Mauwatta Imam Malik 1407

ترکے کی تقسیم کے بیان میں

1407Mauwatta Imam Malik

ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔

عَنْ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَشْعَثِ ذَکَرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَالَ لَهُ مَنْ يَرِثُهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا ثُمَّ أَتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَتُرَانِي نَسِيتُ مَا قَالَ لَکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا

محمد بن اشعث کی ایک پھوپھی یہودی تھی یا نصرانی مرگئی محمد بن اشعث نے حضرت عمر ؓ سے بیان کیا اور پوچھا کہ اس کا کون وارث ہوگا عمر بن خطاب ؓ نے کہا اس کے مذہب والے وارث ہوں گے پھر عثمان ؓ بن عفان جب خلیفہ ہوئے تو ان سے پوچھا عثمان نے کہا کیا تو سمجھتا ہے کہ عمر نے جو تجھ سے کہا تھا اس کو میں بھول گیا وہی اس کے وارث ہوں گے جو اس کے مذہب والے ہیں۔