Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 193 of 218

3838Sunan Ibne-Majah

ان چیزوں کا بیان جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار و عذاب النار ومن فتنة القبر و عذاب القبر ومن شر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بک من الکسل والهرم والمأثم والمغرم اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ اور اس کے عذاب سے، اور مالداری و فقیری کے فتنے کی برائی سے، اور مسیح الدجال کے فتنے کی برائی سے، اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو ڈال، اور میرے دل کو گناہوں سے پاک و صاف کر دے، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جس طرح تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری کی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی، بڑھاپے، گناہ اور قرض سے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet(saw) would supplicate with these words: "Allahumma inni audhu bika min fitnatin-nari wa adhabinnar , wa min fitnatil-qabri wa adhtibil-qabr, wa min sharri fitnatilghina wa min sharri fitnatil-faqr, wa min sharri fitnatil-masihid-dajjal. Allahumma aghsil khatayaya bimaith-thalji wal-barad, wa naqqi qalbi minal-khataya kama naqqaytath-thawbal-abyad minaddanas. Wa baid bayni wa bayna khatayaya kama baadta baynalmashriqi wal-maghrib, Allahumma inni audhu bika minal-kasali walharami wal-mathami wal-maghrami (O Allah, I seek refuge with You from the tribulation of the Fire and the torment of the Fire and from tribulation of the grave and the torment of the grave, and from the evil of the tribulation of richness and the evil of the tribulation of poverty, and from the evil of the trial of False Christ. O Allah! Wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart from sin as a white garment is cleansed from filth, and put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the east and the west. O Allah! I seek refuge with You from laziness and old age, and from sins and debts)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس بڑھاپے سے پناہ مانگی جس میں آدمی معذور اور بےعقل ہوجاتا ہے، اور مالداری کے فتنے یہ ہیں: بخل، حرص، زکاۃ نہ دینا، سود کھانا، اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجانا، مستحقوں کی خبر گیری نہ کرنا وغیرہ وغیرہ، فقیری کا فتنہ یہ ہے کہ مال کے لالچ میں دین کو کھو بیٹھنا، کفار اور فساق کی صحبت اختیار کرنا۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/الدعوات ١٤ (٥٨٩)، تحفة الأشرف: ١٦٩٨٨، وحدیث علی بن محمد قد أخرجہ: صحیح البخاری/ الدعوات ٣٩ (٦٢٧٥)، صحیح مسلم/الذکر ١٤ (٥٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٦٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٥٣ (٥٨٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٥)، سنن النسائی/الاستعاذة ١٦ (٥٤٦٨)، مسند احمد (٦/٥٧، ٢٠٧) (صحیح )
3839Sunan Ibne-Majah

ان چیزوں کا بیان جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ.

فروہ بن نوفل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے ۔

It was narrated that Farwah bin Nawfal said: "I asked Aisha (RA) about a supplication that the Messenger of Allah( ﷺ saw)used to say. She said that he used to say: Allahumma inni audhu bika min Sharri ma umiltu, wa min sharri ma lam a’mal (O Allah, I seek refuge With You from the evil of that Which I have done and the evil of that which I have not done). (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الدعاء ١٨ (٢٧١٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٥٠)، سنن النسائی/السہو ٦٣ (١٣٠٨)، الاستعاذة ٥٧ (٥٥٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ١٠٠، ١٣٩، ٢١٣، ٣٥٧) (صحیح )
3840Sunan Ibne-Majah

ان چیزوں کا بیان جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الْخَرَّاطُ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جیسے قرآن کی سورت سکھاتے اسی طرح یہ دعا بھی ہمیں سکھاتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) used to teach us this supplication just as he would teach us a Surah from the Quran: Allahumma inni audhu bika min adhabi jahannam, wa audhu bika min adhabil-qabr, wa audhu bika min fitnatili-masihil-dajjal , wa audhu bika min fitnatil-mahya walmammat (O Allah, I seek refuge with You from the torment of Hell, and I seek refuge with You from the torment of the grave, and I seek refuge with You from the tribulation of False Christ, and I seek refuge with You from the trials of life and death).": (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٣٤٦، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٢)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٠ (٣٤٩٤)، سنن النسائی/الجنائز ١١٥ (٢٠٦٥)، موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣٣)، مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١) (حسن صحیح )
3841Sunan Ibne-Majah

ان چیزوں کا بیان جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ، فَالْتَمَسْتُهُ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں آپ کو ڈھونڈھنے لگی (مکان میں اندھیرا تھا) تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے تلووں پر جا پڑا، دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ (حالت سجدہ میں) یہ دعا کر رہے تھے: اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے، میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کرسکتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I noticed that the Messenger of Allah( ﷺ saw) was missing from his bed one night, so I went looking for him, and my hand touched the soles of his feet; he was in the Masjid with his feet upright (prostrating), and he was saying: Allahumma inni audhu biridika min sakhatika wa bimuafatika an uqubatika, wa audhu bika minka, la uhsi thanaan alayka, Anta kama athnayta ala nafsika (O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and in Your forgiveness from Your punishment. I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough; You are as You have praised Yourself).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٦)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٢ (٨٧٩)، سنن النسائی/الطہارة ١٢٠ (١٦٩)، التطبیق ٤٧ (١١٠١)، ٧١ (١١٣١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (13)، مسند احمد (٦/٥٨، ٢٠١) (صحیح )
3842Sunan Ibne-Majah

ان چیزوں کا بیان جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ سے فقیری، مال کی کمی، ذلت، ظلم کرنے اور ظلم کئے جانے سے پناہ مانگو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Seek refuge with Allah from poverty, insufficiency and humiliation, and from wronging (others) and being wronged. (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ١٤ (٥٤٦٥)، (تحفة الأشراف: ٢٢٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٥) (ضعیف) (سند میں محمد بن مصعب صدوق لیکن کثیر الغلط راوی ہیں، اور اسحاق بن عبد اللہ بن أبی فروہ متروک، لیکن فعل رسول ﷺ سے ایسا ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٤٤٥ و صحیح ابی داود: ١٣٨١ )
3843Sunan Ibne-Majah

ان چیزوں کا بیان جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے اس علم کا سوال کرو جو فائدہ پہنچائے، اور اس علم سے پناہ مانگو جو فائدہ نہ پہنچائے ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: “Ask Allah for beneficial knowledge and seek refuge with Allah from knowledge that is of no benefit” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٠٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٥) (حسن )
3844Sunan Ibne-Majah

ان چیزوں کا بیان جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ: الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: الرَّجُلَ يَمُوتُ عَلَى فِتْنَةٍ، لَا يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مِنْهَا.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بزدلی، بخیلی، ارذل عمر (انتہائی بڑھاپا) ، قبر کے عذاب اور دل کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ وکیع نے کہا: دل کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی برے اعتقاد پر مرجائے، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے بارے میں توبہ و استغفار نہ کرے۔

It was narrated from Umar that the Prophet(saw) used to seek refuge with Allah from cowardice, miserliness, old age, the torment of the grave and the tribulation of the heart .(Daif) (One of the narrators) Waki’ said: “Meaning when a man dies in a state of tribulation (Fitnah) and does not ask Allah to forgive him”.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٣٩)، سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٥٤) (ضعیف) (اس حدیث پر حکم ضعیف أبی داود میں ہے، لیکن یہ حدیث صحیح اور ضعیف ابن ماجہ میں آئی ہی نہیں ہے، اور اسی لئے سنن أبی داود کے دارالمعارف کے نسخہ میں ( ١٥٣٩ )، نمبر پر بیاض ہے، محققین مسند أحمد نے اس کو صحیح کہا ہے: ١٤٥ و ٣٨٨ )
3845Sunan Ibne-Majah

جامع دعائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَبُو مَالِكٍ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي، وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ،فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دِينَكَ وَدُنْيَاكَ.

طارق ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا (اس وقت کہ جب) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو: اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا: یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کردیں گے ۔

Abu Malik, Sad bin Tariq, narrated from his father that when a man had come to the Messenger of Allah( ﷺ saw), he heard him say: "O Messenger of Allah, what should I say when I ask of Allah?" He said: "Say: Allahumma-ghfirli warhamni wa afini warzuqni (O Allah, forgive me, have mercy on me, keep me safe and sound and grant me provision)," and he held up his four fingers apart from the thumb and said: "These combine your religious and worldly affairs." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٠ (٢٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٢، ٤/٣٥٣، ٣٥٦، ٣٨٢، ٦/٣٩٤) (صحیح )
3846Sunan Ibne-Majah

جامع دعائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ دعا سکھائی: اللهم إني أسألک من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بک من الشر کله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألک من خير ما سألک عبدک ونبيك وأعوذ بک من شر ما عاذ به عبدک ونبيك اللهم إني أسألک الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بک من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل کل قضاء قضيته لي خيرا اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی کی دعا مانگتا ہوں جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں، اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے، اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے بہتر کر دے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) taught her this supplication: ( O Allah, I ask You for all that is good, in this world and in the Hereafter, what I know and what I do not know. O Allah, I seek refuge with You from all evil in this world and in the Hereafter what I know and what I do not know. O Allah, I ask You for the good that Your slave and Prophet ﷺ has asked You for, and I seek refuge with you from the evil from which your slave and Prophet ﷺ sought refuge. O Allah, I ask You for Paradise and for that which brings one colder to it, in word and deed, and I seek refuge in You from Hell and from that which brings one closer to it, in word and deed. And I ask You to make every decree that You decree concerning me good).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٤، ١٤٧) (صحیح) (سند میں ام کلثوم کے بارے میں بوصیری نے کلام کیا ہے، جب کہ مسلم نے ان سے روایت کی ہے، اور حدیث کی تصحیح ابن حبان، حاکم، ذہبی اور البانی نے کی ہے، نیز شواہد بھی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٥٤٢ )
3847Sunan Ibne-Majah

جامع دعائیں۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟، قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّار، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، قَالَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا: تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: میں تشہد (التحیات) پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم بھی تقریباً ویسے ہی گنگناتے ہیں ۔

It was narrated form Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah(saw) said to a man: "What do you say during your prayer?" He said: "I recite the Tashah-hud then I ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from Hell, but by Allah I do not understand your whispering or the whispering of Muadh." He said: "It is concerning them (Paradise and Hell) that we are whispering."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ کی اور معاذ ؓ کی گنگناہٹ میں نہیں سمجھتا آواز تو سنتا ہوں لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ آپ اور معاذ ؓ کیا دعا مانگتے ہیں۔ ٢ ؎: یعنی مقصود ہماری دعاؤں کا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٣٦٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٧) (صحیح )
3848Sunan Ibne-Majah

عفو (درگزر) اور عافیت (تندرستی) کی دعا مانگنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَقَدْ أَفْلَحْتَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہوگئی تو تم کامیاب ہوگئے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "A man came to the Prophet(saw) and said: O Messenger of Allah, what supplication is best? He said: Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter. Then (the man) came the next day and said: O Messenger of Allah, what supplication the best?’ He said: ‘Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this war and and in the Hereafter. Then (the man) came the third day and said: O Prophet ﷺ of Allah, what supplication is best? He said: Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter, for if you are forgiven and kept safe and sound in this world and the Hereafter, you will have succeeded. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: بیشک عافیت میں عام بلاؤں، بیماریوں اور تکالیف سے حفاظت ہوگی، اور معافی میں گناہوں کی بخشش، اب اور کیا چاہتے ہو، یہ دو لفظ ہزاروں لفظوں کو شامل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٨٥ (٣٥١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٧) (ضعیف) (سند میں سلمہ بن وردان ضعیف راوی ہیں )
3849Sunan Ibne-Majah

عفو (درگزر) اور عافیت (تندرستی) کی دعا مانگنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيل الْبَجَلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ، حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ بَكَى أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا.

1 اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابوبکر ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے، پھر ابوبکر ؓ نے روتے ہوئے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کرلو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ١ ؎۔

It was narrated from Awsat (bin Ismail) AI-Bajali that he heard Abu Bakr, when the Prophet(saw) had passed away, saying: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) stood in this place where I am standing, last year." Then Abu Bakr (RA) wept, then he said: "You must adhere to the truth for with it comes rightousness and they both lead to Paradise. And you must beware of lying, for with comes immorality, and they both lead to Hell. Ask Allah for Al- Muafah, for no one is given anything after certainty that is better than Muafah. Do not envy one another, do not hate one another, do not sever ties with one another, do not turn your backs on one another and be, O slaves of Allah, brothers." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ١٠٦ (٣٥٥٨)، مسند احمد (١/٣، ٥، ٧، ٨) (صحیح )
3850Sunan Ibne-Majah

عفو (درگزر) اور عافیت (تندرستی) کی دعا مانگنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَدْعُو، قَالَ: تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دعا کرو اللهم إنک عفو تحب العفو فاعف عني اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that she said: "O Messenger of Allah, what do you think I should say in my supplication, if I come upon Laylatul-Qadr?" He said: "Say: (O Allah, You are Forgiving and love forgiveness, so forgive me)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٨٥ (٣٥١٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧١، ١٨٢، ١٨٣، ٢٠٨) (صحیح )
3851Sunan Ibne-Majah

عفو (درگزر) اور عافیت (تندرستی) کی دعا مانگنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا الْعَبْدُ أَفْضَلَ مِنْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اس دعا سے زیادہ بہتر نہیں ہوسکتی: (وہ دعا یہ ہے) اللهم إني أسألک المعافاة في الدنيا والآخرة اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت چاہتا ہوں ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: There is no supplication that a person can say that is better than: Allahumma inni asaluka al muafaha fid dunya wal akhirah (O Allah, I ask You for Al-Muafah in this world and in the Hereafter)." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٩) (صحیح )
3852Sunan Ibne-Majah

جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اپنے آپ سے ابتداء کرے (پہلے اپنے لئے مانگے )

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَأَخَا عَادٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ہم پر اور عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) پر رحم فرمائے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "May Allah have mercy on us and on our brother of Ad." (i.e. Prophet ﷺ Hud (as)) (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ہود (علیہ السلام) قوم عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٠) (ضعیف) (سند میں زید بن الحباب ہیں، جو سفیان سے احادیث کی روایت میں غلطیاں کرتے ہیں، نیز ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ٤٨٢٩ )
3853Sunan Ibne-Majah

دعا قبول ہوتی ہے بشرطیکہ جلدی نہ کرے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، قِيلَ: وَكَيْفَ يَعْجَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَلَمْ يَسْتَجِبْ اللَّهُ لِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلدی کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہ کی ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "It is necessary that you do not become hasty." It was said: "What does being hasty mean, a Messenger of Allah? ﷺ " He said: "When one says: I supplicated to Allah but Allah did not answer me:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کہنا مالک کی جناب میں بےادبی ہے، اور مالک کا اختیار ہے جب وہ مناسب سمجھتا ہے اس وقت دعا قبول کرتا ہے، کبھی جلدی، کبھی دیر میں اور کبھی دنیا میں قبول نہیں کرتا، جب بندے کا فائدہ دعا قبول نہ ہونے میں ہوتا ہے تو آخرت کے لئے اس دعا کو اٹھا رکھتا ہے، غرض مالک کی حکمتیں اور اس کے بھید زیادہ وہی جانتا ہے، اور کسی حال میں بندے کو اپنے مالک سے مایوس نہ ہونا چاہیے، کیونکہ سوا اس کے در کے اور کونسا در ہے؟ اور وہ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ رحیم وکریم ہے، پس بہتر یہی ہے کہ بندہ سب کام اللہ کی رضا پر چھوڑ دے اور ظاہر میں شرعی احکام کے مطابق دعا کرتا رہے، لیکن اگر دعا قبول نہ ہو تو بھی دل خوش رہے، اور یہ سمجھے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت ہوگی، اور ہمارا کچھ فائدہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢٢ (٦٣٤٠)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء ٢٥ (٢٧٣٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٤)، سنن الترمذی/الدعوات ١٢ (٣٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ٢٩٢٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨ (٢٩)، مسند احمد (٢/٣٩٦، ٤٨٧) (صحیح )
3854Sunan Ibne-Majah

کوئی شخص یوں نہ کہے کہ اے اللہ اگر آپ چاہیں تو مجھے بخش دیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَلْيَعْزِمْ فِي الْمَسْأَلَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُكْرِهَ لَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "No one among you should say: O Allah, forgive me if You will: Let him be definite in his asking, and no one can compel Allah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٨٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ٣١ (٧٤٧٧)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٣ (٢٦٧٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٣)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٨ (٣٤٩٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨ (٢٨)، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٤٥٧، ٤٨٦) (صحیح )
3855Sunan Ibne-Majah

اسم اعظم

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ.

اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے (سورۃ البقرہ: ١٦٣ ) اور سورة آل عمران کے شروع میں: الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم الم، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی و قیوم (زندہ اور سب کا نگہبان) ہے ۔ (سورۃ آل عمران: ١ -٢) ۔

It was narrated from Asma bint Yazid that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said. : “The Greatest Name of Allah is in these two Verses: And your ‘lah’(God) is One ‘Ilah (God – Allah), La ilaha illa Huwa (none has he right to be worshipped but He), the Most Gracious, the Most Merciful. And at the beginning of Surah Al Imran. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٦)، سنن الترمذی/الدعوات ٦٥ (٣٤٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦١)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ١٤ (٣٤٣٢) (حسن) (سند میں عبید اللہ القداح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابوامامہ کی حدیث ( ٣٨٥٦؍ أ) ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: ا لصحیحہ: ٧٤٦ ، و صحیح ابی داود: ٥؍ ٢٣٤ )
3856Sunan Ibne-Majah

اسم اعظم

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي سُوَرٍ ثَلَاثٍ: الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ، وَطه. حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِيسَى بْنِ مُوسَى، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ غَيْلَانَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورة البقرہ، سورة آل عمران اور سورة طہٰ ١ ؎۔

It was narrated that AI-Qasim said: The Greatest Name of Allah, if He is called by which He will respond, is in three Surah: Al- Baqarah, Al Imran and Ta-Ha, (Hasan) Another chain for something similar from Al-Qasim, from Abu Umamah, from the Prophet(saw) .

Notes · وضاحت
١ ؎: سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بھی یہی ہے: الله لا إله إلا هو الحي القيوم (سورة آل عمران: 2) اور سورة طہ میں ہے: الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: الله لا إله إلا هو الحي القيوم یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف الحي القيوم ہے۔ اس سند سے ابوامامہ سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٢١، ومصباح الزجاجة: ١٣٥١) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٤٦ ) تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٢١، ومصباح الزجاجة: ١٣٥٢) (حسن) (غیلان بن انس مقبول ہیں، لیکن ابو یعلی میں عبداللہ بن العلاء نے ان کی متابعت کی ہے، نیز أسماء بنت یزید کی حدیث شاہد ہے، جو ترمذی اور ابوداود میں ہے )
3857Sunan Ibne-Majah

اسم اعظم

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: اللهم إني أسألک بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بےنیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Prophet(saw) heard a man say: (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him). The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٣، ١٤٩٤)، سنن الترمذی/الدعوات ٦٤ (٣٤٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٩٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (0.635 ٥/٣٤٩، ٣٥٠، ٣٦٠) (صحیح )