عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
Narrated Abdullah ibn Jafar (RA) : The Prophet ﷺ said: Anyone who is in doubt in his prayer should make two prostrations after giving the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٩، ١٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٤، ٢٠٥، ٢٠٦) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی مصعب “ اور عتبہ ضعیف ہیں، لیکن دوسری حدیث کی تقویت سے حسن ہے ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٤/١٩٠ )
عبداللہ بن بحینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہوگئے اور قعدہ (تشھد) نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کرلی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ ﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
Narrated Abdullah ibn Buhaynah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer praying two rakahs. When he stood up and did not sit (at the end of two rakahs) the people stood up along with him. When he finished the prayer and we expect him to give the salutation, he said: Allah is most great. While sitting and made two prostrations before giving the salutation. Then he gave it.
اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر ؓ نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔
This tradition (mentioned above) has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: Some of us recited the Tashahhud while they were standing. Abu Dawud said: Ibn-Zubair made two prostrations before giving the salutation in a similar way when he stood up at the end of two rak’ahs. This is the opinion of al-Zuhrl.
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہوجائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اگر سیدھا کھڑا ہوجائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : The Prophet ﷺ said: When an imam stands up at the end of two rakahs, if he remembers before standing straight up, he should sit down, but if he stands straight up, he must not sit down, but perform the two prostrations of forgetfulness. Abu Dawud said: I have not narrated in this book of mine any hadith from Jabir Al-Jufi (one of the narrators) except this one.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٧ (٣٦٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣١ (١٢٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٣، ٢٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦(١٥٤٢) (صحیح) (جابر جعفی کی کئی ایک متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ جابر ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: ارواء الغلیل: ٣٨٨ و صحیح سنن أبی داود ٩٤٩ )
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے، ہم نے سبحان الله کہا، انہوں نے بھی سبحان الله کہا اور (واپس نہیں ہوئے) نماز پڑھتے رہے، پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے، پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے، جیسے میں نے کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے، شعبی نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے، نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص ؓ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ، عمران بن حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے کیا، اور ابن عباس ؓ اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں، انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : Ziyad ibn Ilaqah said: Al-Mughirah ibn Shubah led us in prayer and he stood up at the end of two rakahs. We said: Glory be to Allah; he also said: Glory be to Allah, and he proceeded. When he finished the prayer and gave the salutation, he made two prostrations of forgetfulness. When he turned (to us) he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ doing so as I did. Abu Dawud said: Ibn Abi Laila narrated this tradition in a similar manner from al-Shaibi from al-Mughirah bin Shubah. Abu Umais narrated it from Thabit bin Ubaid saying: Al-Mughirah bin Shubah led us in prayer, like the tradition reported by Ziyad bin Illaqah. Abu Dawud said: Abu Umais is the brother of al-Masudi. And Saad bin Abi Waqqas did the same as done by al-Mughirah, Imran bin Husain, Dahhak bin Qais and Muawiyah bin Abi Sufyan. Ibn Abbas and Umar bin Abd al-Aziz issued legel verdict to the same effect. Abu Dawud said: This applies to a person who stands up at the end of two rakahs and males prostration after giving the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٢ (٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦(١٥٤٢) (صحیح) (مسعودی مختلط راوی ہیں، لیکن ان کے کئی متابعت کرنے والے پائے جاتے ہیں )
ثوبان ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ، عمرو کے سوا کسی نے بھی (اس سند میں) عن أبيه کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ said: For each forgetfulness there are two prostrations after giving the salutation. No one except Amr (ibn Uthman) mentioned the words from his father (in the chain Abdur Rahman ibn Jubayr ibn Nufayr from Thawban).
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٦ (١٢١٩)، (تحفة الأشراف: ٢٠٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٠) (حسن )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ led them in prayer and forgot something, so he made prostrations and uttered the tashahhud, then gave the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٣٩٥)، سنن النسائی/السہو ٢٣ (١٢٣٧)، والکبری/ صفة الصلاة ٥٨ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٥) (شاذ) (اشعث حمرانی کے سوا کسی کی روایت میں تشھد کا تذکرہ نہیں ہے )
ام المؤمنین ام سلمی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔
Umm Salamah said; When the Messenger of Allah ﷺ gave the salutation, he stayed for a while. By this people thought that women should return earlier than men.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٢ (٨٣٧)، ١٥٧ (٨٤٩)، ١٦٣ (٨٦٦)، ١٦٧ (٨٧٠)، سنن النسائی/السھو ٧٧ (١٣٣٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٦، ٣١٠، ٣١٦) (صحیح) ( وکانوا یرون أن ذلک ... مدرج اور زہری کا قول ہے )
ہلب طائی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ ﷺ (نماز سے فارغ ہو کر) اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے (کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے) ۔
Narrated Hulb (Yazid) at-Tai: Hulb prayed along with the Prophet ﷺ . He used to turn to both his sides (sometimes to the left and sometimes to the right).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٣ (٣٠١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن صحیح) (اگلی حدیث نمبر: ( ١٠٤٢ ) سے تقویت پا کر یہ حسن صحیح ہے)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے، حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے، عمارہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھروں کو (بحالت نماز) آپ کے بائیں جانب دیکھا ١ ؎۔
Abdullah (bin Masud) said; One of you should not give a share from his prayer to the devil, that he does not turn away expect to his right side. I saw the Messenger of Allah ﷺ often turning away to his left side. the narrator Umarah said: I came to Madina afterwards and saw that the houses of the prophet ﷺ were (built) in the left.
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کے حجرے آپ کے مصلیٰ سے (بحالت نماز) بائیں جانب پڑتے تھے، آپ ﷺ کبھی بائیں جانب مڑتے اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٩ (٨٥٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٧ (٧٠٧)، سنن النسائی/السھو ١٠٠ (١٣٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٧٧)، و قد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٣، ٤٢٩، ٤٦٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٩ (١٣٩٠) (صحیح )
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے ۔
Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : The Prophet ﷺ said: The prayer a man offers in his house is more excellent than his prayer in this mosque of mine except obligatory prayer.
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، جب آیت کریمہ: فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما کنتم فولوا وجوهكم شطره یعنی اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں (سورۃ البقرہ: ١٥٠) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی: لوگو! آگاہ ہوجاؤ، قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے (یہ حکم سنتے ہی) لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھرگئے۔
Anas said: The Prophet ﷺ and his Companions used to pray in the direction of Jerusalem. When the following verse was revealed: “ So turn thy face towards the inviolable mosque”; and Ye (O Muslims), wheresoever ye may be, turn your face towards it” (ii. 144), a man passed by the people of Banu Salamah. He called them while they were bowing in the morning prayer facing Jerusalem: Lo, the qiblah (direction of prayer) has been changed towards the Kaabah. He called them twice. So they turned their faces towards the Kaabah while they were bowing.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٧)، (تحفة الأشراف: ٣١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پالے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو (ضرور) دے گا ۔ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت (گھڑی) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم ﷺ نے سچ فرمایا، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام ؓ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) کیسے ہوسکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ ﷺ نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam was created, on it he was expelled (from Paradise), on it his contrition was accepted, on it he died, and on it the Last Hour will take place. On Friday every beast is on the lookout from dawn to sunrise in fear of the Last Hour, but not jinn and men, and it contains a time at which no Muslim prays and asks anything from Allah but He will give it to him. Kab said: That is one day every year. So I said: It is on every Friday. Kab read the Torah and said: The Messenger of Allah ﷺ has spoken the truth. Abu Hurairah said: I met Abdullah ibn Salam and told him of my meeting with Kab. Abdullah ibn Salam said: I know what time it is. Abu Hurairah said: I asked him to tell me about it. Abdullah ibn Salam said: It is at the very end of Friday. I asked: How can it be when the Messenger of Allah ﷺ has said: No Muslim finds it while he is praying. . . . and this is the moment when no prayer is offered. Abdullah ibn Salam said: Has the Messenger of Allah ﷺ not said: If anyone is seated waiting for the prayer, he is engaged in the prayer until he observes it. I said: Yes, it is so.
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز پڑھتے ہوئے سے یہ مراد نہیں کہ وہ فی الواقع نماز پڑھ رہا ہو بلکہ مقصود یہ ہے کہ جو نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ بھی اس شخص کے مثل ہے جو نماز کی حالت میں ہو۔ اس ساعت (گھڑی) کے سلسلہ میں علماء کے درمیان بہت اختلاف ہے، راجح عبداللہ بن سلام ؓ کا قول ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ گھڑی امام کے خطبہ کے کئے منبر پر بیٹھے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک ہے، اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں پورے دن عبادت و دعا میں مشغول و منہمک رہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٢ (٤٩١)، سنن النسائی/الجمعة ٤٤ (١٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٥، ١٥٠٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٧ (٩٣٥)، والطلاق ٢٤ (٥٢٩٤)، والدعوات ٦١ (٦٤٠٠)، (في جمیع المواضع مقتصراً علی قولہ: فیہ الساعة … ) صحیح مسلم/الجمعة ٤ (٨٥٢)، ٥ (٨٥٤ ببعضہ)، سنن النسائی/الجمعة ٤ (١٣٧٤)، ٤٥ (١٤٣١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٩ (١١٣٧)، موطا امام مالک/صلاة الجمعة ٧ (١٦)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٥٥، ٢٥٧، ٢٧٢، ٢٨٠، ٢٨٤، ٤٠١، ٤٠٣، ٤٥٧، ٤٦٩، ٤٨١، ٤٨٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٤ (١٦١٠) (صحیح )
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن چیخ ہوگی ١ ؎ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اوس بن اوس کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ (مر کر) بوسیدہ ہوچکے ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کردیا ہے ۔
Narrated Aws ibn Aws (RA) : The Prophet ﷺ said: Among the most excellent of your days is Friday; on it Adam was created, on it he died, on it the last trumpet will be blown, and on it the shout will be made, so invoke more blessings on me that day, for your blessings will be submitted to me. The people asked: Messenger of Allah, how can it be that our blessings will be submitted to you while your body is decayed? He replied: Allah, the Exalted, has prohibited the earth from consuming the bodies of Prophets.
Notes · وضاحت
١ ؎: جس کی ہولناکی سے سارے لوگ مرجائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٥ (١٣٧٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٥ (١٦٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٦ (١٦١٣) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعت (گھڑی) کا ہے، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت (گھڑی) میں تلاش کرو ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Friday is divided into twelve hours. Amongst them there is an hour in which a Muslim does not ask Allah for anything but He gives it to him. So seek it in the last hour after the afternoon prayer.
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ وہ (ساعت) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی منبر پر (بیٹھنے سے لے کر) ۔
Abu Burdah bin Abl Musa al-Asha’ri said: Abdullah bin Umar (RA) said to me: Did you hear your father narrating a tradition from the Messenger of Allah ﷺ about an hour on Friday (when supplication is accepted by Allah)? I said: Yes, I heard it. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This hour is found during the period when the imam is seated (for giving Friday sermon) until the prayer is finished. Abu Dawud said: By sitting is meant sitting on the pulpit.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ٤ (٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ٩٠٧٨) (صحیح) (بعض حفاظ نے اس کو ابوبردہ کا قول بتایا ہے، اور بعض نے اس کو مرفوع حدیث کے مخالف گردانا ہے، جس میں صراحت ہے کہ یہ عصر کے بعد کی گھڑی ہے، (جبکہ ابوہریرہ و جابر ؓ کی حدیث میں آیا ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے یہاں یہ ساعت (گھڑی) دن کی آخری گھڑی ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ١ ؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی ۔
If anyone performs ablution, doing it well, then come to the Friday prayer, listens and keeps silence, his sins between that time and the next Friday will be forgiven, with three days extra; but he who touches pebbles has caused an interruption.
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد گناہ صغیرہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ٨ (٨٥٧)، سنن الترمذی/الجمعة ٥ (٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٢ (١٠٢٥)، ٨١ (١٠٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٤) (صحیح )
عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے کوفہ کے منبر پر علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتے ہیں اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آ کر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت (گھڑی) میں آیا، اور کون دوسری ساعت (گھڑی) میں آیا، یہاں تک کہ امام (خطبہ جمعہ کے لیے) نکلتا ہے، پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے، جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور (دوران خطبہ) چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا، لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا، جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن (دوران خطبہ) بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے (بغل کے) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا، پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔ اس میں بغیر شک کے ربائث ہے، نیز اس میں مولى امرأته أم عثمان بن عطاء ہے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Ali said on the pulpit in the mosque of Kufah: When Friday comes, the devils go to the markets with their flags, and involve people in their needs and prevent them from the Friday prayer. The angels come early in the morning, sit at the door of the mosque, and record that so-and-so came at the first hour, and so-and-so came at the second hour until the imam comes out (for preaching). When a man sits in a place where he can listen (to the sermon) and look (at the imam), where he remains silent and does not interrupt, he will receive a double reward. If he stays away, sits in a place where he cannot listen (to the sermon), silent, and does not interrupt, he will receive the reward only once. If he sits in a place where he can listen (to the sermon) and look (at the imam), and he does not remain silent, he will have the burden of it. If anyone says to his companion sitting besides him to be silent (while the imam is preaching), he is guilty of idle talk. Anyone who interrupts (during the sermon) will receive nothing (no reward) on that Friday. Then he (the narrator) says in the end of this tradition: I heard the Messenger of Allah ﷺ say so. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Walid bin Muslim from Ibn Jabir. This version adds: bil-rabaith (instead of al-rabaith, needs preventing the people from prayer). Further, this adds: Freed slave of his wife Umm Uthman bin Ata.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٣) (ضعیف) (اس کے راوی عطاء خراسانی ضعیف، اور مولی امرأتہ مجہول ہیں )
ابوجعد ضمری ؓ سے روایت ہے (انہیں شرف صحبت حاصل تھا) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ١ ؎۔
Narrated Al-Jad ad-Damri (RA) : The Prophet ﷺ said: He who leaves the Friday prayer (continuously) for three Friday on account of slackness, Allah will print a stamp on his heart.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس مہر کے لگ جانے سے خیر اور ہدایت کی چیز اس کے دل میں داخل نہیں ہو سکے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الصلاة ٢٤٢ (الجمعة ٧) (٥٠٠)، سنن النسائی/الجمعة ٢ (١٣٧٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٣ (١١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٩ (٢٠)، مسند احمد (٣/٤٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١٢) (حسن صحیح )