سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھی: وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ تن تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ١ ؎۔
It was narrated from Sa’d bin Abu Waqqâs that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever says, when he heats the (And I bear witness that none has the right to be worshiped hut Allah alone, with no partner, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger, and I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as my Prophet),’ his sins will be forgiven to him.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صغیرہ گناہ اور کیا عجب ہے کہ اللہ جل جلالہ کبائر بخش دے، کیونکہ وہ أرحم الراحمین ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے مالک، محمد ﷺ کو وسیلہ ١ ؎ اور فضیلت ٢ ؎ عطا فرما، آپ کو اس مقام محمود ٣ ؎ تک پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے تو اس کے لیے قیامت کے دن شفاعت حلال ہوگئی ٤ ؎۔
It was narrated that Jâbir bin dullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever says when hears the call to the prayer: (O Allah, rd of this perfect call and the ayer to be offered, grant ahammad the privilege (of tercession) and also the ence, and resurrect him to the raised position that You have romised),” my intercession for will be permitted on the Day surrection.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اذان سن کر نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ وسلام (درود) پڑھنا، اور پھر یہ دعا پڑھنا جیسا کہ صحیح روایات میں وارد ہے باعث اجر و ثواب ہے، اس کے برخلاف اذان سے پہلے اور بعد میں جو کلمات ایجاد کر لئے گئے ہیں، رسول اکرم ﷺ کی صریح مخالفت ہے، جو شفاعت رسول سے محرومی کا باعث ہوسکتی ہے، أعاذنا الله منها۔ ٢ ؎: وسیلہ کے معنی قرب کے اور اس طریقے کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جاتا ہو، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کو عطا کیا جائے گا۔ ٣ ؎: فضیل ۃ : یہ بھی ایک اعلیٰ مرتبہ ہے، جو نبی اکرم ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہوگا نیز یہ بھی احتمال ہے کہ یہ وسیلہ کی تفسیر ہو۔ ٤ ؎: مقام محمود: یہ وہ مقام ہے، جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گا، اور اس جگہ آپ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے، جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔ الذی وعدتہ: یہ وعدہ آیت کریمہ عسى أن يبعثک ربک مقاما محمودا عسى أن يبعثک ربک مقاما محمودا (سورة الإسراء: 79) میں کیا گیا ہے۔
عبدالرحمٰن بن ابوصعصعہ (جو ابو سعید خدری ؓ کے زیر پرورش تھے) کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوسعید ؓ نے کہا: جب تم صحراء میں ہو تو اذان میں اپنی آواز بلند کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اذان کو جنات، انسان، درخت اور پتھر جو بھی سنیں گے وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دیں گے ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdullâh bin ‘Abdur-Rahman bin Abu Sa’sa’ah that his father, who was under the care of Abu Sa’eed, said: “Abu Sa’eed said to me: ‘If you are in the desert, raise your voice when you say the Adhân, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘No jinn, human, tree or rock will hear it, but it will bear witness for you.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو جتنی دور آواز پہنچے گی گواہ زیادہ ہوں گے، اور صحراء و بیابان کی قید اس لئے ہے کہ آبادی میں گواہوں کی کمی نہیں ہوتی، آدمی ہی بہت ہوتے ہیں اس لئے زیادہ آواز بلند کرنے کی ضرورت نہیں، اگرچہ آواز بلند کرنا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٠٥، ومصباح الزجاجة: 268)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٥ (٦٠٨)، بدء الخلق ١٢ (٣٢٩٦)، التوحید ٥٢ (٧٥٤٨)، سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٥)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٥)، مسند احمد (٣/٣٥، ٤٣) (صحیح) (ولا شجر ولا حجر کا لفظ صرف ابن ماجہ میں ہے، اور ابن خزیمہ میں بھی ایسے ہی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے، اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، اور اذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس ( ٢٥ ) نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ himself say: ‘The Mu’adh-dhin’s sins will be forgiven as far as his voice reaches, and every wet and dry thing will pray for forgiveness for him. For the one who attends the prayer, twenty-five Hasanât (good deeds) will be recorded, and it will be an expiation (for sins committed) between them (the two prayers).’”
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١ (٥١٥)، سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٦، ومصباح الزجاجة: ٢٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٩، ٤٥٨) (حسن صحیح) (اس حدیث کو بوصیری نے زوائد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ ابوداود اور نسائی نے اسے مختصراً ذکر کیا ہے، نیز احمد اور ابن حبان نے بھی اس کی تخریج کی ہے، جب کہ ابو داود میں مکمل سیاق سے ہے، نسائی میں مختصراً ہے اس لئے یہ حدیث زوائد میں نہیں ہے )
معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ١ ؎۔
It was narrated that ‘Esa bin iathafl said: “I heard Mu’âwiyah bin Abu Sufyân say that Messenger of Allah ﷺ said: “The Mu’adhdhins will have the longest necks of all people on the Day of Resurrection.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ ان کے شرف و اعزاز اور بلند رتبہ کی دلیل ہوگی، اور گردن لمبی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کے اعمال زیادہ ہوں گے، یا حقیقت میں گردنیں لمبی ہوں گی، اور وہ جنت کو دیکھتے ہوں گے، یا وہ لوگوں کے سردار ہوں گے، عرب لوگ سردار کو لمبی گردن والا کہتے ہیں، یا وہ پیاسے نہ ہوں گے، اس وجہ سے کہ گردن اٹھی ہوگی، اور لوگ پیاس کے مارے گردن موڑے ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٤٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٥، ٩٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے اچھے لوگ اذان دیں، اور جو لوگ قاری عالم ہوں وہ امامت کریں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Let the best of you give the call to prayer (Adhan), and let those who are most versed in the Qur’an lead you in prayer.’” (Da’if)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٦١ (٥٩٠)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٩) (ضعیف) (اس کی سند میں حسین بن عیسیٰ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٩١ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے طلب ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever calls the Adhin for seven years, seeking reward (from Allah), Allah will decree for him deliverance from the Fire.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠١٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٣٨ (٢٠٦) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں جابر بن یزید الجعفی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٨٥٠ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں لکھ دی گئیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever calls the Adhãn for twelve years, he will be guaranteed Paradise, arid for each day sixty Hasanat (good deeds) will be recorded for him by virtue of his Adhan, and thirty Hasanãt by virtue of his Iqdmah.” (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر حدیث میں سات برس کا ذکر ہے، اور اس میں بارہ برس کا یہ تعارض نہیں ہے، کیونکہ سات برس کی اذان دینے میں جب جہنم سے برأت حاصل ہوگئی، تو بارہ برس کی اذان دینے میں جنت ضرور حاصل ہوگی، انشاء اللہ اور بعضوں نے کہا سات برس خلوص نیت کے ساتھ کافی ہیں، اور بارہ برس ہر طرح کافی ہیں، اگرچہ نیت میں صفائی کامل نہ ہو، واللہ اعلم۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایسی چیز کی تلاش ہوئی جس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے اوقات کی واقفیت ہوجائے، تو بلال ؓ کو حکم ہوا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “They looked for something by means of which they could call out informing of (the time oe the prayer. Then Bilâl was commanded to say the phrases of the Adhan twice and the phrases of the Iqinuth once.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے تو کافی ہے، کیونکہ اقامت حاضرین کو سنانے کے لئے کافی ہوتی ہے، اس میں تکرار کی ضرورت نہیں، اور عبداللہ بن زید ؓ کی حدیث (طحاوی اور ابن ابی شیبہ) یہ ہے کہ فرشتے نے اذان دی، دو دو بار اور اقامت کہی دو دو بار، مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہنا کافی نہیں، اور محدثین کے نزدیک تو دونوں امر جائز ہیں، انہوں نے کسی حدیث کے خلاف نہیں کیا، لیکن حنفیہ پر یہ الزام قائم ہوتا ہے کہ افراد اقامت کی حدیثیں صحیح ہیں، تو افراد کو جائز کیوں نہیں سمجھتے۔
رسول اللہ ﷺ کے مؤذن سعد ؓ سے روایت ہے کہ بلال ؓ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہتے تھے۔
‘Abdur-Rahmân bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d narrated (from his great-grandfather who was the Mu ‘adhdhin of the Messenger of Allah ﷺ that in the Adhân of Bilál, the phrases were two by two, and in his Iqamah they were said once. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٦، ومصباح الزجاجة: ٢٧١) (صحیح) (اسناد میں ضعف ہے کیونکہ اولاد سعد مجاہیل ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، اور اس کا معنی صحیح بخاری میں ہے )
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ١ ؎۔
It was narrated that Abu Râfi’ said: “I saw Bilãl calling the Adhân in front of Allah’s Messenger , (saying the phrases) two by two, and saying each phrase once in the Iqdmah.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث سے طحاوی اور ابن جوزی کی یہ روایت باطل ہوگئی کہ بلال ؓ اقامت کے کلمات دو دو بار کہتے رہے یہاں تک کہ فوت ہوگئے، یعنی ایک ایک بار اقامت کے کلمات انہوں نے کہے، کیونکہ یہ شہادت ہے نفی پر اور یہ جائز ہے کہ بلال ؓ نے کبھی اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے ہوں، اور کبھی دو دو بار اور اس راوی نے ایک ایک بار کہنا نہ سنا ہو، اور اس صورت میں دونوں طرح کی روایتوں میں توفیق و تطبیق ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٤، ومصباح الزجاجة: ٢٧٢) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں معمر بن محمد ضعیف ہیں )
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں ابوہریرہ ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں مؤذن نے اذان دی، ایک شخص مسجد سے اٹھ کر جانے لگا تو ابوہریرہ ؓ اسے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا، اس وقت ابوہریرہ ؓ نے کہا: اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کی نافرمانی کی ١ ؎۔
It was narrated that Abu Sha’tha’ said: “We were sitting in the Masjid with Abu Hurairah (RA) when the Mu’adh-dhjn called the Adhan. A man got up and walked out of the Masjid, and Abu Hurairah (RA) followed him with his gaze until he left the Masjid. Then Abu Hurairah (RA) said: ‘This man has disobeyed Abul-Qasim ﷺ ” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ نماز سے فارغ ہونے تک مسجد میں ٹھہرے رہے انہوں نے آپ ﷺ کی فرمانبرداری کی، نبی اکرم ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ جب مسجد میں اذان ہوجائے، تو پھر بغیر نماز پڑھے نہ نکلے اگر وہ شخص دوسری جگہ کا امام ہو اور کوئی سخت عذر ہو تو نکلنا جائز ہے، نماز پڑھ کر جائے تو بہتر ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ امر جائز ہے کہ ایک شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے، پھر اسی نماز میں دوسرے لوگوں کی امامت کرے، معاذ ؓ ایسا ہی کیا کرتے تھے، اور ان کی پہلی باجماعت نماز فرض ہوتی تھی اور دوسری امامت والی نماز نفل اور مقتدی ان کے پیچھے فریضہ ادا کرتے تھے۔
عثمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہوجائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے ١ ؎۔
It was narrated that Uthman said: "The Messenger of AlIah said Whaeverhearsthe Adhan when he is in the Masjid then goes out and does not go out for any (legitimate) need and does not intend to return, is a hypocrite. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا عمل منافق کے عمل کی طرح ہے کہ وہ نماز پڑھنے کا خیال نہیں رکھتا، اور اس میں سستی کرتا ہے، یہ منافق کی نشانی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٤١، ومصباح الزجاجة: ٢٧٣) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٤ )، اس سند میں عبد الجبار صاحب مناکیر ہیں، اور ابن أبی فروہ منکر الحدیث لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٥١٨ )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
It was narrated that Umar bin Khattab said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever builds a Masjid in which the Name of Allah is mentioned, Allah will build a house for him in Paradise. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٠٤، ومصباح الزجاجة: ٢٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠، ٥٣) (صحیح) (عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کا سماع عمر ؓ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے )
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ١ ؎۔
It was narrated that "Uthman bin Affan said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever builds a Masjid for the sake of Allah, Allah will build something similar for him in Paradise:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے، ویسے ہی اس گھر کو جنت کے دوسرے گھروں پر فضیلت ہوگی، مقصد یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنت میں گھر بنے، اللهم ارزقنا جنة الفردوس آمين .
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever builds a Masjid for the sake of Allah (from his own wealth), Allah will build a house for him in Paradise:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤٢، ومصباح الزجاجة: ٢٧٥) (ضعیف) (سند میں ولید میں مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، وہ تدلیس تسویہ میں بھی مشہور ہیں، اور ابن لہیعہ اختلاط کا شکار ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث کثر ت کی وجہ سے صحیح ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever builds a Masjid for the sake of Allah, like a sparrows nest or even smaller, Allah will build for him a house in Paradise." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں قطا ۃ کا لفظ ہے، وہ ایک چڑیا ہے، جو دور دراز جنگل میں جا کر گھونسلا بناتی ہے، اور اس کا گھونسلا نہایت چھوٹا ہوتا ہے، اور یہ مبالغہ ہے مسجد کے چھوٹے ہونے میں، ورنہ گھونسلے کے برابر تو کوئی مسجد بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ کم سے کم مسجد میں تین آدمیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ چھوٹی بڑی مسجد پر منحصر نہیں خالص نیت سے اگر کوئی نہایت مختصر مسجد بھی بنا دے گا، تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو اجر دے گا، اور جنت میں اس کے لئے مکان بنایا جائے گا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہوگی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The Hour will not begin until the people compete in (building) Masjids:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں لوگ کہیں گے کہ ہماری مسجد فلاں کی مسجد سے زیادہ عمدہ، بلند اور پرشکوہ ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں پر فخر کرنا قیامت کی نشانی ہے، لیکن مسجدوں کو آراستہ اور بلند کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی، دوسری حدیثوں سے اس امر کی کراہت ثابت ہے، لیکن علماء نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں مصلحتاً مساجد کی بلندی پر سکوت کرنا چاہیے کیونکہ یہود اور نصاری نے اپنے گرجاؤں کو بہت بلند اور عمدہ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد مسجدوں کو ویسے ہی بلند اور عالی شان بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے گرجا گھروں کو، اور نصاریٰ نے اپنے کلیساؤں کو بنایا ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ said: "I see you building your Masjid high after I am gone, just as the Jews built their synagogues high and the Christians built their churches high." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٠٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٢ (٤٤٨) (ضعیف) (سند میں جبارہ بن مغلس اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن یہ ابن عباس ؓ سے موقوفاً ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٧٣٣ )