Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 17 of 87

321Mauwatta Imam Malik

چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَی قَطُّ وَإِنِّي لَأَسْتَحِبُّهَا وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی بھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو اور رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو دوست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہوجائے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I never once saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, doing the voluntary prayer of duha, but I myself do it. Sometimes the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, would refrain from a practice that he loved to do, fearing that people would do the same and it would become fard for them ."

322Mauwatta Imam Malik

چاشت کی نماز کا بیان جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں وقت اسکا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تَرَکْتُهُنَّ

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ نماز ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتیں پھر کہتیں اگر میری ماں اور باپ جی اٹھیں تو بھی میں ان رکعتوں کو نہ چھوڑوں۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Aisha that she used to pray duha with eight rakas, and she would say, "I would never stop doing them even if my parents were to be brought back to life."

323Mauwatta Imam Malik

نماز چاشت کی متفرق حدیثیں۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْکَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ فَأَکَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَکُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَی حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَائٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَائَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّی لَنَا رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ

انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کی نانی ملیکہ نے دعوت کی رسول اللہ ﷺ کی پس کھایا آپ ﷺ نے کھانا پھر فرمایا کہ کھڑے ہو تاکہ میں نماز پڑھوں تمہارے واسطے کہا انس نے پس کھڑا ہوا میں ایک بوریا لے کر جو سیاہ ہوگیا تھا بوجہ پرانا ہونے کے تو بھگویا میں نے اس کو پانی سے اور کھڑے ہوئے رسول اللہ ﷺ اس پر اور صف باندھی میں نے اور یتیم نے پیچھے آپ ﷺ کے اور بڑھیاں نے پیچھے ہمارے تو پڑھائیں آپ ﷺ نے دو رکعتیں پھر چلے گئے آپ ﷺ۔

Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Anas ibn Malik that his grandmother, Mulayka, invited the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, for food and he ate some of it. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Get up and I will lead you in prayer." Anas said, "I stood up and took a woven mat belonging to us that had become black through long use and sprinkled it with water, and the Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood on it. The orphan and I formed a row behind him, and the old woman stood behind us. He prayed two rakas with us and then left."

324Mauwatta Imam Malik

نماز چاشت کی متفرق حدیثیں۔

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْهَاجِرَةِ فَوَجَدْتُهُ يُسَبِّحُ فَقُمْتُ وَرَائَهُ فَقَرَّبَنِي حَتَّی جَعَلَنِي حِذَائَهُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا جَائَ يَرْفَا تَأَخَّرْتُ فَصَفَفْنَا وَرَائَهُ

عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں گیا عمر بن خطاب کے پاس گرمی کے وقت تو پایا میں نے ان کو نفل پڑھتے ہوئے پس کھڑا ہونے لگا میں یچھے ان کے سو قریب کرلیا انہوں نے مجھ کو اور کھڑا کیا آپ نے برابر داہنی طرف بعد اس کے جب آیا یرفا تو پیچھے ہٹ گیا میں اور صف باندھی ہم دونوں نے پیچھے حضرت عمر کے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba said, "I visited Umar ibn al-Khattab just before noon and found him praying a voluntary prayer. So I stood behind him, but he pulled me nearer and put me next to him, on his right hand side, and then Yarfa came and I moved back and we formed a row behind him."

325Mauwatta Imam Malik

نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے اگر کوئی جانا چاہے تو اس کو اشارہ سے منع کرے اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے اس لئے کہ وہ شیطان ہے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Abd ar-Rahman ibn Abi Said al-Khudri from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not let anyone pass in front of you when you are praying. Repel him as much as you can, and, if he refuses, fight him, for he is only a shaytan."

326Mauwatta Imam Malik

نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان

عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَکَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً

ابو جہیم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اگر جانے گزر جانے والا سامنے سے نمازی کے کتنا عذاب ہے اس پر تو چالیس (دن، یا مہنے، یابرس) کھڑا رہے تو بہتر معلوم ہو اس کو گزر جانے سے شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو۔

Yahya related to me from Malik from Abun Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah from Busr ibn Said that Zayd ibn Khalid al-Juhani sent him to Abu Juhaym to ask him what he had heard from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about passing in front of someone praying. Abu Juhaym said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If the one who passes in front of a man praying knew what he was bringing upon himself it would be better for him to stop for forty than to pass in front of him. " Abun-Nadr said, "I do not know whether he said forty days or months or years."

327Mauwatta Imam Malik

نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ کَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَکَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَکْرَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ أَيْدِي النِّسَائِ وَهُنَّ يُصَلِّينَ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا جو شخص گزرتا ہے نمازی کے سامنے سے اگر اس کو معلوم ہو عذاب اس فعل کا تو اگر دھنس جائے زمین میں تو اچھا معلوم ہو اس کو سامنے سے گزر جانے سے۔ امام مالک کو پہنچا کہ تھے عبداللہ بن عمر ناپسند سمجھتے تھے یہ کہ وہ گزرے عورتوں کے آگے سے اور وہ نماز پڑھ رہی ہوں۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that Kab al-Ahbar said, "If the person who passed in front of a man praying knew what he was bringing on himself, it would be better for him to sink into the ground than to pass in front of him."

328Mauwatta Imam Malik

نمازی کے سامنے سے چلے جانے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدٍ وَلَا يَدَعُ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں گزرتے تھے نماز میں کسی کے سامنے سے اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar would neither pass in front of anyone, nor let anyone pass in front of him.

329Mauwatta Imam Malik

نمازی کے سامنے سے گزر جانے کی اجازت۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الْاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ بِمِنًی فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصُّفُوفِ وَالصَّلَاةُ قَائِمَةٌ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور سن میرا قریب بلوغ کے تھا اور رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے منیٰ میں تو گزر گیا میں تھوڑا صف کے سامنے سے پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہوگیا بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا۔ امام مالک کو پہنچا سعد بن ابی وقاص صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں۔ ا امام مالک کو پہنچا حضرت علی ؓ سے کہتے تھے نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے تو نماز اس کی نہیں ٹوٹتی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Abdullah ibn Abbas said, "I approached, riding on a donkey, while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was leading the people in prayer at Mina, and I was, at that time, nearing puberty. I passed in front of part of the row, dismounted, sent the donkey off to graze, and then joined the row, and no one rebuked me for doing so."

330Mauwatta Imam Malik

نمازی کے سامنے سے گزر جانے کی اجازت۔-r-nسفر میں سترہ کا بیان

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْئٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَسْتَتِرُ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا صَلَّى

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے مگر اس کی نماز نہیں ٹوٹتی۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عمر اپنے اونٹ کو سترہ بنا لیتے جب نماز پڑھتے سفر میں

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar used to say, "Things that pass in front of a man praying do not break his prayer."

331Mauwatta Imam Malik

سفر میں سترہ کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ کَانَ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَائِ إِلَی غَيْرِ سُتْرَةٍ

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نماز پڑھتے تھے صحرا میں بغیر سترہ کے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father used to pray in the desert without a sutra.

332Mauwatta Imam Malik

نماز میں کنکروں کا ہٹانا

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا أَهْوَی لِيَسْجُدَ مَسَحَ الْحَصْبَائَ لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا

ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عمر کو جب جھکتے تھے سجدہ کرنے کے لئے اور اپنے سجدہ کے مقام سے ہلکا سا کنکریوں کو ہٹا دیتے تھے۔

Yahya related to me from Malik that Abu Jafar al-Qari said, "I saw Abdullah ibn Umar quickly brush away the small stones from the place where he was going to put his forehead as he was going down into sajda."

333Mauwatta Imam Malik

نماز میں کنکروں کا ہٹانا

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ کَانَ يَقُولُ مَسْحُ الْحَصْبَائِ مَسْحَةً وَاحِدَةً وَتَرْکُهَا خَيْرٌ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچا ان کو ابوذر کہتے تھے کنکریوں کا ایک بار ہٹانا درست ہے اور نہ ہٹانا سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he had heard that Abu Dharr (RA) used to say, "Brush away the small stones with one sweep, but if you leave them it is better than a red camel."

334Mauwatta Imam Malik

صفیں برابر کرنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَإِذَا جَائُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنْ قَدْ اسْتَوَتْ کَبَّرَ

نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کو صفیں برابر کرنے کا حکم دیتے تھے جب وہ لوگ لوٹ کر خبر دیتے کہ صفیں برابر ہوگئیں اس وقت تکبیر کہتے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Umar ibn al-Khattab used to order the rows to be straightened, and when they had come to him and told him that the rows were straight he would say the takbir.

335Mauwatta Imam Malik

صفیں برابر کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَامَتْ الصَّلَاةُ وَأَنَا أُکَلِّمُهُ فِي أَنْ يَفْرِضَ لِي فَلَمْ أَزَلْ أُکَلِّمُهُ وَهُوَ يُسَوِّي الْحَصْبَائَ بِنَعْلَيْهِ حَتَّی جَائَهُ رِجَالٌ قَدْ کَانَ وَکَلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدْ اسْتَوَتْ فَقَالَ لِي اسْتَوِ فِي الصَّفِّ ثُمَّ کَبَّرَ

مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ تھا میں عثمان بن عفان کے ساتھ اتنے میں تکبیر ہوئی نماز کی اور میں ان سے باتیں کرتا رہا اس لئے کہ میرا کچھ وظیفہ مقرر کریں اور وہ برابر کر رہے تھے کنکریوں کو اپنے جوتوں سے یہاں تک کہ آن پہنچے وہ لوگ جن کو صفیں برابر کرنے کے لئے مقرر کیا تھا اور انہوں نے خبر دی ان کو اس بات کی صفیں برابر ہوگئیں تو کہا مجھ سے کہ شریک ہوجا صف میں پھر تکبیر کہی۔

Yahya related to me from Malik from his paternal uncle, Abu Suhayl ibn Malik, that his father said, "I was with Uthman ibn Affan when the iqama was said for the prayer and I was talking to him about being assigned a definite allowance by him. I continued talking to him while he was levelling some small stones with his sandals, and then some men that he had entrusted to straighten the rows came and told him that the rows were straight. He said to me, Line up in the row, and then he said the takbir."

336Mauwatta Imam Malik

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں پر رکھنا۔

عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ وَوَضْعُ الْيَدَيْنِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی فِي الصَّلَاةِ يَضَعُ الْيُمْنَی عَلَی الْيُسْرَی وَتَعْجِيلُ الْفِطْرِ وَالِاسْتِينَائُ بِالسَّحُورِ

عبدالکریم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نبوت کی باتوں میں سے یہ بات ہے کہ جب تجھے حیاء نہ ہو تو جو جی چاہے کر اور نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا اور روزہ جلدی افطار کرنا اور سحری کھانے میں دیر کرنا۔

Yahya related to me from Malik that Abdul Karim ibn Abil-Mukhariq al-Basri said, "Among things the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said and did are: As long as you do not feel ashamed, do whatever you wish, the placing of one hand on the other in prayer (one places the right hand on the left), being quick to break the fast, and delaying the meal before dawn."

337Mauwatta Imam Malik

نماز میں داہنا ہاتھ بائیں پر رکھنا۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَی عَلَی ذِرَاعِهِ الْيُسْرَی فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ يَنْمِي ذَلِکَ

سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم کیا جاتا تھا نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا کہا ابوحازم نے کہا میں سمجھتا ہوں سہل اس حدیث کو مرفوع کہتے تھے۔

Yahya related to me from Malik from Abu Hazim ibn Dinar that Sahl ibn Sad said, "People used to be ordered to place their right hands on their left forearms in the prayer." Abu Hazim added, "I know for sure that Sahl traces that back to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace."

338Mauwatta Imam Malik

صبح کی نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَقْنُتُ فِي شَيْئٍ مِنْ الصَّلَاةِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قنوت نہیں پڑھتے تھے کسی نماز میں

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar did not say qunut in any of the prayers.

339Mauwatta Imam Malik

پاخانہ یا پیشاب کی حاجت کے وقت نماز نہ پڑھنا

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأَرْقَمِ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم امامت کرتے تھے اپنے لوگوں کی تو ایک دن نماز تیار ہوئی لیکن آپ چلے گئے حاجت کو پھر آئے اور بولے کو سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے جب قصد کرے کوئی تم میں سے پائخانہ کا تو پہلے پائخانہ کرلے پھر نماز پڑھے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Abdullah ibn al-Arqam used to lead his companions in prayer. The time for prayer came one day and he went to relieve himself. When he returned, he said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, If you wish to defecate, you should do so before the prayer. "

340Mauwatta Imam Malik

پاخانہ یا پیشاب کی حاجت کے وقت نماز نہ پڑھنا

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُکُمْ وَهُوَ ضَامٌّ بَيْنَ وَرِکَيْهِ

حضرت عمر نے فرمایا کہ کوئی تم میں نماز نہ پڑھے جب وہ روکے پیشاب یا پائخانہ کو۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab said, "You should not pray while you are holding your bowels."