نماز کے انتظار کرنے کا اور نماز کا جانے کا ثواب۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَلَائِکَةُ تُصَلِّي عَلَی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّی فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرشتے دعا کرتے ہیں کہ اس شخص کے لئے جو بیٹھا رہے اس جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھ چکا ہے جب تک اس کو حدث نہ ہو کہتے ہیں اے اللہ بخش دے اس کو رحم کر اس پر۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The angels ask for blessings on each one of you as long as he is in the place where he has prayed and has not discharged anything. They say, Allah, forgive him. Allah have mercy on him. " Malik said, "I do not consider that his words, has not discharged anything refer to anything other than the discharges that break wudu."
نماز کے انتظار کرنے کا اور نماز کا جانے کا ثواب۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاةٍ مَا کَانَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَی أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نماز ہی میں رہتا ہے وہ شخص جس کو نماز گھر میں جانے سے روکے رہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "You are in prayer as long as the prayer detains you and there is nothing that prevents you from returning to your family except the prayer."
نماز کے انتظار کرنے کا اور نماز کا جانے کا ثواب۔
عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَ يَقُولُ مَنْ غَدَا أَوْ رَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ لَا يُرِيدُ غَيْرَهُ لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی بَيْتِهِ کَانَ کَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ رَجَعَ غَانِمًا
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے تھے جو شخص صبح کو یا سہ پہر کو جائے مسجد میں نیک امر سیکھنے کو یا سکھانے کو پھر لوٹ آئے اپنے گھر میں تو گویا جہاد سے غنیمت لے کر لوٹا۔
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr, that Abu Bakr (RA) ibn Abd ar-Rahman used to say, "Someone who goes to the mosque in the morning or the afternoon with no intention of going anywhere else, either to learn good or teach it, is like someone who does jihad in the way of Allah and returns with booty."
نماز کے انتظار کرنے کا اور نماز کا جانے کا ثواب۔
عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِکَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ فَإِنْ قَامَ مِنْ مُصَلَّاهُ فَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ لَمْ يَزَلْ فِي صَلَاةٍ حَتَّی يُصَلِّيَ
ابوہریرہ کہتے تھے جو شخص تم میں سے نماز پڑھ کر وہیں بیٹھا رہے تو ملائکہ دعا کرتے ہیں اس کے لئے یا اللہ بخش دے اس کو رحم کر اس پر اگر کھڑا ہوگیا اس جگہ سے لیکن بٹیھا رہا مسجد میں نماز کے انتظار میں تو گویا وہ نماز ہی میں ہے جب تک نماز پڑھے۔
Yahya related to me from Malik from Nuaym ibn Abdullah al-Mujmir that he heard Abu Hurayra say, "If any one of you prays and then sits down in the spot where he has prayed, the angels ask blessings on him saying, Allah, forgive him. Allah, have mercy on him. And if he moves from the spot where he has prayed and sits elsewhere in the mosque waiting for the prayer, he remains in prayer until he prays."
نماز کے انتظار کرنے کا اور نماز کا جانے کا ثواب۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ إِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عِنْدَ الْمَکَارِهِ وَکَثْرَةُ الْخُطَی إِلَی الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ يُقَالُ لَا يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنْ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَائِ إِلَّا أَحَدٌ يُرِيدُ الرُّجُوعَ إِلَيْهِ إِلَّا مُنَافِقٌ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کیا نہ بتاؤں میں تم کو وہ چیزیں جو دور کرتی ہیں گناہوں کو اور بڑھاتی ہیں درجوں کو پورا کرنا وضو کا تکلیف کے وقت اور قدم بہت ہونا مسجد تک اور انتظار کرنا نماز کا بعد ایک نماز کے یہی رباط ہے یہی رباط ہے یہی رباط۔ سعید بن مسیب نے کہا کہتے ہیں مسجد سے بعد اذان کے جو نکل جائے اور پھر آنے کا اردہ نہ ہو تو وہ منافق ہے۔
Yahya related to me from Malik from al Ala ibn Abd ar-Rahman ibn Yaqub from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Shall I tell you the things by which Allah erases wrong actions and by which he raises ranks: the complete and correct performance of wudu in adverse conditions, a great number of steps towards the mosque,and waiting after one prayer for the next prayer. That is the firm hold, that is the firm hold, that is the firm hold."
جو شخص مسجد میں جائے تو بغیر دو رکعتیں نفل پڑھے ہوئے نہ بیٹھے۔
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے۔
Yahya related to me from Malik from Amir ibn Abdullah ibn az-Zubayr from Amr ibn Sulaymaz-Zuraqi from Abu Qatadaal-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you enter the mosque, you should pray two rakas before you sit down."
جو شخص مسجد میں جائے تو بغیر دو رکعتیں نفل پڑھے ہوئے نہ بیٹھے۔
عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ لَهُ أَلَمْ أَرَ صَاحِبَکَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ يَرْکَعَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي بِذَلِکَ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَعِيبُ ذَلِکَ عَلَيْهِ أَنْ يَجْلِسَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَبْلَ أَنْ يَرْکَعَ قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِک وَذَلِکَ حَسَنٌ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ
ابو النضر سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا مجھ سے میں نہیں دیکھتا تمہارے صاحب یعنی عمر بن عبیداللہ کو تحیہالمسجد پڑھتے ہوئے جب آتے ہیں مسجد کو تو بیٹھ جاتے ہیں بغیر پڑھے ہوئے ابونضر نے کہا کہ ابوسلمہ عیب کرتے تھے اس امر کا عمر بن عبیداللہ پر۔
Yahya related to me from Malik from AbunNadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah, that Abu Salama ibn Abd ar-Rahman asked him, "Didnt I see your master sit down before praying after he had entered the mosque?" Abun-Nadr said, "By that he meant Umar ibn Ubaydullah, and he was finding fault with him for sitting down before praying after he had come into the mosque." Yahya said that Malik said, "It is good to do that but not obligatory."
جس چیز پر سجدہ کرے اس پر دونوں ہاتھ رکھے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ کَفَّيْهِ عَلَی الَّذِي يَضَعُ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ قَالَ نَافِعٌ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْبَرْدِ وَإِنَّهُ لَيُخْرِجُ کَفَّيْهِ مِنْ تَحْتِ بُرْنُسٍ لَهُ حَتَّی يَضَعَهُمَا عَلَی الْحَصْبَائِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب سجدہ کرتے تھے تو جس چیز پر سجدہ کرتے تھے اسی پر ہاتھ رکھتے تھے نافع نے کہا کہ سخت جاڑے کے دن میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا اپنے ہاتھ نکالتے تھے جبہ سے اور رکھتے تھے ان کر پتھریلی زمین پر۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to place his palms flat on the surface where he put his forehead. Nafi said, "I have seen him take his hands out from under his burnus on a very cold day and place them on the ground."
جس چیز پر سجدہ کرے اس پر دونوں ہاتھ رکھے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَنْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ فَلْيَضَعْ کَفَّيْهِ عَلَی الَّذِي يَضَعُ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ ثُمَّ إِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ کَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی زمین پر رکھے پھر منہ اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے اس لئے کہ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں جیسے منہ سجدہ کرتا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say, "When one of you puts his forehead on the ground he should put his palms on the place where he puts his forehead. Then, when he rises, he should raise them, for the hands prostrate just as the face prostrates."
نماز میں کسی طرف دیکھنا یا دستک دینا وقت حاجت کے۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَی بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ نَعَمْ فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ مِنْ التَّصْفِيقِ الْتَفَتَ أَبُو بَکْرٍ فَرَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ امْکُثْ مَکَانَکَ فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَی مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِکَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ حَتَّی اسْتَوَی فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ مَا کَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِي رَأَيْتُکُمْ أَکْثَرْتُمْ مِنْ التَّصْفِيحِ مَنْ نَابَهُ شَيْئٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَائِ
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گئے بنی عمرو بن عوف کے پاس ان میں صلح کرنے کو اور وقت آگیا نماز کا تو مؤذن ابوبکر صدیق کے پاس آکر بولا اگر تم نماز پڑھاؤ تو میں تکبیر کہوں بولے اچھا پس شروع کی نماز ابوبکر نے اور آگئے رسول اللہ اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے سو آپ ﷺ صفوں کو چیر کر پہلی صف میں آکر کھڑے ہوگئے پس دستک دی لوگوں نے مگر ابوبکر نماز میں کسی طرف دھیان نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے بہت زور سے دستکیں دینا شروع کیں تب دیکھا ابوبکر نے رسول اللہ ﷺ کو اور ارادہ کیا پیچھے ہٹنے کا پس اشارہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنی جگہ پر رہو تو دونوں ہاتھ اٹھا کر ابوبکر نے اللہ کا شکر کیا اس بات پر کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو امام رہنے کا حکم دیا پھر پیچھے ہٹ آئے ابوبکر اور آگے بڑھ گئے رسول اللہ ﷺ اور نماز پڑھا کر فارغ ہوئے پھر فرمایا اے ابوبکر تم کیوں اپنی جگہ پر کھڑے نہ رہے جب میں نے تم کو اشارہ کیا تھا ابوبکر نے کہا بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات پہنچتی ہے کہ نماز پڑھائے رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے تب فرمایا رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے تم نے اس قدر دستکیں کیوں بجائیں جس شخص کو نماز میں کچھ حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہے لوگ اس طرف دیکھ لیں گے اور دستک دینا عورتوں کے لئے ہے
Yahya related to me from Malik from Abu Hazim Salama ibn Dinar from Sahl ibn Said as-Saidi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went to the tribe of Bani Amr ibn Awf to settle their disputes .The time for the prayer came and the muadhdhin came to Abu Bakr (RA) as-Siddiq and said, "Could you lead the people in prayer and I will say the iqama?" He said, "Yes," and Abu Bakr (RA) prayed. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came back while the people were praying, and approached and joined the row. People clapped, but Abu Bakr (RA) did not turn round. The people increased their clapping, and Abu Bakr (RA) turned round and saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, indicated to him to stay in his place. Abu Bakr (RA) raised his hands and praised Allah that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had told him to do that. Then he drew back until he was in the row, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stepped forward and led the prayer. When he had finished he said, "Abu Bakr, what stopped you from staying put like I told you?" Abu Bakr (RA) said, "It is not for Ibn Abi Quhafa to pray in front of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Why did I see you all clapping so much? If something happens to you in the prayer you should say Subhana-llah (Glory be to Allah), and when you say Subhana-llah you will be heard. Clapping is only for women."
نماز میں کسی طرف دیکھنا یا دستک دینا وقت حاجت کے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ يَکُنْ يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز میں التفات نہیں کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Ibn Umar (RA) would never turn around when praying.
نماز میں کسی طرف دیکھنا یا دستک دینا وقت حاجت کے۔
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّي وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَرَائِي وَلَا أَشْعُرُ بِهِ فَالْتَفَتُّ فَغَمَزَنِي
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ میں پڑھتا تھا اور عبداللہ بن عمر میرے پیچھے تھے مجھے خبر نہ تھی میں نے ان کو دیکھا تو دباد یا انہوں نے مجھ کو۔
Yahya related to me from Malik that Abu Jafar al-Qari said, "I was praying, and Abdullah ibn Umar was behind me and I was not aware of it. Then I turned round and he prodded me (in disapproval)."
جو شخص آیا اور امام کو رکوع میں پایا وہ کیا کرے
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ النَّاسَ رُکُوعًا فَرَکَعَ ثُمَّ دَبَّ حَتَّی وَصَلَ الصَّفَّ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَدِبُّ رَاكِعًا
ابو امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ زید بن ثابت مسجد میں آئے تو امام کو رکوع میں پایا پس رکوع کرلیا پھر آہستہ چل کر صف میں مل گئے۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن مسعود سے کہ وہ رکوع میں آہتسہ چلتے تھے صف میں مل جانے کو۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf said, "Zayd ibn Thabit entered the mosque and found the people in ruku, so he went into ruku and then moved slowly forward until he reached the row."
عَنْ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْکَ فَقَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ نے پوچھا آپ ﷺ سے یا رسول اللہ ﷺ کیونکر درود بھیجیں آپ ﷺ پر تو فرمایا آپ ﷺ نے کہو اے پروردگار رحمت اتار اپنی محمد اور ان کی بیبیوں اور آل پر جیسے رحمت کی تو نے ابراہیم پر اور برکت اتار محمد اور ان کی بیبیوں پر اور آل پر جیسے تو نے برکت اتاری ابراہیم کی اولاد پر بیشک تو تعریف کے لائق اور بڑا ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Hazim from his father that Amr ibn Sulaym az-Zuraqi said, "Abu Humayd as-Saidi told me that they asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, how they were to ask for blessings upon him and he replied that they should say, O Allah, bless Muhammad and his wives and his descendants asYou blessed the family of Ibrahim, and give baraka to Muhammad and his wives and his descendants as You gave baraka to the family of Ibrahim. You are worthy of Praise and Glorious." Allahumma salli ala Muhammad wa azwajihi wa alihi kama sallaita ala ali Ibrahim, wa barakaala Muhammad wa azwajihi wa alihi kama baraktaalaali Ibrahim, innaka Hamidum - Majid.
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَکَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْکَ قَالَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَالسَّلَامُ کَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ
ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آئے ہمارے پاس سعد بن عبادہ کے مکان میں تو کہا آپ ﷺ سے بشیر بن سعد نے حکم کیا ہم کو اللہ جل جلالہ نے درود بھیجنے کا آپ ﷺ پر تو کیوں کر درود بھیجیں آپ ﷺ پر پس چپ ہو رہے آپ ﷺ یہاں تک کہ ہم کو تمنا ہوئی کہ کاش نہ پوچھتے آپ ﷺ سے پھر فرمایا آپ ﷺ نے کہو اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید اور سلام بھیجنے کی ترکیب جیسے تم جان چکے ہو۔
Yahya related to me from Malik from Nuaym ibn Abdullah al-Mujmirthat Muhammad ibn Abdullah ibn Zayd told him that Abu Masud al Ansari said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to us at the gathering of Sad ibn Ubadah. Bashir ibn Sad said to him, Allah has ordered us to ask for blessings on you, Messenger of Allah. How should we do it? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, remained silent until we wished we had not asked him. Then he told us to say, O Allah, bless Muhammad and the family of Muhammad as You blessed Ibrahim, and give baraka to Muhammad and the family of Muhammad as You gave baraka to the family of Ibrahim. In all the worlds You are worthy of Praise and Glorious, and then give the taslim as you have learnt." Allahumma salli ala Muhammad wa ali Muhammad kama sallaita Ibrahim, wa baraka ala Muhammad wa ali Muhammad kama baraktaala ali Ibrahim. Fil alamin, innaka Hamidum - Majid.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقِفُ عَلَی قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو کھڑے ہوتے تھے نبی ﷺ کی قبر پر درود بھیجتے تھے آپ ﷺ پر اور ابوبکر اور عمر پر۔
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "I saw Abdullah ibn Umar stop by the grave of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and ask for blessings on the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and on Abu Bakr (RA) and Umar."
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَکْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَکْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَکْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَائِ رَکْعَتَيْنِ وَکَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّی يَنْصَرِفَ فَيَرْکَعَ رَکْعَتَيْنِ
ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پڑھتے تھے ظہر کی اول دو رکعتیں اور بعد ظہر کے دو رکعتیں اور بعد مغرب کے دو رکعتیں اپنے گھر میں اور بعد عشا کے دو رکعتیں اور نہیں پڑھتے تھے بعد جمعہ کے مسجد میں یہاں تک کہ گھر میں آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray two rakas before dhuhr and two rakas after it, two rakas after maghrib, in his house, and two rakas after isha. He did not pray after jumua until he had left, and then he prayed two rakas.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَی عَلَيَّ خُشُوعُکُمْ وَلَا رُکُوعُکُمْ إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَهْرِي
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تم دیکھتے ہو میرا منہ قبلہ کی طرف قسم اللہ کی مجھ سے چھپا نہیں ہے خشوع تمہارا نماز میں اور رکوع تمہارا میں دیکھتا ہوں تم کو پیٹھ کے پیچھے سے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do you see the direction I am facing here? By Allah, neither your concentration nor your ruku is hidden from me. I can see you behind my back."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْتِي قُبَائَ رَاکِبًا وَمَاشِيًا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آتے تھے قبا میں سوار ہو کر اور پیدل۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to go to Quba (to pray), he would walk as well as ride.
عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا تَرَوْنَ فِي الشَّارِبِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ فِيهِمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ قَالُوا وَکَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا يُتِمُّ رُکُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا
نعمان بن مرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا رائے ہے تمہاری اس شخص میں جو شراب پئے اور چوری کرے اور زنا کرے اور تھا یہ امر قبل اترنے حکم کے ان کے باب میں تو کہا صحابہ نے اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے فرمایا آپ ﷺ نے یہ برے کام ہیں ان میں سزا ضرور ہے اور سب چوریوں میں بری نماز کی چوری ہے پوچھا صحابہ نے نماز کا چور کیونکر ہے فرمایا آپ ﷺ نے نماز کا چور وہ ہے جو رکوع اور سجدہ کو پورا نہ کرے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from an-Numan ibn Murra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said,"What about drunkenness, stealing and adultery? "That was before anything had been revealed about them. They said, "Allah and His Messenger know best." He said, "They are excesses and in them is a punishment. And the worst of thieves is the one who steals his prayer." They said, "How does he steal his prayer, Messenger of Allah? ﷺ " He replied, "He does not do ruku or sajda properly."