Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 192 of 218

3818Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا.

عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ (نامہ اعمال) میں کثرت سے استغفار پائے ۔

Abdullah bin Busr said that the Prophet(saw) said: "Glad tidings to those who find a lot of seeking forgiveness in the record of their deeds." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٩، ١٤٥، ١٨٨، ٢٣٩) (صحیح )
3819Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کرلیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہوگا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Abbas that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever persists in asking for forgiveness, Allah will grant him relief from every worry, and a way out from every hardship, and will grant him provision from (sources) he could never imagine." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے گناہ بخش دوں گا، اس حدیث میں موحد مسلمانوں کے لیے بڑی امید ہے کہ توحید کی برکت سے اللہ چاہے گا تو ان کے گناہوں کو چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں بخش دے گا، لیکن کسی کو اس مغفرت پر تکیہ نہ کرنا چاہیے، اس لئے کہ انجام حال معلوم نہیں، اور اللہ رب العزت کی جیسی رحمت وسیع ہے ویسے ہی اس کا عذاب بھی سخت ہے، پس ہمیشہ گناہوں سے ڈرتا اور بچتا رہے، توبہ اور استغفار کرتا رہے، اور شرک سے بچنے اور دور رہنے کا بڑا خیال رکھے کیونکہ شرک کے ساتھ بخشے جانے کی توقع نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥١٨)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨) (ضعیف) (سند میں حکم بن مصعب مجہول راوی ہیں )
3820Sunan Ibne-Majah

اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے: اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساء وا استغفروا اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اور جب برا کام کرتے ہیں تو اس سے استغفار کرتے ہیں ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet(saw) used to say: "Allahum-maj alni minalladhina idha ahsanu istabsharu, wa idha asau istaghfaru (O Allah, make me one of those who, if they do good deeds, they rejoice, and if they do bad deeds, they sek forgiveness).” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٩، ١٤٥، ١٨٨، ٢٣٩) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں )
3821Sunan Ibne-Majah

نیکی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقِرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً، ثُمَّ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کرسکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے (عبادت و طاعت کے ذریعہ) ایک بالشت قریب ہوگا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہوگا تو میں اس سے ایک باع یعنی دونوں ہاتھ قریب ہوگا، اور جو شخص میرے پاس (معمولی چال سے) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا، اس حال میں کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر بخشش لے کر اس سے ملوں گا ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah, the Blessed and Exalted, said: Whoever does one good deed will have (the reward of) ten like it and more, and whoever does a bad deed will have one like it, or I will forgive him. Whoever draws near to Me a hand span, I draw near to Him a forearms length; whoever draws near to Me a forearms length, I draw near to Him an arms length; whoever comes to Me walking, I come to him in a hurry. Whoever meets Me with an earthful of sins, but does not associate anything in worship With Me, I will meet it (i.e., his sins) with forgiveness equal to that. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٦ (٢٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٧، ١٤٨، ١٥٣، ١٥٥، ١٦٩، ١٨٠، سنن الدارمی/الرقاق ٧٢ (٢٨٣٠) (صحیح )
3822Sunan Ibne-Majah

نیکی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ میرا دل میں ذکر کرتا ہے تو میں بھی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا ذکر لوگوں میں کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کی جانب دوڑ کر آتا ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Allah says: I am as My slave thinks I am, and I am with him when he mentions me. If he makes mention of Me to himself, I make mention of him to Myself; and if he makes mention of Me in an assembly, I make mention of him in an assembly better than it. And if he draws near to Me a hand-span length, I draw near to him a forearms length. And if he comes to Me walking, I go to him in a hurry." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں لفظ نفس کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ثابت کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١ (٢٦٧٥)، سنن الترمذی/الدعوات ١٣٢ (٣٦٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ١٥ (٧٤٠٥)، مسند احمد (٢/٢٥١) (صحیح )
3823Sunan Ibne-Majah

نیکی کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ لَهُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw),said: "Every deed of the son of Adam will be multiplied for him, between ten and seven hundred times for each merit. Allah said: ‘Except fro fasting, for it is for Me and I shall reward it” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٢٥ (١١٥١)، سنن الترمذی/الصوم ٥٥ (٧٦٤)، سنن النسائی/الصیام ٢٣ (٢٢١٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٠، ١٢٥٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢ (١٨٩٤)، ٩ (١٩٠٤)، اللباس ٧٨ (٥٩٢٧)، التوحید ٣٥ (٧٥٠١)، ٥٠ (٧٥٣٧)، صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥١)، موطا امام مالک/الصیام ٢٢ (٥٧)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٥٢، ٢٥٧، ٢٦٦، ٢٧٣، ٢٩٣، ٣٥٢، ٣١٣، ٤٤٣، ٤٤٥، ٤٧٥، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٠١، ٥١٠)، سنن الدارمی/الصوم ٥٠ (١٨١٢) (صحیح )
3824Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے لا حول ولا قوة إلا بالله گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہے پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتلاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک حزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: تم لا حول ولا قوة إلا بالله کہا کرو ۔

It was narrated that Abu Musa said: “The Prophet ﷺ (saw) heard me saying: ‘La hawla wala quwwata illa billah (there is no power and no strength except with Allah).’ He said: ‘O Abdullah bin Qais (RA) ! Shall I not tell you of a word which is one of the treasures of Paradise?” I said: ‘Yes, O Mesenger of Allah,’ He said: ‘Say: La hawla wala quwwata illa billah (There is no power and no strength except with Allah).’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن قیس یہ ابوموسیٰ اشعری ؓ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٠٥)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء، والتوبة، و الاستغفار ١٣ (٢٧٠٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦١ (١٥٢٦، ١٥٢٧، ١٥٢٨)، سنن الترمذی/الدعوات ٣ (٣٣٧٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٤، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٢، ٤٠٧، ٤١٧، ٤١٨) (صحیح )
3825Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کلمہ لا حول ولا قوة إلا بالله ہے ۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah( ﷺ saw) said to me: ‘Shall I not tell you of a treasure which is one of the treasures of Paradise?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘ La hawla wa la quwwata illa billah(There is no power and no strength except with Allah).’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٦٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٠، ١٥٢، ١٥٢، ١٥٧، ١٧٩) (صحیح )
3826Sunan Ibne-Majah

لاحول ولاقوة الا باللہ کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زَيْنَبَ مَوْلَى حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا حَازِمُ، أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ.

حازم بن حرملہ ؓ کہتے ہیں کہ میں (ایک روز) نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حازم! تم لا حول ولا قوة إلا بالله کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔

It was narrated that Hazim bin Harmalah said: "I passed by the Prophet(saw) and he said to me: O Hazim, say often: "La hawla wa la quwwata ilia billah (there is no power and no strength except with Allah): for it is one of the treasures of Paradise:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٠، ١٥٢) (صحیح) (سند میں ابوزینب مجہول راوی ہیں، اور خالد بن سعید مقبول عند المتابعہ، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )
3827Sunan Ibne-Majah

دعا کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ يَدْعُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ غَضِبَ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک (غصہ) ہوتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever does not call upon Allah, He will be angry with him." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے مالک سے مانگے، نہ مانگنے سے غرور و تکبر اور بےنیازی ظاہر ہوتی ہے، آدمی کو چاہیے کہ اپنی ہر ضرورت کو اپنے مالک سے مانگے اور جب کوئی تکلیف ہو تو اپنے مالک سے دعا کرے، ہم تو اس کے در کے بھیک مانگنے والے ہیں، رات دن اس سے مانگا ہی کرتے ہیں، اور ذرا سا صدمہ ہوتا ہے تو ہم سے صبر نہیں ہوسکتا اپنے مالک سے اسی وقت دعا کرنے لگتے ہیں ہم تو ہر وقت اس کے محتاج ہیں، اور اس کے در دولت کے فقیر ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢ (٣٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٣، ٤٧٧) (صحیح) (تراجع الألباني: رقم: ١١٣ )
3828Sunan Ibne-Majah

دعا کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ، ثُمَّ قَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وقال ربکم ادعوني أستجب لكم اور تمہارے رب نے کہا: دعا کرو (مجھے پکارو) میں تمہاری دعا قبول کروں گا (سورة الغافر: 60) ۔

It Was narrated from Numan bin Bashir that the Messenger of Allah ﷺ (saw) said,: “Indeed the supplication is the worship, " Then he recited: "And your Lord said: Invoke Me, I will respond to you," (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣ ١٦ (٢٩٦٩)، الدعوات ١ (٣٣٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٨ (١٤٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧١، ٢٧٦، ٢٧٧) (صحیح )
3829Sunan Ibne-Majah

دعا کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الدُّعَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet(saw) said: "There is nothing more noble to Allah the Glorified, than supplication," (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١ (٣٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٢) (حسن )
3830Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُفِي مَجْلِسِ الْأَعْمَشِ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ فِي زَمَنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكَتِّبِ، عَنْ طَليْقٍ بْنِ قَيْسِ الْحَنَفِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مُطِيعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ: قُلْتُ لِوَكِيعٍ: أَقُولُهُ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے: رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامکر لي ولا تمکر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لک شکارا لک ذکارا لک رهابا لک مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے مخالف کی مدد مت کر، اور میری تائید فرما، اور میرے مخالف کی تائید مت کر، اور میرے لیے تدبیر فرما، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ ہونے دے، اور مجھے ہدایت فرما، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے، اور اس شخص کے مقابلہ میں میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم کرے، اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار اور ذکر کرنے والا، ڈرنے والا، اور اپنا مطیع فرماں بردار، رونے اور گڑگڑانے والا، رجوع کرنے والا بندہ بنا لے، اے اللہ میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرے دل کو صحیح راستے پر لگا، میری زبان کو مضبوط اور درست کر دے، میری دلیل و حجت کو مضبوط فرما، اور میرے دل سے بغض و عناد ختم کر دے ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا: کیا میں یہ دعا قنوت وتر میں پڑھ لیا کروں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھ لیا کرو۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet(saw) used to say in his supplication: (O Lord! Help me and do not help others against me, support me and do not support others against me, plan for me and do not plan against me guide me and make guidance easy for me, and help me against those who wrong me. O Lord! Make me grateful to You, make me remember You much, make me fearful of You, obedient to You, humble before You and turning to You. O Lord! Accept my repentance and wash away my sins, answer my supplication, guide my heart, make my tongue speak the truth, make my proof firm and remove resentment from my heart)." (Sahih) (One of the narrators) Abul- Hasan At-Tanafisi said: "I said to Waki: Shall I say it in the Qunut of Witr? He said: Yes.:"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٠ (١٥١٠، ١٥١١)، سنن الترمذی/الدعوات ١٠٣ (٣٥٥١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧) (صحیح )
3831Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ لَهَا: مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكِ، فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: الَّذِي سَأَلْتِ أَحَبُّ إِلَيْكِ أَوْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ؟، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ: قُولِي: لَا، بَلْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، فَقَالَتْ: فَقَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں ، (یہ سن کر) وہ واپس چلی گئیں، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں ؟ علی ؓ نے فاطمہ ؓ سے کہا: تم کہو کہ نہیں، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو، چناچہ فاطمہ ؓ نے یہی کہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہا کرو اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب کل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أنت الأول فليس قبلک شيء وأنت الآخر فليس بعدک شيء وأنت الظاهر فليس فوقک شيء وأنت الباطن فليس دونک شيء اقض عنا الدين وأغننا من الفقر اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے رب! اور ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، تورات، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہوگی، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو ہی باطن ہے تیرے ورے کوئی چیز نہیں، ہم سے ہمارا قرض ادا کر دے، اور محتاجی دور کر کے ہمیں غنی کر دے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Fatimah came to the Prophet(saw) to ask him for a servant, and he said: I do not have anything to give you. So she went back, but after that he came to her and said: Is what you asked for dearer to you, or something better than that? Ali said to her: Say: something better than that. So she said it. He said: Say: Allahumma Rabbas-samawatis- Sabi wa Rabbal-Arshil-Azim, Rabbana wa Rabba Kulli shayin, munzil at-Tawrati wal-lnjili wal- Quranil-Azim. Antal-Awwalu fa Iaysa qablaka shay, wa Antal- Akhiru fa laysa badaka shay, Antaz-Zahiru fa laysa fawqaka shay, wa Antal-Batinu fa laysa dunaka shay, Iqdi annad-daina wa aghnina minal-faqr (O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the Mighty Throne, our Lord, and the Lord of everything, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Magnificent Qur’an. You are the First and there is nothing before You: You are the Last and there is nothing after You. You are the Most High, and there is nothing above You, and You are the Most Near and there is nothing nearer than You. Settle our debts and make us free of want). (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٧ (٢٧١٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٩٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١٠٧ (٥٠٥١)، سنن الترمذی/الدعوات ١٩ (٣٤٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤) (صحیح )
3832Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْأَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم إني أسألک الهدى والتقى والعفاف والغنى اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں ۔

It was narrated from Abdullah that the Prophet(saw) used to say : “Allahumma inni as’aluka-huda wat-tuqa wal-‘afaf wal-ghina (O Allah, I ask You for guidance, piety, chastity and affluence)” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکروالدعاء ١٨ (٢٧٢١)، سنن الترمذی/الدعوات ٣٧ (٣٤٨٩)، (تحفة الأشراف: ٩٥٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٣٤، ٤٤٣) (صحیح )
3833Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من عذاب النار اے اللہ! مجھے اس علم سے فائدہ پہنچا جو تو نے مجھے سکھایا، اور مجھے وہ علم سکھا جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں زیادتی عطا فرما، اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ہے، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) used to say: Allahummanfa’ni bima ‘allamtani wa ‘allimni ma yan fa’uni, wa zidni ‘ilman. Wal-hamdu lillahi ‘ala kulli hal , wa a’udhu billahi min adhabinnar (O Allah benefit me by that which You have taught me, and teach me that which will benefit me, and increase me in knowledge. Praise is to Allah in all situations, and I seek refuge with Allah from the torment of the Fire).” (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢٩ (٣٥٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٥٦) (صحیح) (آخری فقرہ والحمد للہ ...... کے علاوہ حدیث صحیح ہے، اور یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٢٥١ ، سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
3834Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَصَدَّقْنَاكَ بِمَا جِئْتَ بِهِ، فَقَالَ: إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا، وَأَشَارَ الْأَعْمَشُ بِإِصْبَعَيْهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم ثبت قلبي على دينك اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم پر خوف کرتے ہیں (ہمارے حال سے کہ ہم پھر گمراہ ہوجائیں گے) ، حالانکہ ہم تو آپ پر ایمان لا چکے، اور ان تعلیمات کی تصدیق کرچکے ہیں جو آپ لے کر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک لوگوں کے دل رحمن کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہیں، انہیں وہ الٹتا پلٹتا ہے ، اور اعمش نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) often used to say: ,Allahumma thabbit qalbi ala dinika [O Allah, make my heart steadfast in (adhering to) Your religion: A man said: O Messenger of Allah ﷺ Do you fear for us when we have believed in you and in (the Message) that you have brought? He said: Hearts are between two of the fingers of the Most Merciful, and He controls them:" (Hasan) Al-Amash (one of the narrators) indicated with his fingers.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور اعمش حدیث کے بڑے امام اور بڑے حافظ تھے، مجسمہ اور مشبہہ میں سے نہ تھے، بلکہ سچے اہل سنت میں سے تھے جو جمہیہ اور معتزلہ کی طرح اللہ کی انگلیوں کی تاویل نہیں کرتے تھے، اور انگلی سے انگلی ہی مراد لیتے ہیں، لیکن رب نہ خود کسی مخلوق کے مشابہ ہے، نہ اس کی کوئی چیز جیسے آنکھ اور ساق (پنڈلی) اور انگلی کے اور اگر کوئی ہم سے سوال کرے کہ اللہ کی انگلی کیسی ہے تو ہم کہیں گے اس کی ذات کیسی ہے اگر اس کا جواب وہ دے تو ہم بھی اس کے سوال کا جواب دیں گے، دوسری روایت میں ابن عباس ؓ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی چھنگلیا طور پہاڑ پر رکھ دی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی انگلیاں ہیں، اور مجازی معنی مراد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٤٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القد ر ٧ (٢١٤٠) (صحیح) (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
3835Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ.

ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: تم یہ دعا پڑھا کرو اللهم إني ظلمت نفسي ظلما کثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندک وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا صرف تو ہی ہے، تو اپنی عنایت سے میرے گناہ بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو غفور و رحیم (بخشنے والا مہربان) ہے ۔

It was narrated from Abu Bakr Siddiq (RA) that he said to the Messenger of Allah( ﷺ saw) "Teach me a supplication which I can say during my prayer." He said: "Say:(O Allah, I have wronged myself greatly so grant me forgiveness from You and have mercy on me for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٩ (٨٣٤)، الدعوات ١٧ (٦٣٢٦)، التوحید ٩ (٧٣٨٧، ٧٣٨٨)، صحیح مسلم/الدعاء ١٣ (٢٧٠٥)، سنن الترمذی/الدعوات ٩٧ (٣٥٣١)، سنن النسائی/السہو ٥٩ (١٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ٦٦٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٣) (صحیح )
3836Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَصًا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ لَنَا، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا، وَارْضَ عَنَّا، وَتَقَبَّلْ مِنَّا، وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ، وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ، قَالَ فَكَأَنَّمَا أَحْبَبْنَا أَنْ يَزِيدَنَا، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ قَدْ جَمَعْتُ لَكُمُ الْأَمْرَ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصا (چھڑی) پر ٹیک لگائے ہمارے پاس باہر تشریف لائے، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے فارس کے لوگ اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرماتے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح لنا شأننا کله اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہوجا، ہماری عبادت قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، اور جہنم سے بچا، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے ، ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں: تو گویا ہماری خواہش ہوئی کہ آپ اور کچھ دعا فرمائیں: تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے لیے جامع دعا نہیں کردی ۔

It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) came out to us, leaning on a stick, and when we saw him we stood up. He said: Do not do what the Persians do for their leaders: We said: O Messenger of Allah, why dont you pray to Allah for us? He said: Allahummaghfirlana, warhamna, warda anna , wa taqabbal minna, wa adkhilnal-jannah wa najjina minan-nar, wa aslih lana sha’nana kullah [O Allah, forgive us and have mercy on us, be pleased with us and accept (our good deeds) from us admit us to Paradise and save us from Hell,and rectify all our affairs: It was as if we wanted him to say more, but he said: Have I not summed up everything for you?”(Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٦٥ (٥٢٣٠)، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٣، ٢٥٦) (ضعیف) (ابو مرزوق لین الحدیث ہیں، اور سند میں کافی اضطراب ہے، لیکن فعل فارس سے ممانعت صحیح مسلم میں جابر ؓ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٤٦ )
3837Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا بیان۔

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع اے اللہ! میں چار باتوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں: اس علم سے جو فائدہ نہ دے، اس دل سے جو اللہ کے سامنے نرم نہ ہو، اس نفس سے جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو ۔

Abu Hurairah (RA) told that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: ‘Allahumma! Inni a’udhu bika minal-arba: min ‘ilman la yanfa’u wa min qalbin la yakhsha’u wa min nafsin la tashba’u , wa min du’a’in la yusma [O Allah, I seek refuge with You from four things: From knowledge that is of no benefit, from a heart that does not fear (You), from a soul that is never satisfied, and from a supplication that is not heard.": (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٨)، سنن النسائی/الاستعاذة ١٧ (٥٤٦٩)، ٥٥ (٥٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٦٥، ٤٥١) (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ٢٥٠) (صحیح )