Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 195 of 218

3878Sunan Ibne-Majah

رات میں بیدار ہو تو کیا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، ثُمَّ دَعَا رَبِّ اغْفِرْ لِي، غُفِرَ لَهُ، قَالَ الْوَلِيدُ: أَوْ قَالَ: دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلندو برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: رب اغفر لي اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں کہا: اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوگی، اور اگر اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوگی۔

It was narrated that Ubadahh bin As-Samit said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahduhu la sharika lahu, lahul mulku wa lahul hamdu wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah, wal-hamdu lillahi, wa la ilaha illahha, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil- Aliyal- Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the Most High, the Most Supreme), then he supplicates: Rabbighfirli (O Lord, forgive me), he will be forgiven." (Sahih) Walid said: "Or he said: then if he supplicated, it will be answered for him then if he stood up and performed ablution and then performed prayer, his prayer would be accepted.”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٢١ (١١٥٤)، سنن ابی داود/الأدب ١٠٨ (٥٠٦٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٢٦ (٣٤١٤)، (تحفة الأشراف: ٥٠٧٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان ٥٣ (٢٧٢٩) (صحیح )
3879Sunan Ibne-Majah

رات میں بیدار ہو تو کیا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُول مِنَ اللَّيْلِ: سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَالْهَوِيَّ، ثُمَّ يَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ.

ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنتے: سبحان الله رب العالمين پھر فرماتے: سبحان الله وبحمده ١ ؎۔

Rabiah bin Kab Al-Aslami narrated that he used to spend the night outside the door of the Messenger of Allah( ﷺ saw), and he used to hear the Messenger of Allah( ﷺ saw) saying at night: "Subhan Allahi Rabbil-alamin (Glory is to Allah, the Lord of the worlds)," repeating that for a while, then he said: Subhan Allahi wa bihamdihi (Glory and praise is to Allah)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کو جب نیند سے بیدار ہو تو جہاں تک ہو سکے کلمہ پڑھ کر دعا کرے، اور استغفار پڑھے، اور تسبیح یا تہلیل میں مشغول رہے، تو اس کو قیام اللیل کا ثواب مل جائے گا، لیکن افضل یہ ہے کہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے تہجد پڑھے، اگر کسی سے تہجد ادا نہ ہو سکے تو کم سے کم یہ ضروری ہے کہ بچھونے پر ہی رہ کر یہ کلمہ جتنی بار ہو سکے پڑھے اور استغفار کرے، اور دعا کرے، قیام اللیل اس قدر بھی ادا ہوجائے گا، اور جان لینا چاہیے کہ سلف صالحین نے قیام اللیل کبھی ترک نہیں کیا، اور وہ ضروری ہے اگرچہ تھوڑا سا ہی ہو یعنی ایک بار یہ کلمہ پڑھ کر دعا کرلے جیسا اس حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٢ (١٣٢٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٧ (٣٤١٦)، سنن النسائی/التطبیق ٧٩ (١١٣٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٩، ٥٧) (صحیح )
3880Sunan Ibne-Majah

رات میں بیدار ہو تو کیا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے: الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم کو (نیند کی صورت میں) موت طاری کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Hudhaifah said: "Whenever the Messenger of Allah( ﷺ saw) woke up in the morning, he would say: Al- hamdulillahil-ladhi ahyana badama amatana wa ilayhin-nushur (Praise is to Allah Who has given us life after taking it from us, and unto Him is the Resurrection)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٧ (٦٣١٢)، التوحید ١٣ (٧٣٩٤)، سنن ابی داود/الأدب ١٠٧ (٥٠٤٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٢٨ (٣٤١٧)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٤، ٣٨٥، ٣٨٧، ٣٩٧، ٣٩٩، ٤٠٧)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٣ (٢٧٢٨) (صحیح )
3881Sunan Ibne-Majah

رات میں بیدار ہو تو کیا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ عَبْدٍ بَاتَ عَلَى طُهُورٍ، ثُمَّ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَسَأَلَ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا، أَوْ مِنْ أَمْرِ الْآخِرَةِ، إِلَّا أَعْطَاهُ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی بندہ رات کو باوضو سوئے، اور پھر رات میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دیتا ہے ۔

It was narrated from Muadh bin Jabal that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: There is no person who goes to bed in a state of purity, then wakes up at night, and asks Allah for something in this world or in the Hereafter, but it will be given to him.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٠٥ (٥٠٤٢)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٢٣٤، ٢٣٥، ٢٤٤) (صحیح )
3882Sunan Ibne-Majah

سختی اور مصیبت کے وقت کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي هِلَالٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ: اللَّهُ، اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا.

اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ کلمات سکھائے کہ میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں، (وہ کلمات یہ ہیں) الله الله ربي لا أشرک به شيئا اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی ۔

It was narrated that Asma bint Umais said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) taught me some words to say at times of distress: Allah! Allahu Rabbi la ushriku bihi shayan (Allah, Allah is my Lord, I do not associate anything with Him)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦) (صحیح )
3883Sunan Ibne-Majah

سختی اور مصیبت کے وقت کی دعا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فِيهَا كُلِّهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سخت تکلیف کے وقت یہ (دعا) پڑھتے تھے: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الکريم اللہ حلیم (برد بار) و کریم (کرم والے) کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، پاکی بیان کرتا ہوں عرش عظیم کے رب اللہ کی، پاکی بیان کرتا ہوں ساتوں آسمان اور عرش کریم کے رب اللہ کی ۔ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ ہر فقرے کے شروع میں ایک ایک بار لا إله إلا الله ہے۔ ١ ؎

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet(saw) used to say at limes of distress: (None has the right to be worshiped but Allah, the Forbearing, the Most Generous; glory is to Allah the Lord of the Mighty Throne; glory is to Allah, the Lord of the seven heavens and the Lord of the Magnificient Throne). " (Sahih) Waki said with each wording La ilaha illallahu (none has the right to be worshiped but Allah) is to be included.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الکريم غرض یہ دعا سختی اور مصیبت کے وقت مفید اور مجرب ہے جیسے کوئی ڈر لاحق ہو یا آگ لگ جائے یا پانی میں ڈوبنے لگے یا کسی اور مصیبت میں پھنس جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢٧ (٦٤٥، ٦٣٤٦)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء ٢١ (٢٧٣٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٤٠، (٣٤٣٥)، (تحفة الأشراف: ٥٤٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٨، ٢٥٤، ٢٥٨، ٢٥٩، ٢٦٨، ٢٨٠، ٢٨٤، ٣٣٩، ٢٥٦) (صحیح )
3884Sunan Ibne-Majah

کوئی شخص گھر سے نکلے تو یہ دعا مانگے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل علي اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں راہ بھٹک جاؤں یا پھسل جاؤں، یا کسی پر ظلم کروں، یا کوئی مجھ پر ظلم کرے، یا میں جہالت کروں، یا کوئی مجھ سے جہالت کرے ۔

It was narrated from Umm Salamah that whenever he left his house, the Prophet(saw) would say: (O Allah, I seek refuge with You from going astray or stumbling, from wronging others or being Wronged, and from behaving or being treated in an ignorant manner)." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٢ (٥٠٩٤)، سنن الترمذی/الدعوات ٣٥ (٣٤٢٧)، سنن النسائی/الاستعاذة ٢٩ (٥٤٨٨)، ٦٤ (٥٥٤١)، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠٦، ٣١٨، ٣٢٢) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ١٣٦ )
3885Sunan Ibne-Majah

کوئی شخص گھر سے نکلے تو یہ دعا مانگے۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، التُّكْلَانُ عَلَى اللَّهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: بسم الله لا حول ولا قوة إلا بالله التکلان على الله اللہ کے نام سے (میں نکل رہا ہوں) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوت کے بغیر ممکن نہیں، اللہ ہی پر بھروسہ ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that whenever he left his house, the Prophet ﷺ would say: (In the Name of Allah, there is no power and strength except with Allah, and trust is placed in Allah).” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٩) (ضعیف) (عبد اللہ بن حسین بن عطاء ضعیف ہیں )
3886Sunan Ibne-Majah

کوئی شخص گھر سے نکلے تو یہ دعا مانگے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ بَيْتِهِ أَوْ مِنْ بَابِ دَارِهِ كَانَ مَعَهُ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهِ، فَإِذَا قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، قَالَا: هُدِيتَ، وَإِذَا قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَا: وُقِيتَ، وَإِذَا قَالَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، قَالَا: كُفِيتَ، قَالَ: فَيَلْقَاهُ قَرِينَاهُ، فَيَقُولَانِ: مَاذَا تُرِيدَانِ مِنْ رَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ بسم الله کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی لا حول ولا قوة إلا بالله کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی توکلت على الله کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہوگیا، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بےنیاز ہوگیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet(saw) said: "When a man goes out of the door of his house, there are two angels with him who are appointed over him. If he says Bismillah (in the Name of Allah), they say: You have been guided: If he says La hawla wa la quwwata illa billah (there is no power and no strength except with Allah), they say: You are protected: If he says, Tawwakaltu ala Allah (I have my trust in Allah), they say: You have been taken care of. Then his two Qarins (satans) come to him and they (the two angels) say: What do you want with a man who has been guided, protected and taken care of?" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٦٠) (ضعیف) (ہارون بن ہارون ضعیف ہیں )
3887Sunan Ibne-Majah

گھر داخل ہوتے وقت کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا (یعنی بسم اللہ کہتا) ہے، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے (یعنی نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے) اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے، اور جب آدمی گھر میں بغیر اللہ کا ذکر کئے (یعنی بغیر بسم اللہ کہے) داخل ہوتا ہے، تو شیطان (اپنے لشکر سے) کہتا ہے کہ تم نے سونے کی جگہ پا لی، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کھانے اور سونے دونوں کی جگہ پا لی ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that he heard the Prophet(saw) say: "When a man enters his house, and remembers Allah when he enters and when he eats Satan says: You have no place to stay and no supper’ If he enters his house and does not remember Allah upon entering, Satan says: You have found a place to stay’ And if he does not remember Allah when he eats, (Satan) says: You have found a place to stay and supper:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠١٨)، سنن ابی داود/الأطعمة ١٦ (٣٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٦، ٣٨٣) (صحیح )
3888Sunan Ibne-Majah

سفر کرتے وقت کی دعا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ: يَتَعَوَّذُ، إِذَا سَافَرَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ، وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَإِذَا رَجَعَ، قَالَ: مِثْلَهَا.

عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: (اور عبدالرحیم کی روایت میں ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے) :اللهم إني أعوذ بک من وعثاء السفر وکآبة المنقلب والحور بعد الکور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی صعوبتوں اور مشقتوں سے، واپسی کے غم سے، ترقی کے بعد تنزلی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و عیال کے سلسلے میں برا منظر دیکھنے سے ۔ اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفر سے لوٹتے وقت بھی یہی دعا پڑھتے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Sarjis said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) used to say”- and (one of the narrators) ‘Abdur Rahim said: “He used to used seek refuge” – “when he travelled: (O Allah, I seek refuge with You from the hardships of travel and the sorrows of return, from decrease after increase, from the prayer of the one who has been wronged, and seeing some calamity befall my family or wealth).’” (Sahih) (One of the narrators) Abu Muawiyah added: "And when he returned he said likewise."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المناسک ٧٥ (١٣٤٣)، سنن الترمذی/الدعوات ٤٢ (٣٤٣٩)، سنن النسائی/الاستعاذة ٤١ (٥٥٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥٣٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٢، ٨٣)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٢ (٢٧١٤) (صحیح )
3889Sunan Ibne-Majah

بادوباراں کا منظر دیکھتے وقت یہ دعا پڑھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا رَأَى سَحَابًا مُقْبِلًا مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ، تَرَكَ مَا هُوَ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ، حَتَّى يَسْتَقْبِلَهُ، فَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِهِ، فَإِنْ أَمْطَرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ سَيْبًا نَافِعًا، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُمْطِرْ،حَمِدَ اللَّهَعَلَى ذَلِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ اگر نماز میں (بھی) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے، اور یہ دعا ما نگتے: اللهم إنا نعوذ بک من شر ما أرسل به اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے پھر اگر بارش شروع ہوجاتی تو فرماتے: اللهم سيبا نافعا اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما ، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بارش نہ ہوتی تو آپ ﷺ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ١ ؎۔

Aisha (RA) narrated that when the Prophet(saw) saw a cloud approaching from any horizon, he would stop what he was doing, even if he was praying, and turn to face it, then he would say: (O Allah, we seek refuge with You from the evil of that with which it is sent)." Then if it rained he would say: (O Allah, a beneficial rain),” two or three times. And if Allah dispelled it and it did not rain, he would praise Allah for that. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اگلی امتوں پر بادل کی شکل میں اللہ کا عذاب آیا تھا، اس لیے نبی اکرم ﷺ جب بادل دیکھتے تو عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٣ (٥٠٩٩)، سنن النسائی/الاستسقاء ١٥ (١٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ٥ (٣٢٠٦)، تفسیر سورةالأحقاف ٢ (٤٨٢٩)، الأدب ٦٨ (٥٠٩٩)، صحیح مسلم/الاستسقاء ٣ (٨٩٩)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٤٦ (٣٢٥٧)، مسند احمد (٦/١٩٠) (صحیح )
3890Sunan Ibne-Majah

بادوباراں کا منظر دیکھتے وقت یہ دعا پڑھے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے: اللهم اجعله صيبا هنيئا اے اللہ! تو اس کو جاری اور بابرکت بنا ۔

It was narrated from ‘ Aisha (RA) that when the Messenger of Allah( ﷺ saw) saw rain, he would say: (O Allah, make it a wholesome rain cloud)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستسقاء ٢٣ (١٠٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٠، ١١٩، ١٢٩) (صحیح )
3891Sunan Ibne-Majah

بادوباراں کا منظر دیکھتے وقت یہ دعا پڑھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَأَى مَخِيلَةً، تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكِ لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ هُودٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ سورة الأحقاف آية 24.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بادل کو دیکھتے تو (تردد و پریشانی کی وجہ سے) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہوسکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، (نہیں اس میں پانی نہیں تھا) بلکہ وہ چیز (یعنی عذاب) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے (سورۃ الاحقاف: ٢٤ ) ۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "If the Messenger of Allah( ﷺ saw) saw a cloud that looked as if it was bringing rain, the color his face would change and he would go in and out and walk to fro. Then, if it rained, he would feel relieved." ‘ Aisha (RA) mentioned to him what she had seen him do, and he said: “How do you know? Perhaps it would be as the people of Hud said: ‘Then, when they saw it as a dense cloud coming towards their valleys, they said: “This is a cloud bringing us rain” Nay, but it is that(torment) which you were asking to be hastened.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الاستسقاء ٣ (٨٩٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٤٢ (٣٤٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤٠) (صحیح )
3892Sunan Ibne-Majah

مصیبت زدہ کو دیکھے تو یہ دعا پڑھے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَلَيْسَ بِصَاحِبِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِم، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَجِئَهُ صَاحِبُ بَلَاءٍ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاک به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی ، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever unexpectedly comes across a person suffering a calamity, and says: (Praise is to Allah Who has kept me safe from that which has afflicted you and preferred me over many of those whom He has created), will be kept safe from that calamity, no matter what it is." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر قسم کی بلاؤں سے لیکن اگر یہ بلا دینی ہو جیسے کسی کو فسق اور فجور میں دیکھے تو یہ دعا پڑھے تاکہ اس شخص کو نصیحت ہو اور اگر دنیوی بلا ہو، جیسے کوڑھ، جذام وغیرہ تو آہستہ سے پڑھے کہ وہ شخص نہ سنے، اور اس کے دل کو رنج نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٣٨ (٣٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٦٧٨٧، ١٠٥٢٨) (حسن) (خارجہ بن مصعب متروک الحدیث اور ابو یحییٰ عمرو بن دینار ضعیف ہیں، اصل حدیث متابعات و شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٦٠٢ ، ٢٧٣٧ )
3893Sunan Ibne-Majah

مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں کسی اور کو خواب دکھائی دے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "A good dream from a righteous man is one of the forty-six parts of prophecy."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التعبیر ٢ (٦٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦)، وقد أٰخرجہ: صحیح مسلم/الرؤیاح ٧ (٢٢٦٤)، سنن الترمذی/الرؤیا ٢ (٢٢٧٢)، موطا امام مالک/الرؤیا ١ (١)، مسند احمد (٣/١٢٦، ١٤٩) (صحیح )
3894Sunan Ibne-Majah

مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں کسی اور کو خواب دکھائی دے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet(saw) said: “The dream of a believer is one of the forty-six parts of prophecy." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرؤیا (٢٢٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر ٢ (٦٩٨٧)، سنن ابی داود/الأدب ٩٦ (٥٠١٨)، سنن الترمذی/الرؤیا ١ (٢٢٧١)، موطا امام مالک/الرؤیا ١ (٣)، سنن الدارمی/الرؤیا ٢ (٢١٨٣) (صحیح )
3895Sunan Ibne-Majah

مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں کسی اور کو خواب دکھائی دے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْعَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نیک مسلمان کا خواب نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet(saw) said: "The dream of a righteous Muslim man is one of the seventy parts of prophecy: (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٦١) (صحیح) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
3896Sunan Ibne-Majah

مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں کسی اور کو خواب دکھائی دے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ.

ام کرز کعبیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نبوت ختم ہوگئی لیکن مبشرات (اچھے خواب) باقی ہیں ۔

It was narrated that Umm Kurz Al-Kabiyyah said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: Prophecy is gone, but good dreams remain." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨١)، سنن الدارمی/الرؤیا ٣ (٢١٨٤) (صحیح )
3897Sunan Ibne-Majah

مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں کسی اور کو خواب دکھائی دے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کا سترواں حصہ ہے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: A righteous dream is one of the seventy parts of prophecy.’”(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرؤیا (٢٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٧، ٧٩٥٧) (صحیح )