Sunan Ibne-Majah 2666

دیت کا بیان

2666Sunan Ibne-Majah

قاتل سے اسی طرح قصاص لیا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر مار ڈالا تو آپ ﷺ نے لڑکی سے (اس کی موت سے پہلے) پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا: نہیں، پھر آپ ﷺ نے دوسرے کے متعلق پوچھا: (کیا فلاں نے مارا ہے؟ ) دوبارہ بھی اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، پھر آپ ﷺ نے تیسرے کے متعلق پوچھا: تو اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر قتل کردیا ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that a Jew killed a girl for her jewelry. He asked her (as she was dying): "Did so-and-so kill you?" and she gestured with her head to say no. Then he asked her again, and she gestured with her head to say no. He asked her a third time and she gestured with her head to say yes. So the Messenger of Allah ﷺ killed him (by crushing his head) between two rocks.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس وجہ سے کہ یہودی نے جرم کا اقرار کیا جب پکڑا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٢٤ (٥٢٩٥)، تعلیقاً، الدیات ٤ (٦٨٧٧)، ٥ (٦٨٧٩)، صحیح مسلم/الحدود ٣ (١٦٧٢)، سنن ابی داود/الدیات ١٠ (٤٥٢٩)، سنن النسائی/القسامة ٨ (٤٧٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧١، ٢٠٣) (صحیح )