روزوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 9 · 145 hadiths · Page 5 of 8

1718Sunan Ibne-Majah

اللہ کے راستے میں ایک روزہ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جہاد کے سفر میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever fasts one day for the sake of Allah, Allah will move his face away from the Fire a distance of seventy autumns (years)." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٣ (١٦٢٢)، سنن النسائی/الصیام ٢٤ (٢٢٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٧٠، ومصباح الزجاجة: ٦١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٠، ٣٥٧) (صحیح )
1719Sunan Ibne-Majah

ایّام تشر یق میں روزہ کی مما نعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منیٰ کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ P.BU.H said: "The days of Mina (11th, 12th and 13th of Dhul-Hijjah) are days of eating and drinking:" (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: منیٰ کے دن سے مراد تشریق کے دن یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ ہے، ایک روایت میں ہے کہ ان دنوں میں روزے مت رکھو، یہ دن کھانے پینے اور جماع کے ہیں، قرآن میں ایام معدودات سے یہی دن مراد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٤٤، ومصباح الزجاجة: ٦١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٩، ٣٨٧) (حسن صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ /١٢٩ )
1720Sunan Ibne-Majah

ایّام تشر یق میں روزہ کی مما نعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.

بشر بن سحیم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا، اور یہ (ایام تشریق) کھانے اور پینے کے دن ہیں ۔

It was narrated from Bishr bin Suhaim that the Messenger of Allah ﷺ deli vered a sermon on the days of Tashriq (11th, 12th and 13th of Dhul-Hijjah) and said: "No one will enter Paradise but a Muslim soul, and these days are the days of eating and drinking." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠١٩، ومصباح الزجاجة: ٦٢٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ ٧ (٤٩٩٧)، مسند احمد (٣/٤١٥، ٤/٣٣٥)، سنن الدارمی/الصوم ٤٨ (١٨٠٧) (صحیح )
1721Sunan Ibne-Majah

یوم الفطر اور یوم الا ضحی روزہ کھنے کی مما بعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عید الفطر اور عید الاضحی کو روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ forbade fasting on the Day of Fitr and the Day of Adha. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٦ (١٩٩٥)، صحیح مسلم/الصوم ٢٢ (٨٢٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٤٨ (٢٤١٧)، سنن الترمذی/الصوم ٥٨ (٧٧٢)، مسند احمد (٣/ ٧، ٣٤، ٤٥، ٥١، ٥٩، ٦٢، ٧١، ٧٧)، سنن الدارمی/الصوم ٤٣ (١٩٤) (صحیح )
1722Sunan Ibne-Majah

یوم الفطر اور یوم الا ضحی روزہ کھنے کی مما بعت

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِفَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَيَوْمُ الْأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ.

ابوعبید (سعد بن عبید الزہری) کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید شروع کی اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر، دوسرے عید الاضحی، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے روزے سے افطار کا دن ہے، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔

It was narrated that Abu Ubaid said: "I was present for Eid with Umar bin Khattab, He started with the prayer before the sermon, and said: The Messenger of Allah ﷺ forbade fasting on these two days, the Day of Fitr and the Day of Adha. As for the Day of Fitr, it is the day when you break your fast, and on the Day of Adha you eat the meat of your sacrifices:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٦ (١٩٩٠)، صحیح مسلم/الصوم ٢٢ (١١٣٧)، سنن ابی داود/الصوم ٤٨ (٢٤١٦)، سنن الترمذی/الصوم ٥٨ (٧٧١)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٣٠، ١٠٦٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین ٢ (٥)، مسند احمد (١/٢٤، ٣٤، ٤٠) (صحیح )
1723Sunan Ibne-Majah

جمعہ کو روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا بِيَوْمٍ قَبْلَهُ، أَوْ يَوْمٍ بَعْدَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں رکھا جائے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade fasting on a Friday unless it (is joined to) the day before or the day after." (Sahih)

Takhrij · تخریج
حدیث أبي بکر بن أبي شیبہ عن حفص أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٦٣ (١٩٨٥)، صحیح مسلم/الصوم ٢٤ (١١٤٤)، وحدیث أبي بکر بن أبي شیبہ عن أبي معاویہ قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ٢٤ (١١٤٤)، سنن ابی داود/الصوم ٥٠ (٢٤٢٠)، سنن الترمذی/الصوم ٤٢ (٧٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٥٨) (صحیح )
1724Sunan Ibne-Majah

جمعہ کو روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ، أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ.

محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔

It was narrated that Muhammad bin Abbad bin Jafar said: While I was circumambulating the House, I asked Jabir bin Abdullah (RA) : Did the Prophet ﷺ forbid fasting on a Friday? He said: Yes, by the Lord of this House. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٣ (١٩٨٤)، صحیح مسلم/الصوم ٢٤ (١١٤٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٦، ٣١٢)، سنن الدارمی/الصوم ٣٩ (١٧٨٩) (صحیح )
1725Sunan Ibne-Majah

جمعہ کو روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَلَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ١ ؎ (جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم ﷺ کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے) ۔

It was narrated that Abdullah bin Masud said: "I rarely saw the Messenger of Allah ﷺ not fasting on a Friday." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر کی روایتوں میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی صراحت سے ممانعت آئی ہے، اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن اکثر روزہ سے رہتے تھے، اس میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم ﷺ کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے، یا یہ کہا جائے کہ ایام بیض میں جمعہ آپڑے تو آپ جمعہ کو بھی روزہ رکھ لیتے تھے، یا آپ جمعہ کو ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر روزہ رکھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦٨ (٢٤٥٠)، سنن الترمذی/الصوم ٤١ (٧٤٢)، سنن النسائی/الکبری/الصوم ٩٠ (٢٧٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٦) (حسن )
1726Sunan Ibne-Majah

ہفتہ کے دن روزہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَبٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمُصَّهُ. حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو، سوائے فرض روزہ کے، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے (لیکن روزہ نہ رکھے) ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Busr that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not fast on Saturdays apart from days when you are obliged to fast, If anyone of you cannot find anything other than grape stalks or the bark of a tree, let him suck on it." (Hasan) Another chain from Abdullah bin Busr, from his sister who said: "The Messenger of Allah ﷺ said," and he mentioned similarly .

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے آدمی سنیچر کو روزے کے لیے مخصوص کر دے کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، رہی وہ روایتیں جن میں سنیچر کے دن صوم رکھنے کا ذکر ہے تو ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اسے روزے کے لیے خاص کرلے۔ عبداللہ بن بسر کی بہن ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر اسی جیسی روایت بیان کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٩١، ومصباح الزجاجة: ٦٢٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٥١ (٢٤٢١)، سنن الترمذی/الصوم ٤٣ (٧٤٤)، مسند احمد (٦/٣٦٨)، سنن الدارمی/الصوم ٤٠ (١٧٩٠) (صحیح )
1727Sunan Ibne-Majah

ذی الحجہ کے دس دنوں کے روزے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي الْعَشْرَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are no days during which righteous deeds are more beloved to Allah than these days," meaning the (first) ten Days of Dhul-Hijjah. They said: 0. Messenger of Allah ﷺ Not even Jihad in the cause of Allah?" He Said: "Not even Jihad in the cause of Allah, unless a man goes out with himself and his wealth and does not bring anything back." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ١١ (٩٦٩)، سنن ابی داود/الصوم ٦١ (٢٤٣٨)، سنن الترمذی/الصوم ٥٢ (٧٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٤، ٣٣٨، ٣٤٦)، سنن الدارمی/الصوم ٥٢ (١٨١٤) (صحیح )
1728Sunan Ibne-Majah

ذی الحجہ کے دس دنوں کے روزے۔

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ، وَإِنَّ صِيَامَ يَوْمٍ فِيهَا لَيَعْدِلُ صِيَامَ سَنَةٍ، وَلَيْلَةٍ فِيهَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے، اور ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے، اور ان میں ایک رات شب قدر (قدر کی رات) کے برابر ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are no days in this world during which worship is more beloved to Allah,Glorious is He, than the (first) ten days (of Dhul-Hijjah). Fasting one of these days is equivalent to " fasting for a year, and one night of them is equal to Lailatul-Qadr."(Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٥٢ (٧٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٩٨) (ضعیف) (نہ اس بن قہم قوی نہیں ہے )
1729Sunan Ibne-Majah

ذی الحجہ کے دس دنوں کے روزے۔

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ١ ؎۔

It was narrated from Aswad that Aisha (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ fasting the (first) ten days (of Dhul-Hijjah)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر عرفہ کے دن کے روزے کی بڑی فضیلت آئی ہے، ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٠١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الاعتکاف ٤ (١١٧٦)، سنن ابی داود/الصوم ٦٢ (٢٤٣٩)، سنن الترمذی/الصوم ٥١ (٧٥٦)، مسند احمد (٦/ ٤٢، ١٢٤، ١٩٠) (صحیح )
1730Sunan Ibne-Majah

عرفہ میں نویں ذی الحجہ کا روزہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالَّتِي بَعْدَهُ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ عرفہ ١ ؎ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب اللہ تعالیٰ یہ دے گا کہ اگلے پچھلے ایک سال کے گناہ بخش دے گا ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Fasting on the Day of Arafah, I hope from Allah, expiates for the sins of the year before and the year after."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یوم عرفہ سعودی عرب کے کلنڈر کے حساب سے ٩ ذی الحجہ کے دن کا روزہ جس دن حج ہوتا ہے، یہ عرفات میں حجاج کے اجتماع کے دن کا روزہ ہے، اختلاف مطالع کی وجہ سے تاریخوں کے فرق میں عام مسلمان مکہ کی تاریخ کا خیال رکھیں، اور حجاج کے عرفات میں اجتماع والے حج کے دن کا روزہ رکھیں، اس دن کے روزہ سے دو سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں البتہ جو حجاج کرام اس دن عرفات میں ہوتے ہیں ان کے لیے روزہ رکھنا منع ہے کیونکہ یہ ذکر و دعا میں مشغولیت کا دن ہوتا ہے، اس دن ان کے لیے یہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ ٢ ؎: یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے، وہ یہ کہ ابھی جو سال نہیں آیا، اس کے گناہ بندہ پر نہیں لکھے گئے تو ان کی معافی کے کیا معنی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے علم میں وہ گناہ موجود ہیں، پس ان کی معافی ہوسکتی ہے جیسے فرمایا ليغفر لک الله ما تقدم من ذنبک وما تاخر اور ممکن ہے کہ بعد کی معافی سے یہ غرض ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کو گناہ کرنے سے بچا لے گا، یا اس کا ثواب اتنا دے گا جو دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے گا واللہ اعلم ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٣١٧)، (تحفة الأشراف: ١٢١١٧) (صحیح )
1731Sunan Ibne-Majah

عرفہ میں نویں ذی الحجہ کا روزہ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ أَمَامَهُ، وَسَنَةٌ بَعْدَهُ.

قتادہ بن نعمان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا تو اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

It was narrated that Qatadah bin Numan said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever fasts the Day of Arafah, his sins of the previous and following year will be forgiven."(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٧٦، ومصباح الزجاجة: ٦٢١) (صحیح) (سند میں اسحاق بن عبداللہ بن أبی فردہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤/٠٩ ١- ١١٠ )
1732Sunan Ibne-Majah

عرفہ میں نویں ذی الحجہ کا روزہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ، حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ؟، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ ؓ سے ان کے گھر ملنے گیا تو ان سے عرفات میں عرفہ کے روزے کے سلسلے میں پوچھا؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ikramah said: "I entered upon Abu Hurairah (RA) in his house and asked him about fasting the Day of "Arafah at "Arafat. Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ forbade fasting the Day of Arafah at Arafat. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦٣ (٢٤٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٤، ٤٤٦) (ضعیف) (نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٤٢١ )
1733Sunan Ibne-Majah

عاشورہ کا روزہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ عَاشُورَاءَ، وَيَأْمُرُ بِصِيَامِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا روزہ رکھتے، اور اس کے رکھنے کا حکم دیتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to fast Ashur., and he ordered (others) to fast it too." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: محرم کی دسویں تاریخ کو یوم عاشوراء کہتے ہیں، نبی اکرم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: تم لوگ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی، اسی خوشی میں ہم روزہ رکھتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہم اس کے تم سے زیادہ حقدار ہیں چناچہ آپ ﷺ نے اس دن کا روزہ رکھا، اور یہ بھی فرمایا: اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو اس کے ساتھ ٩ محرم کا روزہ بھی رکھوں گا تاکہ یہود کی مخالفت ہوجائے، بلکہ ایک روایت میں آپ ﷺ نے اس کا حکم بھی دیا ہے کہ تم عاشوراء کا روزہ رکھو، اور یہود کی مخالفت کرو، اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٦٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢)، صحیح مسلم/الصوم ١٩ (١١٢٥)، سنن ابی داود/الصوم ٦٤ (٢٤٤٢)، سنن الترمذی/الصوم ٤٩ (٧٥٣)، موطا امام مالک/الصوم ١١ (٣٣)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )
1734Sunan Ibne-Majah

عاشورہ کا روزہ

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنِ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صُيَّامًا، فَقَالَ: مَا هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پایا، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نجات دی، اور فرعون کو پانی میں ڈبو دیا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن شکریہ میں روزہ رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ١ ؎، آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھا، اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Prophet ﷺ came to Al-Madinah, and he found the Jews observing a fast. He said: What is this? They said: This is the day when Allah saved Musa and drowned Pharaoh, so Musa fasted this day in gratitude: The Messenger of Allah ﷺ said: We have more right to Musa than you do: So he fasted (that day) and enjoined (others) to fast it also:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: موسیٰ (علیہ السلام) کی خوشی میں شرکت کے ہم تم سے زیادہ حق دار ہیں، کیونکہ وہ دین حق پر تھے، اور ہم بھی دین حق پر ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٤٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٤)، صحیح مسلم/الصوم ١٩ (١١٣٠)، سنن ابی داود/الصوم ٦٤ (٢٤٤٤)، مسند احمد (١/ ٢٣٦، ٣٤٠)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٠) (صحیح )
1735Sunan Ibne-Majah

عاشورہ کا روزہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: مِنْكُمْ أَحَدٌ طَعِمَ الْيَوْمَ ، قُلْنَا: مِنَّا طَعِمَ، وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَطْعَمْ، قَالَ: فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ مَنْ كَانَ طَعِمَ، وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْ فَأَرْسِلُوا إِلَى أَهْلِ الْعَرُوضِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ، قَالَ: يَعْنِي أَهْلَ الْعَرُوضِ حَوْلَ الْمَدِينَةِ.

محمد بن صیفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا: آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے ؟ ہم نے عرض کیا: بعض نے کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں، اور عروض ١ ؎ والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن روزہ کی حالت میں پورا کریں ٢ ؎۔ راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے۔

It was narrated from Muhammad bin Saifi that the Messenger of Allah) ﷺ said to us on the Day of Ashura: "Has anyone among you eaten today?" We said: "Some of us have eaten and some of us have not." He said: "Complete the rest of your day (i.e., do not eat for the rest of the day), whoever has eaten and whoever has not eaten. And send word to the people of the suburbs to complete the rest of their day." He was referring to the people of the suburbs around Al-Madinah. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عروض کا اطلاق مکہ، مدینہ اور ان دونوں کے اطراف کے دیہات پر ہوتا ہے۔ ٢ ؎: اس سے عاشوراء کے روزے کی بڑی تاکید معلوم ہوتی ہے، اور شاید یہ حدیث اس وقت کی ہو جب عاشوراء کا روزہ فرض تھا کیونکہ رمضان کا روزہ ہجرت کے بہت دنوں کے بعد مدینہ منورہ میں فرض ہوئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٥، ومصباح الزجاجة: ٦٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٨) (صحیح )
1736Sunan Ibne-Majah

عاشورہ کا روزہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ، لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، زَادَ فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ يَفُوتَهُ عَاشُورَاءُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا ۔ ابوعلی کہتے ہیں: اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہوجائے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "If I live until next year, I will fast the ninth day (of Muharram) too." (Sahih) Abu Ali said: "It was reported by Ahmad bin Yunus from Ibn Abu Dhib. He added in it: Fearing that he may have missed Ashura.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢٠ (١١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٥٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٤، ٢٣٦، ٣٤٥) (صحیح )
1737Sunan Ibne-Majah

عاشورہ کا روزہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَهُ فَلْيَدَعْهُ .

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔

It was narrated from ,AbdulIah bin Umar that the Day of Ashura was mentioned in the presence of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: "That was a day when the people of the Ignorance used to fast. So whoever among you wants to fast may do so, and whoever does not want to may leave it." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢٠ (١١٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢)، سنن ابی داود/الصوم ٦٤ (٢٤٤٣)، مسند احمد (٢/٥٧)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )