ذمی کافروں کو سلام کا جواب کیسے دیں ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى الْيَهُودِ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ.
ابوعبدالرحمٰن جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کل سوار ہو کر یہودیوں کے پاس جاؤں گا، تو تم خود انہیں پہلے سلام نہ کرنا، اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم جواب میں وعليكم کہو (یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق) ۔
It was narrated from Abu Abdur·Rahman Al-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "I am riding to the Jews tomorrow. Do not initiate the greeting with them, and if they greet you, then say: Wa alaikum (and also upon you)."