یہ معانی اسی وقت مراد لئے جائیں گے جب کہ یہ ثابت ہوجائے کہ حدیث میں حضرت عمر ؓ سے ان تینوں الفاظ کی جو توضیح نقل کی گئی ہے وہ حضرت عمر فاروق ؓ کا قول نہیں ہے بلکہ کسی راوی کا ہے۔ اگر یہ توضیح صحیح طور پر حضرت عمر فاروق ؓ سے ثابت ہو تو پھر وہی معنی مراد ہوں جو حضرت عمر فاروق ؓ سے منقول ہیں اور ان کے علاوہ دوسرے معنی مراد نہیں لئے جائیں گے۔