Sunan Abu Dawood 1040

نماز کا بیان

1040Sunan Abu Dawood

نماز سے فراغت کے بعد پہلے عورتوں کو مسجد سے جانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلًاوَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ.

ام المؤمنین ام سلمی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔

Umm Salamah said; When the Messenger of Allah ﷺ gave the salutation, he stayed for a while. By this people thought that women should return earlier than men.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٢ (٨٣٧)، ١٥٧ (٨٤٩)، ١٦٣ (٨٦٦)، ١٦٧ (٨٧٠)، سنن النسائی/السھو ٧٧ (١٣٣٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٣ (٩٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٦، ٣١٠، ٣١٦) (صحیح) ( وکانوا یرون أن ذلک ... مدرج اور زہری کا قول ہے )