Sunan Ibne-Majah 940

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

940Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سترے کا یبان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ.

طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہوگا ۔

It was narrated from Musa bin Talhah that his father said: "We used to perform prayer while the beasts were passing in front of us. That was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ and he said: If something like the handle of a saddle is placed in front of anyone of you, it will not matter whoever passes in front of him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کا اندازہ بقدر ایک ہاتھ کے کیا ہے، اور موٹا بقدر ایک انگلی کے کافی ہے، اور سترے کے نزدیک کھڑا ہونا نمازی کے لئے بہتر ہے، اسی طرح سترے کو دائیں یا بائیں ابرو کے مقابل کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٤٩٩)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٢ (٦٨٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٣ (٣٣٥)، (تحفة الأشراف: ٥٠١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦١، ١٦٢) (حسن صحیح )