ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء دیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے، اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said: “The Messenger of Allah ﷺ used to like to delay the Isha’, and he disliked sleeping before it, and engaging in conversation after it.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عشاء کی نماز سے پہلے سونے کو اکثر علماء نے مکروہ کہا ہے، بعضوں نے اس کی اجازت دی ہے، امام نووی نے کہا ہے کہ اگر نیند کا غلبہ ہو، اور نماز کی قضا کا اندیشہ نہ ہو تو سونے میں کوئی حرج نہیں، نیز بات چیت سے مراد لایعنی بات چیت ہے جس سے دنیا اور آخرت کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے نہ سوئے، اور نہ اس کے بعد (بلا ضرورت) بات چیت کی ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ did not sleep before the ‘isha’ nor stay up (talking) after it.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: بیکار اور غیر ضروری باتیں عشاء کے بعد کرنی مکروہ ہے، اور کراہت کی علت یہ ہے کہ شاید رات زیادہ گزر جائے اور تہجد کے لئے آنکھ نہ کھلے، یا فجر کی نماز اول وقت اور باجماعت ادا نہ ہو سکے، اور یہ وجہ بھی ہے کہ سوتے میں گویا آدمی مرجاتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ خاتمہ عبادت پر ہو، نہ دنیا کی باتوں پر، اگر دین یا دنیا کی ضروری باتیں ہوں تو ان کا کرنا جائز ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عشاء کے بعد مسلمانوں کے کاموں کے متعلق ابوبکر و عمر ؓ سے باتیں کیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٩٧، ومصباح الزجاجة: ٢٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٦٤) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کے بعد بات چیت پر ہماری مذمت فرمائی یعنی اس پر ہمیں جھڑکا اور ڈانٹا ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “The Messenger of Allah ﷺ rebuked us for staying up (talking) after the ‘Isha.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور حسن کے نسخہ میں زجرنا عنه ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٨٦ ومصباح الزجاجة: ٧٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤١٠) (صحیح) (ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٤٣٥ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آجائیں، اس لیے کہ (کتاب اللہ میں) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے عتمہ کہتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Do not let the Bedouin make you change the name of your prayer. It is the isha’, and they bring their camels in and milk them at nightfall.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عرب کے لوگ سورج ڈوبنے کے بعد جب اندھیرا ہوجاتا تو اپنے جانوروں کا دودھ دوہتے تھے، تاکہ مانگنے والے محتاج دیکھ نہ سکیں اور ان کو دودھ نہ دینا پڑے، پھر وہی لوگ عشاء کی نماز کو عتمہ کہنے لگے، کیونکہ اس کا وقت یہی تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس نام کو مکروہ جانا، کیونکہ محتاجوں کو نہ دینا، اور صدقے کے ڈر سے مال کو چھپانا، بخل اور ایک بری صفت ہے، اور نماز ایک عمدہ عبادت ہے، لہذا اس کا یہ نام بالکل غیر موزوں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی اس نماز کو عشاء کہا ہے نہ کہ عتمہ، پس وہی نام بہتر ہے اس پر بھی علماء نے کہا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ عتمہ کا لفظ نہ استعمال کیا جائے، اور اس کو اصطلاحی نام عشاء سے پکارا جائے، بعض حدیثوں میں خود عتمہ کا لفظ عشاء کی نماز کے لئے آیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اعراب (بدوی) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب نہ آجائیں ، ابن حرملہ نے یہ اضافہ کیا ہے: اس کا نام عشاء ہے، اور یہ اعرابی اسے اس وقت اپنی اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے عتمه کہتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Do not let the Bedouins make you change the name of your prayer.” Ibn Harmalah added: “Rather it is the ‘Isha’, but they say the ‘Atamah because they bring their camels in for milking at that time (when it is dark).”(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٦٥، ومصباح الزجاجة: ٧٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٣، ٤٣٨) (حسن صحیح )
عبداللہ بن زید (عبداللہ بن زید بن عبدربہ) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بگل بجوانے کا ارادہ کیا تھا (تاکہ لوگ نماز کے لیے جمع ہوجائیں، لیکن یہود سے مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا) ، پھر ناقوس تیار کئے جانے کا حکم دیا، وہ تراشا گیا، (لیکن اسے بھی نصاری سے مشابہت کی وجہ سے چھوڑ دیا) ، اسی اثناء میں عبداللہ بن زید ؓ کو خواب دکھایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دو سبز کپڑے پہنے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھ ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو یہ ناقوس بیچے گا؟ اس شخص نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: میں اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتادوں؟ میں نے پوچھا: وہ بہتر چیز کیا ہے؟ اس نے کہا: تم یہ کلمات کہو الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح . الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن زید نکلے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر پورا خواب بیان کیا: عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کو دو سبز کپڑے پہنے دیکھا، جو ناقوس لیے ہوئے تھا، اور آپ ﷺ سے پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا: تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے ، عبداللہ بن زید ؓ سے فرمایا: تم بلال کے ساتھ مسجد جاؤ، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتے جاؤ، اور وہ اذان دیتے جائیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند تر ہے ، عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں: میں بلال ؓ کے ساتھ مسجد گیا، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ انہیں بلند آواز سے پکارتے گئے، عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں: تو عمر بن خطاب ؓ نے جوں ہی یہ آواز سنی فوراً گھر سے نکلے، اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں: مجھے ابوبکر حکمی نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری ؓ نے اس بارے میں چند اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: میں بزرگ و برتر اللہ کی خوب خوب تعریف کرتا ہوں، جس نے اذان سکھائی، جب اللہ کی جانب سے میرے پاس اذان کی خوشخبری دینے والا (فرشتہ) آیا، وہ خوشخبری دینے والا میرے نزدیک کیا ہی باعزت تھا، مسلسل تین رات تک میرے پاس آتا رہا، جب بھی وہ میرے پاس آیا اس نے میری عزت بڑھائی ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin ‘Abdulláh bin Zaid that his father said that the Messenger of Allah ﷺ was thinking of a horn, and he commanded that a bell be made and it was done. Then ‘ Abdullah bin Zaid (RA) had a dream. He said: “I saw a man wearing two green garments, carrying a bell. I said to him, ‘O slave of Allah, will you sell the bell?’ He said; ‘What will you do with it?’ I said, ‘I will call (the people) to prayer.’ He said, ‘Shall I not tell you of something better than that?’ I said, ‘What is it?’ He said, ‘Say: Allâhu Akbar Allahu Akbar, Allhu Akbar Allahu Akbar; Ash-hadu an Ia ilaha illallah, Ash-hadu an Ia ilaha illaIIah; Ash- hadu anna Muhammadan RasuluIIah Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Hayya ‘ala as-salah, Hayya ‘alas-salah; Hayya ‘alal-falah, Hayya ‘alal-falah; Allahu Akbar Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, Come to the prayer; come to the prosperity, Come to the prosperity; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be Worshipped but Allah).”‘Abdullâh bin Zaid went out and came to the Messenger of Allah ﷺ , and told him what he had seen. He said, ‘O Messenger of Allah, I saw a mali wearing two green garments carrying a bell,” and he told him the story. The Messenger of Allah ﷺ said, “Your companion has had a dream. Go out with BiIâl to the Masjid and teach it to him, for he has a louder voice than you.” I (‘Abdullah) went out with Bilal (RA) to the Masjid, and I started teaching him the words and he was calling them out. ‘Umar bin Al-Khattâb heard the voice arid came out saying: “O Messenger of Allah! ﷺ By Allah, I saw the same (dream) as him.” (Hasan) Abu ‘Ubaid said: “ Abu Bakr (RA) Al-Hakami told me that ‘Abdullâh bin Zaid Al-Ansâri said concerning that: I praise Allah, the Possessor of majesty and honor, A great deal of praise for the Adhan. Since the news of it came to me from Allah, So due to it, I was honored by the information. During the three nights. Each of which increased me in honor.’”
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ خواب سچا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ اور عمر ؓ کے دیکھنے سے اس کی سچائی کا اور زیادہ یقین ہوا، اس پر بھی نبی اکرم ﷺ نے صرف خواب پر حکم نہیں دیا، بلکہ اس کے بعد آپ پر وحی کی گئی کیونکہ دین کے احکام خواب سے ثابت نہیں ہوسکتے، مگر انبیاء کے خواب وحی میں داخل ہیں، تو عبداللہ بن زید ؓ نے جس شخص کو خواب میں دیکھا وہ اللہ تعالیٰ کا فرشتہ تھا، اور صرف وحی پر جو اکتفا نہیں ہوئی، اور اذان کئی شخصوں کو خواب میں دکھلائی گئی تو اس میں بھی یہ راز تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی سچائی اور عظمت کا زیادہ ثبوت ہو۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے اس مسئلہ میں مشورہ کیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کیا صورت ہونی چاہیئے، کچھ صحابہ نے بگل کا ذکر کیا (کہ اسے نماز کے وقت بجا دیا جائے) تو آپ ﷺ نے اسے یہود سے مشابہت کے بنیاد پر ناپسند فرمایا، پھر کچھ نے ناقوس کا ذکر کیا لیکن آپ ﷺ نے اسے بھی نصاریٰ سے تشبیہ کی بناء پر ناپسند فرمایا، اسی رات ایک انصاری صحابی عبداللہ بن زید اور عمر بن خطاب ؓ کو خواب میں اذان دکھائی گئی، انصاری صحابی رات ہی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، آپ ﷺ نے بلال ؓ کو اس کا حکم دیا تو انہوں نے اذان دی۔ زہری کہتے ہیں: بلال ؓ نے صبح کی اذان میں الصلاة خير من النوم نماز نیند سے بہتر ہے کا اضافہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے برقرار رکھا۔ عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے، لیکن وہ (آپ کے پاس پہنچنے میں) مجھ سے سبقت لے گئے۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet ﷺ consulted the people as to how he could call them to the prayer. They suggested a horn, but he disliked that because of the Jews (because the Jews used a horn). Then they suggested a bell but he disliked that because of the Christians (because the Christians used a bell). Then that night the call to the prayer was shown in a dream to a man from among the Ansâr whose name was ‘Abdullâh bin Zaid, and to ‘Umar bin Khattáb. The Ansari man came to the Messenger of Allah ﷺ at night, and the Messenger of Allah ﷺ commanded Bilal (RA) to give the call to the prayer. (Da’if) Zuhri said: “Bildal added the phrase “As-salâtu khairum minannawm (the prayer is better than sleep)” to the call for the morning prayer, and the Messenger of Allah ﷺ approved of that.”‘Umar said: “O Messenger of Allah ﷺ , I saw the same as he did, but he beat me to it.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٦، ومصباح الزجاجة: ٢٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٨) (ضعیف) (یہ روایت سنداً ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک روای محمد بن خالد ضعیف ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ بخاری و مسلم میں آئی ہوئی حدیث کے ہم معنی ہے )
عبداللہ بن محیریز جو یتیم تھے اور ابومحذورہ بن معیر کے زیر پرورش تھے، کہتے ہیں کہ جس وقت ابومحذورہ ؓ نے ان کو سامان تجارت دے کر شام کی جانب روانہ کیا، تو انہوں نے ابومحذورہ ؓ سے کہا: چچا جان! میں ملک شام جا رہا ہوں، اور لوگ مجھ سے آپ کی اذان کے سلسلے میں پوچھیں گے، ابومحذورہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ نکلا، ہم راستے ہی میں تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ١ ؎ رسول اللہ ﷺ کے پاس ہم نے مؤذن کی آواز سنی چونکہ ہم اس (اذان یا اسلام) سے متنفر تھے (کیونکہ ہم کفر کی حالت میں تھے) اس لیے ہم چلا چلا کر اس کی نقلیں اتارنے اور اس کا ٹھٹھا کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے سن لیا، آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے ہمیں پکڑ کر آپ کے سامنے حاضر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں وہ کون شخص ہے جس کی آواز ابھی میں نے سنی کافی بلند تھی ، سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اور وہ سچ بولے، آپ ﷺ نے سب کو چھوڑ دیا اور صرف مجھے روک لیا، اور مجھ سے کہا: کھڑے ہو اذان دو ، میں اٹھا لیکن اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ سے اور اس چیز سے جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے زیادہ بری کوئی اور چیز نہ تھی، خیر میں آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا، آپ نے خود مجھے اذان سکھانی شروع کی، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے کہا: بآواز بلند کہو: أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله، جب میں اذان دے چکا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا ہاتھ ابومحذورہ کی پیشانی پر رکھا اور اسے ان کے چہرہ، سینہ، پیٹ اور ناف تک پھیرا، پھر فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے ، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تمہیں حکم دیا ہے بس اس کے ساتھ ہی جتنی بھی نفرت رسول اللہ ﷺ سے تھی وہ جاتی رہی، اور وہ آپ ﷺ کی محبت سے بدل گئی، ابومحذورہ ؓ کہتے ہیں: پھر میں مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے عامل عتاب بن اسید ؓ کے پاس آیا، ان کی گورنری کے زمانہ میں میں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔ عبدالعزیز بن عبدالملک کہتے ہیں کہ جس طرح عبداللہ بن محیریز نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی اسی طرح اس شخص نے بھی بیان کی جو ابومحذورہ ؓ سے ملا تھا۔
Ibn Juraij narrated: “Abdul‘Aziz bin ‘Abdul-Malik bin Abu Mahdhurah narrated from ‘Abdullâh bin Muhairiz who was an orphan under the care of Abu Mahcurah bin Mi’yar that when he was preparing him to travel to sham, he said: ‘O my uncle, I am going out to sham, and I will be asked about how you started the MMn.’ So he informed me that. Abu Mahdhnla}I said: ‘I went out with a group of people, and we were somewhere on the road, when the Mu’adh-dhin of the Messenger of Allah ﷺ gave the call to prayer in the presence of the Messenger of Allah ﷺ . We heard the voice of the Mu’adhdhin, and we were shunning it (the Adhan), so we started yelling, imitating it and mocking it. The Messenger of Allah ﷺ . heard us, so he sent some people who brought us to sit in front of him. He said: ‘Who is the one whose voice I heard so loud?’ The people all pointed to me, and they were telling the truth. He sent them all away, but kept me there and said to me: ‘Stand up and give the call to prayer.’ I stood up and there was nothing more hateful to me than the Messenger of Allah ﷺ and what he was telling me to do. I stood up in front of the Messenger of Allah ﷺ . and the Messenger of Allah ﷺ himself taught me the call. He said: “Say: (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear withess that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah) ﷺ .’” Then he said: “Raise your voice (and say). Ash—I zadu an hi iluIha illalldh, Ashhadu an hi ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Hayya ‘las-salah, Hayya ‘alas-salah; Hayya ‘alal—falah, Hayya ‘alal-falah; ‘Allahu Akbar Alla’hu Akbar; La ilaha iIlaIlah (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhanuriad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, come to the prayer; Come to the prosperity, come to the prosperity; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be worshipped but Allah).” Then he called me when I had finished saying the Adha’n, and gave me a small bag in which there was some silver.’ Then he put his hand on the forelock of Abu Mahdhurah, then passed it over his face, then over his chest and over his heart until the hand of the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H reached his navel. Then the Messenger of Allah ﷺ said: ‘May kllah bless you and send lessings upon you.’ I said: ‘O essenger of Allah, do you )mmand me to give the call to rayer in Makkah? He said: ‘Yes, command you (to do so).’ Then ….4- hatred I had felt towards Messenger of Allah ﷺ aisappeared, and was replaced with love for the Messenger of Allah ﷺ . I came to ‘Attab bin the governor of the Messenger of Allah ﷺ ,aj…. in Makkah, and gave the call to prayer with him by command of the Messenger of Allah ﷺ .” (Sahih) He (‘ Abdul Aziz) said: “Someone ,hn met Abu Mahdhurah told mesame as ‘Abdullah bin aairiz told me.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے نبی اکرم ﷺ کے اخلاق حسنہ کا حال معلوم ہوتا ہے کہ آپ مخالفین کے ساتھ کس طرح نرمی اور شفقت سے برتاؤ کرتے تھے کہ ان کا دل خود پسیج جاتا، اور وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوتے، جو کوئی برائی کرے اس کے ساتھ بھلائی کرنا یہی اس کو شرمندہ کرنا ہے۔
ابومحذورہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اذان کے لیے انیس کلمات اور اقامت کے لیے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں:الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور اقامت کے لیے سترہ کلمات یہ ہیں: الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، نماز قائم ہوگئی، نماز قائم ہوگئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ١ ؎
t was narrated that Abu Mahdhurah said: “The Messenger ﷺ of Allah taught me the Adhan with nineteen phrases and the Iqamah with seventeen. The Adhan is: (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, come to the prayer; come to the prosperity, come to the prosperity; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be worshiped but Allah). And the Iqdmah is seventeen phrases: (Allah is the Most Great, Allah is the Most Great, Allah is th Most Great, Allah is the Most Great; I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the prayer, come to the prayer; Come to prosperity, come to the prosperity; the prayer is about to begin, the prayer is about to begin; Allah is the Most Great, Allah is the Most Great; none has the right to be worshiped but Allah).” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور دوسری صحیح روایتوں میں یوں بھی آیا ہے کہ اقامت کے کلمے ایک ایک بار کہے، قد قامت الصلو ۃ اور اللہ اکبر کے سوا کہ وہ دو بار کہے، تو اقامت اس طرح سے ہوگی: الله أكبر، الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الفلاح، قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله۔
مؤذن رسول اللہ ﷺ سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں، اور فرمایا: اس سے تمہاری آواز خوب بلند ہوگی ۔
‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d, who was the Muadhdhinthl of the Messenger of Allah ﷺ , narrated from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ commanded Bildl to put his fingers in his ears when calling the Adhiin, and he said, “It makes the voice louder.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٥، ومصباح الزجاجة: ٢٦٣) (ضعیف) (ابناء سعد عمار و سعد و عبد الرحمن کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ایک سرخ خیمہ میں قیام پذیر تھے، بلال ؓ باہر نکلے اور اذان دی، تو اپنی اذان میں گھوم گئے (جس وقت انہوں نے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کلمات کہے) ، اور اپنی (شہادت کی) دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں ١ ؎۔
It was narrated from ‘Awn bin Abu Juhaifah that his father said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ in Abtah, when he was in a red tent. Bilâl came out and gave the call to prayer, turning around and putting his fingers in his ears.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: موذن جب حي على الصلاة کہے، تو دائیں طرف منہ پھیرے، اور جب حي الفلاح کہے تو بائیں طرف منہ پھیرے، اگر اذان کے منارے میں منہ پھیرنے کی گنجائش نہ ہو تو صرف گھوم جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٣٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤ (٥٢٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠ (١٩٧)، سنن النسائی/الأذان ١٣ (٦٤٤)، الزینة من المجتبیٰ ٦٩ (٥٣٨٠)، مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤) (صحیح) (اس سند میں حجاج ضعیف ہیں، لیکن متن دوسرے طرق سے صحیح ہے كما في التخريج من طرق سفيان الثوري، و شعبة وغيرهما عن عون به )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے دو کام مؤذن کی گردنوں میں لٹکے ہوتے ہیں: ایک نماز، دوسرے روزہ ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: There are two characteristics in which the Muslims are dependent upon their Mu ‘adh-dhins: their prayer and their fasting.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٠، ومصباح الزجاجة: ٢٦٤) (موضوع) (سند میں بقیہ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور مروان بن سالم وضع حدیث میں متہم راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٠٥ )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کردیتے ١ ؎۔
it was narvated that Jâbir bin samurah said: “BilaI did not delay the Adhan from its proper time, but he sometimes delayed the Iqãmah a little.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم ﷺ حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آجاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال ؓ اقامت شروع کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢١٧٨، ومصباح الزجاجة:)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٤ (٥٣٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٤ (٢٠٢) (حسن) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٢٧ )
عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے آخری وصیت یہ کی تھی کہ میں کوئی ایسا مؤذن نہ رکھوں جو اذان پر اجرت لیتا ہو۔
It was narrated that Uthmân bin Abul-As said: “The last instruction that the Messenger of Allah ﷺ gave to me was that I should not appoint a Mu’adh-d kin who took payment for the Adhan.” (Sahih)
بلال ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان میں تثويب ١ ؎ کہوں، اور آپ نے عشاء کی اذان میں تثويب سے مجھے منع فرمایا ٢ ؎۔
It was narrated that Bilal (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded me (with Tathwib) in the AdMn for Fafr, and he forbade me to do so in the Adlliãn for ‘Ishâ’.” (Da’if)….
Notes · وضاحت
١ ؎: تثويب کہتے ہیں اعلان کے بعد اعلان کرنے یا اطلاع دینے کو، اور مراد اس سے الصلاة خير من النوم ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ الصلاة خير من النوم کو نبی ﷺ نے فجر کی اذان میں جاری کیا، اور شیعہ جو کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے اس کلمہ کو اذان میں بڑھایا یہ ان کا افتراء ہے، عمر ؓ کا یہ منصب نہیں تھا کہ وہ اذان جیسی عبادت میں اپنی رائے سے گھٹاتے بڑھاتے، یہ منصب تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کا ہے، پس بعض روایتوں میں جو یہ آیا ہے کہ مؤذن عمر ؓ کو جگانے کے لئے آیا، اور اس نے کہا: الصلاة خير من النوم عمر ؓ نے کہا: اس کلمے کو اپنی اذان میں مقرر کرو، اس سے یہ نہیں نکلتا کہ عمر ؓ نے اس کلمے کو ایجاد کیا، بلکہ احتمال ہے کہ لوگوں نے یہ کلمہ فجر کی اذان میں کہنا چھوڑ دیا ہوگا، تو عمر ؓ نے اس سنت کے جاری کرنے کے لئے تنبیہ کی، یا مطلب یہ ہوگا کہ یہ کلمہ اذان میں کہا کرو، اذان کے باہر اس کے کہنے کا کیا موقع، بہرحال اتباع میں عمر ؓ سب صحابہ سے زیادہ سخت تھے، اور بدعت کے بڑے دشمن تھے، ان کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ انہوں نے دین میں کوئی بات کتاب و سنت کی دلیل کے بغیر اپنی طرف سے بڑھائی ہو، جب عمر ؓ کو یہ منصب حاصل نہ ہوا حالانکہ دوسری حدیث میں ابوبکر اور عمر کی پیروی کا حکم ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ میری سنت کو لازم کرلو، اور خلفائے راشدین کی سنت کو، تو کسی صحابی، یا امام، یا مجتہد، یا پیر، یا ولی، یا فقیر، یا غوث، یا قطب کو یہ منصب کیوں کر حاصل ہوگا، کہ وہ دین میں بغیر دلیل کے کوئی اضافہ کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣١ (١٩٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤، ١٤٨) (ضعیف) (سند میں ابو اسرائیل ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٣٥ )
بلال ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں، تو بلال ؓ نے دو بار الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم کہا نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا۔
It was narrated that Dual came to the Prophet ﷺ to call him for the Fajr prayer, and was told: “He is sleeping.” He said: “Assalátu khmirum minan-nawm, Assalâtu khairum min an-nawm (The prayer is better than sleep, the prayer is better than sleep). These words were approved of in the Adhan for the Fajr, and that is how it remained. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٣٣، ومصباح الزجاجة: ٢٦٥) (صحیح) (سند میں ابن المسیب اور بلال ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن ان کی مراسیل علماء کے یہاں مقبول ہیں، نیز اس کے شواہد بھی ہیں، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة )
زیاد بن حارث صدائی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، (پھر جب نماز کا وقت ہوا) تو بلال ؓ نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صداء کے بھائی (زیاد بن حارث صدائی) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے ۔
It was narrated that Ziyád bin Hârith As-Sudâ’i said: “I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and he commanded me to call the Adhân. Bilál wanted to call the lqdrnah, but the Messenger of Allah ﷺ said: ‘The brother of Sudá’ called the Adhan, and the one who calls the Adhan is the one who calls the Iqamah.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٠ (٥١٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٢ (١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٠ ٣٣٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مؤذن اذان دے تو تم بھی انہیں کلمات کو دہراؤ ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When the Mu ‘adhdhin calls the Adhian, say as he says.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: البتہ کوئی عذر ہو یا ضرورت ہو تو دوسرا شخص تکبیر کہہ سکتا ہے، بلا ضرورت ایسا کرنا کہ اذان کوئی دے اور اقامت کوئی کہے مکروہ ہے، یہ امام شافعی کا قول ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١٨٤، ومصباح الزجاجة: ٢٦٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٤٠ (٢٠٨ تعلیقاً ) سنن النسائی/الیوم وللیلة (٣٣) (صحیح) (سند میں عباد بن اسحاق ہیں، جو عبد الرحمن بن اسحاق المدنی ہیں، ان کی حدیث کو نسائی نے خطاء کہا ہے، اور مالک وغیرہ کی زہری سے روایت جسے انہوں نے عطاء بن یزید سے اور عطار نے ابو سعید الخدری سے مرفوعاً روایت کی ہے، اس کو خواب بتایا، اور یہ آگے کی حدیث ( ٧٢٠ ) نمبر کی ہے لیکن اصل حدیث صحیح ہے، ابن خزیمہ اور بوصیری نے حدیث کی تصحیح کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ: ٤١٢ )
ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ان کی باری کے دن و رات ان کے پاس ہوتے، اور مؤذن کی آواز سنتے تو انہی کلمات کو دہراتے جو مؤذن کہتا۔
Umm Habibah narrated that when the Messenger of Allah ﷺ was with her on her day and night, and he heard the Mu’adhdhmn…. calling the Adhan, she heard him saying what he said. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٥٣، ومصباح الزجاجة: ٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٢٥) (ضعیف) (سند میں ہشیم مدلس ہیں، اور عبید اللہ بن عتبہ کے بارے میں ذہبی نے کہا: لایکاد یعرف پہنچانے نہیں جاتے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم مؤذن کی اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When you hear the call (to prayer), say what the Mu’acth-dhin says.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان تمام احادیث سے صاف طور پر ثابت ہے کہ اذان کے وقت سننے والوں کو سوائے اذان کے کلمات دہرانے کے کچھ نہ کہنا چاہیے انگوٹھے چومنا یا قر عيني بك يا رسول الله کہنا ان احادیث کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے، نیز اس حکم سے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے کلمات مستثنیٰ ہیں، سننے والا اس کے جواب میں لا حول ولا قوة إلا بالله کہے گا، جیسا کہ نسائی کی (حدیث رقم: ٦٧٨ ) میں وارد ہے۔