نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 35 of 55

1073Sunan Abu Dawood

جب جمعہ اور عید ایک دن پڑ جائیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ. قَالَ عُمَرُ: عَنْ شُعْبَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں، لہٰذا رخصت ہے، جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہوگی اور ہم تو جمعہ پڑھیں گے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Two festivals (Id and Friday) have synchronised on this day. If anyone does not want to offer the Friday prayer, the Eid prayer is sufficient for him. But we shall offer the Friday prayer. This tradition has been narrated by Umar from Shubah.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٦ (١٣١١)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٧) (صحیح )
1074Sunan Abu Dawood

جمعہ کے دن صبح کی نماز میں کون سی سورت پڑھے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر میں سورة السجدة اور هل أتى على الإنسان حين من الدهر پڑھتے تھے۔

Ibn Abbas said: the Messenger of Allah ﷺ used to recite in the morning prayer on Friday Surah Tanzil al-Sajdah (xxxii.) and Surah al-Dahr (lxxi. ).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٧ (٨٧٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٨ (٥٢٠)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٧ (٩٥٦، ٩٥٧)، والجمعة ٣٨ (١٤٢٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦ (٨٢١)، مسند احمد (١/٢٢٦، ٣٠٧، ٣١٦، ٣٢٨، ٣٣٤، ٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٦١٣) (صحیح )
1075Sunan Abu Dawood

جمعہ کے دن صبح کی نماز میں کون سی سورت پڑھے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ.

اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ جمعہ میں سورة الجمعہ اور إذا جاءک المنافقون پڑھتے تھے۔

This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators. This version adds: In the Friday prayer he would recite Surah al-Jumu’ah (lxxi) and Surah al-Munafiqunn.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٦١٣) (صحیح )
1076Sunan Abu Dawood

جمعہ کے کپڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ، يَعْنِي: تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: كَسَوْتَنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَافَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر ؓ کو دیا تو عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ، چناچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔

Abdullah bin Umar (RA) said: Umar bin al-Khattab saw a silken suit sold at the gate of the mosque. He said: Messenger of Allah, would that you purchase this suit and wear it on Friday and on the occasion when a delegation (from the outside) comes to you. The Messenger of Allah ﷺ said: One who has no share in the afterlife will put on this (suit). Afterwards suits of similar nature were brought to the Messenger of Allah ﷺ . He gave Umar bin al-Khattab one of these suits. Umar said: Messenger of Allah, you are giving it to me for use while you had told me such-and-such about the suit of ‘Utarid (I. e. sold by ‘Utarid). The Messenger of Allah ﷺ said: I did not give it to you that you should wear it. Hence Umar gave it to his brother who was a disbeliever at Makkah for wearing.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٧ (٨٨٦)، والعیدین ١ (٩٤٨)، والھبة ٢٧ (٢٦١٢)، ٢٩ (٢٦١٩)، والجھاد ١٧٧ (٣٠٥٤)، واللباس ٣٠ (٥٨٤١)، والأدب ٩ (٥٩٨١)، ٦٦ (٦٠٨١)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٨)، سنن النسائی/الجمعة ١١ (١٣٨٣)، والعیدین ٤ (١٥٦١)، والزینة ٨٣ (٥٢٩٧)، ٨٥ (٥٣٠١)، (تحفة الأشراف: ٨٠٢٣، ٨٣٣٢٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس ١٦ (٣٥٨٩)، مسند احمد (٢/٢٠، ٣٩، ٤٩) ویأتی ہذا الحدیث فی اللباس (٤٠٤) (صحیح )
1077Sunan Abu Dawood

جمعہ کے کپڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں عمر بن خطاب ؓ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔

Abdullah bin Umar (RA) said: Umar bin al-Khattab saw a suit of silken cloth being sold in the market. He took it to the Messenger of Allah ﷺ , and said: Purchase it ad decorate with it on Eid on the occasion of the arrival of delegations. The narrator then narrated the tradition. The former version is complete.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٨)، سنن النسائی/العیدین ٤ (١٥٦١)، (تحفة الأشراف: ٦٨٩٥) (صحیح )
1078Sunan Abu Dawood

جمعہ کے کپڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ، أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ، أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ. قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْيُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ١ ؎۔ عمرو کہتے ہیں: مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

Narrated Muhammad ibn Yahya ibn Habban (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: What is the harm if any of you has two garments, if he can provide them, for Friday (prayer) in addition to the two garments for his daily work? Amr reported from Ibn Habib from Musa ibn Saad from Ibn Habban from Ibn Salam who heard this (tradition) from the Messenger of Allah ﷺ on the pulpit. Abu Dawud said: This tradition has been reported by Yusuf bin Abdullah bin Salam from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے لئے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ الگ کپڑے رکھنا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٨٣ (١٠٩٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٣٤، ١١٨٥٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٨ (١٧) (صحیح )
1079Sunan Abu Dawood

نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ، وَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خریدو فروخت کرنے، کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے، شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ prohibited buying and selling in the mosque, announcing aloud about a lost thing, the recitation of a poem in it, and prohibited sitting in a circle (in the mosque) on Friday before the prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎ : کیوں کہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ باندھ کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے اس لئے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢)، سنن النسائی/المساجد ٢٣ (٧١٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩)، مسند احمد (٢/١٧٩) (حسن )
1080Sunan Abu Dawood

منبر بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٌ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَفَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَاهُنَافَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَفَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي.

ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی ؓ کے پاس آئے، وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟ تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: قسم اللہ کی! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ ﷺ بیٹھے، آپ ﷺ نے ایک عورت کے پاس۔ جس کا سہل نے نام لیا۔ یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں، تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا، اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے آپ ﷺ کے پاس بھیج دیا، آپ ﷺ نے اسے (ایک جگہ) رکھنے کا حکم دیا، چناچہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔

Abu Hazim bin Dinar said: People came to Sahl bin Saad al-Saeedi, when they were doubtful about the kind of wood of the pulpit (in the mosque of the Prophet). They asked him about it. He said: By Allah, I know (the wood) of which it was made; I saw it the first day when it was placed there, and the first day when the Messenger of Allah ﷺ sat on it. The Messenger of Allah ﷺ sent for a woman whom Sahl named and asked her: Order your boy, the carpenter, to construct for me a wooden pulpit so that I sit on it when I deliver a speech to the people. So she ordered him and he made a pulpit of a wood called tarfa taken from al-Ghabah (a place at a distance of nine miles from Madina). He brought it to her. She sent it to the Messenger of Allah ﷺ . He ordered and that was placed here. I saw the Messenger of Allah ﷺ praying on it: he said: Allah is most great; he then bowed while he was on it; then he returned and prostrated in the root of the pulpit; he then returned (to the pulpit). When he finished (the prayer), he addressed himself to the people and said: O people, I did this so that you may follow me and know my prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٧)، والجمعة ٢٦ (٩١٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٠ (٥٤٤)، سنن النسائی/المساجد ٤٥ (٧٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٧٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٩ (١٤١٦)، مسند احمد (٥/٣٣٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٥ (١٢٩٣) (صحیح )
1081Sunan Abu Dawood

منبر بنانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ، قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ: أَلَا أَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ، أَوْ يَحْمِلُ عِظَامَكَ ؟ قَالَ: بَلَىفَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مِرْقَاتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا جسم (بڑھاپے کی وجہ سے) جب بھاری ہوگیا تو تمیم داری ؓ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں!، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنادیا۔

Ibn Umar said: When the Prophet ﷺ became fat, Tamim al-Dari said to him: Should I make for you pulpit, Messenger of Allah, that will bear the burden of your body ? He said: Yes. So he made a pulpit consisting of two steps.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٧٦٥) (صحیح )
1082Sunan Abu Dawood

منبر رکھنے کی جگہ کا بیان

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْحَائِطِ كَقَدْرِ مَمَرِّ الشَّاةِ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے منبر اور (قبلہ والی) دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔

Salamah bin al-Akwa said: The space between the pulpit of the Messenger of Allah ﷺ and the wall (of the mosque) was such that a goat could pass.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلا ة ٩١ (٤٩٧)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٩ (٥٠٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦، ٥٤) (صحیح )
1083Sunan Abu Dawood

زوال سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ كَرِهَ الصَّلَاةَ نِصْفَ النَّهَارِ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ: إِنَّ جَهَنَّمَ تُسَجَّرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ مُرْسَلٌ، مُجَاهِدٌ أَكْبَرُ مِنْ أَبِي الْخَلِيلِ، وَأَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي قَتَادَةَ.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایا: جہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل (منقطع) ہے، مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ ؓ سے سماع نہیں ہے۔

Narrated Abu Qatadah (RA) : The Prophet ﷺ disapproved of the offering of prayer at the meridian except on Friday. The Hell-fire is kindled except on Friday. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i. e. the successor is narrating it directly from the Prophet). Mujahid is older than Abu al-Khalil, and Abu al-Khalil did not hear (any tradition from) Abu Qatadah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٨٣) (ضعیف )
1084Sunan Abu Dawood

جمعہ کے وقت کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔

Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to offer the Friday prayer when the sun declined.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٦(٩٠٤)، سنن الترمذی/الجمعة ٩ (٥٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٨، ١٥٠، ٢٢٨) (صحیح )
1085Sunan Abu Dawood

جمعہ کے وقت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔

Salamah bin al-Akwa reported on the authority of his father: We used to offer the Friday prayer along with the Messenger of Allah ﷺ and return (to our homes) while no shade of the walls was seen (at that time).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٢٥ (٤١٦٨)، صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٦٠)، سنن النسائی/الجمعة ١٤ (١٣٩٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٤ (١١٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦، ٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤(١٥٨٧) (صحیح )
1086Sunan Abu Dawood

جمعہ کے وقت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔

Sahl bin Saad said: We had a siesta or lunch after the Friday prayer.

Takhrij · تخریج
والاستئذان ٣٩ (٦٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٤٦٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٥٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦١ (الجمعة ٢٦) (٥٢٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٤ (١٠٩٩) (صحیح )
1087Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَافَلَمَّا كَانَ خِلَافَةُ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.

سائب بن یزید ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر جب عثمان ؓ کی خلافت ہوئی، اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا، چناچہ زوراء ١ ؎ پر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا ٢ ؎۔

Al-Saib bin Yazid said: During the time of the Prophet ﷺ and Abu Bakr and Umar the call to the Friday prayer was first made at the time when the imam was seated on the pulpit (for giving the sermon). When the time of Uthman came, and the people became abundant, Uthman ordered to make a third call to the Friday prayer. It was made on al-Zaura (a house in Madina). The rule of action continued to the same effect.

Notes · وضاحت
١ ؎: زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام۔ ٢ ؎: تکبیر کو شامل کرکے یہ تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان ؓ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لئے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کی سنت کی اتباع کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢)، ٢٢ (٩١٣)، ٢٤ (٩١٥)، ٢٥ (٩١٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٥ (الجمعة ٢٠) (٥١٦)، سنن النسائی/الجمعة ١٥ (١٣٩٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٧ (١١٣٥)، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٠٤٤٩) (صحیح )
1088Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ،وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر ؓ کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔

Saeed bin Yazid said: The call to the (Friday) prayer was made at the gate of the mosque in front of the Messenger of Allah ﷺ when he sat on the pulpit, and of Abu Bakr and Umar. The narrator then repeated the same tradition as reported by Yunus.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩) (منکر) (زہری سے اس حدیث کو سات آدمیوں نے روایت کی ہے مگر کسی کے یہاں بین یدی کا لفظ نہیں ہے )
1089Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ بِلَالٌثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال ؓ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا ١ ؎۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔

Saib said: There was no other muadhdhin (pronouncer) of the Messenger of Allah ﷺ except Bilal. The narrator then reported the tradition to the same effect.

Notes · وضاحت
١ ؎: جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کے پاس بلال، ابن ام مکتوم، ابومحذورہ اور سعد القرط رضی اللہ عنھم پر مشتمل مؤذنین کی ایک جماعت تھی، پھر یہ کہنا کیسے صحیح ہے کہ آپ ﷺ کے پاس بلال ؓ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز کے لئے آپ ﷺ کے پاس بلال ؓ کے علاوہ کوئی اور مؤذن نہیں تھا، کیونکہ ابن ام مکتوم ؓ کے سلسلے میں یہ منقول نہیں ہے کہ وہ جمعہ کی اذان دیتے تھے، اور ابومحذورہ ؓ مکہ مکرمہ کے مؤذن تھے اور سعد القرط ؓ قبا کے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٨٧، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩) (صحیح )
1090Sunan Abu Dawood

جمعہ کی اذان کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ،حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّالسَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أُخْتِ نَمِرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ، وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔

Saib said: There was no other muadhdhin of the Messenger of Allah ﷺ . He then narrated the tradition which is incomplete.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠٨٧، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩) (صحیح )
1091Sunan Abu Dawood

امام خطبہ کے دوران گفتگو کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: اجْلِسُوافَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا، إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے (جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: عبداللہ بن مسعود! تم آجاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، (یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں حسن سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو )

Jabir said: When the Messenger of Allah ﷺ seated himself on the pulpit on a Friday he said, Sit down. Ibn Masud heard that and sat down at the door of mosque, and when the Messenger of Allah ﷺ saw him, he said: Come here, Abdullah bin Masud. Abu Dawud said: This tradition is known as mursal (the successor reports directly from the Prophet, omitting then name of the Companion). The people narrated it from the Prophet ﷺ on the authority of Ata. Makhlad is his teacher.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٦٤) (صحیح )
1092Sunan Abu Dawood

امام کا منبر پر بیٹھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرَغَ أُرَاهُ قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جمعہ کے دن) دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہوجاتا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر (تھوڑی دیر) خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔

Ibn Umar said: The Prophet ﷺ used to deliver two sermons. He would sit down when he ascended the pulpit till he (I think he meant the muadhdhin) finished. He would then stand up and preach, then sit down and say nothing, then stand up and preach.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٧٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٠ (٩٢٨)، صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٦ (الجمعة ١١) (٥٠٦)، سنن النسائی/الجمعة ٣٣ (١٤١٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٥ (١١٠٣)، مسند احمد ٢/٩٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٠ (١٥٩٩) (صحیح )