نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 1 of 27

702Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ قَالَ اِنَّ حِبْرًا مِّنَ الْیَھُوْدِ سَئَالً النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّ البُقَاعِ خَیْرٌ فَسَکَتَ عَنْہُ وَقَالَ اَسْکُتُ حَتّٰی یَجِئَ جِبْرِیْلُ فَسَکَتْ وَجَآءَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَسَئَالَ فَقَالَ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِاَ عْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلٰکِنْ اَسْئَلُ رَبِّی تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی ثُمَّ قَالَ جِبْرِیْلُ یَا مُحَمَّدُ اِنِّی دَنَوْتُ مِنَ اﷲِ دُنُوًّمَا دَنَّوْتُ مِنْہُ قَطُّ قَالَ وَ کَیْفَ کَانَ یَا جِبْرِیْلُ قَالَ کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُّوْرٍ فَقَالَ شَرُّا لْبِقَاعِ اَسْوَاْقُھَا وَ خَیْرُ البِقَاعِ مَسَاجِدُھَا رَوَاہُ حَبَّانُ فِی صَحِیْحِہٖ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ۔

اور حضرت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) ایک یہودی عالم نے سرور کائنات ﷺ سے پوچھا کہ بہترین جگہ کون سی ہے؟ رسول اللہ ﷺ اس کے جواب میں خاموش رہے اور فرمایا کہ جب تک جبرائیل (علیہ السلام) نہیں آجائیں گے میں خاموش رہوں گا۔ چناچہ آپ ﷺ خاموش رہے۔ جب حضرت جبرائیل آگئے تو آپ ﷺ نے ان سے (یہودی عالم کے سوال کا جواب) پوچھا حضرت جبرائیل نے کہا کہ، اس معاملے میں آپ ﷺ سے زیادہ میں بھی نہیں جانتا، البتہ میں اپنے پروردگار بزرگ و برتر سے اس کے بارے میں پوچھوں گا (چنانچہ) پھر حضرت جبرائیل (نے آکر) فرمایا اے محمد ﷺ! آج میں اللہ تعالیٰ سے اس قدر قریب ہوگیا تھا کہ کبھی بھی اتنا قریب نہیں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے جبرائیل کس قدر (فاصلہ دونوں کے درمیان رہ گیا تھا) حضرت جبرائیل نے فرمایا میرے اور اللہ کے درمیان ستر ہزار نور کے پردے باقی رہ گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے (اس سوال کے جواب میں) فرمایا کہ بد ترین مقامات بازار ہیں اور بہترین مقامات مساجد ہیں۔ (یہ روایت ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے نقل کی ہے۔ تشریح یہ پردے مخلوق کی نسبت سے ہیں حق تعالیٰ جل شانہ کی نسبت سے نہیں ہیں کیونکہ خداوند قدوس پردے میں نہیں ہے بلکہ اللہ کی مخلوق پردے میں ہے اور جسمانی و نفسانی پردے ہیں اس کی مثال کسی اندھے کے لئے پردہ آفتاب کی سی ہے کہ جس طرح آفتاب پردے میں نہیں ہوتا بلکہ خود اندھے پر پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے کہ وہ آفتاب کو نہیں دیکھ سکتا اور آفتاب اس کو دیکھتا ہے یعنی اس پر اپنی روشنی ڈالتا ہے۔ سائل نے تو صرف بہتر جگہ کے بارے میں سوال کیا تھا لیکن جواب میں مقابلے کے طور بہترین اور بدترین دونوں مقامات کو بتلا دیا گیا تاکہ رحمان اور شیطان دونوں کے گھر معلوم ہوجائیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی آدمی سے کوئی ایسا مسئلہ دریافت کیا گیا جو اسے پوری طرح معلوم نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ جواب دینے میں جلدی نہ کرے بلکہ جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ اس سوال کا جواب اچھی طرح جانتا ہے اس سے پوچھ لے اور اپنے سے زیادہ علم والے سے پوچھنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرے کو ین کہ یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ مشکوٰۃ کے اصل نسخہ میں لفظ رواہ کے بعد جگہ خالی ہے کیونکہ مصنف مشکوٰۃ کو اس کتاب کا نام معلوم نہیں تھا جس سے یہ روایت نقل کی گئی ہے بعد میں بعض علماء نے کتاب کا مذکورہ نام لکھا دیا ہے۔

703Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ جَآءَ مَسْجِدِی ھٰذَا لَمْ یَاْتِ اِلَّالِخَیْرٍ یَتَعَلَّمُہُ اَوْ یُعَلِمُہ، فَھُوَ بِمَنْزِلَۃِ الْمُجَاھِدِ فِی سَبِیْلِ اﷲِ وَ مَنْ جَآءَ لِغَیْرِ ذٰلِکَ فَھُوَ بِمَنْزِلَۃِ الرَّجُلِ یَنْظُرُ اِلَی مَتَاعِ غَیْرِہٖ۔ (رواہ ابن ماجۃ والبیھقی شعب الایمان)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی میری اس مسجد میں محض اس غرض سے آئے کہ نیک کام سیکھے اور سکھلائے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے ہم رتبہ ہے اور جو آدمی اس غرض سے نہ آئے (یعنی کسی برے کام مثلاً لہو و لعب کی نیت سے آئے) تو وہ اس آدمی کی مانند ہے جو دوسرے کے اسباب (کو حسرت کی نگاہوں) سے دیکھتا ہے۔ (ابن ماجہ، بیہقی) تشریح آپ ﷺ نے اپنی مسجد یعنی مسجد نبوی کی تخصیص کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ چونکہ میری مسجد اپنی عظمت و فضیلت کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ وارفع ہے اور دوسری مسجدیں چونکہ اس کے تابع ہیں اس لئے مذکورہ حکم تمام مساجد کے لئے یکساں ہے۔ نیک کام کو سیکھنے اور سکھلانے کی تخصیص صرف ان کی فضیلت و اہمیت کے اظہار کے طور پر ہے ورنہ تو نماز، اعتکاف اور تلاوت و ذکر سب کا یہی حکم ہے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی مسجد میں نیک مقصد کے تحت نہیں آئے گا اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے پاس کوئی چیز نہ تو وہ اس چیز کو کسی دوسرے کے پاس دیکھ کر حسرت و افسوس کا اظہار کرتا ہے چناچہ یہ آدمی بھی جب آخرت میں اس آدمی کے ثواب کو جو نیک مقصد اور نیک نیت کے ساتھ مسجد آیا تھا دیکھے گا اور اسے معلوم ہوجائے گا کہ مسجد تو سعادت و بھلائی کے حصول کی جگہ تھی تو وہ انتہائی رنج و حسرت میں مبتلا ہوجائے گا کہ میں کیوں اس دولت سے محروم رہا۔ یا پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح کسی غیر آدمی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر اسے بری نگاہ سے (یعنی اچک لینے کی نیت سے) دیکھنا منع ہے اس طرح مسجد میں بغیر نیک کام کی نیت آنا بھی منع ہے۔

704Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ حَدِیْثُھُمْ فِی مَسَاجِدِ ھِمْ فِی اَمْرِ دُنْیَا ھُمْ فَلاَ تُجَا لِسُوْھُمْ فَلَیْسَ لِلّٰہِ فِیْھِمْ حَاجَۃٌ رَوَاہُ البَیْھَقِیُّ فِی شُعْبِ الِایْمَانِ۔

اور حضرت حسن بصری (رح) سے مرسلاً روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا لوگوں پر عنقریب ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ اپنی دنیا داری کی باتیں مسجدوں میں کیا کریں گے لہٰذا تم ان کے پاس بھی نہ بیٹھنا (تم ان کی گفتگو میں شریک نہ ہونا کہ ان کے شریک کہلاؤ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔ (بیہقی) تشریح یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے بیزار ہے اور وہ اللہ کی پناہ اور اس کی رحمت سے خارج ہیں۔ نیز اس بات سے بھی کنایہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں ان کی اطاعت و عبادت قبولیت کا درجہ نہیں پائے گا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسجد میں دنیاوی امور کی باتیں کرنا مکروہ ہے چناچہ اور بہت سی احادیث میں بھی مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور دنیاوی باتوں سے مراد ایسی باتیں ہیں جو عبث، بےفائدہ اور حد سے زیادہ ہوں اور اگر دنیاوی باتیں صرف ایک دو کلمہ تک رہیں یا اس درجے کی نہ ہوں تو وہ اس حکم میں داخل نہیں۔

705Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنِ السَّآئِبِ بْنِ ےَزِےْدَ ص قَالَ کُنْتُ نَائِمًا فِی الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِیْ رَجُلٌ فَنَظَرْتُ فَاِذَا ھُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ص فَقَالَ اذْھَبْ فَاْتِنِیْ بِہٰذَےْنِ فَجِئْتُہُ بِھِمَا فَقَالَ مِمَّنْ اَنْتُمَا اَوْ مِنْ اَےْنَ اَنْتُمَا قَالَا مِنْ اَھْلِ الطَّآئِفِ قَالَ لَوْ کُنْتُمَا مِنْ اَھْلِ الْمَدِےْنَۃِ لَاَوْجَعْتُکُمَا تَرْفَعَانِ اَصْوَاتَکُمَا فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم (صحیح البخاری)

اور حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں (ایک روز) مسجد میں پڑا سو رہا تھا کہ کسی آدمی نے میرے کنکر ماری میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمر ابن خطاب ؓ ہیں۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم جا کر ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ (جو مسجد میں بلند آواز سے باتیں کر رہے تھے) میں ان کو بلا لایا حضرت عمر فاروق ؓ نے پوچھا تم کون ہو؟ یا فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں! حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا (یعنی مارتا۔ لیکن چونکہ تم لوگ یہاں کے رہنے والے نہیں ہو اور آداب مسجد سے واقف نہیں ہو یا یہ کہ مسافر ہو اس لئے عفو و شفقت کے مستحق ہو اور فرمایا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں زور زور سے باتیں کر رہے ہو۔ (صحیح البخاری ) تشریح جملہ اَوْمِنْ اَیْنَ اَنْتُمَا میں لفظ اَوْ شک کے لئے ہے یعنی راوی کو شک واقع ہو رہا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ فرمایا کہ تم کون ہو؟ یا یہ فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ بہر حال مسجد میں بلند آواز سے باتیں کرنا مکروہ ہے اگرچہ موضوع سخن علم ہی کیوں نہ ہو۔

706Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ مَالِکٍ قَالَ بَنَی عُمَرُ رَحْبَۃٌ فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّی البُطَیْحَاءَ وَقَالَ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ اَنْ یَلْفَظَ اَوْ یُنْشِدَ شِعْرًا اَوْیَرْ فَعَ صَوْتَہُ فَلْیَخْرُجْ اِلَی ھٰذِہِ الرَّحْبَۃِ۔ (رواہ فی الموطا)

اور حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد کے ایک گوشہ میں ایک چبوترہ بنوادیا تھا جس کا نام بطیحا تھا اور لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ جو آدمی لغو باتیں کرنا چاہئے یا اشعار پڑھنا چاہے یا (کسی وجہ سے) بلند آواز (سے باتیں) کرنا چاہئے تو اسے چاہئے کہ وہ (مسجد سے نکل کر) اس چبوترہ پر آجائے۔ (موطا)

707Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ رَاَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم نُخَامَۃً فِی الْقِبْلَۃِ فَشَقَّ ذَالِکَ عَلَےْہِ حَتّٰی رُأِیَ فِیْ وَجْھِہٖ فَقَامَ فَحَکَّہُ بِےَدِہٖ فَقَالَ اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا قَامَ فِی الصَّلٰوۃِ فَاِنَّمَا ےُنَاجِیْ رَبَّہُ وَاِنَّ رَبَّہُ بَےْنَہُ وَبَےْنَ الْقِبْلَۃِ فَلَا ےَبْزُقَنَّ اَحَدُکُمْ قِبَلَ قِبْلَتِہٖ وَلٰکِنْ عَنْ ےَّسَارِہٖ اَوْ تَحْتَ قَدَمِہٖ ثُمَّ اَخَذَ طَرَفَ رَدَآئِہٖ فَبَصَقَ فِےْہِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَہُ عَلٰی بَعْضٍ فَقَالَ اَوْ ےَفْعَلُ ھٰکَذَا۔(صحیح البخاری)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسجد میں) قبلے کی طرف رینٹھ پڑا ہوا دیکھا تو آپ ﷺ کو بہت ناگوار گذرا یہاں تک کہ اس ناگواری کا اثر آپ کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہو رہا تھا۔ چناچہ آپ کھڑے ہوئے اور اسے خود اپنے دست مبارک سے کھرچ کر پھینکا اور فرمایا کہ، تم میں سے جب کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے سر گوشی کرتا ہے اور اس وقت اس کا پروردگار اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ قبلے کی طرف ہرگز نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوک لے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر مبارک کا ایک کونہ لیا اور اس میں کچھ تھوکا اور پھر کپڑے کو آپس میں رگڑ کر فرمایا کہ اس طرح کرلیا کرو۔ (صحیح البخاری ) تشریح اس کا پروردگار اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے۔ کے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ قبلے کی طرف متوجہ ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے اور اس کے قریب ہونے کا ارادہ کرتا ہے لہٰذا چونکہ اس کا مطلوب اور مقصود اس کے اور قبلے کے درمیان ہے اس لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ قبلے کی سمت کو تھوک سے بچایا جائے۔ بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوکنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ کوئی آدمی مسجد میں نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ مسجد میں نماز پڑھنے کی صورت میں بائیں طرف اور قدموں کے نیچے بھی تھوکنا نہیں چاہئے کہ اس سے مسجد کے آداب و احترام میں فرق آتا ہے بلکہ اس صورت میں اگر تھوکنے کی ضرورت محسوس ہو تو کسی کپڑے میں تھوک لیا جائے پھر اسے رگڑ کر صاف کرلیا جائے۔

708Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ السَائِبِ بْنِ خَلَّادٍ وَھُوَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ رَجُلاً اَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِی الْقِبْلَۃِ وَرَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَنْظُرُ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لِقَوْمِہٖ حِیْنَ فَرَغَ لَا یُصَلِّیَّ لَکُمْ فَاَرَادَبَعْدَ ذٰلِکَ اَنْ یُّصَلِّیْ لَھُمْ فَمَنَعُوْہُ فَاخْبَرُوْہُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ نَعَمْ وَحَسِبْتُ اَنَّہُ قَالَ اِنَّکَ قَدْاٰذَیْتَ اﷲَ وَرَسُوْلَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت سائب ابن خلاد ؓ نے جو رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی ہیں فرمایا۔ ایک آدمی جماعت کی نماز پڑھا رہا تھا اور اس نے قبلہ کی طرف تھوک دیا (اتفاق سے) رسول اللہ ﷺ (اس کی طرف) دیکھ رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس کے مقتدیوں سے فرمایا کہ آئندہ سے یہ آدمی تمہیں نماز نہ پڑھائے اس کے بعد اس آدمی نے جب ان کو نماز پڑھانی چاہی تو ان لوگوں نے اسے (امامت سے) روک دیا اور اس سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد بیان کردیا وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں نے ہی لوگوں سے تمہیں امام نہ بنانے کے لئے کہا تھا اور راوی فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے اس آدمی سے (امامت سے روک دینے کا سبب بیان کرتے ہوئے یہ بھی) فرمایا تھا کہ تم نے (اس ممنوع فعل کا ارتکاب کر کے) اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (ابوداؤد)

709Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ مَعَاذَ بْنِ جَبَلِ قَالَ اَحْتَبْسَ عَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاۃٍ عَنْ صَلَاۃِ الّصُبْحِ حَتَّی کِدْنَا نَتَرَآی عَیْنَ الشَّمْسَ فَخْرَجْ سَرَیْعًا فَثْوِبَ بِالصَّلَاۃِ فَصَلَّی رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِیْ صَلاَتِہٖ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصُوْتِہٖ فَقَالَ لَنَا عَلٰی مُصْافَکُمْ کَمَا اَنْتُمْ ثُمَّ اَنْفَتَلَ اَلَیْنَا ثُمَّ قَالَ اَمَا اَنِّیْ سَاُحَدِّ ثُکُمْ مَا حَبَسَنِیْ عَنْکَمُ الْغَدَاۃَ اِنِّیْ قُمْتُ مِنَ الِّلیْلِ فَتَوَضَّأُتُ وَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَلِیْ فَنَعَسْتُ فِیْ صَلاَتِیْ حَتَّی اَسْتَثْقَلْتُ فَاِذَا اَنَا بِرَبِّی تَبَاَرَکَ وَ تَعَالیٰ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ فَقَالَ یَا مُحَمَّدً قَلْتُ لَبَّیْکَ رَبَّ قَالَ فَیْمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْاَ عَلٰی قُلْتُ لَا اَدْرِیْ قَالَھَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَاَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتَّی وَجَدْتَّ بَرْدَ اَنَا مِلِہٖ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَتَجَلَّی لِیْ کُلَّ شَیْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ قُلْتَ لَبَّیْکَ رَبِّ قَالَ فَیْمَ یَخْتَصِمُ الْعَلَأُ الْاَ عَلٰی قُلْتُ فِی الْکُفَّارَاتِ قَالَ مَاھُنَّ قُلّتُ مَشّئُی الْاَقْدَامِ اِلَی الْجَمَاعَاتِ وَالْجَلُوْسُ فِی الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَ اِسْبَاغُ الْوُضْوْءِ حَیْنَ الْکَرَیْھَاتِ قَالَ ثُمَّ فَیْم قُلْتُ فِی الدَّرَجَاتَ قَالَ وَمَا ھِنَّ قُلْتُ اِطْعَامُ الطَّعَامَ وَلَیْنُ اْلکَلٰمُ وَ الصَّلٰوۃُ بِاللِّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ قَالَ سَلْ قُلْتُ اَللَّھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکَیْنِ وَاَنْ تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْ وَاِذَا اَرَدْتُّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمً فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ وَاَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبُّ عَمَلَ یُقَرِّبْنِیْ اِلٰی حُبُّکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّھَا حَقٌّ فَادْرْ سُوْھَا ثُمَّ تَعْلَمْوْھَا رَوَاہُ اَحْمَدْ بِنْ حَنْبَلْ وَاَلْتَرْمَذِیْ وَقَالَ ھٰذَا حَدَیْثٌ حَسَنٌ صَحَیْحٌ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ اِبْنِ اِسَمٰعَیْلَ عَنْ ھٰذَا الْحَدَیْثِ فَقَالَ ھٰذَا حَدَیْثٌ صَحِیْحٌ۔

اور حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز سرور کائنات ﷺ نے صبح کی نماز میں تشریف لانے میں (خلاف عادت اتنی) تاخیر فرمائی کہ قریب تھا کہ سورج نکل آئے۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ جھپٹتے ہوئے تشریف لائے چناچہ نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور آپ ﷺ نے (صحابہ کے ہمراہ) نماز پڑھی (اس طرح کہ) نماز میں تخفیف کی (یعنی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد ہم سے بآواز بلند فرمایا کہ جس طرح تم لوگ بیٹھے ہو اسی طرح اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہنا پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہوشیار! میں آج صبح کی نماز میں دیر سے آنے کی وجہ بیان کرتا ہوں (وہ یہ ہے) کہ میں نے آج رات (تہجد کی نماز کے لئے اٹھ کر وضو کیا اور جو کچھ میرے مقدر میں نماز تھی پڑھی اور نماز ہی میں مجھے اونگھ آگئی یہاں تک کہ نیند مجھ پر غالب آگئی (اس وقت) اچانک میں نے اپنے پروردگار بزرگ و برتر کو اچھی صورت میں (یعنی اچھی صفت کے ساتھ) دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا، اے محمد! میں نے عرض کیا پروردگار میں حاضر ہوں! اللہ تعالیٰ نے فرمایا (تمہیں معلوم ہے) مقربین فرشتے کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ پروردگار نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ اسی طرح پوچھا (اور میں یہی جواب دیتا رہا)۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی (جس کا اثر یہ ہوا کہ) میرے سامنے ہر چیز ظاہر ہوگئی اور تمام باتیں جان گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ﷺ! میں نے عرض کیا کہ پروردگار میں حاضر ہوں فرمایا (اب بتاؤ) مقربین فرشتے کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کی کہ گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں! اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون سی چیزیں ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ جماعت کے واسطے (مسجدوں میں) آجانا اور نماز پڑھ کر (اور دعا وغیرہ کے لئے) مسجد میں بیٹھے رہنا اور سختی کے ساتھ (جس وقت کہ سردی یا بیماری کی وجہ سے پانی کو استعمال کرنا تکلیف دہ معلوم ہو) اچھی طرح وضو کرنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں میں نے عرض کیا کہ درجات کے بارے میں فرمایا وہ کیا ہیں میں نے عرض کیا کہ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا نرم لہجے میں بات کرنا اور رات کو اس وقت (تہجد کی) نماز پڑھنا جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا اب اپنے لئے جو چاہو دعا کرو۔ چناچہ میں نے دعا کی کہ اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کے چھوڑنے، مسکینوں کی دوستی، اپنی بخشش اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو کسی قوم میں گمراہی ڈالنا چاہئے تو مجھے بغیر گمراہی کے اٹھالے اور میں تجھ سے تیری محبت (یعنی یہ کہ میں تجھے دوست رکھوں یا تو مجھے دوست رکھے) اور اس آدمی کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے ( یہ کہ میں اسے دوست رکھوں یا وہ مجھے دوست رکھے) اور ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت سے نزدیک کر دے گا سوال کرتا ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (ہم سے) فرمایا کہ یہ خواب بالکل سچ ہے لہٰذا تم اسے یاد کرو اور پھر لوگوں کو سکھلاؤ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی) اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسمعیل سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے)۔ تشریح اس حدیث کی وضاحت اسی باب کی حدیث نمبر ٣٤ کی تشریح میں کی جا چکی ہے اس لئے یہاں اب مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے تاہم اتنی بات سمجھ لیجئے کہ اس حدیث سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تھا اور یہ سوال و جواب حالت خواب ہی میں ہوئے تھے۔

710Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِذَا دَخَلَ المَسْجِدَ اَعُوْذُ بِاﷲِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ قَالَ فَاِذَا قَالَ ذٰلِکَ قَالَ الشَّیْطَانُ حَفِظَ مِنِّی سَائِرَ الیَوْمِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ اعوذ باللہ العظیم وبوجھہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطن الرحیم یعنی میں اللہ عطمت والے بزرگ ذات والے اور ہمیشہ کی سلطنت والے کے ساتھ شیطان مردود سے پناہ مانگتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہونے کے وقت یہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان (اس آدمی کے بارے) میں کہتا ہے کہ یہ بندہ تمام دن میرے شر سے محفوظ رہا۔ (ابوداؤد)

711Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا یُعْبَدُ اِشْتَدَّ غَضَبُ اﷲِ عَلَی قَوْمٍ اِتَّخَذُوْاقُبُوْرَ اَنْبِیَا ئِھِمْ مَسَاجِدَ۔ (رواہ مالک مرسلا)

اور حضرت عطاء ابن یسار ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا (یعنی یہ دعا فرمائی) اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا یُعْبَدُ یعنی اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنا کہ لوگ اس کی عبادت کرنے لگیں۔ (اور آپ ﷺ نے فرمایا) جن لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ان پر اللہ تعالیٰ کا شدید غضب (نازل) ہوا۔ (مالک (رح) مرسلاً ) تشریح آپ ﷺ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار! تو میری قبر کو اس معاملے میں بتوں کی مانند نہ کر کہ میری امت کے لوگ میری قبر کی خلاف شرع تعطیم کرنے لگیں یا باربار زیارت کے لئے میلے کے طور آنے لگیں، یا میری قبر کو سجدہ گاہ قرار دے کر اپنی پیشانیوں کو جو صرف تیری ہی چوکھٹ پر جھکنے کی سزا وار ہے اس پر جھکانے لگیں اور سجدے کرنے لگیں۔ اس حدیث کو اور اس دعا کو بار بار پڑھیے اور ذرا آج کے حالات پر اس کو منطبق کیجئے پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کا تعلق آنے والے زمانے سے تھا چناچہ آپ ﷺ کی عرفانی نگاہوں نے اس وقت دیکھ لیا تھا کہ وہ وقت آنے والا ہے۔ کہ جب کہ میری قبر تو الگ رہی اولیاء اللہ کے مزارات پر سجدہ ریزی ہوگی مقبروں پر میلے لگیں گے وہاں عرس قوالیاں ہوں گی، قبروں پر چادریں اور پھولوں کا چڑھاوا چڑھے گا۔ غرض کہ جس طرح ایک بت پرست قوم اللہ کی عبادت و فرمانبرداری سے سرکشی اور تمرد اختیار کر کے بتوں کے ساتھ معاملہ کرتی ہے میری امت کے بدقسمت اور بدنصیب لوگ جو میرے نام کے شیدائی کہلائیں گے، میرے محبت سے سر شاری کا دعوی کریں گے۔ میری لائی ہوئی پاک و صاف شریعت کی آڑ میں میرے دین کے نام پر وہی معاملہ قبروں کے ساتھ کریں گے لہٰذا آپ نے دعا فرمائی کہ اے پروردگار! تو میری امت کو ایسی گمراہی میں مبتلا نہ کیجئے کہ وہ میری قبر کو پوجنے لگیں۔ جملہ اشتد غضب الخ کا تعلق دعا سے نہیں ہے بلکہ یہ جملہ مستانفہ یعنی ایک الگ جملہ ہے گویا جب آپ ﷺ نے یہ دعا کی تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ دعا آپ ﷺ کیوں کر رہے ہیں تو اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا اشتد الخ یعنی میں اپنی امت پر انتہائی شفقت و مہربانی کے لئے یہ دعا کر رہا ہوں کہ مبادا یہ بھی اس لعنت میں مبتلا نہ ہوجائیں جس طرح کہ یہود وغیرہ اس لعنت میں مبتلا ہو کر اللہ ذوالجلال کے غضب میں گرفتار ہوئے۔

712Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ حَبَلٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَسْتَھِبُّ الصَّلَاۃَ فِی الْحِیْطَانِ قَالَ بَعْضُ رَوَاتِہِ یَعْنِی الْبَسَاتِیْنَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لَا نَعْرِفُہُ اِلَّا مِنْ حَدِیْثِ الْحَسَنِ بْنِ اَبِی جَعْفَرٍ قَدْ ضَعَّفَہُ یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ وَغَیْرُہ،۔

اور حضرت معاذ ابن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات حیطان میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ اس حدیث کے بعض رایوں نے کہا ہے کہ حیطان سے مراد بساتین (یعنی باغات) ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے (کیونکہ) یہ روایت بجز حسن بن ابی جعفر کی سند کے اور کسی سند سے منقول نہیں ہے اور انہیں بھی یحی ابن سعید وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

713Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہٖ بِصَلَاۃٍ وَصَلَاتُہُ فِی مَسْجِدِ الْقَبِائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ صَلَاۃً وَصَلَاتُہُ فِی الْمَسْجِدِ الَّذِی یُجَمَّعُ فِیْہِ بِخَمْسِمِائَتِ صَلَاۃٍ وَصَلاتُہ، فِی الْمَسْجِدِ الْاَ قْصٰی بِخَمْسِیْنَ اَلْفَ صَّلَاۃٍ وَصَلَاتُہُ فِی مَسْجِدِی بَخَمْسِیْنَ اَلْفَ صَلَاۃٍ وَصَلَاتُہُ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَۃِ اَلْفِ صَلَاۃٍ۔ (رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت انس ابن مالک ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک ہی نماز کے برابر اور محلے کی مسجد میں اس کی پچیس نمازوں کے برابر اور اس مسجد میں جہاں جمعہ ہوتا ہے (یعنی جامع مسجد میں) اس کی نماز پانچ سو نمازوں کے برابر اور مسجد اقصی (یعنی بیت المقدس میں) اور میری مسجد (مسجد نبوی ﷺ میں اس کی نماز پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں اس کی نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح اس حدیث کے ذریعہ مساجد کے مراتب اور ان میں نماز پڑھنے کے ثواب کے فرق و درجات کا پتہ چلتا ہے۔ چناچہ فرمایا گیا ہے کہ سب سے کم تر درجہ تو خود کسی کے گھر کا ہے یعنی اگر کوئی آدمی مسجد کے بجائے اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو اسے صرف اسی ایک نماز کا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی آدمی اپنے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرتا ہے تو اسے پچیس نمازوں کا ثواب دیا جاتا ہے اسی طرح جامع مسجد میں نماز پڑھنے والے کو پانچ سو اور بیت المقدس و مسجد نبوی ﷺ میں نماز پڑھنے والے کو اس کی ایک نماز کے بدلے میں پچاس ہزار نمازوں کا ثواب دیا جاتا ہے اور اگر کوئی آدمی مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کرے پھر تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں یعنی اسے ایک نماز کے عوض ایک لاکھ نمازوں کا ثواب دیا جاتا ہے۔

714Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ص قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّ مَسْجِدٍ وُّضِعَ فِیْ الْاَرْضِ اَوَّلُ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْاَقْصٰی قُلْتُ کَمْ بَےْنَھُمَا قَالَ اَرْبَعُوْنَ عَامًا ثُمَّ الاْرَضُ لَکَ مَسْجِدٌ فَحَےْثُ مَا اَدْرَکَتْکَ الصَّلٰوۃُ فَصَلِّ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! زمین کے اوپر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد حرام میں نے عرض کی کہ پھر اس کے بعد؟ فرمایا مسجد اقصی (یعنی بیت المقدس) پھر میں نے پوچھا کہ ان دونوں مسجدوں (کی بناء) کے درمیان کتنا فرق تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ چالیس سال پھر اس کے بعد فرمایا اب تو ساری زمین تمہارے لئے مسجد ہے (یعنی اس کا ہر حصہ مسجد کا حکم رکھتا ہے کہ) جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح یہاں یہ اشکال وارد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کعبۃ اللہ کو بنانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور بیت المقدس کی بناء رکھنے والے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں اور تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک ہزار برس سے زیادہ کا فرق ہے لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے یہ کس اعتبار سے فرمایا کہ کعبۃ اللہ اور بیعت المقدس کی بناء کے درمیان صرف چالیس سال کا فرق ہے۔ اس کے جواب میں علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ) اس حدیث میں ان دونوں مسجدوں کی بناء اول کی طرف اشارہ ہے اور یہ ثابت ہے کہ کعبہ کے بانی اولی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہیں ہیں۔ اسی طرح بیت المقدس کے بھی بانی اولی حضرت سلیمان نہیں ہیں بلکہ کعبہ کی بناء سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) نے رکھی ہے پھر حضرت آدم کے بعد ان کی اولاد تمام روئے زمین پر پھیل گئی۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ان کی اولاد میں سے کسی نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی ہو اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا فرق رہا ہو۔ پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کو بنایا اور حضرت سلیمان نے بیت المقدس کی تعمیر کی۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ مجھے اس حدیث کی توثیق علامہ ابن ہشام کے اس مقولہ سے معلوم ہوتی ہے جو انہوں نے کتاب التسبیحات میں لکھا ہے کہ جب حضرت آدم کعبۃ اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوگئے تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب بیت المقدس کی سیر کر کے اسے بناؤ چناچہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل میں بیت المقدس بنایا اور اس میں عبادت کی۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کی بناء پر چالیس سال کے عرصے کا فرق ہو۔ بعض علماء سے اس حدیث کی توجیہ یہ منقول ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ بنایا تو مسجد کی حد مقرر کردی تھی اسی طرح بیت المقدس کی بھی حد مقرر کردی ہوگی۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ان کی حدود کو مقرر کرنے کا درمیانی وقفہ چالیس سال کا ہو۔

715Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

نماز صحیح طور پر ادا ہونے کی جہاں اور بہت سی شرائط ہیں ان میں ایک شرط ستر (یعنی شرم) گاہ کا چھپانا بھی ہے۔ چناچہ مشکوٰۃ کے مصنف اس باب میں اسی سلسلہ کی حدیثیں بیان کریں گے اس کے علاوہ اس باب میں مصنف ان لباسوں کے بارے میں بھی احادیث نقل کریں گے جن میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نمازیں میں پڑھیں ہیں۔

716Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

َنْ عُمَرَ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ رَأَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُّشْتَمِلًا بِہٖ فِیْ بَےْتِ اُمِّ سَلَمَۃَ وَاضِعًا طَرَفَےْہِ عَلٰی عَاتِقَےْہِ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عمر ابن ابی سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات ﷺ کو پاک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ کے مکان میں آپ ﷺ اس کپڑے کو اپنے جسم سے اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کے دونوں کنارے آپ ﷺ کے کندھوں پر تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح اشتمال اسے کہتے ہیں کہ کپڑے کا وہ کنارہ جو داہنے کندھے پر ہے بائیں ہاتھ کے نیچے سے نکالا جائے اور پھر وہ کنارا لے کر جو دائیں ہاتھ کے نیچے سے بائیں ہاتھ پر ڈالا گیا ہے دونوں کو ملا کر سینے پر گرہ لگائی جائے لیکن گرہ لگانے کی ضرورت صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب کہ کپڑے کے کنارے لمبے نہ ہوں اور ان کے کھل جانے کا خون ہو، اگر کنارے لمبے ہوں تو پھر گرہ لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسا کہ یمن کے سفیروں کے لباس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض شارحین کی عبارتوں میں گرہ لگانے کی قید ذکر نہیں کی گئی ہے۔ ان احادیث میں مشتمل متوشح اور مخالف بین طرفیہ کے جو الفاظ آئے ہیں سب کے ایک ہی معنی ہیں اور سب کی ایک ہی مذکور بالا صورت ہوتی ہے۔

717Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےُصَلِّےَنَّ اَحَدُکُمْ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَےْسَ عَلٰی عَاتِقَےْہِ مِنْہُ شَئٌ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا تم میں کوئی آدمی ایک کپڑے میں (اس طرح) نماز نہ پڑھے کہ اس کے کپڑے کا کچھ حصہ کندھوں پر نہ ہو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اشتمال کی صورت میں تو نماز پڑھنے کی اجازت ہے کیونکہ اس میں کپڑے کا کچھ حصہ کندھوں پر ہوتا ہے اور اگر کندھے پر کپڑے کا کچھ حصہ بھی نہ ہو تو اس صورت میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی اور اس کی حکمت علماء یہ لکھتے ہیں کہ صرف ایک ہی کپڑا اگر ہو اور اسی کا تہ بند کرلیا جائے اور اس کا کچھ حصہ کندھوں پر ڈالا نہ جائے تو اس صورت میں ستر کھل جانے کا اندیشہ رہتا ہے اور پھر یہ کہ رب ذوالجلال کے دربار میں حاضری کا وقت ہونے کی وجہ سے یہ بےادبی کی شکل ہے۔ حضرت امام اعظم، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور جمہور علماء رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کے نزدیک یہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں ہے۔ چناچہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھے کہ اس کے کپڑے کا کچھ حصہ کندھوں پر نہ ہو مگر ستر چھپا ہوا ہو تو اس کی نماز ہوجائے گی لیکن کراہت کے ساتھ ہوگی۔ حضرت امام احمد اور دوسرے علماء سلف رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم ظاہر حدیث پر عمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اس آدمی کی نماز نہیں ہوگی۔

718Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ مَنْ صَلّٰی فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ فَلْےُخَالِفْ بَےْنَ طَرْفَےْہِ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے چاہئے کہ اس کپڑے کی دونوں طرفوں میں مخالفت رکھے (یعنی اشتمال کی جو صورت بیان کی گئی ہے وہی اختیار کرے)۔۔ (صحیح البخاری )

719Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ خَمِےْصَۃٍ لَّھَا اَعْلَامٌ فَنَظَرَ اِلٰی اَعْلَامِھَا نَظْرَۃً فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ اذْھَبُوْا بِخَمِےْصَتِیْ ھٰذِہِ اِلٰی اَبِیْ جَھْمٍ وَّاْتُوْنِیْ بِاَنْبِجَانِےَّۃِ اَبِیْ جَھْمٍ فَاِنَّھَا اَلْھَتْنِیْ اٰنِفًا عَنْ صَلٰوتِیْ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رَوَاےَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ قَالَ کُنْتُ اَنْظُرُ اِلٰی عَلَمِھَا َواَنَا فِی الصَّلٰوۃِ فَاَخَافُ اَنْ ےَّفْتِنَنِیْ ۔

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس کے کنارے دوسرے رنگ کے تھے یا اس کے کناروں پر کچھ کام کیا ہوا تھا چناچہ آپ ﷺ نے اس پر کئے ہوئے کام کو دیکھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اس چادر کو ابی جہم کے پاس لے جاؤ (اور اسے اس کے حوالہ کر کے) ابی جہم کی انبجانیہ لے آؤ کیونکہ اس چادر نے مجھے میری نماز میں حضوری قلب کی دولت سے باز رکھا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور صحیح البخاری کی ایک روایت میں (یہ بھی منقول ہے کہ) آپ ﷺ نے فرمایا میں نماز کے دوران اس چادر کے نقش و نگار کی طرف دیکھنے لگا اور مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ میری نماز خراب نہ کر دے۔ تشریح خمیصہ ایک چادر کو کہتے ہیں جو خز کی یا صوف کی ہوتی ہے جس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور دھاری دار ہوتی ہے لہٰذا جملہ لھا اعلام یا تو خمیصہ کی تاکید ہے یا اس کا بیان ہے۔ یہ چادر ایک صحابی حضرت ابوجہم نے تحفہ کے طور پر آپ ﷺ کی خدمت لائے تھے آپ ﷺ نے جب اس کو اوڑھ کر نماز پڑھی اور نماز کے آداب کے دوران آپ ﷺ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی تو تو قلب مبارک میں کچھ فرق محسوس ہوا، چناچہ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو صحابہ سے فرمایا کہ اسے ابوجہم کو واپس کر آؤ، چونکہ آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ ہوسکتا ہے کہ اس چادر کو واپس کردینے سے ایک مخلص صحابی کی دل شکنی ہو اس لئے آپ ﷺ نے یہ فرما دیا کہ اس کے بدلہ میں ان سے انبجانیہ لے آؤ۔ انبجان ایک شہر کا نام ہے اس شہر کی بنی ہوئی چاردیں بالکل سیاہ ہوتی تھیں۔ اس شہر کی مناسبت سے چادر کو انبجانیہ کہا جاتا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظاہری نقش و نگار پاک نفوس اور صاف قلوب کو بھی متاثر کرتے ہیں اور یہ تاثیر قلب کی انتہائی صفائی اور لطافت کی بناء پر ہوتی ہے جیسے کہ کسی صاف و شفاف اور سفید چادر پر ایک معمولی سیاہ سا نقطہ بھی پڑجاتا ہے تو فوراً ظاہر ہوجاتا ہے اور ناگوار محسوس ہوتا ہے اور چادر جنتی زیادہ سفید ہوتی ہے وہ سیاہ نقطہ اتنا ہی زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہی حال ان نفوس قدسیہ کا ہے جس کے قلب و دماغ تعلق مع اللہ اور ریاضت و مجاہدہ کی بناء پر اتنے پاک و صاف ہوجاتے ہیں کہ گناہ و معصیت الگ ہے کسی معمولی مباح چیز کا ادنیٰ سا تصور بھی قلب و دماغ پر اثر انداز ہوجاتا ہے لیکن ان کے مقابلے پر آلود گان تیرہ باطن بھی ہوتے ہیں جن کے دل و دماغ پر بڑے بڑے گناہ کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس حدیث کے ذریعے اصل امت کو یہ تعلیم دینا مقصد ہے کہ نماز کے سلسلے میں ایسی چیزوں سے احتیاط رکھنی چاہئے جو نماز میں دھیان بٹانے کا سبب بنتی ہوں۔

720Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ قِرَامٌ لِّعَائِشَۃَرضی اللہ عنہ سَتَرَتْ بِہٖ جَانِبَ بَےْتِھَا فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلماَمِےْطِیْ عَنَّا قِرَامَکِ ھٰذَا فَاِنَّہُ لَا ےَزَالُ تَصَاوِےْرُہُ تَعْرِضُ لِیْ فِیْ صَلٰوتِیْ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اپنے مکان کے ایک حصے میں ایک پردہ ڈال رکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا کہ اس پردے کو ہمارے سامنے سے ہٹا لو کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں برابر میری سامنے رہتی ہیں۔ (صحیح البخاری ) تشریح بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پردہ حضرت عائشہ ؓ نے دیوار گیری کے طور پر دیوار پر لگا رکھا ہوگا مگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ پردہ چھپر کھٹ کر طریقے پر تھا۔ بہرحال حضرت عائشہ ؓ نے یہ پردہ اسی وقت سے لگا رکھا ہوگا جب تک کہ انہیں حدیث نہی معلوم نہیں ہوئی ہوگی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا تو انہوں نے وہ پردہ اتار ڈالا۔

721Mishkaat-al-Masabih

ستر ڈھانکنے کا بیان

وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍقَالَ اُھْدِیَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَرُّوْجُ حَرِےْرٍ فَلَبِسَہُ ثُمَّ صَلّٰی فِےْہِ ثُمَ انْصَرَفَ فَنَزَعَہُ نَزْعًا شَدِےْدًا کَالْکَارہٖ لَہ، ثُمَّ قَالَ لَا ےَنْبَغِیْ ھٰذَا لِلْمُتَّقِےْنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عقبہ ابن عامر فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ کی خدمت اقدس میں کسی نے ایک ریشمی قبا تحفہ کے طور پر بھیجی چناچہ آپ ﷺ نے اسے پہن کر نماز پڑھ لی نماز پڑھنے کے بعد آپ ﷺ نے اس قبا کو اس طرح اتار پھینکا جیسے کوئی بہت برا جانتا ہو پھر فرمایا کہ (ریشمی کپڑے شرک و کفر سے) بچنے والوں کے لائق نہیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح فروج اس قبا کو کہتے ہیں جس میں پیچھے کی طرف چاک ہوتا ہے۔ یہ فروج رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اکیدر بادشاہ درومہ یا بادشاہ اسکندریہ نے تحفۃ بھیجی تھی۔ چونکہ اس وقت مردوں کو ریشمی کپڑا پہننا حرام نہیں تھا اس لئے آپ ﷺ نے اسے زیب تن فرمالیا اور اس میں نماز پڑھ لی مگر یہ سوچ کر کہ ریشمی کپڑا پہننے سے رعونت پائی جاتی ہے آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرما کر اتار دیا۔ اس طرح آپ ﷺ نے اپنے اس عمل سے یہ ظاہر فرما دیا کہ اگرچہ اس کا پہننا مباح ہے لیکن اللہ کے نیک بندے اور متقی و پرہیز گار لوگ چونکہ عزیمت پر عمل کرتے ہیں اس لئے ان کے لئے یہ مناسب اور بہترین نہیں ہے کہ وہ ریشمی کپڑا پہنیں۔ پھر بعد میں ریشم کا پہننا تمام مسلمان مردوں کے لئے خواہ متقی ہوں یا غیر متقی، حرام ہوگیا ہے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کہ یہ نہی اس حالت میں ہوئی ہو تو اس صورت میں متقی عن الشرک مراد ہوگا یعنی مسلمانوں کو یہ پہننا نہ چاہئے۔