Sunan Ibne-Majah 3917

خوابوں کی تعبیر کا بیان

3917Sunan Ibne-Majah

جو شخص گفتار میں سچا ہو اسے خواب بھی سچے ہی آتے ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَرُبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ، وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب قیامت قریب آجائے گی تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، اور جو شخص جتنا ہی بات میں سچا ہوگا اتنا ہی اس کا خواب سچا ہوگا، کیونکہ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "When the end of time draws near, hardly any believer will see a false dream, and the ones who see the truest dreams will be the ones who are truest in speech. And the dream of the believer is one of the forty-six parts of prophecy.”’ (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اذا قرب الزمان کا ترجمہ قیامت کے قریب ہونے کے ہے، اور بعضوں نے کہا کہ قرب الزمان سے موت کا زمانہ مراد ہے یعنی جب آدمی کی موت نزدیک آتی ہے تو اس کے خواب سچے ہونے لگتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم آخرت کے وصال کا وقت نزدیک آجاتا ہے، اور وہاں کے حالات زیادہ منکشف ہونے لگتے ہیں، بعضوں نے کہا قرب الزمان سے بڑھاپا مراد ہے کیونکہ اس وقت میں شہوت اور غضب کا زور گھٹ جاتا ہے، اور مزاج معتدل ہوتا ہے پس اس وقت کے خواب زیادہ سچے ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٧٨) (صحیح )