ام سعد ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آئے، میں انہیں کے پاس تھی، آپ نے سوال کیا: کیا کچھ کھانے کو ہے ؟ عائشہ ؓ نے جواب دیا: ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے، اے اللہ! سر کے میں برکت عطا فرما، اس لیے کہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن یہی تھا، اور ایسا گھر کبھی فقر کا شکار نہیں ہوا جس میں سرکہ موجود ہو ۔
Umm Sad said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon Aisha (RA) . when I was with her, and said: Is there any food? She said: We have bread, dates and vinegar. The Messenger of Allah ﷺ said: What a blessed condiment vinegar is. O Allah, bless vinegar, for it was the condiment of the Prophets before me, and no house will ever be poor in which there is vinegar." (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٢١، ومصباح الزجاجة: ١١٤٣) (موضوع) (عنبسہ بن عبدالرحمن اور محمد بن زاذان کی وجہ سے یہ موضوع ہے، لیکن پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گذرا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٢٢٠ )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو اپنے سر اور بدن میں لگاؤ اس لیے کہ یہ مبارک درخت سے نکلتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Umar that the Messenger of Allah ﷺ said ": season (your food) with olive oil and anoint yourselves with it, for it comes from a blessed tree." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کو شجرہ مبارکہ فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤٣ (١٨٥١)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٩٢)، وقد أخرخہ: مسند احمد (٣/٤٩٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو سر اور بدن میں لگاؤ، اس لیے کہ یہ بابرکت ہے ۔
Abdullah bin Saeed narrated that his grandfather said: "I heard Abu Hurairah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: Eat (olive) oil and anoint yourselves with it, for it is blessed.:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٣٣٨، ومصباح الزجاجة: ١١٤٤) (ضعیف جدا) (عبد اللہ بن سعید متروک ہیں، اور حدیث کا معنی ثابت ہے، کماتقدم )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب دودھ آتا تو فرماتے: ایک برکت ہے یا دو برکتیں ۔
I heard Aisha (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ would say, when milk was brought to him: A blessing, or Two blessings;"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨١، ومصباح الزجاجة: ١١٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٥) (ضعیف) (جعفر بن برد اور ام سالم الراسبیہ دونوں ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ کھانا کھلائے اسے چاہیئے کہ وہ یوں کہے: اللهم بارک لنا فيه وارزقنا خيرا منه اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں اس سے بہتر روزی مزید عطا فرما اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پلائے تو چاہیئے کہ وہ یوں کہے اللهم بارک لنا فيه وزدنا منه اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور مزید عطا کر کیونکہ سوائے دودھ کے کوئی چیز مجھے نہیں معلوم جو کھانے اور پینے دونوں کے لیے کافی ہو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever is given food by Allah, let him say: Allahumma barik: lana fihi wa urzuonii khairan minhu (O Allah, bless it for us and provide us with something better than it). And h ever is given milk to drink by …..ak lana fthi wa zidna minhbless it for us an give us more of it). For I do not know of any food or drink that suffices, apart from milk."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٥٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ٢١ (٣٧٣٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٥ (٣٤٥١) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حلوا (شیرینی) اور شہد پسند فرماتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to like sweets and honey." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فطری طور پر میٹھا انسان کو پسند ہے، اور شہد میٹھا بھی ہے اور اس کے ساتھ مفید بھی، قرآن مجید میں ہے: فيه شفاء للناس (سورة النحل: 69) شہد میں لوگوں کے لئے شفاء ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں میری ماں میرے موٹا ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کرسکیں، لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی، یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی، تو میں اچھی طرح موٹی ہوگئی ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said. "My mother was trying to fatten me up when she wanted to send me to the Messenger of Allah ﷺ (when she got married), but nothing worked until I ate cucumbers with dates; then I grew plump like the best kind of plump." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ککڑی کھجور کے ساتھ بدن کو موٹا کرتی ہے، اور مزیدار بھی ہے۔
سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تر کھجور تربوز کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے۔
It Was narrated that Sahl bin Sad said: "The Messenger of Allah ﷺ used to eat dates with melon."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٧٩٢، ومصباح الزجاجة: ١١٤٦) (صحیح) (سند میں یعقوب بن ولید ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٥٧ - ٩٨ مختصر الشمائل المحدیہ: ١٧٠ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر والے بھوکے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “A house in which there are no dates, its people will go hungry.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد اہل مدینہ اور وہ لوگ ہیں جن کی خوراک کھجور ہو، اس سے مقصود کھجور کی اہمیت بتانا ہے، کیونکہ کھجور ہی عرب کی غالب غذا ہے ہر شخص کے گھر میں رہتی ہے۔
سلمیٰ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو ۔
It was narrated from ‘Ubaidullah bin Abu Rafey, from his grandmother Salma, that the Prophet ﷺ said: “A house in which there are no dates is like a house in which there is no food.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٥، ومصباح الزجاجة: ١١٤٧) (حسن) (عبیداللہ متکلم فیہ اور ہشام بن سعد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٧٧٦ )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے: اللهم بارک لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة یعنی اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، ہمیں برکت عطا فرما، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that when the first fruits (of the season) were brought, the Messenger of Allah ﷺ would say: "O Allah, bless us in our city and in our fruits, in our Mudd and in our Sa, blessing upon blessing." Then he would give it to the smallest of the children present. (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کچی کھجور اور خشک کھجور کو ملا کر کھاؤ، اور پرانی کو نئی کے ساتھ ملا کر کھاؤ، اس لیے کہ شیطان کو غصہ آتا ہے اور کہتا ہے: آدم کا بیٹا زندہ ہے یہاں تک کہ اس نے پرانی اور نئی دونوں چیزیں کھا لیں ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Eat unripe dates with ripe ones and eat old dates with new ones, for Satan gets angry and says: The son of Adam will survive so long as he eats old dates with new ones.": (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٣٣٤، ومصباح الزجاجة: ١١٤٨) (موضوع) (یحییٰ بن محمد بن قیس کی احادیث ٹھیک ہیں، صرف چار احادیث صحیح نہیں ہیں، ایک یہ حدیث بھی ان موضوع احادیث میں سے ہے، اس حدیث کو ابن جوزی نے موضوعات میں شامل کیا ہے، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٣١ )
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade eating dates at once unless he lids companions permission to do so.” (Sahih)
ابوبکر ؓ کے غلام سعد ؓ (جو نبی اکرم ﷺ کے خادم تھے، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، یعنی کھجوروں کو۔
It was narrated from Sad the freed slave of Abu Bakr (RA) - and Sad used to serve the Messenger of Allah ﷺ and he liked this Hadith - that. the Prophet ﷺ P.U.B.H forbade eating two dates at once.(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٤٥٢، ومصباح الزجاجة: ١١٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٩) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ when he was brought some old dates· he started to inspect them." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں سے اچھی اچھی کھجوریں نکال کر کھاتے تھے، ابوداود کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ اس میں سے کیڑے سسریاں نکالتے تھے، دوسری روایت میں کھجور چھانٹنے سے منع فرمایا، اور یہ محمول ہے اس حالت پر جب نئی کھجور ہو تو اس وقت چھانٹنے کی ضرورت نہیں۔
بسر سلمی کے دو بیٹے ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ ﷺ مکھن پسند فرماتے تھے۔
It was narrated that the two sons of Busr, who were of the tribe of Sulaim, said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon us. We placed a velvet cloth of ours beneath him and sprinkled water on it. He sat on it, and Allah sent down Revelation to him in our house. We offered him butter and dates, and he liked butter." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٩، ومصباح الزجاجة: ١١٥٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ٤٥ (٣٨٣٧) (صحیح )
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ١ ؎۔
‘ Abdul Aziz bin Abu Hâzim said: My father told me: I asked Sahl bin Sa’d: “Did you ever see dough made from well 5……. flour?” He said: “I never saw dough made from well-sifted flour until the Messenger of Allah ﷺ passed away.” I said: “Did they have sieves at the time of the Messenger of Allah ﷺ ?“ He said: “i never saw a sieve until the Messenger of Allah ﷺ , passed away.” I said: “How did you eat barley that was not sifted?” He said: “We used to blow on it, and whatever flew away, flew away, and whatever was left we made dough with it.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور گوندھ کر روٹی پکا لیتے، غرض رسول اکرم ﷺ کے وقت میں آٹا چھاننے کی اور میدہ کھانے کی رسم نہ تھی، یہ بعد کے زمانے کی ایجاد ہے، اور اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے، آٹا جب چھانا جائے، اور اس کا بھوسی بالکل نکل جائے، تو وہ ثقیل اور دیر ہضم ہوجاتا ہے، اور پیٹ میں سدہ اور قبض پیدا کرتا ہے، آخر یہ چھاننے والے لوگ اتنا غور نہیں کرتے کہ رب العالمین نے جو حکیم الحکماء ہے گیہوں میں بھوسی بیکار نہیں پیدا فرمائی، پس بہتر یہی ہے کہ بےچھنا ہوا آٹا کھائے، اور اگر چھانے بھی تو تھوڑی سی موٹی بھوسی نکال ڈالے لیکن میدہ کھانا بالکل خطرناک اور باعث امراض شدیدہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٧٣١، ومصباح الزجاجة: ١١٥١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٢٢ (٥٤١٠)، سنن الترمذی/الزہد ٣٨ (٢٣٦٤)، مسند احمد (٥/٣٣٢، ٦/٧١) (صحیح )
ام ایمن ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا، اور نبی اکرم ﷺ کے لیے اس کی روٹی بنائی، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے (چھان کر نکالی گئی بھوسی) اس میں ڈال دو، پھر اسے گوندھو ۔
It was narrated from Umm Ayman that she sifted some flour and made a loaf of bread for the Prophet ﷺ , He said: "What is this?" She said: "It is food that we make in our land, and I wanted to take a loaf of it for you. He said: Fold it onto itself and knead it." (Hasan)