سمرہ بن جندب ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone omits the Friday prayer without excuse, he must give a dinar in alms, or if he does not have as much, then half a dinar. Abu Dawud said: Khalid bin Qais reported this tradition in this manner, but he disagreed in respect of chain (of transmitters) and agreed in respect of the text.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٣ (١٣٧٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٣ (١١٢٨)، (تحفة الأشراف: ٤٦٣١، ١٩٢٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨، ١٤) (ضعیف) ( قدامہ مجہول راوی ہیں، نیز سمرہ “ ؓ سے ان کا سماع ثابت نہیں )
قدامہ بن وبرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز عن سمرة کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔
Narrated Qudamah ibn Wabirah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone omits the Friday prayer without excuse, he must give one dirham or half a dirham, or one sa or half a sa of wheat, in alms. Abu Dawud said: Saeed bin Bashir reported this tradition in a like manner, except that he narrated one mudd or half mudd (instead of sa). He narrated it from Samurah. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal being asked about the differences over the narration of this Hadith. He said: Hammam has a stronger memory - in my opinion - than Ayyub.
Notes · وضاحت
١ ؎: صاع ڈھائی کلو گرام کا، درھم: چاندی کا سکہ تین گرام کے سے کچھ کم (٩٧٥, ٢)۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٣١، ١٩٢٣١) (ضعیف) (قدامہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کے درمیان اور نبی کریم ﷺ کے درمیان دو آدمیوں کا انقطاع ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو ؓ پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند (یعنی مرفوع روایت) کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : The Prophet ﷺ said: The Friday prayer is obligatory on him who hears the call. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by a group of narrators from Sufyan. They did not narrate it as a statement of the Prophet ﷺ ; only Qabisah has transmitted it as saying of the Prophet ﷺ .
ابوملیح کے والد اسامہ بن عمیر ھزلی ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے روز بارش ہو رہی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ (وہ اعلان کر دے کہ) لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لیں۔
Narrated Usamah ibn Umayr al-Huzali (RA) : The rain was falling on the day when the Battle of Hunayn took place. The Prophet ﷺ , therefore, commanded that the people should offer their prayer in their camps.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٥١ (٨٥٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٥ (٩٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٤، ٧٤، ٧٥) (صحیح )
ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔
Narrated Usamah ibn Umayr al-Huzali (RA) : Usamah attended the Prophet ﷺ on the occasion of the treaty of al-Hudaybiyyah on Friday. The rain fell as little as the soles of the shoes of the people were not set. He (the Prophet) commanded them to offer Friday prayer in their dwellings.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ وادی ضجنان میں ایک سرد رات میں اترے اور منادی کو حکم دیا اور اس نے آواز لگائی: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، ایوب کہتے ہیں: اور ہم سے نافع نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سردی یا بارش کی رات ہوتی تو منادی کو حکم دیتے تو وہ الصلاة في الرحال لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کا اعلان کرتا۔
Nafi said: Ibn Umar stayed at Dajnan (a place between Makkah and Madina) on a cold night. He commanded an announcer (to announce). He announced that the people should offer prayer in their dwellings. Ayyub said: Nafi narrated on the authority of Ibn Umar that whenever there was a cold or a rainy day night, the Messenger of Allah ﷺ commanded the announcer (to announce). He announced to offer prayer in the dwellings.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٥ (٩٣٧)، (تحفة الأشراف: ٧٥٥٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٣٢)، ٤٠ (٦٦٦)، صحیح مسلم/المسافرین ٣ (٦٩٧)، سنن النسائی/الأذان ١٩ (٦٥٥)، موطا امام مالک/الصلاة ٢(١٠)، مسند احمد (٢/٤، ١٠، ٥٣، ٦٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٥ (١٣١١) (صحیح )
نافع کہتے ہیں ابن عمر ؓ نے وادی ضجنان میں نماز کے لیے اذان دی، پھر اعلان کیا کہ لوگو! تم لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، اس میں ہے کہ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث نقل کی کہ آپ سفر میں سردی یا بارش کی رات میں منادی کو حکم فرماتے تو وہ نماز کے لیے اذان دیتا پھر وہ اعلان کرتا کہ لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے ایوب اور عبیداللہ سے روایت کیا ہے اس میں في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر کے بجائے في السفر في الليلة القرة أو المطيرة کے الفاظ ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Nafi reported: Ibn Umar made the call to prayer at Dajnan (a place between Makkah and Madina). Then he announced: Offer prayer in your dwellings: He then narrated a tradition from the Messenger of Allah ﷺ . He used to command an announcer who made the call to prayer. He then announced: Pray in your dwellings on a cold or rainy night during journey. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammad bin Salamah from Ayyub and Ubaid Allah. In his version he added: During journey on a cold or a rainy night.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقام ضجنان میں سرد اور آندھی والی ایک رات میں اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سفر کے اندر سردی یا بارش کی رات میں مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ اعلان کر دو: لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Nafi said: Ibn Umar made the call to prayer at Dajnan (a place between Makkah and Madina), on a cold and windy night. He added the words at the end of the call: Lo! pray in your dwellings. Lo! pray in the dwellings. He then said: The Messenger of Allah ﷺ used to command the muadhdhin to announce, Lo! pray in your dwellings. on a cold or rainy night during journey.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے سرد اور آندھی والی ایک رات میں نماز کے لیے اذان دی تو کہا: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سردی یا بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔
Nafi said: Ibn Umar made the call to prayer on a cold and windy night. He then said: “Lo! Pray in the dwellings. “Afterwards he said: Whenever there was a cold or rainy day night, the Messenger of Allah ﷺ used to command the Muadhdin to announce: “Lo! Pray in the dwellings. ”
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے، قاسم نے ابن عمر ؓ سے، ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں في السفر کے الفاظ بھی ہیں۔
Ibn Umar said: The announcer of the Messenger of Allah ﷺ announced for that (to pray at homes) at Madina on a rainy night or a cold morning. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Yahya bin Saeed al-Ansari from al-Qasim from Ibn Umar from the Prophet ﷺ . This version adds the words “During the journey. ”
جابر ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے ۔
Jabir said: We were in the company of the Messenger of Allah ﷺ during a journey. The rain fell upon us. The Messenger of Allah ﷺ said: Anyone who wants to pray in his dwelling may pray.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٣ (٦٩٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٩ (٤٠٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٢٧، ٣٩٧) (صحیح )
محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم أشهد أن محمدا رسول الله کہنا تو اس کے بعد حي على الصلاة نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ صلوا في بيوتكم لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا: ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی (یعنی رسول اللہ ﷺ نے) ، بیشک جمعہ واجب ہے، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں (جمعہ کے لیے) آنے کی زحمت دوں۔
Ibn Sirin said: Ibn Abbas said to his Muadhdhin on a rainy day: “when you utter the words ‘ I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, ” do not say, ” Come to prayer” but say “Pray at your homes, ” By this (announcement) the people were surprised. He said: One who was better than me has done it. The Friday prayer is an obligatory duty. But I disliked to put you to hardship so that you might walk in mud and rain.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠ (٦١٦)، ٤١(٦٦٨)، والجمعة ١٤ (٩٠١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣ (٦٩٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٥ (٩٣٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٧) (صحیح )
طارق بن شہاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں: غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: طارق بن شہاب نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔
Narrated Tariq ibn Shihab (RA) : The Prophet ﷺ said: The Friday prayer in congregation is a necessary duty for every Muslim, with four exceptions; a slave, a woman, a boy, and a sick person. Abu Dawud said: Tariq bin Shihab had seen the Prophet ﷺ but not heard anything from him.
عبداللہ بن عباس ؓ سے کہتے ہیں اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جو اثاء میں قائم کیا گیا، جو علاقہ بحرین ١ ؎ کا ایک گاؤں ہے، عثمان کہتے ہیں: وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے ٢ ؎۔
bn Abbas said: The Friday prayer first offered in Islam after the Friday prayer offered in the mosque of the Messenger of Allah ﷺ is Friday prayer offered at Juwatha, a village from the villages of al-Bahrain. The narrator Uthman said: it is a village from the village of the tribe of Abd al-Qais.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں بحرین سے مراد سعودی عرب کا مشرقی علاقہ ہے، ” جواثی “ منطقہ احساء کے ہفوف نامی شہر کے ایک گاؤں میں واقع ہے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے اور اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ گاؤں میں پڑھنا درست ہے، اس لئے کہ جواثی اور ہزم النبیت دونوں گاؤں ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ قریہ کا اطلاق عربی میں گاؤں اور شہر دونوں پر ہوتا ہے، اس لئے یہ استدلال تام نہیں، جب کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جواثی بحرین کا ایک شہر ہے اور ہزم النبیت مدینہ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں بہتر طریق استدلال یہ ہے کہ جمعہ کی فرضیت آیت اور حدیث سے مطلق ثابت ہے اس میں شہر کی قید نہیں، لہذا اس قید کا اضافہ کرنا کتاب اللہ پر زیادتی ہے، جو حنفیہ کے نزدیک حدیث مشہور ہی سے جائز ہے، اس سلسلہ میں علی ؓ کی جو روایت: لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع پیش کی جاتی ہے وہ دراصل موقوف روایت ہے، امام احمد نے اس کے مرفوع ہونے کی تضعیف کی ہے اس لئے اس سے خود حنفیہ کے اصول کے مطابق کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں کیوں کہ وہ استدلال کے قابل نہیں۔ ابن ابی شیبہ نے عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے بحرین والوں کو لکھا کہ تم لوگ جمعہ پڑھو جہاں بھی رہو ان کا یہ حکم شہر اور گاؤں دونوں کو عام ہے، اسی طرح بیہقی نے بھی عمر ؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جمعہ واجب ہے ہر گاؤں پر اگرچہ اس میں صرف چار ہی آدمی ہوں، اور ابن مسعود ؓ سے اور دیگر صحابہ سے شہر اور صحراء دونوں جگہ میں جمعہ پڑھنا ثابت ہے۔
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک ؓ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ ؓ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ ؓ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع (بستی، گاؤں) ھزم النبیت ١ ؎ میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔
Narrated Kab ibn Malik: Abdur Rahman ibn Kab ibn Malik said: When Kab ibn Malik heard the call to prayer on Friday, he prayed for Asad ibn Zurarah. I asked him: What is the matter that when you hear the call to prayer, you pray for Asad ibn Zurarah? He replied: This is because he held the Friday prayer for the first time for us at Hazm an-Nabit of Harrah belonging to Banu Bayadah in Naqi, called Naqi al-Khadumat. I asked him: How many were you at that time ? He said: Forty.
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی جس کا نام ہزم النبیت تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٨ (١٠٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٩) (حسن )
ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان ؓ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم ؓ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ نے پوچھا: پھر آپ نے کس طرح کیا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ١ ؎۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : Ilyas ibn Abu Ramlah ash-Shami said: I witnessed Muawiyah ibn Abu Sufyan asking Zayd ibn Arqam (RA) : Did you offer along with the Messenger of Allah ﷺ the Friday and Eid prayers synchronised on the same day? He said: Yes. He asked: How did he do? He replied: He offered the Eid prayer, then granted concession to offer the Friday prayer, and said: If anyone wants to offer it, he may offer.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلے میں وارد تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ذاتی طور پر مسلمان کو اختیار ہے کہ عید کی نماز کے بعد چاہے تو جمعہ نہ پڑھ کر صرف ظہر پڑھ لے اسی طرح جس مسجد میں جمعہ نہیں قائم ہوتا اس میں لوگ ظہر پڑہ لیں، لیکن جس مسجد میں جمعہ قائم ہوتا ہو وہاں جمعہ قائم ہوگا، کیوں کہ نبی اکرم ﷺ نیز عثمان ؓ نے عام لوگوں کو جمعہ کی چھوٹ دے کر فرمایا: ” ہم تو جمعہ پڑھیں گے “۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العیدین ٣١ (١٥٩٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٦ (١٣١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٥ (١٦٥٣) (صحیح )
عطاء بن ابورباح کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر ؓ نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی، پھر جب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں، بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ١ ؎ ابن عباس ؓ اس وقت طائف میں تھے، جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا: انہوں (ابن زبیر ؓ) نے سنت پر عمل کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ata ibn Abu Rabah said: Ibn az-Zubayr led us in the Eid prayer on Friday early in the morning. When we went to offer the Friday, he did not come out to us. So we prayed ourselves alone. At that time Ibn Abbas was present in at-Taif. When he came to us, we mentioned this (incident) to him. He said: He followed the sunnah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظہر پڑھی کیونکہ جمعہ کے لئے جماعت ضروری ہے اس کے بغیر جمعہ صحیح نہیں۔
عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر ؓ کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہوگئے تو آپ نے کہا: ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں، پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی، اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی ١ ؎۔
Ata said: The Friday and the ‘id prayers synchronized during the time of Ibn al-Zubair. He said: Two festivals (‘id and Friday) synchronized on the same day. He combined them and offered two rak’ahs in the morning and did not add anything to them until he offered the afternoon prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: دراصل عبداللہ بن زبیر ؓ گھر سے نکلے ہی نہیں (جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے) اس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ انہوں نے ظہر بھی نہیں پڑھی، حالانکہ ایسی بات نہیں، آپ نے گھر میں ظہر پڑھ لی تھی، کیونکہ عید کے دن جمعہ معاف ہے ظہر نہیں۔ یہ اسلام کا عام قاعدہ ہے کہ جس سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہے اس کے لئے ظہر پڑھنی ضروری ہے۔