Sunan Ibne-Majah 942

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

942Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سترے کا یبان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ يُبْسَطُ بِالنَّهَارِ، وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ يُصَلِّي إِلَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن میں بچھایا جاتا تھا، اور رات میں آپ اس کو لپیٹ کر اس کی جانب نماز پڑھتے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ had a reed mat that he would spread out during the day, and make into a compartment at night, towards which he would perform prayer." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بعضوں نے اعتکاف کا ذکر کیا ہے، بہر حال سترے کی طرف نماز پڑھنا اس حدیث سے بھی نکلتا ہے، اور اسی لئے مؤلف نے اس کو اس باب میں رکھا ہے، سترہ وہ آڑ جو نمازی اپنے سامنے کسی چیز سے کرلیتا ہے، اس کے آگے سے لوگ گزر سکتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨١ (٧٧٠)، اللباس ٤٣ (٥٨٦١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٧ (١٣٦٨)، سنن النسائی/القبلة ١٣ (٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠، ٦١، ٢٤١) (صحیح )