ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ إِنَّمَا وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ عَلِيٌّ قَالَ فَلِذَلِکَ تَرَکْنَا نَصِيبَنَا مِنْ الشِّعْبِ
علی بن حسین سے روایت ہے انہوں نے کہا جب ابوطالب مرگئے تو ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے اور علی ان کے وارث نہیں ہوئے علی بن حسین نے کہا اسی واسطے ہم نے اپنا حصہ مکہ میں گھروں میں سے چھوڑ دیا۔