نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 2 of 27

722Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنِّی رَجُلٌ اَصِیْدُ اَفَاُصَلِّی فِی الْقَمِیْصِ الْوَاحِدِ قَالَ نَعَمْ وَازْرُوْہُ وَلَوْ بِشَوْکَۃِ۔ (رواہ ابوداؤد والنسائی نحوہ)

اور حضرت سلمہ ابن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں ایک شکاری آدمی ہوں، کیا میں ایک ہی کرتے میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں (پڑھ لیا کرو) لیکن اسے باندھ لیا کرو خواہ اسے کانٹے ہی سے کیوں نہ اٹکا لیا جائے۔ (ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح چونکہ شکاری لوگ شکار میں کم کپڑے پہنتے ہیں اور زیادہ کپڑے پہننے سے شکار کرنے میں رکاوٹ ہوتی ہے اس لئے اس صحابی کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ میں چونکہ شکار کھیلنے والا آدمی ہوں اور شکار کے وقت عموماً صرف ایک کرتا ہی پہنے ہوئے ہوتا ہوں اس کے نیچے لنگی بھی نہیں ہوتی تاکہ شکار کے پیچھے دوڑنے میں آسانی رہے تو کیا میں صرف ایک کرتہ ہی میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایک کرتہ ہی میں نماز پڑھ سکتے ہو لیکن اس کرتے کا چاک اگر اتنا کھلا ہوا ہو کہ رکوع و سجود کے وقت ستر کھلنے کا اندیشہ رہے تو اس کے چاک کو باندھ لیا کرو۔ اگر اس وقت چاک بند کرنے کی کوئی چیز موجود نہ ہو تو اس میں کانٹا لگا کر ہی اسے بند کرلیا کرو تاکہ ستر نہ کھلے۔

723Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ بِیْنَمَا رَجُلٌ یُصَلِّی مُسْبِلٌ اِزَارَہُ قَالَ لَہ، رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذْھَبْ فَتَوَضَّأَ فَذَھَبَ وَتَوَضَأَ ثُمَّ جَآءَ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَالَکَ اَمَرْتَہُ اَنْ یَتَوَضَّأَ قَالَ اِنَّہُ کَانَ یُصَلِّی وَھُوَ مُسْبِلٌ اِزَارَہُ وَاِنَّ اﷲَ لَا یَقْبَلُ صَلَاۃَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ اِزَارَہُ۔(رواہ ابوداؤد)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ازار لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا سرور کائنات ﷺ نے (یہ دیکھ کر) اس سے فرمایا کہ جاؤ اور وضو کرو! وہ آدمی جا کر وضو کر آیا۔ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے اس آدمی کو وضو کرنے کے لئے کیوں فرمایا؟ (حالانکہ وہ باوضو تھا) آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آدمی اپنا ازار لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور جو آدمی ازار لٹکائے ہوئے ہو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔ (ابوداؤد) تشریح اسبال اسے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی کپڑا اتنا لمبا پہنا جائے کہ وہ نازوتکبر کے طور پر نیچے زمین تک لٹکا ہوا ہو۔ گویہ ازار ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لیکن اس کا استمال اکثر و بیشتر ازار ہی کے لئے ہوتا ہے۔ لہٰذا پائجامہ، لنگی اور کرتا وغیرہ غرور تکبر کی بناء پر ٹخنوں سے نیچے لٹکانا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے اس آدمی کو ازار لٹکائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ جو آدمی ازار لٹکائے ہوئے ہوا اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا یعنی اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی نماز کو کمال قبول نہیں کرتا اور ثواب نہیں دیتا اگرچہ اصل نماز ہوجاتی ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ آدمی باوضو تھا مگر آپ ﷺ نے اسے وضو کرنے کا حکم اس حکمت کی بناء پر دیا تاکہ وہ آدمی اس کا سبب معلوم کرنے میں غور و فکر کرے اور پھر اسے اس فعل شنیع کی برائی کا احساس ہو، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی برکت اور ظاہری طہارت یعنی وضو کی وجہ سے اس کا باطن غرور وتکبر کی آلائش سے پاک و صاف کر دے کیونکہ ظاہری طہارت باطنی صفائی و پاکیزگی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

724Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاۃُ حَائِضٍ اِلَّابِخِمَارٍ۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا بالغہ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے (یعنی سر ڈھانکے بغیر) نہیں ہوتی۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی ) تشریح حائض سے مراد بالغہ عورت ہے جو حیض کی عمر کو پہنچ جائے خواہ اسے حیض آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کا سر اور اس کے بال ستر میں شامل ہیں لہٰذا اگر کوئی عورت ننگے سر نماز پڑھے گی تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر عورت اتنا باریک کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھے کہ اس کپڑے میں سے بال یا بدن کا رنگ دکھائی دیتا ہو تو اس کی نماز نہیں ہوتی لیکن یہ سمجھ لیں کہ یہ حکم آزاد عورت کا ہے لونڈی اس حکم میں داخل نہیں ہے تو اس کی نماز ننگے سر بھی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس کا سر ستر نہیں اس کا ستر مرد کی طرح ناف کی نیچے سے زانو کے نیچے تک نیز پیٹ، پیٹھ اور پہلو بھی۔

725Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّھَا سَأَلَتْ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُعَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَتُصَلِّی الْمَرْأَۃُ فِی دِرْعٍ وَمَارٍلَیْسَ عَلَیْھَا اِزَارٌ قَالَ اِذَا کَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا یُغَطِّی ظُھُوْرَ قَدَمَیْھَا۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَذَکَرَ جَمَاعَۃً وَقَفُوْہُ عَلَی اُمِّ سَلَمَۃَ۔

اور حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے سرور کائنات ﷺ سے پوچھا کہ اگر عورت کے پاس تہمد (یعنی پائجامہ وغیرہ) نہ ہو اور وہ صرف دوپٹہ اور کرتہ میں نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا (ہاں ہوجائے گی) بشرطیکہ کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس سے اس کے پاؤں کی پشت چھپ جاتی ہو۔ (ابوداؤد) اور ابوداؤد نے کہا کہ ایک جماعت نے اس روایت کو ام سلمہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے یعنی انہوں نے کہا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نہیں ہے بلکہ حضرت ام سلمہ ؓ کا قول ہے۔ تشریح یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے پاؤں کی پشت بھی ستر میں شامل ہے اس کو نماز میں ڈھا نکنا واجب ہے۔

726Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نَھٰی عَنِ السَّدْلِ فِی الصَّلَاۃِ وَاَنْ یُغَطِّیَ الرَّجُلُ فَاہُ۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے نماز میں سدل کرنے اور مرد کو منہ ڈھانکنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی ) تشریح سدل کے معنی یہ ہیں کہ کپڑے کو اپنے سر یا کندھوں پر ڈال کر دونوں طرف سے اسے لٹکا دیا جائے چناچہ کپڑا استعمال کرنے کا یہ طریقہ مطلقاً ممنوع ہے کیونکہ اس سے غرور وتکبر کی شان پیدا ہوتی ہے اور نماز میں تو یہ طریقہ بہت ہی برا ہے۔ اس طرح نماز پڑھنے سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ سدل کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی کپڑا اوڑھ کر اپنا ہاتھ اس کے اندر کرے اور اسی طرح رکوع و سجدہ کرتا رہے۔ چونکہ یہ طریقہ یہودیوں کا تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے عرب میں پگڑی کے کونہ سے منہ پر ڈھاٹا باندھ لیتے تھے جس سے دہانہ چھپ جاتا تھا آپ ﷺ نے نماز میں اس سے بھی منع فرمایا ہے کیونکہ اس طرح نہ تو قرأت اچھی طرح ہوتی ہے اور نہ سجدہ پورے طور پر ہوتا ہے۔ ہاں اگر نماز میں کسی کو ڈکار آئے یا منہ سے بدبو آئے تو اسے ہاتھ سے منہ ڈھانک لینا مستحب ہے۔

727Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ شَدَادِبْنِ اَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَالِفُوْا الْیَھُوْدَ فَاِنَّھُمْ لَا یُصَلُّوْنَ فِی نِعَا لِھِمْ وَلَا خِفَافِھِمْ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت شداد ابن اوس ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا (جوتے اور موزے پہن کر نماز پڑھنے میں) یہودیوں کی مخالفت کرو کیونکہ وہ لوگ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے۔ (ابوداؤد) تشریح یہودی جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے تھے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ یہودیوں کی مخالفت کرو اور جوتے پہن کر (اگر وہ پاک و صاف ہوں) اور موزے پہن کر نماز پڑھ لیا کرو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گمراہ لوگوں کی مخالفت ظاہر کرنے کی غرض سے کسی مباح چیز پر عمل کرنا بہتر ہے اور وجہ یہ ہے کہ اس طرح چونکہ گمراہ لوگوں کی مخالفت لازم آتی ہے اس لئے وہ مباح چیز بھی عزیمت یعنی اولویت کا حکم پیدا کردیتی ہے۔

728Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍالخُدْرِیِّ قَالَ بَیْنَمَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی بِاَصْحَابِہٖ اِذْ خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَھُمَا عَنْ یَسَارِہِ فَلَمَّا رَایْ ذٰلِکَ القَوْمُ اَلْقُوْا نِعَالَھُمْ فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمصَلَاتَہ، قَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلَی اِلْقَائِکُمْ نِعَالَکُمْ قَالُوْا رَاَیْنَکَ اَلْقَیْتَ نَعْلَیْکَ فَاَلْقَیْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ جِبْرِیْلَ اَتَانِی فَأَخْبَرَنِی اَنَّ فِیْھِمَا قَذَرًا اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَنْظُرْ فَاِنْ رَایَ فِی نَعْلَیْہِ قَذَرًا فَلْیَمْسَحُہ، وَالْیُصَلِّ فِیْھِمَا۔ (رواہ ابوداؤد و الدارمی)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ سرور کائنات ﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے اچانک اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں طرف (دور ہٹا کر) رکھ لئے جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار ڈالے۔ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ تمہیں جوتے اتارنے پر کس چیز نے مجبور کردیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے جوتے اتار ڈالے ہیں اس لئے ہم نے بھی اپنے جوتے اتار ڈالے آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اس لئے میں نے تو جوتے اس لئے اتارے تھے کہ) میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے خبر دی کہ میرے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے (اس لئے میں نے جوتے اتاردئیے تھے) تم میں سے جو آدمی مسجد میں آئے تو پہلے وہ اپنے جوتے دیکھ لیا کرے۔ اگر ان میں نجاست لگی ہوئی معلوم ہو تو انہیں صاف کرلے (اور انہیں پہنے ہی پہنے) نماز پڑھ لے۔ (سنن ابوداؤد، دارمی ) تشریح قذر (قاف کے زبر اور دال معجمہ کے ساتھ) اس چیز کو کہتے ہیں جسے طبیعت مکروہ رکھے اس لفظ سے بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے جوتے میں ایسی نجاست نہیں لگی ہوگی جس سے نماز درست نہ ہوتی ہو بلکہ کوئی گھناؤنی چیز جیسے رینٹھ وغیرہ لگی ہوگی کیونکہ اگر نجاست لگی ہوتی تو آپ ﷺ از سر نو نماز پڑھتے حالانکہ آپ ﷺ نے جتنی نماز پڑھ لی تھی نہ آپ ﷺ نے اس کا اعادہ کیا اور نہ از سر نو نماز پڑھی۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا خبر دینا اور پھر اس خبر کی بناء پر آپ ﷺ کا جوتوں کو اتار دینا اس لئے تھا کہ آپ ﷺ کے مزاج اقدس میں چونکہ صفائی اور ستھرائی بہت زیادہ تھی اس لئے جوتوں پر اس گھناؤنی چیز کا لگا رہنا آپ ﷺ کے مزاج کے مناسب نہیں تھا اور بعض شوافع حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کسی نمازی کے کپڑے وغیرہ پر نجاست لگی ہوئی ہو اور اسے اس کا علم نہ ہو تو نماز ہوجاتی ہے حضرت امام شافعی (رح) کا یہ قول قدیم ہے۔ بہرحال۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی متابعت واجب ہے کیونکہ صحابہ نے کوئی سبب پوچھے بغیر محض آپ ﷺ کو جوتے اتارتے دیکھ کر اپنے جوتے فوراً اتار ڈالے اور پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے جائز رکھا۔

729Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلَّی اَحَدُکُمْ فَلَا یَضَعُ نَعْلَیْہِ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَلَا عَنْ یَسَارِہٖ فَتَکُوْنَ عَنْ یَمِیْنِ غَیْرِہٖ اِلَّا اَنْ لَا یَکُوْنَ عَلَی یَسَارِہِ اَحَدٌ وَ لْیَضَعْھُمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ وَفِی رِوَایَۃٍ اَوْلِیُصَلِّ فِیْھِمَا۔ (رواہ ابوداؤد روی ابن ماجۃ، معناہ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو اپنے جوتے کو نہ اپنی دائیں طرف رکھے اور نہ بائیں طرف ہی رکھے کیونکہ ادھر دوسرے آدمی کی دائیں جانب ہوگی۔ ہاں اگر کوئی بائیں جانب نہ ہو تو ادھر رکھ لے (ورنہ) اسے چاہئے انہیں اپنے دونوں پیروں کے درمیان (یعنی اپنے آگے پیروں کے پاس) رکھ لے اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یا (اگر جوتے پاک ہوں تو ان کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ) انہیں پہنے ہی پہنے نماز پڑھ لے۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ نماز کے دوران جوتے اپنی دائیں طرف نہ رکھے جائیں اور بائیں طرف بھی اس لئے نہ رکھے جائیں کہ جو آدمی اس کے بائیں طرف کھڑا ہوگا یہ جوتا جو اپنے بائیں طرف رکھا گیا ہے اس آدمی کے دائیں طرف پڑے گا۔ لہٰذا جب اپنی دائیں طرف جوتا رکھنا پسند نہ کیا تو اس جوتے کو دوسرے آدمی کے دائیں طرف کیوں رکھا جائے کیونکہ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے اپنے ساتھی کے لئے بھی اس چیز کو پسند کرے اور جس چیز کو اپنے لئے ناپسند کرتا ہے اسے اپنے ساتھی کے لئے بھی ناپسند کرے۔

730Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍنِ الْخُدْرِیِّ ص قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَرَأَےْتُہُ ےُصَلِّیْ عَلٰی حَصِےْرٍ ےَسْجُدُ عَلَےْہِ قَالَ وَرَاَےْتُہُ ےُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہٖ۔ (صحیح مسلم)

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ میں سرور کائنات کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک بوریہ پر نماز پڑھ رہے ہیں اور اسی پر سجدہ کر رہے ہیں۔ حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے جو اپ ﷺ کے جسم پر لپٹا ہوا تھا نماز پڑھ رہے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز ہر اس چیز پر جائز ہے جو نمازی اور زمین کے درمیان حائل ہو خواہ وہ چیز بوریہ وغیرہ کی قسم سے ہو یا کپڑے اور صوف وغیرہ کی قسم سے۔ گو اس حدیث میں صرف بوریے کا ذکر کیا گیا ہے لیکن علماء کے پاس اور دلائل ایسے ہیں جس کی رو سے وہ بوریے کے علاوہ کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ بغیر کچھ بچھائے ہوئے زمین پر نماز پڑھنا افضل ہے اس لئے کہ خشوع و خضوع نماز کی اصل روح ہے اور یہ چیزیں زمین پر نماز پڑھنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ ہاں اگر کوئی مجبوری ہو مثلاً سردی یا گرمی کی وجہ سے بغیر کچھ بچھائے ہوئے زمین پر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو پھر کچھ بچھا لینا ہی بہتر ہوگا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو چیزیں زمین سے اگی ہوئی نہ ہوں اس پر نماز پڑھنا بہتر نہیں ہے یعنی بوری وغیرہ پر نماز پڑھنا تو افضل و بہتر ہے اور کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنا بہتر نہیں ہے۔

731Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہِ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّیْ حَافِیًا وَّ مُنْتَعِلًا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عمر و بن شعیب ؓ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات ﷺ کو کبھی ننگے پاؤں اور کبھی جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (ابوداؤد)

732Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ صَلّٰی جَابِرٌ فِیْ اِزَارٍ قَدْ عَقَدَہ& مِنْ قِبَلِ قَفَاہُ وَ ثَیِابُہ، مَوْضُوْعَۃٌ عَلَی الْمِشْجَبِ فَقَالَ لَہ، قَائِلٌ تُصَلِّیْ فِیْ اِزَارٍ وَاحِدٍ فَقَالَ اِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِکَ لِیَِرَانِی اَحْمَقُ مِثْلَکَ وَاَیُّنَا کَانَ لَہُ ثَوْبَانِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم (رواہ البخاری)

اور حضرت محمد ابن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ نے صرف تہبند باندھ کر جسے انہوں نے اپنی گدی کی طرف باندھ رکھا تھا نماز پڑھی حالانکہ ان کے کپڑے کھونٹی پر لٹکے ہوئے تھے ان سے کسی کہنے والے نے کہا کہ آپ نے صرف تہبند میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے یہ اس واسطے کیا تاکہ تم جیسا احمق مجھے دیکھے بھلا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم میں سے وہ کون تھا جس کے پاس دو کپڑے تھے۔ (صحیح البخاری) تشریح مشجب کا عام فہم معنی کھونٹی ہی ہوسکتے ہیں کیونکہ مشجب اس چیز کو کہتے ہیں جس پر کپڑے لٹکائے یا رکھے جاتے ہیں یا اس چیز کو کہتے ہیں جس پر کبھی کبھی پانی ٹھنڈا ہونے کے لئے مشک لٹکا دی جاتی تھی۔ بہر حال حضرت جابر ؓ نے اپنے کپڑے اس پر رکھ دیئے تھے اور نماز صرف ایک کپڑے میں اس طرح پڑھ رہے تھے کہ اس کپڑے کا تہبند کر رکھا تھا اور اس کے کونے اوپر کے گلے میں باندھ رکھے تھے چناچہ ایک آدمی نے اس طریقے کو خلاف سنت سمجھتے ہوئے برا خیال کیا اور حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ آپ اتنے سارے کپڑوں کی موجودگی میں بھی صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ میں صرف ایک کپڑے میں نماز اس لئے پڑھ رہا ہوں تاکہ تم جیسا کم علم مجھے دیکھے اور جان لے کہ نماز صرف ایک کپڑے میں بھی پڑھی جاسکتی ہے یہ خلاف سنت نہیں ہے۔ چناچہ آپ نے اسی مقصد کے تحت اسے ڈانٹا اور کہا کہ احمق تو اسے برا کیوں سمجھ رہا ہے رسول اللہ ﷺ زمانہ میں ہم میں سے وہ کون تھا جس کے پاس دو کپڑے تھے، ہمارے پاس تو صرف ایک ایک کپڑا ہوتا تھا اسی میں ہم نماز پڑھتے تھے اور اسی کو دوسری ضرورتوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔ اس بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھنا افضل ہے واجب نہیں ہے کیونکہ اس میں تنگی ہے نیز آپ ﷺ کے صحابہ نے ایک کپڑے میں نماز کبھی تو اس لئے پڑھی کہ ان کے پاس کپڑا ہی صرف ایک تھا اور کبھی بیان جواز کی خاطر ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھ لی۔ الحاصل اگر کوئی آدمی ایک ہی کپڑے میں نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ اس کے پاس دوسرا کپڑا موجود نہیں ہے یا بیان جواز کی خاطر پڑھتا ہے تو جائز ہے۔ اور اگر کوئی آدمی سستی و کاہلی اور بہ نیت حقارت پڑھے گا تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ حضرت جابر ؓ کے ارشاد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کسی کو صحابہ کے ترک سنت پر لعن و طعن کرنا نہیں چاہئے اور ان کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔ یعنی اگر کسی صحابی سے کوئی ایسا فعل صادر نظر آئے جو بظاہر خلاف سنت معلوم ہوتا ہے تو اس بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے کہ یہ بیان جواز کے لئے ہے یا پھر اس میں کوئی عذر ہوگا۔

733Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ الصَّلَاۃُ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّۃٌ کُنَّا نَفْعَلُہ، مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَا یُعَابُ عَلَیْنَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ اِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ اِذْ کَانَ فِی الثِّیَابِ قِلَّۃٌ فَاَمَّا اِذَا وَسَعَ اﷲُ فَالصَّلَاۃُ فِی الثَّوْبَیْنِ اَزْکٰی۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت ہے کیونکہ سرور کائنات ﷺ کے زمانے میں ہم اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور ہمیں کوئی برا نہیں کہتا تھا۔ اس پر حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ (یعنی ایک کپڑے میں نماز پڑھنا) اسی وقت تھا جب کہ کپڑوں کی قلت تھی اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے کپڑوں کے بارے میں وسعت بخش دی ہے تو دو کپڑوں میں ہی نماز پڑھنا بہتر ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)

734Mishkaat-al-Masabih

سترہ کا بیان

سترہ کا بیان یہاں سترہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے نمازی کے سامنے کھڑا کیا جائے جیسے دیوار، ستون، یا لکٹری لوہا وغیرہ۔ نماز کے آگے سترہ اس لئے کھڑا کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے سجود کی جگہ متمیز ہوجائے اور نمازی کے آگے سے گزرنے والا آدمی گنہگار نہ ہو۔ سترے کہ لمبائی کم سے کم ایک ہاتھ اور موٹائی کم از کم ایک انگشت ہونا ضروری ہے۔ مقتدیوں کے لئے امام کا سترہ کافی ہے یعنی اگر امام کے آگے سترہ کھڑا ہو تو مقتدیوں کے آگے سے گزرنا جائز ہے اگرچہ ان کے سامنے کوئی چیز حائل نہ ہو۔ امام اور سترہ کے درمیان سے گزر جانا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر ایسی صورت ہو کہ کوئی نمازی پیچھے سے پہلی صف میں خالی جگہ دیکھے تو اس کے لئے جائز ہے کہ پچھلی صفوں کے سامنے سے گزرتا ہوا پہلی صف میں خالی جگہ پہنچ کر کھڑا ہوجائے کیونکہ یہ پچھلی صف والوں کا قصور ہے کہ انہوں نے آگے بڑھ کر پہلی صف میں جگہ کو پر کیوں نہ کیا۔ سترے کے مفصل احکام آگے احادیث کی تشریح کے ضمن میں آئیں گے۔

735Mishkaat-al-Masabih

سترہ کے بارے میں آنحضور ﷺ کا معمول

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَغْدُوْا اِلَی الْمُصَلّٰی وَالْعَنَزَۃُ بَےْنَ ےَدَےْہِ تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلّٰی بَےْنَ ےَدَےْہِ فَےُصَلِّیْ اِلَےْھَا۔ (صحیح البخاری)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ صبح کے وقت عیدگاہ تشریف لے جاتے اور آپ ﷺ کے آگے آگے ایک نیزہ (بھی) لے جایا جاتا جو عیدگاہ میں آپ ﷺ کے آگے کھڑا کردیا جاتا تھا اور آپ ﷺ اس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ لیتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح معمول یہ تھا کہ سترہ کرنے اور ڈھیلے وغیرہ توڑنے کے لئے اکثر اوقات خدام آپ ﷺ کے ہمراہ ایک نیزہ لے کر چلتے تھے چناچہ عید گاہ میں سامنے چونکہ کوئی دیوار وغیرہ نہیں تھی بلکہ میدان ہی میدان تھا اس لئے وہاں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نیزہ جاتا تھا جسے آپ ﷺ اپنے سامنے کھڑا کردیتے تھے۔

736Mishkaat-al-Masabih

ا اللہ کی تعریف اور سترے کے سامنے سے گزرنے کا حکم

وَعَنْ اَبِیْ جُحَےْفَۃَ صقَالَ رَأَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَکَّۃَ وَھُوَ بِالْاَبْطَحِ فِیْ قُبَّۃٍ حَمْرَآءَ مِنْ اَدَمٍ وَرَاَےْتُ بِلَالًا اَخَذَ وَضُوْۤءَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَرَأَےْتُ النَّاسَ ےَبْتَدِرُوْنَ ذَالِکَ الْوَضُوْءَ فَمَنْ اَصَابَ مِنْہُ شَےْئًا تَمَسَّحَ بِہٖ وَمَنْ لَّمْ ےُصِبْ مِنْہُ اَخَذَ مِنْ بَلَلِ ےَدِ صَاحِبِہٖ ثُمَّ رَأَےْتُ بِلَالَا اَخَذَ عَنَزَۃً فَرَکَزَھَا وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ حُلَّۃٍ حَمْرَآءَ مُشَمِّرًا صَلّٰی اِلَی الْعَنَزَۃِ بِالنَّاسِ رَکْعَتَےْنِ وَرَاَےْتُ النَّاسَ وَالدَّوَآبَّ ےَمُرُّوْنَ بَےْنَ ےَدَیِ الْعَنَزَۃِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوجحیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ میں ابطح کے مقام پر آقائے نامدار ﷺ کو سرخ چمڑے کے ایک خیمے میں دیکھا اور میں نے حضرت بلال ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے وضو کا بچا ہوا پانی لیتے ہوئے دیکھا اور دوسرے لوگوں کو (بھی) میں نے دیکھا کہ وہ پانی حاصل کرنے میں بڑی عجلت کر رہے تھے۔ چناچہ جس آدمی کو اس پانی میں سے کچھ مل گیا اس نے (برکت حاصل کرنے کے لئے) اسے (اپنے بدن اور منہ پر) مل لیا اور جس آدمی کو کچھ نہ ملا اس نے ساتھ والے کے ہاتھ کی تری (ہی) لے کر مل لی پھر میں نے بلال کو دیکھا کہ انہوں نے نیزہ لے کر اسے گاڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ سرخ دھاری دار جوڑا پہنے اور دامن اٹھائے (خیمے سے) نکلے اور نیزے کی طرف کھڑے ہو کر صحابہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ آدمی اور چوپائے نیزہ کے سامنے آجا رہے تھے۔ (صحیح مسلم، صحیح البخاری ) تشریح ابطح ایک نالہ کا نام ہے جو منیٰ کے راستہ میں مکہ کے قریب ہی واقع ہے اس نالے کو محصب اور بطحا بھی کہتے ہیں۔ ابطح کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس نالہ میں سنگر یزے ہیں۔ حلہ دو کپڑوں یعنی لنگی اور چادر کو کہتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جو حلہ زیب تن فرما رکھا تھا وہ سرخ دھاری دار تھا پورا کپڑا سرخ نہیں تھا جو مردوں کو پہننا مکروہ تحریمی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوگیا کہ سترے کے سامنے سے آدمیوں اور چوپاؤں کا گزرنا درست ہے۔

737Mishkaat-al-Masabih

سواری کے جانور اور کجاوے کی پچھلی لکڑی کو سترہ بنا کر نماز پڑھنا

وَعَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ صاَنَّ النَّبِیَّ َ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےَعْرِضُ رَاحِلَتَہُ فَےُصَلِّیْ اِلَےْھَا مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَزَادَ الْبُخَارِیُّ قُلْتُ اَفَرَأَےْتَ اِذَا ھَبَّتِ الرِّکَابُ قَالَ کَانَ ےَاْخُذُ الرَّحْلَ فَےُعَدِّ لُہُ فَےُصَلِّی اِلٰی اٰخِرَتِہٖ ۔

اور حضرت نافع حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ اپنی سواری کا اونٹ سامنے بٹھا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور بخاری نے یہ مزید نقل کیا ہے (نافع فرماتے ہیں کہ) میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر سے پوچھا کہ جب اونٹ چرنے اور پانی پینے چلے جاتے تھے تو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے (یعنی ایسی شکل میں آپ ﷺ سترہ کس چیز کو قرار دیتے تھے؟ ) عبداللہ ابن عمر نے فرمایا (ایسے موقع پر) آپ ﷺ کجاوہ کو ٹھیک کر کے سامنے رکھ لیتے تھے اور اس کی پچھلی لکڑی کی طرف (جو بلند ہونے کی وجہ سے سترے کا کام دیتی تھی) منہ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے۔

738Mishkaat-al-Masabih

سواری کے جانور اور کجاوے کی پچھلی لکڑی کو سترہ بنا کر نماز پڑھنا

وَعَنْ طَلْحَۃَ ابْنِ عُبَےْدِاللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا وَضَعَ اَحَدُکُمْ بَےْنَ ےَدَےْہِ مِثْلَ مُؤَخِّرَۃِ الرَّحْلِ فَلْےُصَلِّ وَلَا ےُبَالُ مَنْ مَّرَّ وَرَآءَ ذٰلِکَ ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت طلحہ ابن عبیداللہ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی مانند (کسی چیز کو) سترہ بنا کر رکھ لے تو اسے چاہئے کہ وہ نماز پڑھ لے اور اس (سترے) کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کی پرواہ نہ کرے۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب نمازی سترے کے قابل کسی چیز کو اپنے سامنے رکھ کر نماز پڑھے اور سترہ کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کا خیال نہ کرے کیونکہ سترے کی موجودگی میں سامنے سے کسی کا گزرنا نماز کے خشوع و خضوع پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ یا پرواہ نہ کرے کا تعلق گزرنے والے سے ہوگا۔ یعنی اگر نمازی کے آگے سترہ ہو تو اس کے سامنے گزرنے والا آدمی کچھ پرواہ نہ کرے کیونکہ سترے کی موجودگی میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی وجہ سے وہ گنہ گار نہیں ہوگا۔

739Mishkaat-al-Masabih

نمازی کے آگے سے گزرجانا بہت بڑا گناہ ہے

وَ عَنْ اَبِّی جُھَیْمٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ یَعْلَمُ الْمَارَّبَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلَّی مَاذَا عَلَیْہِ لَکَانَ اِنْ یَّقِفَ اَرْبَعَیْنَ خَیْرًا لَہُ مِنْ اَنْ یَّمُرَّ بَیْنَ یَرَیْہِ قَالَ اَبُوْلنَّضْرِ لاَ اَدْرِیْ قَالَ اَرْبَعَیْنَ یَوْمًا اَوْ شَھْرًا اَوْ سَنَۃً

اور حضرت ابوجہیم ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا۔ نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر یہ جان لے کہ اس کی کیا سزا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو بہتر خیال کرے۔ (اس حدیث کے ایک راوی) حضرت ابونضر فرماتے ہیں کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال کہا گیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت امام طحاوی نے مشکل الآثار میں فرمایا ہے کہ، یہاں چالیس سال مراد ہے نہ کہ چایس مہینے یا چالیس دن۔ اور انہوں نے یہ بات حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث سے ثابت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جو اپنے بھائی کے آگے سے اس حال میں گزرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے (یعنی نماز پڑھتا ہے) اور وہ (اس کا گناہ) جان لے تو اس کے لئے اپنی جگہ پر ایک سو برس تک کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ بہر حال ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی آدمی کو یہ معلوم ہوجائے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کی سزا کنتی سخت ہے تو وہ چالیس برس یا حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کے مطابق ایک سو برس تک اپنی جگہ پر مستقلاً کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔

740Mishkaat-al-Masabih

سترے اور نمازی کے درمیان سے گزرنے والے کو زبردستی روکنے کا حکم

وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ اِلٰی شَیْ ءٍ ےَّسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ فَاَرَادَ اَحَدٌ اَنْ ےَّجْتَازَ بَےْنَ ےَدَےْہِ فَلْےَدْفَعْہُ فَاِنْ اَبٰی فَلْےُقَاتِلْہُ فَاِنَّمَا ھُوَ شَےْطَانٌ ھٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ مَعْنَاہُ۔

اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی کسی ایسی چیز (یعنی سترے) کی طرف نماز پڑھے جو اس کے اور لوگوں درمیان حائل رہے اور کوئی آدمی اس کے آگے سے (یعنی نمازی اور سترے کے درمیان) سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے روک دینا چاہئے اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کردینا چاہئے کیونکہ وہ ( ایسی صورت میں) شیطان ہے۔ (حدیث کے الفاظ صحیح البخاری کے ہیں اور مسلم نے اس روایت کو بالمعنی نقل کیا ہے)۔ تشریح قتل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حقیقۃً ایسے آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دینا چاہئے بلکہ قتل سے مراد یہ ہے کہ چونکہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت برا ہے اس لئے اگر کوئی آدمی نمازی کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے پوری طاقت و قوت کے ساتھ گزرنے سے روک کر اسے اتنی بڑی غلطی کے ارتکاب سے بچایا جائے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ ایسے آدمی کو کسی ایسی چیز کے ذریعے روکا جائے جس کا استعمال اس روکنے کے سلسلے میں جائز ہو اور اس روک تھام میں اگر گزرنے ولا آدمی مرجائے تو علماء کے نزدیک متفقہ طور پر اس کا قصاص نہیں ہوگا۔ ہاں دیت کے واجب ہونے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے چناچہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ایسی شکل میں دیت واجب ہوگی اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ واجب نہیں ہوگی۔ حدیث میں ایسے آدمی کو شیطان کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے چونکہ اس آدمی کو بہکا کر اس غلط کام کو کرنے پر مجبور کیا لہٰذا وہ آدمی اس شیطانی کام کرنے کی بناء پر بمنزلہ شیطان کے ہوا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا غلط کام کرنے والا آدمی انسانوں کا شیطان ہے اس لئے کہ شیطان کے معنی سرکش کے ہیں خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے ہو اسی لئے شریر النفس آدمی کو شیطان انس کہا جاتا ہے۔

741Mishkaat-al-Masabih

سترہ نماز کی محافظت کرتا ہے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تَقْطَعُ الصَّلٰوۃَ الْمَرْاَۃُ وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ وَےَقِیْ ذَالِکَ مِثْلُ مُؤَخِّرَۃِ الرَّحْلِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آقائے نا مدار ﷺ نے فرمایا عورت، گدھا اور کتا ( نمازی کے آگے سے گزرنے کی صورت میں) نماز کو باطل کردیتے ہیں اور کجاوہ کی پچھلی لکٹری کی مانند کسی چیز کو (نمازی کے آگے سترہ بنا کر) رکھ لینا (نماز کے) اس باطل کردینے کو بچا لیتا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح نمازی کے آگے سے گزرنا نماز کو باطل نہیں کرتا جمہور علمائے صحابہ وغیرہم کا یہ مذہب ہے کہ کوئی چیز یا کوئی آدمی اگر نمازی کے آگے سے گزر جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی خواہ مذکورہ بالا تینوں چیزیں ہوں یا ان کے علاوہ کچھ اور ہوں۔ جہاں تک اس حدیث یا اسی طرح کی دوسری احادیث کا تعلق ہے سب دراصل نمازی کے سامنے سترہ کھڑا کرنے کی اہمیت اور تاکید بیان کرنے میں مبالغے کے طریقے پر ہیں۔ یا اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو اگر نمازی کے آگے سے گزریں تو نماز میں خشوع و خضوع اور حضوری قلب کو کھو دیتی ہیں جو درحقیقت نماز کی اصل اور روح ہیں۔ یا پھر اس سے یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے کہ نمازی کے آگے سے ان چیزوں کے گزرنے سے چونکہ نمازی کا دل ان کی طرف ہٹ جاتا ہے اور اس کا دل ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اس لئے نماز بھی بطلان کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ عورت، گدھے اور کتے کی تخصیص کی وجہ حدیث سے بظاہر یہ ملوم ہوتا ہے کہ نمازی کے آگے سے صرف ان تین چیزوں کے گزر جانے سے نماز پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر چیزوں کے گزرنے سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ ان مذکورہ تین چیزوں کی تخصیص اسی لئے کی گئی ہے کہ ان کی طرف دل بہت زیادہ متوجہ ہوجاتا ہے چناچہ عورت کی حیثیت تو ظاہری ہے گدھے کا معاملہ بھی یہ ہے کہ گدھے کے ساتھ چونکہ اکثر و بیشتر شیاطین رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کے چیخنے کے وقت اعوذ پڑھنا مستحب ہے اس لئے جب گدھا نمازی کے آگے سے گزرے گا تو نمازی کا دل اس احساس کی بناء پر کہ اس کے ہمراہ شیاطین ہوں گے گدھے کی طرف متوجہ ہوجائے گا۔ یا ایسے ہی کتا نہ صرف یہ کہ نجس عین ہوتا ہے بلکہ اس سے تکلیف پہنچنے کا بھی خطرہ رہتا ہے اس لئے اس کے گزرنے کی صورت میں بھی ذہن پوری تیزی کے ساتھ اس کی طرف بھٹک جاتا ہے۔