نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 36 of 55

1093Sunan Abu Dawood

کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَالَ: فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ١ ؎۔

Jabir bin Samurah said: The Messenger of Allah ﷺ used to deliver the sermon standing, then he would sit down, then stand and preach standing. If anyone tells you he preached sitting, he is lying. I swear by Allah that I offered along with more than two thousand prayers.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان میں (٥٠) جمعے بھی میں نے آپ ﷺ کے ساتھ پڑھے ہیں، یہ مراد نہیں کہ میں نے دو ہزار جمعے آپ ﷺ کے ساتھ پڑھے ہیں، کیونکہ دو ہزار جمعے آپ ﷺ کی نبوت کے وقت سے لے کر وفات تک بھی نہیں ہوتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٥٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة ٣٢ (١٤١٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٥ (١١٠٥)، مسند احمد (٥/٨٩، ٩٠، ٩١، ٩٢، ٩٣، ٩٤، ٩٥، ٩٧، ٩٨، ٩٩، ١٠٠، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٩(١٥٩٨) (حسن )
1094Sunan Abu Dawood

کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں (جمعہ کے دن) رسول اللہ ﷺ کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ (تھوڑی دیر) بیٹھتے تھے، (خطبہ میں) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔

Jabir bin Samurah said: The Messenger of Allah ﷺ gave two sermons between which he sat, recited the Quran and gave the people an exhortation.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٩) (حسن )
1095Sunan Abu Dawood

کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُوَسَاقَ الْحَدِيثَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Jabir bin Samurah said: I saw the Prophet ﷺ would deliver the sermon standing, then sit down without saying anything. The narrator then reported the tradition in full.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی الکبری/ الصلاة العیدین ٢٣ (١٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٩٧) (حسن )
1096Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ فَأَنْشَأَ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زُرْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ، فَأَمَرَ بِنَا، أَوْ أَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ فَأَقَمْنَا بِهَا أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا أَوْ قَوْسٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبُو دَاوُد، قَالَ: ثَبَّتَنِي فِي شَيْءٍ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَقَدْ كَانَ انْقَطَعَ مِنَ الْقِرْطَاسِ.

شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس (جسے رسول اللہ ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا، اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا) بیٹھا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگا کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا، ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ ﷺ نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی، پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے، آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے، پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: لوگو! تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لاسکتے، لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہوجاؤ ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔

Shuayb ibn Zurayq at-Taifi said: I sat with a man who had been in the company of the Messenger of Allah ﷺ . He was called al-Hakam ibn Hazn al-Kulafi. He began to narrate a tradition to us saying: I came to the Messenger of Allah ﷺ in a delegation consisting of seven or nine persons. We entered upon him and said: Messenger of Allah, we have visited you, so pray Allah what is good for us. He ordered to give us some dates. The Muslims in those days were weak. We stayed there for several days and offered the Friday prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . He stood leaning on a staff or a bow. He praised Allah and exalted Him in light, pure and blessed words. Then he said: O people, you have no power to obey or you cannot obey what you are ordered. But be straight and give good tidings. Abu Ali said: Did you hear Abu Dawud ? He said: Some of my companions reminded me of some words that were omitted from writing on the paper.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٣٤١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٢) (حسن )
1097Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مِنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے، اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ addressed, he would say: Praise be to Allah, from Whom we seek help and pardon, and we seek refuge in Allah from the evils of our souls. He whom Allah guide has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. And I bear witness that there is no god but Allah, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger. He sent him before the coming of the last hour with truth giving good tidings and warning. He who obeys Allah and His Messenger follows the right path; and he who disobeys them shall harm none except himself, and he will not harm Allah in the least.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٦) ویأتی ہذا الحدیث فی النکاح (٢١١٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبدربہ مجہول ہیں )
1098Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ.

یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب (زہری) سے جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا: ومن يعصهما فقد غوى . ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوگیا، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں ۔

Narrated Ibn Shihab: Yunus asked Ibn Shihab about the address of the Messenger of Allah ﷺ on Friday. He mentioned it in like manner. He added: Anyone who disobeys them (Allah and His Messenger) goes astray. We beseech Allah, our Lord, to make us from those who obey Him and obey His Messenger, and follow what He likes, and abstain from His anger; we are due to Him and we belong to Him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٤٠٧، ١٩٣٥٤) (ضعیف) (یہ حدیث مرسل ہے )
1099Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَقُمْ أَوِ اذْهَبْ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: من يطع الله ورسوله ومن يعصهما تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ١ ؎۔

Adi bin Hatim said: A speaker delivered a speech in the presence of the Prophet ﷺ . He said: Anyone who obeys Allah and His Messenger, and one who disobeys them. He said: Go away, you are a bad speaker.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے بئس الخطيب أنت اس لئے فرمایا کہ ومن يعصهما ( جو ان دونوں کی نافرمانی کرے) کے الفاظ آپ کو ناگوار لگے، کیوں کہ خطیب نے ایک ہی ضمیر میں اللہ اور رسول دونوں کو یکجا کردیا، جس سے دونوں کے درمیان برابری ظاہر ہو رہی تھی، خطیب کو چاہیے تھا کہ وہ اللہ اور رسول دونوں کو الگ الگ ذکر کرے بالخصوص خطبہ میں ایسا نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ خطبہ تفصیل اور وضاحت کا مقام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٠)، سنن النسائی/النکاح ٤٠ (٣٢٨١)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٦، ٣٧٩) (صحیح )
1100Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْبِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ. قَالَتْ: وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.

( ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان ؓ کہتی ہیں میں نے سورة ق رسول اللہ ﷺ کی زبان (مبارک) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔

Bint al-Harith bin al-Numan said: I memorized Surah al-Qaf from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ ; he would recite it in his speech on every friday. Our oven and his oven were same. Abu Dawud said: Rawh bin Ubadah reported on the authority of Shubah the name Bint Harithah bin al-Numan ; and Ibn Ishaq reported the name of Umm Hisham hint Harithah bin al-Numan.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٢)، سنن النسائی/الجمعة ٢٨ (١٤١٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٤٣٢، ٤٣٦، ٤٦٣) (صحیح )
1101Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، آپ ﷺ قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔

Jabir bin Samurah said: The prayer offered by the Messenger of Allah ﷺ was moderate, and the sermon given by him was (also) moderate. He would recite a few verses from the Quran and exhort the people.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٣٥ (١٤١٩)، صلاة العیدین ٢٥ (١٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٥ (١١٠٦)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ٩٨، ١٠٢، ١٠٦، ١٠٧) (حسن )
1102Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتِهَا، قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَؤُهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.

عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ؓ وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورة ق کو رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب، اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان عنہا سے روایت کیا ہے۔

Umrah reported on the authority of her sister: I memorized Surah al-Qaf from the mouth of the Messenger of Allah ﷺ ; he used to recite it on every friday. Abu Dawud said: This tradition has been narrated in a similar way by Yahya bin Ayyub, Ibn Abu Ar-Rijal, from Yahya bin Saeed, from Umrah from Umm Hisham hint Harithah bin al-Numan.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٠٠، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣) (صحیح )
1103Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ پڑھنا

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا، بِمَعْنَاهُ.

عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنی بہن ام ہشام ؓ سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں، اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔

This tradition has also been transmitted to the same effect through a different chain of narrators by Umrah from her sister Umrah daughter of Abdur-Rahman who was older than her.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٠٠، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣) (صحیح )
1104Sunan Abu Dawood

دوران خطبہ منبر پر کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اٹھانا بُرا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: رَأَى عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ وَهُوَ يَدْعُو فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ عُمَارَةُ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ. قَالَ زَائِدَةُ: قَالَ حُصَيْنٌ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا يَزِيدُ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.

حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن (منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے (یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے (جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔

Umarah bin Ruwaibah said that he saw Bishr bin Marwan (on the pulpit) praying on Friday (by raising his hands). Umarah said: May Allah reject these hands! I have seen the Messenger of Allah ﷺ on the pulpit gesturing no more than this pointing with his forefinger.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٤ (الجمعة ١٩) (٥١٥)، سنن النسائی/الجمعة ٢٩ (١٤١٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٥، ١٣٦، ٢٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠١ (١٦٠١) (صحیح )
1105Sunan Abu Dawood

دوران خطبہ منبر پر کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اٹھانا بُرا ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ،عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَعَقَدَ الْوُسْطَى بِالْإِبْهَامِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر، بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔

Narrated Sahl ibn Saad: I never saw the Messenger of Allah ﷺ raising his hands and praying on the pulpit or otherwise. But I saw him saying (doing) this way, and he would point with his forefinger making a circle by joining the middle finger with his thumb.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن بن اسحاق اور عبد الرحمن بن معاویہ پر کلام ہے )
1106Sunan Abu Dawood

مختصرخطبہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبوں میں اختصار کرنے کا حکم دیا ہے۔

Narrated Ammar ibn Yasir: The Messenger of Allah ﷺ commanded us to shorten the speeches.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢٠) (صحیح )
1107Sunan Abu Dawood

مختصرخطبہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِنَّمَا هُنَّ كَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ.

جابر بن سمرہ سوائی ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خطبے کو طول نہیں دیتے تھے، وہ بس چند ہی کلمات ہوتے تھے۔

Narrated Jabir ibn Samurah as-Suwai: The Messenger of Allah ﷺ would not lengthen the sermon on Friday. He would say a few words.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢١٩٢) (حسن )
1108Sunan Abu Dawood

خطبہ کے وقت امام کے قریب بیٹھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ قَتَادَةُ: عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ،عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: احْضُرُوا الذِّكْرَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کردیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے ۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: Attend the sermon (on Friday) and sit near the imam, for a man keeps himself away until he will be left behind at the time of entering Paradise though he enters it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠، ١١) (حسن )
1109Sunan Abu Dawood

اگر کوئی واقعہ پیش آجائے تو امام خطبہ موقوف کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ فَأَخَذَهُمَا فَصَعِدَ بِهِمَا الْمِنْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15، رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ، ثُمَّ أَخَذَ فِي الْخُطْبَةِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسن اور حسین ؓ دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ ﷺ منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا ہے: إنما أموالکم وأولادکم فتنة (التغابن: ١٥) تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا ، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کردیا۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Messenger of Allah ﷺ delivered a speech to us; meanwhile al-Hasan and al-Husayn came upon there stumbling, wearing red shirts. He came down from the pulpit, took them and ascended it with them. He then said: Allah truly said: Your property and your children are only trial (Ixiv. 15). I saw both of them, and I could not wait. Afterwards he resumed the speech.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٤)، سنن النسائی/الجمعة ٣٠ (١٤١٤)، والعیدین ٢٧ (١٥٨٦)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٤) (صحیح )
1110Sunan Abu Dawood

خطبہ کے دوران گو ٹھ مار کر بیٹھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.

معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ١ ؎ (گوٹ مار کر بیٹھنے سے) منع فرمایا ہے ٢ ؎۔

Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ prohibited to sit on hips by erecting feet, sticking them to the stomach and holding them with hands on Friday while the imam is delivering the sermon.

Notes · وضاحت
١ ؎: حبوۃ (گوٹ مار کر بیٹھنے) کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، اور انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے، اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ بنا لے۔ ٢ ؎: اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند زیادہ آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے، بسا اوقات وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور آدمی کو اس کی خبر نہیں ہو پاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٣ (الجمعة ١٨) (٥١٤)، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن )
1111Sunan Abu Dawood

خطبہ کے دوران گو ٹھ مار کر بیٹھنا

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجَمَّعَ بِنَا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِينَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَشُرَيْحٌ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ،وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ.

یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ ؓ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک ؓ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔

Yala bin Shaddad bin Aws said: I came to Muawiyah in Jerusalem. He led us in the Friday prayer. I saw that most of the people in the mosque were the Companions of the Prophet ﷺ . I saw them sitting in ihtiba condition, i. e. sitting on hips erecting the feet and sticking them to the stomach and holding them with hands or tying them with a cloth to the back, while the imam was giving sermon. Abu Dawud said: Ibn Umar used to sit in ihtiba position while the imam gave the Friday sermon. Anas bin Malik (RA), Shuraih, Sasaah bin Sawhan, Saeed bin al-Musayyib, Ibrahim al-Nakhai, Makhul, Ismail, Ismail bin Muhammad bin Saad, and Nuaim bin Sulamah said: There is no harm in sitting in ihtiba position. Abu Dawud said: I do not know whether anyone considered it disapproved except Ubadah bin Nasayy.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں )
1112Sunan Abu Dawood

خطبہ کے وقت گفتگو ممنوع ہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قُلْتَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں (کسی سے) کہا: چپ رہو، تو تم نے لغو کیا ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When you tell (your brother on Friday) to be silent while the imam is giving the sermon you are guilty of idle talk.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٢٢ (١٤٠٢، ١٤٠٣)، والعیدین ٢١ (١٥٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٤٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٣٩٤)، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥١ (الجمعة ١٦) (٥١٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٦ (١١١٠)، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٢٧٢، ٢٨٠، ٣٩٣، ٣٩٦، ٤٨٥، ٥١٨، ٥٣٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٨٩) (صحیح )