Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 166 of 218

3297Sunan Ibne-Majah

جس کے ہاتھ میں چکناہٹ ہو اور وہ اسی حالت میں رات گزار دے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ، فَلَمْ يَغْسِلْ يَدَهُ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "If anyone of you goes to bed with a smell emanating from his hand, and he does not wash his hand, and something happens to him, he should not blame anyone but himself."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ٥٤ (٣٨٥٢)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٨ (١٨٦٠)، مسند احمد (٢/ ٢٦٣، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٧ (٢١٠٧) (صحیح )
3298Sunan Ibne-Majah

کسی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے تو؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ، فَعَرَضَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ: لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا.

اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ ﷺ نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو ١ ؎۔

It was narrated that Asma bint Yazid said: "Some food was brought to the Prophet ﷺ and it was offered to us. We said: We do not have any appetite for it: He said: Do not combine hunger and lies."

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کوئی کھانے کو کہے تو بھوک رکھ کر یوں کہتے ہیں: مجھے خواہش نہیں ہے، آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، اگر بھوک ہے تو کھانا کھا لینا چاہیے ورنہ غلط بیانی میں بھوکا رہے، اور عذاب میں مبتلا ہو۔
Takhrij · تخریج
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: آداب الزفاف: ٩٢، المشکاة: ٣٢٥٦ )
3299Sunan Ibne-Majah

کسی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے تو؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي! هَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک ؓ (جو قبیلہ بنی عبدالاشہل کے ایک شخص ہیں) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ،، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، تو ہائے افسوس کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھالیا۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) - a man from the tribe of Banu Abdul-Ashhal said: "I came to the Prophet ﷺ when he was eating breakfast and he said: Come and eat.’ I said: I am fasting. Alas! Would that I had eaten of the food of the Messenger of Allah."

Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم: (١٦٦٧) (حسن صحیح )
3300Sunan Ibne-Majah

مسجد میں کھانا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ، يَقُولُ: كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَسْجِدِ، الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ.

عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Harith bin Jaz Az- Zubaidi said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to eat bread and meat in the Masjid.”

Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد کے اندر کھانے میں کچھ حرج نہیں خصوصاً مسافروں کے لئے اور جن لوگوں کے گھر نہیں ہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ مسجد کو آلودہ، اور گندہ، اور غلیظ نہ کریں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٨، ومصباح الزجاجة: ١١٣٣) (صحیح )
3301Sunan Ibne-Majah

کھڑے کھڑے کھانا

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ we used to eat while walking, and drink while standing up."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے رہ کر یا چلتے چلتے کھانا پینا درست ہے بعضوں نے اس کو مکروہ کہا ہے، اور زمزم کے پانی کو خاص کیا ہے کہ اس کا کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے، باقی سب پانیوں کو بیٹھ کر پینا بہتر ہے، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے، البانی صاحب سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ( ٢٨٩ ؍ ١) میں فرماتے ہیں کہ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تنزیہی ہے، (یعنی کھڑے ہو کر نہ پینا زیادہ بہتر ہے) اور کھڑے ہو کر پینے والے سے جو آپ نے قے کرنے کے لیے کہا تو یہ مستحب ہے، لیکن ابن حزم نے ان کی مخالفت کی اور کھڑے ہو کر پینے کو حرام کہا، شاید کہ یہی مذہب صحت سے زیادہ قریب ہے، کھڑے ہو کر پینے والی احادیث کے بارے میں اس بات کا امکان ہے کہ ان کو عذر پر محمول کیا جائے، جیسے جگہ کا تنگ ہونا یا مشک کا لٹکا ہوا ہونا بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے، واللہ اعلم۔ (ملاحظہ ہو: الأختیارات الفقہیۃ للأمام الألبانی ٤٧٧ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ١١ (١٨٨٠)، (تحفة الأشراف: ٧٨٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠٨، ١٢، ٢٤، ٢٩)، سنن الدارمی/ الأشربة ٢٣ (٢١٧١) (صحیح )
3302Sunan Ibne-Majah

کدو کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْقَرْعَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کدو پسند فرماتے تھے۔

It was narrated that Anas said: "The Prophet ﷺ liked gourd."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٣٠ (٢٠٩٢)، الأطعمة ٤ (٥٣٧٩)، ٢٥ (٥٤٢٠)، صحیح مسلم/الأشربة ٢١ (٢٠٤١)، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٢ (١٨٥٠)، موطا امام مالک/النکاح ٢١ (٥١)، سنن الدارمی/الأطعمة ١٩ (٢٠٩٥) (صحیح )
3303Sunan Ibne-Majah

کدو کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ: فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ، قَالَ: وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ، وَقَرْعٍ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ، فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ، رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ام سلیم ؓ نے میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ ﷺ اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، (غلام نے) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ ﷺ کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھاچکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے (تازہ کھجور کا) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ ﷺ کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کردیا۔

It was narrated that Anas said: ‘Umm Sulaim sent with me a basket of fresh dates for the Messenger of Allah, but I did not find him, as he had just gone out to a freed slave of his who had invited him and made food for him. I came to him and he was eating, and he called me to eat with him. He (the freed slave) had served him Tharid with meat and gourd, and he liked the gourd, so I started to collect the (pieces of) gourd and put them near him. When we had eaten he went back to his house and I put the basket (of dates) before him, and he started to eat them and share them, until he finished the last of them."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٥٩، ومصباح الزجاجة: ١١٣٤) (صحیح )
3304Sunan Ibne-Majah

کدو کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ، وَعِنْدَهُ هَذَا الدُّبَّاءُ، فَقُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْقَرْعُ، هُوَ الدُّبَّاءُ نُكْثِرُ بِهِ طَعَامَنَا.

جابر (جابر بن طارق) ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ کے گھر گیا، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ قرع یعنی کدو ہے، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Hakim bin Jabir that his father said: "I entered upon the Prophet ﷺ in his house, and he had some of this gourd. I said: What is this? He said: This is Qar; it is Dubba. We augment our food with."

Notes · وضاحت
١ ؎: سالن بڑھاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢١١، ومصباح الزجاجة: ١١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٣، ١٧٧، ٢٠٦) (صحیح )
3305Sunan Ibne-Majah

گوشت (کھانے) کا بیان

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنِيمَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي مَشْجَعَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيِّدُ طَعَامِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَأَهْلِ الْجَنَّةِ، اللَّحْمُ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل دنیا اور اہل جنت کے کھانوں کا سردار گوشت ہے ۔

It was narrated from Abu Darda that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best food of the people of this world and the people of Paradise is meat."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٥، ومصباح الزجاجة: ١١٣٦) (ضعیف جدا) (سلیمان جزری منکر الحدیث ہیں، اس حدیث کو ابن الجوزی نے الموضوعات میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٧٢٤ )
3306Sunan Ibne-Majah

گوشت (کھانے) کا بیان

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي مَشْجَعَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: مَا دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لَحْمٍ قَطُّ، إِلَّا أَجَابَ، وَلَا أُهْدِيَ لَهُ لَحْمٌ قَطُّ، إِلَّا قِبَلَهُ.

ابوالدرد ١ ء ؓ کہتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو گوشت کی دعوت دی گئی ہو اور اسے آپ نے قبول نہ کیا ہو، اور نہ ہی ایسا ہوا کہ آپ کو گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا ہو اور آپ نے اسے قبول نہ فرمایا ہو۔

It was narrated that Abu Darda said: "The Messenger of Allah ﷺ was never invited to eat meat but he would respond, and he was never offered meat as a gift but he would accept it."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٦) (ضعیف جدا) (سلیمان بن عطاء منکر الحدیث راوی ہے )
3307Sunan Ibne-Majah

جانور کے کونسے حصے کا گوشت عمدہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "One day some meat was brought to the Messenger of Allah ﷺ and the foreleg was offered to him which he liked, so he bit it with his front teeth."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر القرآن سورة ١٧ (٤٧١٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٤ (١٩٤)، سنن الترمذی/الأطعمة ٣٤ (١٨٣٧)، القیامة ١٠ (٢٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣١، ٤٣٥) (صحیح )
3308Sunan Ibne-Majah

جانور کے کونسے حصے کا گوشت عمدہ ہے

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ فَهْمٍ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ يُسَمَّىمُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، يُحَدِّثُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ نَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا أَوْ بَعِيرًا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالْقَوْمُ يُلْقُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْمَ، يَقُولُ: أَطْيَبُ اللَّحْمِ، لَحْمُ الظَّهْرِ.

عبداللہ بن جعفر ؓ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے جنہوں نے لوگوں کے لیے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت فرماتے سنا ہے جب لوگ آپ کے لیے گوشت ڈال رہے تھے: سب سے عمدہ اور لذیذ پٹھے کا گوشت ہوتا ہے ۔

Abdullah bin Jafar told Ibn Zubair, who had slaughtered a camel for them, that he heard the Messenger of Allah ﷺ and he (Abdullah) said: "Some people were bringing meat to the Messenger of Allah ﷺ and he said: The best meat is the meat of the back."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٧، ومصباح الزجاجة: ١١٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥) (ضعیف) (محمد بن عبد اللہ کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٨١٣ )
3309Sunan Ibne-Majah

بھنا ہوا گوشت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَأَى شَاةً سَمِيطًا، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I do not know of the Messenger of Allah ﷺ ever seeing a roasted sheep until he met Allah."

Notes · وضاحت
١ ؎: سمیط وہ بکری جس کو بال نکال کر کھال سمیت بھونا گیا ہو، یہ امیروں کا کھانا ہے، اور دوسرے لوگ کھال نکال کر گوشت بھونتے ہیں، اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مکمل بھنی ہوئی بکری آپ ﷺ نے نہیں دیکھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٧ (٦٤٥٧)، الأطعمة ٢٦ (٥٣٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٨، ١٣٤، ٢٥٠) (صحیح )
3310Sunan Ibne-Majah

بھنا ہوا گوشت

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رُفِعَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ شِوَاءٍ قَطُّ، وَلَا حُمِلَتْ مَعَهُ طِنْفِسَةٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے بچا ہوا بھنا گوشت نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ کبھی دری (چٹائی) لے جائی گئی۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "No leftovers of roast meat were ever cleared from in front of the Messenger of Allah ﷺ and no carpet was ever carried with him."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٦، ومصباح الزجاجة: ١١٣٨) (ضعیف) (جبارہ اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں )
3311Sunan Ibne-Majah

بھنا ہوا گوشت

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الجَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي الْمَسْجِدِ، لَحْمًا قَدْ شُوِيَ، فَمَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ، ثُمَّ قُمْنَا فُصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور ہم نے (پھر سے) وضو نہیں کیا۔

It was narrated that Abdullah bin Harith bin [az Az-Zubaidi said: "We ate food with the Messenger of Allah ﷺ in the Masjid, meat that had been roasted. Then we wiped our hands on the pebbles and got up to perform prayer without performing ablution." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٢، ومصباح الزجاجة: ١١٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩١) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں، فمسحنا أيدينا بالحصباء کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی دادو: ١٨٧ )، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٣٠٠ )
3312Sunan Ibne-Majah

دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ، فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ، فَقَالَ لَهُ: هَوِّنْ عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِسْمَاعِيل وَحْدَهُ، وَصَلَهُ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس سے گفتگو کی تو (خوف کی وجہ سے) اس کے مونڈھے کانپنے لگے، آپ ﷺ نے اس سے کہا: ڈرو نہیں، اطمینان رکھو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی ١ ؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صرف اسماعیل نے اسے موصول بیان کیا ہے۔

It was narrated that Ibn Masud said: "A man came to the Prophet ﷺ , so he spoke to him, and he started to tremble with awe. He said to him: Take it easy. I am not a king; I am just a man whose mother ate dried meat.": (Daif) Abu Abdullah said: "lsmafl alone has narrated (this Hadithh) with a complete chain of narrators.

Notes · وضاحت
١ ؎: قدید: ایسے گوشت کو کہتے ہیں جسے نمک لگا کر دھوپ میں سکھایا گیا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٠٦، ومصباح الزجاجة: ١١٤٠) (صحیح )
3313Sunan Ibne-Majah

دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَيَأْكُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ ﷺ پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "We used to store trotters and the Messenger of Allah ﷺ would eat them fifteendays after the sacrifice." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٧ (٥٤٢٣)، سنن الترمذی/الأضاحي ١٤ (١٥١١)، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٨، ١٣٦)، (حدیث مکرر ہے، دیکھے: ٣١٥٩) (صحیح )
3314Sunan Ibne-Majah

کلیجی اور تلی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دئیے گئے ہیں: رہے دونوں مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہے، اور رہے دونوں خون: تو وہ جگر (کلیجی) اور تلی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Two kinds of dead meat and two kinds of blood have been permitted to us. The two kinds of dead meat are fish and locusts, and the two kinds of blood are the liver and spleen." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں بھی خون ہیں گو جمے ہوئے سہی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٣٨، ومصباح الزجاجة: ١١٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے، سلیمان بن بلال نے ان کی متابعت کی ہے لیکن عمر ؓ پر موقوف کیا ہے، اور وہ حکما مرفوع ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١١٨ )
3315Sunan Ibne-Majah

نمک کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ أُرَاهُ مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيِّدُ إِدَامِكُمُ الْمِلْحُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے سالنوں کا سردار نمک ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The best of your seasonings is salt." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٨، ومصباح الزجاجة: ١١٤٢) (ضعیف) (عیسیٰ بن ابی عیسیٰ متروک ہے )
3316Sunan Ibne-Majah

سرکہ بطور سالن

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "What a blessed condiment vinegar is." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٣٠ (٢٠٥١)، سنن الترمذی/الأطعمة ٣٥ (١٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٤٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة ١٨ (٢٠٩٣) (صحیح )