زمین کا دھنسنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُقْرِأُ عَليْكَ السَّلَامَ، قَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَكُونُ فِي أُمَّتِي أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ، وَذَلِكَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں (یا اس امت میں) مسخ (صورتوں کی تبدیلی) ، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہوگا ، اور یہ قدریہ میں ہوگا جو تقدیر کے منکر ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah that the Prophet ﷺ said. "Just before the Hour comes there will be transformations, the earth collapsing, and Qadhf (i.e. the throwing of stones perhaps as means of punishment -----may be it refers to landslides) (Sahih)