Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 194 of 218

3858Sunan Ibne-Majah

اسم اعظم

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو خُزَيْمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا، اللهم إني أسألک بأن لک الحمد لا إله إلا أنت وحدک لا شريك لک المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإکرام اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے، جلال اور عظمت والا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet(saw) heard a man say: (O Allah! I ask You by virtue of the fact that all praise is due to YOU; none has the right to be worshiped but You alone, and You have no partner or associate, the Bestower, the Originator of the heavens and the earth, the Possessor of majesty and honor.’ He(saw) said: ‘He has asked Allah by His Greatest Name which, if He is asked thereby He gives and if He is called upon thereby He answers’” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوت ١١٠ (٣٥٤٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٥)، سنن النسائی/السہو ٥٨ (١٣٠١)، مسند احمد (٣/١٢٠، ١٥٨، ٢٤٥) (حسن صحیح )
3859Sunan Ibne-Majah

اسم اعظم

حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي، إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ، وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ، وَإِذَا اسْتُفْرِجَتَ بِهِ فَرَّجْتَ، قَالَتْ: وَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَلَّنِي عَلَى الِاسْمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَعَلِّمْنِيهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ، قَالَتْ: فَتَنَحَّيْتُ وَجَلَسْتُ سَاعَةً، ثُمَّ قُمْتُ فَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِيهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ أَنْ أُعَلِّمَكِ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ أَنْ تَسْأَلِينَ بِهِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا، قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللَّهَ، وَأَدْعُوكَ الرَّحْمَنَ، وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ، الرَّحِيمَ، وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، أَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، قَالَتْ: فَاسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ لَفِي الْأَسْمَاءِ الَّتِي دَعَوْتِ بِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: اللهم إني أسألک باسمک الطاهر الطيب المبارک الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے، تو تو قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے ، اور ایک روز آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں ، میں یہ سن کر علیحدہ ہوگئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں، یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی: اللهم إني أدعوک الله وأدعوک الرحمن وأدعوک البر الرحيم وأدعوک بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني اے اللہ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں، یہ کہ تو مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما ، یہ سن کر آپ ﷺ ہنسے اور فرمایا: اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: (O Allah! I ask You by Your pure, good and blessed Name which is most beloved to You, which if You are called thereby You answer, and if You are asked thereby You give. If You are asked for mercy Thereby You bestow mercy, and if You are asked for relief (from distress) thereby You grant relief:" She said: "He said one day: O Aisha (RA) , do you know that Allah has told me the Name which , if He is called thereby, He responds? I said: O Messenger of Allah ﷺ , may my father and mother be ransomed for you! Teach it to me.’ He said: You should not learn it, O Aisha (RA) . So I moved aside and sat for a while then I got up and kissed his head, then I said, ‘O Messenger of Allah, teach it to me. He said: You should not learn it, O Aisha (RA) , and I should not teach it to you, for you should not ask for any worldly things thereby." She said: "So I got up and performed ablution, then I prayed two Rakah, then I said: O Allah, I call upon Allah, and I call upon You, Ar-Rahman (the Most Gracious), and I call upon You, AI-Barr Ar-Rahim (The Most Kind, the Most Merciful), and I call upon You by all Your beautiful Names, those that I know and those that I do not know, (asking) that You forgive me and have mercy on me. The Messenger of Allah ﷺ smiled, then he said: It is among the names by which you called upon (Allah). (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٧٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٤) (ضعیف) (سند میں ابوشیبہ مجہول راوی ہیں )
3860Sunan Ibne-Majah

اللہ عزوجل کے اسماء کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد (حفظ) کرے ١ ؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah has ninety nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان ناموں کی پوری پوری معرفت حاصل ہو، اور ان میں پائے جانے والے معانی و مفاہیم کے جو تقاضے ہیں ان کے مطابق زندگی گزارے، تو انشاء اللہ وہ جنت کا مستحق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشروط ١٨ (٢٧٣٦)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢ (٢٦٧٧)، سنن الترمذی/الدعوات ٨٣ (٣٥٠٦)، مسند احمد (٢/٤٥٨، ٤٩٩، ٥٠٣) (صحیح )
3861Sunan Ibne-Majah

اللہ عزوجل کے اسماء کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهِيَ: اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْمَلِكُ الْحَقُّ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ الْبَارُّ الْمُتْعَالِ الْجَلِيلُ الْجَمِيلُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الْقَادِرُ الْقَاهِرُ الْعَلِيُّ الْحَكِيمُ الْقَرِيبُ الْمُجِيبُ الْغَنِيُّ الْوَهَّابُ الْوَدُودُ الشَّكُورُ الْمَاجِدُ الْوَاجِدُ الْوَالِي الرَّاشِدُ الْعَفُوُّ الْغَفُورُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ التَّوَّابُ الرَّبُّ الْمَجِيدُ الْوَلِيُّ الشَّهِيدُ الْمُبِينُ الْبُرْهَانُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْبَاعِثُ الْوَارِثُ الْقَوِيُّ الشَّدِيدُ الضَّارُّ النَّافِعُ الْبَاقِي الْوَاقِي الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ الْمُقْسِطُ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ الْقَائِمُ الدَّائِمُ الْحَافِظُ الْوَكِيلُ الْفَاطِرُ السَّامِعُ الْمُعْطِي الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْمَانِعُ الْجَامِعُ الْهَادِي الْكَافِي الْأَبَدُ الْعَالِمُ الصَّادِقُ النُّورُ الْمُنِيرُ التَّامُّ الْقَدِيمُ الْوِتْرُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، قَالَ زُهَيْرٌ: فَبَلَغَنَا مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَوَّلَهَا يُفْتَحُ بِقَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: الله اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، الواحد اکیلا، ایکتا ، الصمد بےنیاز ، الأول پہلا ، الآخر پچھلا ، الظاهر ظاہر ، الباطن باطن ، الخالق پیدا کرنے والا ، البارئ بنانے والا ، المصور صورت بنانے والا ، الملک بادشاہ ، الحق سچا ، السلام سلامتی دینے والا ، المؤمن یقین والا ، المهيمن نگہبان ، العزيز غالب ، الجبار تسلط والا ، المتکبر بڑائی والا ، الرحمن بہت رحم کرنے والا ،الرحيم مہربان ، اللطيف بندوں پر شفقت کرنے والا ، الخبير خبر رکھنے والا ، السميع سننے والا ، البصير دیکھنے والا ،العليم جاننے والا ، العظيم بزرگی والا ، البار بھلائی والا ، المتعال برتر ، الجليل بزرگ ، الجميل خوبصورت ،الحي زندہ ، القيوم قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، القادر قدرت والا ، القاهر قہر والا ، العلي اونچا ، الحکيم حکمت والا ، القريب نزدیک ، المجيب قبول کرنے والا ، الغني تونگر بےنیاز ، الوهاب بہت دینے والا ، الودود بہت چاہنے والا ، الشکور قدر کرنے والا ، الماجد بزرگی والا ، الواجد پانے والا ، الوالي مالک مختار، حکومت کرنے والا ، الراشد خیر والا ، العفو بہت معاف کرنے والا ، الغفور بہت بخشنے والا ، الحليم بردبار ، الكريم کرم والا ، التواب توبہ قبول کرنے والا ، الرب پالنے والا ، المجيد بزرگی والا ، الولي مددگار و محافظ ، الشهيد نگراں، حاضر ، المبين ظاہر کرنے والا ،البرهان دلیل ، الرء وف شفقت والا ، الرحيم مہربان ، المبدئ پہلے پہل پیدا کرنے والا ، المعيد دوبارہ پیدا کرنے والا ،الباعث زندہ کر کے اٹھانے والا ، الوارث وارث ، القوي (قوی) زور آور ، الشديد سخت ، الضار نقصان پہنچانے والا ،النافع نفع دینے والا ، الباقي قائم ، الواقي بچانے والا ، الخافض پست کرنے والا ، الرافع اونچا کرنے والا ، القابض روکنے والا ، الباسط چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا ، المعز عزت دینے والا ، المذل ذلت دینے والا ، المقسط منصف ،الرزاق روزی دینے والا ، ذو القوة طاقت والا ، المتين مضبوط ، القائم ہمیشہ رہنے والا ، الدائم ہمیشگی والا ، الحافظ بچانے والا ، الوکيل کارساز ، الفاطر پیدا کرنے والا ، السامع سننے والا ، المعطي دینے والا ، المحيي زندہ کرنے والا ، المميت مارنے والا ، المانع روکنے والا ، الجامع جمع کرنے والا ، الهادي (رہبری ہادی) راہ بنانے والا ، الکافي کفایت کرنے والا ، الأبد ہمیشہ برقرار ، العالم (عالم) جاننے والا ، الصادق سچا ، النور روشن، ظاہر ، المنير روشن کرنے والا ،التام مکمل ، القديم ہمیشہ رہنے والا ، الوتر طاق ، الأحد اکیلا ، الصمد بےنیاز ، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ زہیر کہتے ہیں: ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں ۔

. It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah has ninety nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As- Samad (the Self-Sufficient Master whom all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), AI-Malik (the King), AI-Haqq (the Truth), As- Salam (the One free from all defects), AI-Mumin (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), Al-Aziz (the All-Mighty), Al-Jabbar (the Compeller), Al-Mutakabbir (the Supreme), Ar-Rahman (the Most Gracious), Ar-Rahim (the Most Merciful), AI-Latif (the Most subtle and Courteous), Al-Khabir The Aware), As-Sami (the Hearing), AI-Basir (the Seeing), AI- Alim (the AIl-Knowing), AI-Azim ( The Most Great), AI-Barr (the (the Source of goodness), AI-Mutaal (The Most Exalted), AI-Jalil (the Sublime One), AI-Jamil (the Beautiful), AI-Hayy (the Everliving), AI-Qayyum (the One Who sustains and protects all that exists), AI-Qadir (the Able), AIQahir (the Irresistible), AI-Ali (the Exalted), AI-Hakim (the Most Wise), AI-Qarib (the Ever-Near), AI-Mujib (the Responsive), AIGhani (the Self-Sufficient), AIWahhab (the Bestower), AI-Wadud (the Loving), Ash-Shakur (the Appreciative), AI-Majid (the Most Gentle), AI-Wajid (the Patron), AIWali (the Governor), Al-Rashid (the Guide), AI-Afuw (the Pardoner), AI-Ghafur (the Forgiver), AI-Halim (the Forbearing One), AI-Karim (the Most Generous), At- Tawwab (the Accepter of Repentance), Ar-Rabb (the Lord and Cherisher), AI-Majid (the Most Glorious), AI-Wali (the Helper), Ash-Shahid (the Witness), AI-Mubin (the Manifest), AIBurhan (the Proof), Ar-Rauf (the Compassionate), Ar-Rahim (the Most Merciful), AI-Mubdi (the Originator), AI-Muid (the Restorer), AI-Baith (the Resurrecter), AI-Warith (the Supreme Inheritor), AI-Qawi (the All-Strong), Ash-Shadid (the Severe), Ad-Darr (the One Who harms), An-Nafi (the One Who benefits), AI-Baqi (the Everlasting), AI-Waqi (the Protector), AI-Khafid (the Humble), Ar-Rafi (the Exalter), AI-Qabid (the Retainer), AI-Basit (the Expander), AI-Muizz (the Honorer), AI-Mudhill (the Humiliator), AI-Muqsit (the Equitable), Ar-Razzaq (the Provider), Dhul-Quwwah (the Powerful), AI-Matin (the Most strong), AI-Qaim (the Firm), Ad- Daim (the Eternal), AI-Hafiz (the Guardian), AI-Wakil (the Trustee), AI-Fatir (the Originator of creation), As-Sami (the Hearer), AI-Muti (the Giver), AI-Muhyi (the Giver of life), AI-Mumit (the Giver of death), AI-Mani (the Withholder), AI-Jami (the Gatherer), Al-Hadi (the Guide), Al- Kafi (the Sufficient), AI-Abad (the Eternal), AI-Alim (the Knower), As-Sadiq (the Truthful), An-Nur (the Light), AI-Munir (the Giver of light), At-Tamm (the Perfect), AIQadim( the Earlier), AI-Witr (the One), AI-Ahad (the Lone), As- Samad [(the Self-Sufficient Master Whom all creatures need, (He neither eats nor drinks). He begets not, nor was He begotten. And there is none co-equal or comparable unto Him." (Daif) (One of the narrators) Zuhair said: We heard from more than one of the scholars that the first of these (names) should begin after saying: La ilaha illallahu wahdahula la sharika lahu lahul mulku wa lahul hamdu bi yadihil khair wa Huwa ala kulli shay in Qadir, la ilaha illallahu lahul asma ul husna [None has the right to be worshiped but Allah with no partner or associate. His is the dominion and all praise is His. In His Hand is (all) goodness, and He is Able to do all things, none has the right to be worshipped but Allah and His are the (Most) Beautiful Names(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٥) (ضعیف) (سند میں عبدالملک بن محمد لین الحدیث ہیں، اور اسماء حسنیٰ کے اس سیاق سے حدیث ضعیف ہے )
3862Sunan Ibne-Majah

والد اور مظلوم کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "There are three supplications that will undoubtedly be answered: the supplication of one who has been wronged; the supplication of the traveler; and the supplication of a father for his child." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٤ (١٥٣٦)، سنن الترمذی/البروالصلة ٧ (١٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٨، ٣٤٨، ٤٧٨، ٥١٧، ٥٢٣) (حسن )
3863Sunan Ibne-Majah

والد اور مظلوم کی دعا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَتْنَا حُبَابَةُ ابْنَةُ عَجْلَانَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَفْصٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَّاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: دُعَاءُ الْوَالِدِ يُفْضِي إِلَى الْحِجَابِ.

ام حکیم بنت وداع خزاعیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: والد (اور والدہ) کی دعا حجاب الٰہی (مقام قبولیت) تک پہنچتی ہے ۔

It was narrated that Umm Hakim bint Wadda AI Khuzaiyyah said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: The supplication of a father reaches the Veil. (i.e. the place of repentance)" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣١٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٦) (ضعیف) (سند میں حبابہ، ام حفص، اور صفیہ سب مجہول ہیں )
3864Sunan Ibne-Majah

دعا میں حد سے بڑھنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ، إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ.

ابونعامہ (قیس بن عبایہ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا: اللهم إني أسألک القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها اللہ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما ، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Naamah that Abd ullah bin Mughaffal heard his son say: "O Allah. I ask You for the white palace on the right-hand side of Paradise, when I enter it." He said: "O my son. ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from Hell, for I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: There will be people who will transgress in supplication:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کراہت نکلی ان پر تکلف اور مسجع اور مقفی دعاؤں کی جو متاخرین نے ایجاد کیں ہیں، اور جاہل ان کے الفاظ پر فریفتہ ہوجاتے ہیں، عمدہ دعائیں وہی ہیں جو رسول اکرم ﷺ سے ثابت ہیں، آپ مختصر اور جامع دعائیں پسند فرماتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٥ (٩٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ١٨٧، ٥/٥٥) (صحیح )
3865Sunan Ibne-Majah

دعا میں ہاتھ اٹھانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ، فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا أَوْ قَالَ خَائِبَتَيْنِ.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب حی (بڑا باحیاء، شرمیلا) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے ١ ؎۔

It was narrated from Salman that the Prophet ﷺ (saw) said: “Your Lord is Kind and Most Generous , and is too kind to let His slave, if he raises his hands to Him, bring them back empty,” or he said “frustrated” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صالح مومن کی دعا خالی نہیں جاتی، یا تو دنیا ہی میں قبول کرلی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٨)، سنن الترمذی/الدعوات ١٠٥ (٣٥٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٨) (صحیح )
3866Sunan Ibne-Majah

دعا میں ہاتھ اٹھانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَوْتَ اللَّهَ، فَادْعُ بِبُطُونِ كَفَّيْكَ، وَلَا تَدْعُ بِظُهُورِهِمَا، فَإِذَا فَرَغْتَ، فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی اندرونی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو، ان کی پشت اپنی طرف کر کے دعا نہ کرو، پھر جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے منہ پر پھیرو ۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "When you supplicate to Allah, supplicate with your palms uppermost, not with the backs of your hands uppermost, and when you finish, wipe your face with them." (Daif)

Takhrij · تخریج
(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: نمبر: ١١٨١) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤٣٤ )
3867Sunan Ibne-Majah

صبح و شام کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِذَا أَمْسَى فَمِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ، قَالَ: فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْكَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ.

ابوعیاش زرقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا، وہی ہر چیز پر قادر ہے تو اسے اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور اس کے دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جاتے ہیں، اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ پڑھے تو وہ صبح تک ایسے ہی رہتا ہے تو ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی اور ایسی حدیث بیان کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوعیاش سچ کہتا ہے ۔

It was narrated from Abu ‘Ayyash Az-Zuraqi that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever says in the morning: La ilaha. illallahu wahdahu la sharika Iahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu , wa Huwa ala kulli shayin Qadir (None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things) - he will have (a reward) equal to freeing a slave among the sons of Isma’il, ten bad deeds will be erased from(from record), he will be raised (in status) ten degrees, and he will have protection against Satan until evening comes. When evening comes, (if he says likewise) he will have the same until morning comes." (Sahih) He (one of the narrators) said: "A man saw the Messenger of Allah( ﷺ saw) in a dream and said: O Messenger of Allah, Abu Ayyash narrated such and such from you. He said: Abu Ayyash spoke the truth.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٦، ٤٢٠) (صحیح )
3868Sunan Ibne-Majah

صبح و شام کی دعا۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَصْبَحْتُمْ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِذَا أَمْسَيْتُمْ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب صبح کرو تو یہ کہا کرو، اللهم بك أصبحنا وبک أمسينا وبک نحيى وبک نموت وإذا أمسيتم فقولوا اللهم بك أمسينا وبک أصبحنا وبک نحيى وبک نموت وإليك المصير اے اللہ ہم نے تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی نام پر مریں گے ، اور شام کرو تو یہ کہا کرو، اللهم بك أمسينا وبک أصبحنا وبک نحيى وبک نموت وإليك المصير اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مریں گے، اور تیری ہی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “In the morning say: Allahumma bika asbahna, wa bika amsayna, wa bika nahya, wa bika namut (O Allah, by Your leave we have reached the morning and by Your leave we reach the evening , and by Your leave we live and by Your leave we die). And when evening comes, say: Allahumma bika amsayna wa bika asbahna wa bika nahya wa bika namut wa ilaykal masir. (O Allah, by Your leave we have reached the evening and by Your leave we reach the morning and by Your leave we live and by Your leave we die and unto You is our return).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٦٨)، سنن الترمذی/الدعوات ١٣ (٣٣٩١)، مسند احمد (٢/٣٥٤، ٥٢٢) (صحیح )
3869Sunan Ibne-Majah

صبح و شام کی دعا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ، يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ، وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ، قَالَ: وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنَ الْفَالِجِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ، وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے، وہ سمیع وعلیم (یعنی سننے اور جاننے والا ہے) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ راوی کہتے ہیں: ابان کچھ فالج سے متاثر ہوگئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا، ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو؟ سنو! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ١ ؎۔

Uthman bin Affan said: "I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: "There is no person who says, in the morning and evening of every day: Bismillahil-Iadhi Ia yadurru maa ismihi shayun fil-ardi wa Ia fis-samai wa Huwas-Samiul- Alim (In the name of Allah with Whose Name nothing on earth or in heaven harms, and He is the All-Seeing, All-Knowing), three times, and is then harmed by anything.:" (Hasan) He (one of the narrators) said: "Aban had been stricken with paralysis on one side of his body, and a man started looking at him. Aban said: Why are you looking at me? The Hadith is as I have narrated it to you, but I did not say it that day, so that the decree of Allah might be implemented."’

Notes · وضاحت
١ ؎: اب یہ اعتراض نہ ہونا چاہیے کہ پھر اس دعا کے پڑھنے سے کیا حاصل، کیونکہ بندے کو یہ علم کہاں ہے کہ قضا مبرم (قطعی) ہے یا معلق، اور احتمال ہے کہ قضائے معلق ہو اس دعا کے پڑھنے پر یعنی اگر یہ دعا پڑھ لے گا تو اس صدمے سے محفوظ رہے گا اور جب دعا پڑھ لے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ تقدیر میں اس آفت کا ٹل جانا دعا کی برکت سے تھا، اور اگر نہ پڑھے اور آفت آجائے تو معلوم ہوا کہ ہماری تقدیر میں یہ مصیبت آنی ضرور لکھی تھی، اب ہم دعا کیسے پڑھ سکتے تھے کیونکہ تقدیر سے بچنا محال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٨٨، ٥٠٨٩)، سنن الترمذی/الدعوات ١٣ (٣٣٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦٢، ٧٢) (صحیح )
3870Sunan Ibne-Majah

صبح و شام کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ سَابِقٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ، أَوْ إِنْسَانٍ، أَوْ عَبْدٍ، يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

خادم رسول ابوسلام ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ (یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا) صبح و شام یہ کہتا ہے: رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے ۔

It was narrated from Abu Salam, the servant of the Prophet(saw) that the Prophet(saw) said: "There is no Muslim - or no person or slave (of Allah) - who says, in the morning and evening: Radaytu billahi Rabban wa bil- Islami dinan wa bi Muhammadin nabiyyan (I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as my Prophet),’ but he will have a promise from Allah to make him pleased on the Dayof Resurrection," (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٢)، مسند احمد (٤/٣٣٧، ٥/٣٦٧) (ضعیف) (سند میں سابق بن ناجیہ مجہول العین اور ابو سلام مجہول ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، بعض روایات میں ابوسلام نے خادم النبی ﷺ سے روایت کی ہے، اور یہ مبہم ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٠٢٠ )
3871Sunan Ibne-Majah

صبح و شام کی دعا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ، حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي، قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: الْخَسْفَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح و شام ان دعاؤں کو نہیں چھوڑتے تھے: اللهم إني أسألک العفو والعافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألک العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي واحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بك أن أغتال من تحتي اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میرے عیوب چھپا دے، میرے دل کو مامون کر دے، اور میرے آگے پیچھے، دائیں بائیں، اور اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں نیچے سے ہلاک کئے جانے سے ۔ وکیع کہتے ہیں:أغتال من تحتي کے معنی دھنسا دئیے جانے کے ہیں۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah( ﷺ saw) never abandoned these supplications, every morning and evening: (O Allah, I ask You for forgiveness and wellbeing in this world and in the Hereafter. O Allah, I ask You for forgiveness and well-being in my religious and my worldly affairs. O Allah, conceal my faults, calm my fears, and protect me from before me and behind me, from my right and my left, and from above me, and I seek refuge in You from being taken unware from beneath me)." Waki (one of the narrators, explaining) said: "Meaning AI-Khasf (disgrace)."(Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٤)، سنن النسائی/الاستعاذة ٥٩ (٥٥٣١)، عمل الیوم واللیلة ١٨١ (٥٦٦)، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٣) وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥) (صحیح )
3872Sunan Ibne-Majah

صبح و شام کی دعا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَهَا فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ فَمَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَوْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدک وأنا على عهدک ووعدک ما استطعت أعوذ بک من شر ما صنعت أبوء بنعمتک وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا، میں تیرا ہی بندہ ہوں، اپنی طاقت بھر میں تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں، اپنے کئے ہوئے کے شر سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں، مجھے تیرے احسانات اور اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، میری بخشش فرما، بلاشبہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی شخص دن اور رات میں یہ دعا پڑھے، اور اسی دن یا اسی رات اس شخص کا انتقال ہوجائے، تو انشاء اللہ وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: (O Allah, You are my Lord, there is none worthy of worship except You. You hav created me and I an Your slave, and I am adhering to Your covenant and Your promise as much as I can, I seek refuge with You from the evil of what I do. I acknowledge my sin, so forgive me, for there is none who can forgive sin except You)’ He said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Whoever says this by day and by night, if he dies that day or that night, he will enter Paradise if Allah wills." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٠)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٦) (صحیح )
3873Sunan Ibne-Majah

سونے کے لئے بستر پر آئے تو کیا دعا مانگے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ، وَالْإِنْجِيلِ، وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم رب السموات ورب الأرض ورب کل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بک من شر کل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلک شيء وأنت الآخر فليس بعدک شيء وأنت الظاهر فليس فوقک شيء وأنت الباطن فليس دونک شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کے شر و فساد سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھوں میں ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا، اور تو ہی سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں، میرا قرض ادا کرا دے اور فقر و مسکنت سے مجھے آزاد کرا دے آسودہ حال بنا دے)۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that when going to bed, the Prophet(saw) used to say: (O Allah, Lord of the heavens and Lord of the earth and Lord of all things, Cleaver of the seed and the kernel, Revealer of the Tawrah, the lnjil and the Magnificent Quran, I seek refuge with You from the evil of every creature You seize by the forelock. You are the First and there is nothing before You; You are the Last and there is nothing after You; You are the Most High (Az-Zahir) and there is nothing above You, and You are the Most Near (Al-Batin) and there is nothing nearer than You. Settle my debt for me and spare me from poverty)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٣)، سنن ابی داود/الأدب ١٠٧ (٥٠٥١)، سنن الترمذی/الدعوات ١٩ (٣٤٠٠)، مسند احمد (٢/٣٨١) (صحیح )
3874Sunan Ibne-Majah

سونے کے لئے بستر پر آئے تو کیا دعا مانگے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ، ثُمَّ لِيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: رَبِّ بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے تہبند کا داخلی کنارہ کھینچ کر اس سے اپنا بستر جھاڑے، اس لیے کہ اسے نہیں پتہ کہ (جانے کے بعد) بستر پر کون سی چیز پڑی ہے، پھر داہنی کروٹ لیٹے اور کہے: رب بک وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسکت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادک الصالحين میرے رب! میں نے تیرا نام لے کر اپنا پہلو رکھا ہے، اور تیرے ہی نام پر اس کو اٹھاؤں گا، پھر اگر تو میری جان کو روک لے (یعنی اب میں نہ جاگوں اور مرجاؤں) تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو چھوڑ دے (اور میں جاگوں) تو اس کی حفاظت فرما ان چیزوں کے ذریعہ جن سے تو نے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے)۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “When anyone of you wants to go to bed, let him undo the edge of his Izar (waist wrap) and dust off his bed with it, for he does not know what came to it after him. Then let him lie down on his right side say: (O Lord, by Your leave I lie down and by Your leave I rise, so if You should take my soul then have mercy on it, and if You should return my soul then protect it as You protect Your righteous slaves)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٣ (٦٣٢٠ تعلیقاً )، التوحید ١٣ (٧٣٩٣ تعلیقاً )، (تحفة الأشراف: ١٢٩٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٧ (٢٧١٤)، مسند احمد (٢/٢٨٣، ٤٣٢، ٢٩٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥١ (٢٧٢٦) (صحیح )
3875Sunan Ibne-Majah

سونے کے لئے بستر پر آئے تو کیا دعا مانگے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، نَفَثَ فِي يَدَيْهِ، وَقَرَأَ، وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے، اور معوذتین: قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس پڑھتے، اور انہیں اپنے جسم پر پھیر لیتے۔

It was narrated from Aisha (RA) that whenever the Prophet(saw) went to bed, he would blow into his hands, recite AIMuawwidhatain, then wipe his hands over his body. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٢ (٦٣١٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٢١ (٣٤٠٢)، سنن ابی داود/الأدب ١٠٧ (٥٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١٦، ١٥٤) (صحیح )
3876Sunan Ibne-Majah

سونے کے لئے بستر پر آئے تو کیا دعا مانگے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ: إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ، أَوْ أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ، فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ، مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ، أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو: اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بکتابک الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ (یعنی نفس) تجھ کو سونپ دیا، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی، اور اپنا کام تیرے سپرد کردیا، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا، اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا، پھر اگر تمہارا اس رات انتقال ہوگیا تو دین اسلام پر مرو گے، اور اگر تم نے صبح کی تو تم خیر کثیر کے ساتھ صبح کرو گے ۔

It was narrated from Bara bin Azib (RA) that the Prophet(saw) said to a man: "When you go to lay down, or go to your bed, say: [O Allah, I have submitted my face (i.e., myself) to You, and I am under Your command (i.e., I depend upon You in all my affairs), and I put my trust in You, hoping for Your reward and fearing Your punishment. There is no fleeing from You and no refuge from You except with You. I believe in your Book that You have revealed and in Your Prophet ﷺ whom You have sent): Then if you die that night, you will die in a state of the Fitrah (nature), and if you wake in the morning you will wake with a great deal of good." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٥٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٧٥ (٢٤٧)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٠)، سنن الترمذی/الدعوات ١٦ (٣٣٩٤)، مسند احمد (٤/ ٢٨٩، ٢٩٨، ٣٠٣)، سنن الدارمی/ الاستئذان ٥١ (٢٧٢٥) (صحیح )
3877Sunan Ibne-Majah

سونے کے لئے بستر پر آئے تو کیا دعا مانگے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، وَضَعَ يَدَهُ يَعْنِي: الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر (یہ دعا) پڑھتے: اللهم قني عذابک يوم تبعث (أو تجمع) عبادک اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۔

It was narrated from ‘Abdullah that whenever the Prophet(saw) went to his bed, he Would put his hand- meaning his right hand- beneath his cheek then say: “Allahumma qini ‘adhbaka yawm tab’athu- [or: tajma’ul- ‘ibadaka (O Allah, save me from Your punishment on the Day when You resurrect- or gather- Your slaves).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦١٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٤، ٤٠٠، ٤١٤، ٤٤٣) (صحیح )