نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 3 of 27

742Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے آگے عورت کے آجانے سے نماز باطل نہیں ہوتی

وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ مِنَ الَّلےْلِ وَاَنَا مُعْتَرِضَۃٌ بَےْنَہُ وَبَےْنَ الْقِبْلَۃِ کَاِعْتِرَاضِ الْجَنَازَۃِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ رات کی نماز پڑھتے رہتے تھے اور میں آپ ﷺ کے اور قبلے کے درمیان (یعنی آپ ﷺ کے سامنے) اس طرح پڑی رہتی تھی۔ جیسے جنازہ نمازیوں کے آگے رکھا ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح جنازے کی مثال دے کر اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نماز میں مشغول ہوتے تھے میں اس وقت آپ ﷺ کے سامنے کسی گوشے وغیرہ میں نہیں پڑی رہتی تھی بلکہ آپ ﷺ کے سامنے پوری طرح لیٹی رہتی تھی اور اس کے باوجود آپ ﷺ نماز پڑھتے رہتے تھے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں نمازی کے آگے عورت کے آجانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

743Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے آگے سے گدھی وغیرہ کا گزرنا نماز کو باطل نہیں کرتا

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صقَالَ اَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلٰی اَتَانٍ وَاَنَا ےَوْمَئِذٍ قَدْ نَاھَزْتُ الْاِحْتِلَامَ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ بِالنَّاسِ بِمِنًی اِلٰی غَےْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَےْنَ ےَدَیْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَاَرْسَلْتُ الْاَ تَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِی الصَّفِّ فَلَمْ ےُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیَّ اَحَدٌ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن جب کہ میں بالغ ہونے کے قریب تھا گدھی پر بیٹھا ہوا آیا اور آقائے نامدار ﷺ منیٰ میں لوگوں کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے اور (آپ ﷺ کے) آگے کوئی دیوار نہیں تھی (یعنی آپ ﷺ نے کوئی سترہ نہیں کھڑا کر رکھا تھا، میں بعض صفوں کے سامنے سے گزرا، پھر گدھی سے اتر کر اسے چھوڑ دیا وہ چرنے لگی اور میں صف میں داخل ہوگیا اور مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح اس واقعہ کو بیان کرنے سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا یہ بتانا مقصود ہے کہ نمازیوں کے آگے سے گدھی کے گزر جانے سے نماز باطل نہیں ہوئی۔ اس وقت حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ چونکہ بالغ نہیں تھے اس لئے جب وہ نمازیوں آگے سے گزرے تو انہیں کسی نے روکا نہیں۔

744Mishkaat-al-Masabih

عصا کو سترے کے طور پر گاڑنے کے بجائے سامنے رکھ لینے میں علماء کا اختلاف

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلَّی اَحَدُکُمْ فَلْیَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْھِہٖ شَیْئًا فَإِنْ لَّمْ یَجِدْ فَلْیَنْصِبْ عَصَاہُ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ مَعَہ، عَصًا فَلْیَخْطُطْ خَطًا ثُمَّ لَا یَضُرُّہُ مَا مُرَّاَمَامَہ،۔ (رواہ ابوداؤد و وابن ماجۃ)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھنا چاہے تو اپنے منہ کے سامنے کچھ (مثلاً دیوار و ستون وغیرہ) کرلے اور اگر کچھ نہ ملے تو اپنا عصا (ہی) کھڑا کرلیا کرے اور اگر اس کے پاس عصا بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لیا کرے پھر اس کے آگے سے کوئی گزر جائے تو کچھ نقصان نہ ہوگا (یعنی خشوع و خضوع میں خلل نہیں پڑے گا۔ ( سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح یہ حدیث اس بات کی اجازت دے رہی ہے کہ اگر کسی نمازی کو کوئی ایسی چیز دستیاب نہ ہو جو سترے کے طور پر کام دے سکے تو وہ اپنے عصا کو اپنے سامنے سترہ بنا کر کھڑا کرلے۔ اب اس سلسلہ میں اتنی اور سہولت دی گئی ہے کہ اگر زمین نرم ہو تو عصا کو زمین میں گاڑ دیا جائے اور اگر زمین سخت ہو کہ عصا کو گاڑنا مشکل ہو تو پھر اس شکل میں عصا کو گاڑنے کی بجائے اپنے سامنے طولا رکھ لیا جوے تاکہ گاڑنے کی مشابہت حاصل ہوجائے۔ فقہ کی کتاب شرح منبہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی نمازی اپنے عصا کو سترے کے طور پر بجائے زمین میں گاڑنے کے اپنے سامنے رکھ لے تو بعض علماء کے نزدیک تو اس کے لئے یہ سترے کے طور پر کافی ہوجائے گا۔ یعنی سترے کا حکم پورا ہوجائے گا مگر بعض علماء کے نزدیک یہ سترے کے طور پر کافی نہیں ہوگا۔ کفایہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی نمازی سترے کے طور پر عصا کو بجائے گاڑنے کے سامنے رکھنا چاہئے تو اسے عصا کو طولاً رکھنا چاہئے نہ کہ عر ضا۔ سترے کے لئے کوئی بھی چیز موجود نہ ہونے کی شکل میں سامنے صرف لکیر کھینچ لینے میں علماء کا اختلاف اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہو رہی ہے کہ اگر کسی نمازی کو سترہ بنانے کے لئے کوئی چیز نہ ملے یہاں تک کہ اس کے پاس عصا بھی نہ ہو تو وہ اپنے سامنے صرف لکیر کھنیچ کر نماز پڑھ لے اس کے لئے یہی لکیر سترہ بن جائے گی۔ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا قول قدیم اور حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مسلک یہی ہے بلکہ حنفیہ میں بھی بعد کے بعض علماء نے اس قول کو اختیار کیا ہے۔ حنفیہ کے اکثر علماء اور حضرت امام مالک (رح) اس کے قائل نہیں ہیں کیونکہ ان کے نزدیک لکیر کھینچ لینا معتبر نہیں ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) نے بھی قول جدید میں اپنے پہلے مسلک کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلہ میں جو حدیث وارد ہے وہ ضعیف اور مضطرب ہے۔ نیز یہ کہ نمازی اور سامنے سے گزرنے والے کے درمیان سترے کے طور پر صرف لکیر کا حائل ہونا نہ صرف یہ کہ کوئی اعتبار نہیں رکھتا بلکہ دور سے معلوم و ممیز بھی نہیں ہوتا۔ صاحب ہدایہ (رحمۃ اللہ) علیہ نے بھی اسی مسلک کو اختیار کیا ہے۔ حضرت شیخ ابن الہمام (رح) کے قول کا مفہوم بھی یہی ہے کہ لکیر کھینچنے کے بجائے سترہ کھڑا کرنا ہی اتباع سنت کی بناء پر اولی اور بہتر ہے کیونکہ سامنے کھڑا ہوا سترہ پوری طرح ظاہر ہونے کی وجہ سے امتیاذ بھی رکھتا ہے اور نمازی کے دل کو شک و شبہات سے نکال کر سکون خاطر اور اطمینان قلب کا باعث ہوتا ہے۔ اس کے بعد علماء نے وصف خط میں بھی اختلاف کیا ہے کہ لکیر کس طرح کھینچی جائے چناچہ بعض علماء کے نزدیک لکیر بشکل ہلال کھینچنی چاہئے اور بعض حضرات نے جانب قبلہ طولاً کھینچنے کو لکھا ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ لکیر عرضاً دائیں طرف سے بائیں طرف کو کھینچی جائے اور مختار طولاً ہی کھنیچنا ہے۔

745Mishkaat-al-Masabih

سترے کو قریب کھڑا کرنا چاہئے

وَعَنْ سَھْلِ بْنِ اَبِی حَثْمَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ اِلَی سُتْرَۃٍ فَلْیُدْنُ مِنْھَا لَا یَقْطَعِ الشَّیْطَانُ صَلَا تَہُ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت سہل ابن حثمہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی سترے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اسے چاہئے کہ وہ سترے کے قریب رہے تاکہ شیطان اس کی نماز نہ توڑے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح سترے کے قریب رہنے کا مطلب یہ ہے کہ سترا اتنا نزدیک کھڑا کیا جائے کہ سجدہ اس کے پاس ہو سکے تاکہ شیطان اس کی نماز میں کوئی خلل نہ ڈال سکے کیونکہ نمازی اگر سترے سے دور کھڑا ہوگا تو اس کے سامنے سے کسی کے گزرنے کا احتمال ہوگا۔ چناچہ شیطان ایسی صورت میں اس کے دل میں وسو اس و شبہات کے بیچ بوئے گا جس سے حضوری قلب میں فرق آجائے گا۔ اور نماز میں حضورئ قلب کی دولت میسر نہیں رہی تو گویا اس کی نماز ٹوٹ گئی اس لئے کہ نماز کا کمال اور ثواب بغیر حضوری قلب کے حاصل نہیں ہوتا لہٰذا سترے کے قریب کھڑا ہونے کی وجہ سے اس آفت سے حفاظت حاصل ہوگی۔

746Mishkaat-al-Masabih

سترہ پیشانی کے عین سامنے کھڑا نہیں کرنا چاہئے

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ قَالَ مَارَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی اِلٰی عُوْدٍ وَلَا عَمُوْدٍ وَلَا شَجَرَۃٍ اِلَّا جَعَلَہ، عَلَی حَاجِبِہِ الْاَیْمَنِ اَوِلْاَیْسَرِ وَ لَا یَصْمُدُ لَہ، صَمْدًا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت مقداد ابن اسود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ لکڑی، ستون یا درخت کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھتے ہوں اور یہ چیزیں ٹھیک آپ ﷺ کے سامنے کھڑی ہوں بلکہ وہ آپ ﷺ کی داہنی یا بائیں بھو وں (ابروں کے سامنے ہوتی تھیں اور آپ ﷺ ان کی سیدھ کا قصد نہ کرتے تھے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ سترہ کھڑا کرتے تھے تو اس بات کا بطور خاص خیال رکھتے تھے کہ سترہ پیشانی کے عین سامنے نہ ہو بلکہ آپ ﷺ سترے کو دائیں یا بائیں بھوؤں کے سامنے کھڑا کرتے تھے اور اس سے آپ ﷺ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ بت پرستی کی مشابہت نہ ہو۔

747Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے سامنے سے کتے اور گدھے وغیرہ کا گزرنا نماز کو باطل نہیں کرتا

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اَتَا نَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَنَحْنُ فِی بَادِیَۃٍ لَنَا وَمَعَہ، عَبَّاسٌ فَصَلّٰی فِی صَحْرَاءَ لَیْسَ بَیْنَ یَدَیْہِ سُتْرَۃٌ وَحِمَارَۃٌ لَنَا وَ کَلْبَۃٌ تَعْبَثَانِ بَیْنَ یَدَیْہٖ فَمَا بَالٰی بِذٰلِکَ۔ (راہ ابوداؤد و النسائی ، نحوہ)

اور فضل ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ (ایک دن) ہمارے پاس تشریف لائے جب کہ ہم اپنے جنگل میں (خیمہ زن) تھے حضرت عباس ؓ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے چناچہ آپ ﷺ نے جنگل میں نماز (اس طرح) پڑھی کہ آپ ﷺ کے سامنے سترہ نہیں تھا۔ ہماری گدھی اور کتیا آپ ﷺ کے سامنے کھیل رہی تھیں مگر آپ ﷺ نے اس کی کچھ پرواہ نہیں کی۔ (ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح اہل عرب کا دستور تھا کہ وہ لوگ چند دنوں کے لئے جنگل میں خیمہ زن ہو کر جایا کرتے تھے اور وہاں رہا کرتے تھے۔ ہر جماعت کا اپنا اپنا متعین جنگل ہوتا تھا چناچہ حضرت عباس ؓ کا بھی ایک جنگل تھا۔ جن ایام میں وہ اپنے جنگل میں خیمہ زن تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے راوی وہی واقعہ کا بیان کر رہے ہیں۔ اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے سے اگر گدھے اور کتے وغیرہ گزر جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی، وہیں یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ گزر گاہ پر نماز پڑھنے کی شکل میں نمازی کو اپنے آگے سترہ کھڑا کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔

748Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے سامنے سے کسی کے گزرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْءٌ وَاَدْرَأُوْامَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّمَا ھُوَ شَیْطَانٌ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا۔ نمازی کے آگے سے گزرنے والی کوئی چیز نماز کو نہیں توڑتی (تاہم اگر کوئی نمازی کے آگے سے گزرے تو نماز میں خشوع و خضوع برقرار رکھنے کی خاطر، تم حتی الامکان اسے روکو کیونکہ وہ گزرنے والا شیطان ہے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح اس حدیث نے بھی بصراحت اس کو واضح کردیا کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز نماز کو باطل نہیں کرتی چاہے عورت، کتا اور گدھا ہی کیوں نہ ہو۔ (دیکھئے حدیث نمبر ٧)۔

749Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے سامنے سے کسی کے گزرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کُنْتُ اَنَامُ بَیْنَ یَدَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَرِجْلَایَ فِی قِبْلَتِہٖ فَاِذَا سَجَدَ غَمَزَنِی فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ وَاِذَا قَامَ بَسَطْتُّھُمَا قَالَتْ وَالْبُیُوْتُ یَوْمَئِذٍ لَیْسَ فِیْھَا مَصَابِیْحُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں آقائے نامدار ﷺ کے سامنے (اس طرح سوئی رہتی تھی کہ) میرے دونوں پاؤں آپ ﷺ کے قبلے کی طرف (یعنی آپ ﷺ کے سجدہ کرنے کی جگہ) ہوتے تھے۔ جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تھے تو میرے (پاؤں کو) دبا دیتے تھے میں پاؤں کو سمیٹ لیتی تھی اور جب آپ ﷺ کھڑے ہوجاتے تھے تو میں پھر پاؤں پھیلا دیتی تھی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ان دنوں میں گھر کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم) تشریح حدیث کے آخری جملہ سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اپنا یہ عذر بیان کرنا چاہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سجدہ کرنے کی جگہ پاؤں اس لئے پھیلائے رکھتی تھی کہ چراغ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے کچھ معلوم نہ ہوتا تھا۔ جہاں تک حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اس عمل کا تعلق ہے کہ جب آپ ﷺ ان کا پاؤں دبا دیتے تھے تو وہ اپنے پاؤں سمیٹ لیتی تھیں اور جب آپ ﷺ کھڑے ہوجاتے تھے تو وہ اپنے پاؤں پھیلا دیتی تھیں تو یہ رسول اللہ ﷺ کی تقریر یعنی ان کے اس عمل پر رسول اللہ ﷺ کی جانب سے نکیر نہ ہونے کی بناء پر تھا۔ نمازی کے آگے سے گزرنا جرم عظیم ہے

750Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے سامنے سے کسی کے گزرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ یَعْلَمُ اَحَدُکُمْ مَالَہ، فِی اَنْ یَمُرَّبَیْنَ یَدَیْ اَخِیْہِ مُعْتَرَضًا فِی الصَّلاَۃِ کَانَ لَاَنْ یُّقِیْمَ مِائَۃَ عَامٍ خَیْرٌلَہُ مِنَ الْخَطْوَۃِ الَّتِی خَطَا۔ (رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی یہ جان لے کہ اپنے مسلمان بھائی کے سامنے سے جب کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو عرضا گزرنا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے لئے سو برس تک کھرے رہنا ایک قدم آگے بڑھانے سے بہتر معلوم ہو۔ (سنن ابن ماجہ)

751Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے سامنے سے کسی کے گزرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی

وَعَنْ کَعْبِ الْاَحْبَارِ قَالَ لَوْ یَعْلَمُ المَارُّ بَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلِّی مَاذَا عَلَیْہِ لَکَانَ اَنْ یُخْسَفَ بِہٖ خَیْرًالَہُ مِنْ اَنْ یُّمَرَّبَیْنَ یَدَیْہٖ وَفِی رِوَایَۃٍ اَھْوَنَ عَلَیْہِ۔ (رواہ امام مالک)

اور حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر یہ جان لے کہ (اس کے جرم کی) سزا کیا ہے تو اس کو اپنا زمین میں دھنسنا یا جانا نمازی کے آگے سے گزرنے سے زیادہ بہتر معلوم ہو۔ اور ایک روایت میں بجائے بہتر کے زیادہ آسان کا لفظ ہے۔ (مالک)

752Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے آگے سے کتنی دوری پر گزرنا چاہئے

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلَّی اَحَدُ کُمْ اِلٰی غَیْرِ السُّتْرَۃِ فَاِنَّہُ یَقْطَعُ صَلَاتَۃُ الْحِمَارُوَالْخِنْزِیْرُ وَالیَھُوْدِیُّ وَ المَجُوْسِیُّ وَالْمَرْأَۃُ وَتُجْزِیئٍ عَنْہُ اِذَا مَرُوْا بَیْنَ یَدَیْہِ عَلَی قَذْفَۃٍ بِحَجَرٍ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے جو آدمی بغیر سترے کے نماز پڑھے گا تو اس کی نماز اس کے سامنے سے گدھے، خنز یر، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی ہاں اگر یہ ایک پتھر پھینکنے کی مسافت کے فاصلے سے گزریں تو کچھ حرج نہیں۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ پھینکنے کے بعد پتھر جتنی دور جا کر گرتا ہے اتنے فاصلے کے بعد سے یہ مذکورہ چیزیں اگر نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزریں تو کچھ حرج نہیں ہے یعنی نماز میں کوئی خلل و قصور نہیں آتا۔ علماء نے لکھا ہے کہ پھتر پھینکنے سے مراد حج میں رمی جمار ہے یعنی حج میں مناروں پر جو کنکر اور جس فاصلے سے مارے جاتے ہیں اور جس کی مقدار تین ہاتھ لکھی ہے وہی یہاں مراد ہے۔ اس حدیث کی تاویل بھی وہی ہوگی جو اسی باب کی حدیث نمبر سات کی تشریح کے ضمن میں کی جا چکی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے کیا مراد ہے؟۔

753Mishkaat-al-Masabih

صفت نماز کا بیان

اس باب کے ذیل میں وہ احادیث نقل کی جا رہی ہیں جن میں نماز پڑھنے کی ترکیب معلوم ہوگی کہ نماز کس طرح پڑھی جائے؟ اور نماز کے ارکان و اجزاء کیا ہیں؟

754Mishkaat-al-Masabih

نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص اَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم جَالِسٌ فِیْ نَاحِےَۃِالْمَسْجِدِ فَصَلّٰی ثُمَّ جَآءَ فَسَلَّمَ عَلَےْہِ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَےْکَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَصَلّٰی ثُمَّ جَآءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ وَعَلَےْکَ السَّلاَمُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ اَوْ فِی الَّتِیْ بَعْدَھَا عَلِّمْنِیْ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ اِذَا قُمْتَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاَسْبِغِ الْوُضُوْۤءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَےَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْکَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَسْتَوِِیَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَّفِیْ رِوَاےَۃٍ ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَسْتَوِیَ قَآئِمًا ثُمَّ افْعَلْ ذَالِکَ فِیْ صَلٰوتِکَ کُلِّھَا ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا۔ (پہلے) اس نے نماز پڑھی، اس طرح کہ تعدیل ارکان اور قومہ و جلسہ کی رعایت نہیں کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا جاؤ اور پھر نماز پڑھو اس لئے کہ تم نے نماز نہیں پڑھی وہ چلا گیا اور جس طرح پہلے نماز پڑھی تھی اسی طرح پھر نماز پڑھی اور آپ ﷺ کی خدمت میں آکر سلام عرض کیا، آپ ﷺ نے سلام کا جواب دے کر پھر اس سے فرمایا کہ جاؤ نماز پڑھو اس لئے کہ تم نے نماز پڑھی ہی نہیں (اس طرح تین مرتبہ ہوا) تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ اس آدمی نے عرض کیا، یا رسول اللہ! مجھے سکھلا دیجئے ( کہ نماز کس طرح پڑھوں) آپ ﷺ نے فرمایا۔ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو (پہلے) اچھی طرح وضو کرلو۔ پھر قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو کر تکبیر کہو پھر قرآن کی جو (سورت وغیرہ) تمہیں آسان معلوم ہو اسے پڑھو پھر سکون کے ساتھ رکوع کرو پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو پھر سر اٹھاؤ اور اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ پھر اطمینان کے ساتھ (دوسرا) سجدہ کرو پھر سر اٹھاؤ اور سکون کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ پھر سر اٹھاؤ اور سیدھے کھڑے ہوجاؤ (اس روایت میں جلسہ استراحت کا ذکر نہیں) پھر اپنی تمام نماز اسی طرح ادا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح طمانیت کا مطلب یہ ہے کہ رکوع یا سجود وغیرہ میں اس طرح پوری دلجمعی اور سکون خاطر کے ساتھ ٹھہرا جائے کہ بدن کے تمام جوڑ اپنی جگہ اختیار کرلیں اور ان ارکان میں جو تسبیحات پڑھی جاتی ہیں وہ پورے اطمینان کے ساتھ پڑھی جائیں۔ رکوع و سجود وغیرہ میں طمانیت فرض ہے یا واجب؟ حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد اور حضرت امام ابویوسف رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اس حدیث کے پیش نظر رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں طمانیت کی فرضیت کے قائل ہیں اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اطمینان کے فقدان کی بناء پر نماز کی نفی فرمائی ہے اور یہ چیز فرضیت کی علامت ہے کہ ایک فعل اس کے نہ ہونے سے منتفی اور باطل ہوجائے لہٰذا یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے ارکان میں آرام و سکون کو اختیار نہ کیا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی جس کا اعادہ ضروری ہوگا۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک رکوع و سجود میں طمانیت واجب ہے اور قومہ و جلسہ میں سنت ہے یہ حضرات اس حدیث کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ یہاں نماز کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ نماز کے کمال کی نفی مراد ہے کیونکہ اس حدیث کے آخری الفاظ جو ابوداؤد، جامع ترمذی اور سنن نسائی میں منقول ہیں یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا کہ اگر تم نے اسے (یعنی طمانیت کو) پورا کیا تو تمہاری نماز مکمل ہوئی اور اس میں سے تم نے جو کچھ کم کیا تو تم نے اپنی نماز ناقص کی۔ لہٰذا اس طرح کا حکم وجوب اور سنت کی علامت ہے کہ اس کے بغیر فعل ناقص و ناتمام ہوتا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کو نماز کا اعادہ کرنے کا حکم اس لئے نہیں دیا تھا کہ اس کی نماز سرے سے ہوئی ہی نہیں تھی بلکہ اس اعادہ کے حکم کا مطلب یہ تھا کہ نماز پورے کمال اور بغیر کسی کراہیت و نقصان کے ادا ہونی چاہئے۔ اور اگر طمانیت فرض ہوتی تو آپ ﷺ اس کو شروع ہی میں منع کر کے نماز پڑھنے سے روک دیتے اور اس کو بغیر فرائض کے نماز نہ پڑھنے دیتے۔ اس حدیث سے چند باتوں کی طرف اشارہ ملتا ہے پہلی چیز تو یہ کہ عالم اور ناصح کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ کسی جاہل اور غلط کام کرنے والے کو نہایت نرمی اور اخلاق کے ساتھ سمجھائے اور اس کے ساتھ نصیحت کا ایسا نرم معاملہ کرے کہ وہ آدمی اس کی بات کو ماننے اور اس پر عمل پیرا ہونے پر خود مجبور ہوجائے کیونکہ بسا اوقات نصیحت کے معاملے میں بد اخلاقی و ترش روئی اصلاح و سدھار پیدا کرنے کی بجائے اور زیادہ ضد و ہٹ دھرمی اور گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔ دوسری چیز یہ ثابت ہوتی ہے کہ ملاقات اگرچہ مکرر اور تھوڑی دیر کے بعد ہی ہو سلام کرنا مستحب ہے۔ تیسری چیز یہ ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی نماز کے واجبات میں کچھ خلل و نقصان پیدا کرے تو اس کی نماز صحیح ادا نہیں ہوتی اور وہ حقیقی معنی میں نمازی نہیں کہلاتا بلکہ اس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ اس آدمی نے نماز نہیں پڑھی۔ پہلی روایت میں جلسہ استراحت یعنی پہلی اور تیسری رکعت میں دوسرے سجدے سے اٹھ کر بیٹھنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے چناچہ امام شافعی (رح) کے نزدیک جلسہ استراحت سنت ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک سنت نہیں ہے اس کی مفصل تحقیق (انشاء اللہ) آگے آئے گی۔

755Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ

عَنْ عَآئِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَسْتَفْتِحُ الصَّلٰوۃَ بِالتَّکْبِےْرِ وَالْقِرَاءَ ۃَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِےْنَ وَ کَانَ اِذَا رَکَعَ لَمْ ےُشْخِصْ رَاْسَہُ وَلَمْ ےُصَوِّبْہُ وَلٰکِنْ بَےْنَ ذٰلِکَ وَکَانَ اِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ لَمْ ےَسْجُدْ حَتّٰی ےَسْتَوِیَ قَائِمًا وَّکَانَ اِذَا رَفَعَ رَاسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ لَمْ ےَسْجُدْ حَتّٰی ےَسْتَوِیَ جَالِسًا وَّکَانَ ےَقُوْلُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَےْنِ التَّحِےَّۃَ وَکَانَ ےَفْرِشُ رِجْلَہُ الْےُسْرٰی وَےَنْصِبُ رِجْلَہُ الْےُمْنٰی وَکَانَ ےَنْھٰی عَنْ عُقْبَۃِ الشَّےْطَانِ وَےَنْھٰی اَنْ ےَّفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَےْہِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَکَانَ ےَخْتِمُ الصَّلٰوۃَ بِالتَّسْلِےْمِ۔ (صحیح مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نماز تو تکبیر سے اور قرأت الحمد اللہ رب العالمین سے شروع کرتے اور آپ جب رکوع کرتے تھے تو اپنا سر مبارک نہ تو (بہت زیادہ) بلند کرتے تھے اور نہ (بہت زیادہ) پست بلکہ درمیان درمیان رکھتے تھے (یعنی پیٹھ اور گردن برابر رکھتے تھے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بغیر سیدھا کھڑے ہوئے سجدے میں نہ جاتے تھے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو بغیر سیدھا بیٹھے ہوئے (دوسرے) سجدہ میں نہ جاتے تھے اور ہر دور رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے اور (اور بیٹھنے کے لئے) اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے تھے اور آپ عقبہ شیطان (یعنی شیطان کی بیٹھک) سے منع فرماتے تھے اور مرد کو دونوں ہاتھ سجدے میں اس طرح بچھانے سے بھی منع کرتے تھے جس طرح درندے بچھا لیتے ہیں اور آپ ﷺ نماز کو سلام پر ختم فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ فرمانا کہ رسول اللہ ﷺ نماز تو تکبیر سے شروع فرماتے تھے اور قرأت کی ابتداء الحمد اللہ رب العالمین سے کرتے تھے۔ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آپ ﷺ بسم اللہ آہستہ سے پڑھتے تھے جیسا کہ حضرت امام اعظم (رح) کا مسلک بھی یہی ہے۔ قعدے میں بیٹھنے کا طریقہ اور اس میں آئمہ کا اختلاف وکان یفرش رجلہ ایسر وینصب رجلہ الیمنی (یعنی آپ ﷺ بیٹھنے کے لئے اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے تھے) اس عبارت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں قعدوں میں اسی طرح بیٹھتے تھے چناچہ حضرت امام اعظم (رح) کا یہی مسلک ہے کہ دونوں قعدوں میں اسی طرح بیٹھنا چاہئے۔ آئندہ آنے والی حدیث جو حضرت ابوحمید ساعدی ؓ سے منقول ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پہلے قعدے میں افتراش (یعنی پاوئوں بچھانا ہی اختیار کرتے تھے مگر دوسرے قعدے میں تورک یعنی (کولہوں پر بیٹھنا) اختیار فرماتے تھے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہی ہے کہ پہلے قعدے میں تو افتراش ہونا چاہئے اور دوسرے قعدے میں تورک۔ حضرت امام مالک (رح) کے نزدیک دونوں قعدوں میں تورک ہی ہے اور حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جس نماز میں دو تشہد ہوں اس کے آخری تشہد میں تورک ہونا چاہئے اور جس نماز میں ایک ہی تشہد ہے اس میں افتراش ہونا چاہئے۔ امام اعظم (رح) کے مسلک کی دلیل بنیادی طور پر حضرت امام اعظم (رح) کے مسلک کی دلیل یہی حدیث ہے نہ صرف یہی حدیث بلکہ اور بہت سی احادیث وارد ہیں جن میں مطلقاً پاؤں کے بچھانے کا ذکر ہے۔ نیز یہ بھی وارد ہے کہ تشہد میں سنت یہی ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ بغیر پہلے اور دوسرے قعدے کی قید کے تشہد میں اسی طرح بیٹھا کرتے تھے۔ پھر دوسری چیز یہ بھی ہے کہ تشہد میں بیٹھنے کا جو طریقہ امام اعظم نے اختیار کیا ہے وہ دوسرے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ بامشقت اور مشکل ہے اور احادیث میں صراحت کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ اعمال میں زیادہ افضل و اعلیٰ عمل وہی ہے جس کے کرنے میں مشقت اور مشکل ہے۔ جن احادیث میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ دوسرے قعدے میں کو لہوں پر بیٹھتے تھے۔ جیسا کہ امام شافعی (رح) کا مسلک ہے وہ اس بات پر مجمول ہے کہ رسول اللہ ﷺ حالت ضعف اور کبر سنی میں اس طرح بیٹھتے تھے کیونکہ دوسرے قعدے میں زیادہ دیر تک بیٹھنا ہوتا ہے اور کو لہوں پر بیٹھنا زیادہ آسان ہے۔ عقبہ شیطان کا مطلب عقبہ شیطان دراصل ایک خاص طریقے سے بیٹھنے کا نام ہے جس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ دونوں کو ل ہے زمین پر ٹیک کر دونوں پنڈلیاں کھڑی کرلی جائیں پھر دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر بیٹھا جائے جس طرح کے کتے بیٹھا کرتے ہیں۔ قعدے میں بیٹھنے کا یہ طریقہ اختیار کرنا متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک مکروہ ہے۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ عقبہ شیطان کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کو ل ہے دونوں ایڑیوں پر رکھے جائیں۔ یہ معنی لفظ عقبہ کی رعایت سے زیادہ مناسب ہیں۔ آپ ﷺ نے مرد کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ سجدہ کی حالت میں زمین پر اپنے دونوں ہاتھ اس طرح بچھائے جس طرح درندے یعنی کتے وغیرہ بچھاتے ہیں اس سلسلے میں مرد کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ سجدہ کے وقت عورتوں کو اس طرح ہی دونوں ہاتھ بچھانے چاہیں کیونکہ اس طرح عورت کے جسم کی نمائش نہیں ہوتی۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب بالکل صاف ہے کہ آپ ﷺ نماز کا اختتام سلام پر فرماتے تھے۔ مگر اتنی بات سن لیجئے کہ نماز میں سلام پھیرنا حنفیہ کے نزدیک تو واجب ہے مگر حضرت شوافع کے نزدیک فرض ہے۔

756Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو کہاں تک اٹھایا جائے؟

عَنْ اَبِیْ حُمَےْدِن السَّاعِدِیِّ ص قَالَ فِیْ نَفَرٍ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَا اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَاَےْتُہُ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ ےَدَےْہِ حِذَآءَ مَنْکِبَےْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ ےَدَےْہِ مِنْ رُکْبَتَےْہِ ثُمَّ ھَصَرَ ظَہْرَہُ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ اسْتَوٰی حَتّٰی ےَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَکَانَہُ فَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ ےَدَےْہِ غَےْرَ مُفْتَرِشٍ وَّلَا قَابِضِھِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِاَطْرَافِ اَصَابِعِ رِجْلَےْہِ الْقِبْلَۃَ فَاِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَےْنِ جَلَسَ عَلٰی رِجْلِہِ الْےُسْرٰی وَنَصَبَ الْےُمْنٰی فَاِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَۃِ الْاٰخِرَۃِ قَدَّمَ رِجْلَہُ الْےُسْرٰی وَنَصَبَ الْاُخْرٰی وَقَعَدَ عَلٰی مَقْعَدَتِہٖ۔

اور حضرت ابوحمید ساعدی ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے آقائے نامدار ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت میں فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپ ﷺ تکبیر کہتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے تھے اور جب رکوع میں جاتے تھے تو اپنے دونوں زانو ہاتھوں سے مضبوط پکڑتے تھے اور اپنی پیٹھ جھکا دیتے تھے (تاکہ گردن کے برابر ہوجائے) اور جب اپنا سر (رکوع سے) اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ سارے جوڑ اپنی اپنی جگہ پر آجاتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو دونوں ہاتھ زمین پر (منہ کے بل) رکھ دیتے تھے اور انہیں نہ پھیلاتے تھے اور نہ (پہلو کی طرف) بیٹھتے تھے اور پاؤں کی انگلیاں قبلے کی طرف سامنے رکھتے تھے اور جب دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور جب آخری رکعت پڑھ کہ بیٹھتے تھے تو بائیں پاؤں کو آگے نکال دیتے اور دوسرے (یعنی دائیں) پاؤں کو کھڑا کر کے کو لھے پر بیٹھ جاتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ جب تکبیر کہتے تھے تو اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہی ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو کانوں کی لو کے مقابل تک اٹھانا چاہئے کیونکہ دیگر احادیث میں اسی طرح مروی ہے اور چونکہ بعض روایات میں ان دونوں سے الگ ایک تیسرا طریقہ یعنی ہاتھوں کو کانوں کی اوپر کی جانب تک اٹھانا بھی آیا ہے۔ اس لئے امام اعظم (رح) نے نہ تو کانوں کے نیچے یعنی کندھوں تک اٹھانے کے طریقہ کو اختیار کیا اور نہ کانوں کے اوپر کی جانب تک اٹھانے کے طریقہ کو اختیار کیا بلکہ درمیانی طریقہ اختیار کیا ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) نے ان روایات کی تطبیق کے سلسلے میں فرمایا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اس طرح اٹھانا چاہئے کہ ہاتھ کی ہتھیلیاں تو کاندھوں کے مقابل رہیں انگوٹھے کانوں کی لو کے مقابل اور انگلیوں کے سرے کان کے اوپر کے حصے پر رکھے جائیں تاکہ اس طریقے سے تمام احادیث میں عمل ممکن ہوجائے اور روایتوں میں کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہ رہ جائے اور ان احادیث میں ایک دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ احادیث مختلف اوقات سے متعلق ہیں یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت کبھی تو آپ ﷺ اس طرح ہاتھ اٹھاتے ہوں گے اور کبھی اس طرح۔ آپ ﷺ کے رکوع کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ﷺ دونوں ہاتھوں سے دونوں زانو مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے اور پھر گردن مبارک کو جھکا کر بالکل پیٹھ کر برابر کردیتے تھے۔ علماء نے لکھا ہے کہ رکوع میں تو انگلیاں کشادہ رکھنی چاہئیں اور سجدے میں ملی ہوں نیز تکبیر تحریمہ اور تشہد میں ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہئے۔ سجدے میں زمین پر ہاتھ رکھنے کا جو طریقہ بتایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدے کی حالت میں انگلیاں اور ہتھلیاں زمین پر پھیلا دینی چاہئیں اور پہنچے اٹھے ہوئے اور پہلو اس طرح الگ رکھنے چاہئیں کہ اگر بکری کا بچہ چاہے تو نیچے سے گزر جائے۔ اس حدیث میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ قومہ سے سجدہ میں جانے کے وقت زمین پر پہلے زانو رکھے جائیں یا ہاتھ تو اس سلسلہ میں صحیح مسئلہ یہ ہے کہ درست تو دونوں طریقے ہیں لیکن اکثر آئمہ کے نزدیک افضل اور مختار یہی ہے کہ زمین پر پہلے زانو رکھے۔

757Mishkaat-al-Masabih

رفع بدین

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےَرْفَعُ ےَدَےْہِ حَذْوَ مَنْکِبَےْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ وَاِذَا کَبَّرَ لِلرُّکُوْعِ وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ رَفَعَھُمَا کَذَالِکَ وَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وَکَانَ لَا ےَفْعَلُ ذَالِکَ فِی السُّجُوْدِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے تکبیر کہتے نیز جب رکوع سے سرا ٹھاتے تو تب بھی اسی طرح دونوں ہاتھ (کندھوں تک) اٹھاتے اور (رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے) کہتے سمع اللہ لمن حمدہ۔ ربنالک الحمد (ا اللہ نے اس آدمی کو سن لیا (یعنی اس کی تعریف قبول کرلی) جس نے اس کی حمد بیان کی۔ اے ہمارے پروردگار! تعریف تو تیرے ہی لئے ہے) اور رسول اللہ ﷺ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کا مطلب یہ کہ اے پروردگار! دنیا کی تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی کسی آدمی کی تعریف کرتا ہے تو وہ درحقیقت تیری ہی تعریف کرتا ہے کیونکہ سب کو پیدا کرنے والا تو ہی تو ہے اس لئے مصنوع کی تعریف دراصل صانع ہی کی تعریف ہوتی ہے۔ حدیث کے اس جزو سے معلوم ہوا کہ ہر نماز پڑھنے والے کو سمع اللہ لم حمدہ اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ دونوں کلمات کہنے چاہئیں۔ مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو اسے یہ دونوں کلمات کہنے چاہئیں مگر جماعت کی صورت میں امام صرف سمع اللہ لم حمدہ کہے اور مقتدی ربنالک الحمد کہیں۔ حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ امام کو دونوں کلمات کہنے چاہئیں اسی قول کو امام طحاوی (رح) نے بھی اختیار کیا ہے۔ بلکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے بھی ایک روایت اسی قول کی تائید میں منقول ہے مقتدی کے بارے میں ان کی رائے بھی یہی ہے کہ وہ صرف رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہے۔ وکان لا یفعل ذلک فی السجود (یعنی آپ ﷺ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تکبیر تحریمہ کے بعد آپ ﷺ رکوع میں جانے سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین کرتے تھے اس طرح جب سجدے میں جاتے یا سجدے سے سر اٹھاتے تو رفع یدین نہیں کرتے تھے چناچہ حضرات شوافع کا مختار مسلک یہی ہے کہ ان اوقات میں رفع یدین نہیں کرنا چاہئے۔ ان حضرات کے نزدیک رفع یدین کی جو صورت ہے وہ یہی ہے کہ رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ، رکوع میں جانے کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت کرنا چاہئے۔ ان تینوں موقعوں کے علاوہ اور کسی موقعہ پر رفع یدین کو یہ حضرات صحیح نہیں مانتے۔

758Mishkaat-al-Masabih

رفع بدین

وعَنْ نَّافِعٍ (رحمۃ اللہ علیہ )اَنَّ ابْنَ عُمَرَ ص کَانَ اِذَا دَخَلَ فِی الصَّلٰوۃِ کَبَّرَ وَرَفَعَ ےَدَےْہِ وَ اِذَا رَکَعَ رَفَعَ ےَدَےْہِ وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَفَعَ ےَدَےْہِ وَاِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَےْنِ رَفَعَ ےَدَےْہِ وَرَفَعَ ذَالِکَ ابْنُ عُمَرَ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم۔

اور حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع میں جاتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تب بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ہوئی نقل کرتے تھے (یعنی وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی طرح کیا ہے)۔ (صحیح البخاری)

759Mishkaat-al-Masabih

رفع یدین کے مسئلے حنفیہ کی مستدل احادیث و آثار

وَعَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَےْرِثِ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَبَّرَ رَفَعَ ےَدَےْہِ حَتّٰی ےُحَاذِیَ بِھِمَا اُذُنَےْہِ وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ فَقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ حَتّٰی ےُحَاذِیَ بِھِمَا فُرُوْعَ اُذُنَےْہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت مالک ابن حویرث ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ جب تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھاتے کہ انہیں کانوں کی سیدھ تک لے جاتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر اسی طرح کرتے تھے (یعنی دونوں ہاتھ کانوں کی سیدھ تک لے جاتے تھے) اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ دونوں کو اپنے کانوں کے اوپر کی جانب لے جاتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین یعنی ہاتھوں کے اٹھانے میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ تمام علماء وائمہ اس بات پر متفق ہیں۔ کہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنا چاہئے۔ تکبیر تحریمہ کے علاوہ دوسرے مواقع پر رفع یدین کا مسئلہ حنفیہ و شوافع کے درمیان ایک معرکۃ الآراء مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرنا چاہئے اور شوافع کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرنا چاہئے۔ حق تو یہ ہے کہ دونوں طرف دلائل کے انبار ہیں اور احادیث و آثار کے ذخائز ہیں جن کی بنیادوں پر طرفین اپنے اپنے مسلک کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ علمائے حنفیہ نے تمام احادیث میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ان حضرات کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی تو رفع یدین کرتے ہوں اور کبھی نہ کرتے ہوں، یا یہ کہ پہلے تو آپ ﷺ رفع یدین کرتے تھے لیکن بعد میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ دوسرے مواقع کے لئے رفع یدین کو منسوخ قرار دے دیا گیا۔ حنفیہ کے پاس اپنے مسلک کی تائید میں بہت زیادہ احادیث و آثار ہیں انہیں یہاں ذکر کیا جاتا ہے تاکہ حنفی مسلک پوری طرف واضح ہوجائے۔ امام ترمذی (رح) نے ترمذی میں دو باب قائم کئے ہیں۔ پہلا باب تو رکوع کے وقت رفع یدین کا ہے۔ اس کے ضمن میں امام ترمذی (رح) نے عبداللہ ابن عمر ؓ کی حدیث نقل کی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ دوسرا باب یہ ہے کہ ہاتھ اٹھانا صرف نماز کی ابتداء کے وقت دیکھا گیا ہے اس باب کے ضمن میں امام جامع ترمذی نے حضرت علقمہ ؓ کی وہ حدیث جو عبداللہ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے اپنے رفقاء سے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی نماز ادا کرتا ہوں چناچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ نے نماز ادا کی اور انہوں نے صرف پہلی مرتبہ ہی (یعنی تکبر تحریمہ کے وقت) ہاتھ اٹھائے۔ اسی باب میں امام ترمذی (رح) نے براء بن عازب ؓ سے بھی اسی طرح منقول ہونا ثابت کیا ہے۔ نیز امام موصوف نے کہا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن ہے اور صحابہ وتابعین میں سے اکثر اہل علم اس کے قائل ہیں اور سفیان ثوری (رح) و اہل کوفہ کا قول بھی یہی ہے۔ جامع الاصول میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی حدیث کو ابوداؤد و سنن نسائی کے حوالے سے اور براء ابن عازب ؓ کی حدیث کو بھی ابوداؤد کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ نماز شروع فرماتے تھے تو (تکبیر تحریمہ کے وقت) دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے قریب تک اٹھاتے تھے اور ایسا دوبارہ نہیں کرتے تھے۔ اور ایک دوسری روایت میں یوں کہ پھر دوبارہ ہاتھوں کو نہیں اٹھاتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوجاتے تھے۔ اس موقع پر اتنی سی بات اور سنتے چلیے کہ اس حدیث کے بارے میں ابوداؤد نے جو یہ کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ تو ہوسکتا ہے کہ ان کے نزدیک صحیح ہونے سے مراد یہ ہو کہ اس خاص سند و طریق سے صحیح ثابت نہیں لہٰذا ایک خاص سند و طریق سے صحیح ثابت نہ ہونا اصل حدیث کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ یا پھر یہ احتمال ہے کہ ابوداؤد کا مقصد اس حدیث کو حسن ثابت کرنا ہو جیسا کہ ترمذی نے کہا ہے لہٰذا اس صورت میں کہا جائے گا تمام ائمہ و محدثین کے نزدیک حدیث حسن قابل استدلال ہوتی ہے۔ حضرت امام محمد (رح) اپنی کتاب موطا میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی اس روایت کو جس سے رکوع اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین ثابت ہوتا ہے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ۔ یہ سنت ہے کہ ہر مرتبہ جھکنے اور اٹھنے کے وقت تکبیر کہی جائے لیکن رفع یدین سوائے ایک مرتبہ (یعنی تحریمہ کے وقت) کے دوسرے مواقع پر نہ ہو اور یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے اور اس سلسلے میں بہت زیادہ آثار وارد ہیں۔ چناچہ اس کے بعد عاصم ابن کلیب خرمی کی ایک روایت جسے عاصم نے اپنے والد مکرم سے جو حضرت علی المرتضیٰ کے تابعین میں سے ہیں روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سوائے تکبیر اولیٰ کے رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ عبدالعزیز ابن حکم کی روایت نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کو دیکھا وہ ابتداء نماز میں پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے اس کے علاوہ اور کسی موقع پر رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ مجاہد کی روایت نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے چناچہ وہ صرف تکبیر اولیٰ کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ اسود سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عمر ابن خطاب ؓ کو دیکھا کہ وہ صرف تکبیر اولیٰ کے موقع پر رفع یدین کرتے تھے۔ لہٰذا۔ جب حضرت عمر، حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام جو رسول اللہ ﷺ نے نہایت قرب رکھتے تھے ترک رفع یدین پر عمل کرتے تھے تو وہ عمل جو اس کے برخلاف ہے قبول کرنے کے سلسلے میں اولیٰ اور بہتر نہیں ہوگا۔ شرح ابن ہمام میں ایک روایت دار قطنی اور ابن عدی سے نقل کی گئی ہے جسے انہوں نے محمد ابن جابر سے انہوں نے حماد ابن سلیمان سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر ؓ کے ہمراہ نماز پڑھی ہے چناچہ انہوں نے سوائے تکبیر اولیٰ کے اور کسی موقع پر رفع یدین نہیں کیا۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوحنیفہ اور امام اوزاعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما مکہ کے دارالخیاطین میں جمع ہوئے۔ امام اوزاعی (رح) نے امام صاحب (رح) سے پوچھا کہ آپ ﷺ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟ حضرت امام صاحب نے جواب دیا اس لئے کہ آقاے نامدار ﷺ سے اس سلسلہ میں کچھ صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے! امام اوزاعی نے فرمایا کہ مجھے زہری نے حضرت سالم کی یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر اولیٰ کے وقت، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کیا کرتے تھے۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ مجھ سے حماد نے ان سے ابراہیم نے اور ان سے علقمہ اور اسود نے اور ان دونوں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ صرف ابتداء نماز میں دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے اور دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔ یہ روایت سن کر امام اوزاعی نے کہا کہ میں نے تو زہری سے نقل کیا اور انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے باپ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے اور آپ اس کے مقابلے میں حماد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے عقلمہ سے نقل کیا ہے یعنی میری بیان کردہ سند آپ کی بیان کردہ سند سے عالی اور افضل ہے۔ حضرت امام اعظم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو پھر سنو کہ حماد، زہری سے زیادہ فقیہ ہیں اور ابراہیم سالم سے زیادہ فقیہ ہیں اور اسی طرح علقمہ بھی حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے مقابلہ میں فقہ میں کم نہیں ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کو رسول اللہ ﷺ کی رفافت و صحابیت کا شرف حاصل ہے۔ نیز اسود کو بھی بہت زیادہ فضیلت حاصل ہے۔ اور عبداللہ تو خود عبداللہ ہیں۔ یعنی عبداللہ ابن مسعود ؓ کی تعریف و توصیف کیا کی جائے کہ علم فقہ میں اپنی عظمت شان اور رسول اللہ ﷺ کی رفاقت و صحبت کی سعادت و شرف کی وجہ سے مشہور ہیں۔ گویا۔ امام اوزاعی نے تو اسناد کے عالی ہونے کی حیثیت سے حدیث کو ترجیح دی اور حضرت امام اعظم نے راویان حدیث کے فقیہ ہونے کے اعتبار سے حدیث کو ترجیح دی۔ چناچہ حضرت امام اعظم کا اصول یہی ہے کہ وہ فقیہ راوی کو غیر راویوں پر ترجیح دیتے ہیں جیسا کہ اصول فقہ میں مذکور ہے۔ نہایہ شرح ہدایہ میں عبداللہ ابن زبیر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جو رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کر رہا تھا، انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ ایسا مت کرو کیونکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے پہلے اختیار کیا تھا اور بعد میں اسے ترک کردیا یعنی ان مواقع پر رفع یدین کا حکم پہلے تھا اب منسوخ ہوگیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رفع یدین کیا تو ہم نے بھی رفع یدین کیا اور جب رسول اللہ ﷺ نے اسے ترک کردیا تو ہم نے بھی ترک کردیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عشرہ مبشرہ (یعنی وہ دس خوش نصیب صحابہ جن کو رسول اللہ ﷺ نے ان کی زندگی ہی میں جنتی ہونے کی خوشخبری دی تھی) صرف ابتداء نماز ہی میں رفع یدین کیا کرتے تھے۔ حضرت مجاہد حضرت عبداللہ ابن عمر کا معمول نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر کے پیچھے سالہا سال نماز ادا کی ہے مگر میں نے اس کو سوائے ابتداء نماز کے اور کسی موقع پر رفع یدین کرتے نہیں دیکھا۔ حالانکہ حضرت عبداللہ ابن عمر کی وہ روایت گزر چکی ہے۔ جس سے تینوں مواقع پر رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے اور جو شوافع کی سب سے اہم دلیل ہے۔ لہٰذا اصول حدیث کا چونکہ قاعد ہے کہ راوی کا عمل اگر خود اس کی روایت کے خلاف ہو تو روایت پر عمل نہیں کیا جاتا اس لئے حضرت عبداللہ ابن عمر کی وہ روایت ساقط العمل قرار دی جائے گی۔ بہر حال۔ ان روایات وآثار سے معلوم ہوا کہ رفع یدین دونوں کے اثبات میں احادیث و آثار وارد ہیں اور صحابہ کی ایک جماعت خصوصاً حضرت عبداللہ مسعود اور ان کے تابعین رفع یدین نہ کرنے ہی کے حق میں ہیں۔ لہٰذا۔ ان تمام موافق و مخالف احادیث کا محمول یہی ہوسکتا ہے کہ ہم یہ کہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اوقات مختلفہ میں دونوں طریقے وجود میں آئے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ کے علم فقہ اور ان کی اسناد کا نطقہ منتہا حضرت عبداللہ ابن مسعود اور ان کے تابعین کی ذات گرامی ہے اور چونکہ ان کا رجحان عدم رفع یدین کی طرف ہے اس لئے امام اعظم ابوحنیفہ کے ترک رفع یدین کے مسلک ہی کو اختیار کیا ہے اور اب تمام حنفیہ اسی مسلک کے حامی اور اس مسلک پر عامل ہیں۔ علمائے حنفیہ صرف اسی قدر نہیں کہتے بلکہ ان حضرات کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع پر رفع یدین کا حکم منسوخ ہے کیونکہ جب حضرت عبداللہ ابن عمر کے بارے میں یہ ثابت ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ ترک رفع یدین ہی اختیار کرتے تھے باوجود اس کے کہ رفع یدین کی حدیث کے راوی یہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے تو رفع یدین کا حکم رہا ہوگا مگر بعد میں یہ حکم باوجود کثرت احادیث و آثار کے منسوخ ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے اس مسئلے کی پوری تفصیل اپنی کتاب شرح سفر السعادۃ میں نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ ان کی تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ ان کے نزدیک رفع یدین اور عدم رفع یدین دونوں ہی سنت ہیں مگر رفع یدین نہ کرنا ہی اولیٰ اور راجح ہے البتہ دیگر علماء حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ رفع یدین کا حکم اور طریقہ منسوخ ہے۔ وا اللہ اعلم۔

760Mishkaat-al-Masabih

جلسہ استراحت کا مسئلہ

وَعَنْہُ اَنَّہُ رَاَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ فَاِذَا کَانَ فِیْ وِتْرٍ مِّنْ صَلٰوتِہٖ لَمْ ےَنْھَضْ حَتّٰی ےَسْتَوِیَ قَاعِدًا۔(صحیح البخاری)

اور حضرت مالک ابن حویرث ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے آقائے نامدار کو نماز پڑھتے دیکھا ہے چناچہ آپ ﷺ جب اپنی نماز کی طاق رکعت (یعنی پہلی یا تیسری) میں ہوتے تو جب تک سیدھے بیٹھ نہ لیتے اٹھتے نہ تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نماز پڑھتے اور پہلی یا تیسری رکعت میں دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے بیٹھتے تھے اس کے بعد اگلی رکعت کے لئے اٹھتے تھے اسی کو جلسہ استراحت کہا جاتا ہے۔ جلسہ استراحت سنت ہے یا نہیں؟ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک جلسہ استراحت سنت ہے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو پہلے قعدہ میں بیٹھنے کا ہے۔ نیز یہ کہ بیٹھنے کے بعد دونوں ہاتھوں سے زمین کا سہارا لے کر اٹھنا چاہئے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مختار قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا جلسہ استراحت کرنا چونکہ کبر سنی اور ضعف کی وجہ سے تھا اس لئے جس آدمی کو جلسہ استراحت کی حاجت نہ ہو اس کے لئے یہ سنت نہیں ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کی مستدل یہی حدیث ہے اور حضرت امام اعظم (رح) کی دلیل حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس کو ترمذی نے بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (پہلی اور تیسری رکعت کے دوسرے سجدے سے) پشت قدم پر یعنی بغیر بیٹھے ہوئے اٹھتے تھے اگرچہ اس حدیث کے بعض طرق ضعیف ہیں لیکن حدیث صحیح الاصل ہے۔ حضرت ابن ابی شیبہ، حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنے پشت قدم پر بغیر بیٹھے ہوئے اٹھتے تھے نیز انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ، حضرت عمر، حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت ابن زیبر ؓ کے بارے میں بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ اور حضرت نعمان ابن ابی عباس ؓ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے بہت سے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ جب پہلی اور تیسری رکعت میں سجدے سے سر اٹھاتے تھے تو جس حالت میں ہوتے تھے اسی حالت میں بغیر بیٹھے ہوئے اٹھ جاتے تھے۔ بہر حال۔ اس سلسلے میں بہت زیادہ احادیث و آثار وارد ہیں اور جو احادیث اس کے برعکس وارد ہیں ان کا محمول کبر سنی اور ضعف ہے جیسا کہ اس حدیث کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبر سنی اور ضعف کی وجہ سے جلسہ استراحت اختیار فرماتے تھے۔

761Mishkaat-al-Masabih

تکبیر تحریمہ کے بعد دونوں ہاتھ کہاں اور کس طرح رکھنے چاہئیں

عَنْ وَّائِلِ بْنِ حُجْرٍ ص اَنَّہُ رَاَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلمرَفَعَ ےَدَےْہِ حِےْنَ دَخَلَ فِی الصَّلٰوۃِ کَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِہٖ ثُمَّ وَضَعَ ےَدَہُ الْےُمْنٰی عَلَی الْےُسْرٰی فَلَمَّا اَرَادَ اَنْ ےَرْکَعَ اَخْرَجَ ےَدَےْہِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَھُمَا وَکَبَّرَ فَرَکَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَفَعَ ےَدَےْہِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَبَےْنَ کَفَّےْہِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت وائل ابن حجر ( حضرت وائل بن حجر حضرمی ؓ ہیں۔ حضرموت کے شمار کردہ رئیسوں میں سے ہیں۔ جب یہ اپنے قبیلے کی طرف سے ایلچی بن کر آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے اپنی چارد مبارک زمین پر بچھا دی اور ان کو اس پر بٹھایا۔ پھر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ علقمہ اور عبدالجبار ان کے صاحبزادے ہیں) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے آقائے نامدار ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہی پھر ہاتھ کپڑے کے اندر کر لئے اور داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا۔ پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو دونوں ہاتھ کپڑے سے نکال کر ان کو اٹھایا اور تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے اور جب (رکوع سے اٹھتے وقت) سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو (اس وقت بھی) ہاتھوں کو اٹھایا پھر جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھوں کے درمیان کیا (یعنی اپنا سر مبارک دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا۔ (صحیح مسلم) تشریح بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کے بعد اپنے دونوں دست مبارک چادر میں ڈھانک لئے اور نیت باندھ لی مگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے چادر میں ہاتھ نہیں ڈھانکے بلکہ اپنی آستینوں میں چھپا لئے۔ بہر حال علماء لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کپڑوں میں جو چھپائے تھے تو اس کی وجہ غالباً سردی کی شدت ہوگی۔ تکبیر تحریمہ کے بعد داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا یوں تو تمام ائمہ کے نزدیک ایک مسئلہ ہے لیکن حضرت امام مالک (رح) کے نزدیک چھوڑنے رکھنا اولی ہے اور باندھنا بھی جائز ہے۔ اس بارے میں آئمہ کے ہاں اختلاف ہے کہ ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا چاہئے اور حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ سینے کے قریب یعنی ناف کے اوپر باندھنے چاہئیں۔ دونوں حضرات کے مطابق حدیثیں وارد ہیں چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں حکم یہی ہے کہ جہاں چاہے ہاتھ باندھ لے درست ہوگا لیکن اتنی بات جان لینی چاہئے کہ اس مسئلے میں کوئی خاص طریقہ چونکہ احادیث کے ذریعے چونکہ مستحسن نہیں تھا یعنی نہ تو ناف کے اوپر ہاتھ باندھنے کا طریقہ خاص طور پر ثابت ہے نہ ناف کے نیچے بلکہ دونوں طریقے احادیث کے ذریعہ ثابت ہیں تو حضرت امام اعظم نے ان دونوں صورتوں میں اس صورت کو اختیار کیا جو ادب اور تعظیم کے سلسلہ میں مقرر و متعارف ہے اور وہ ناف کے نیچے باندھنا ہے کیونکہ انتہائی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام کے موقع پر ہاتھ ناف کے نیچے ہی باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔