عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ١ ؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Three types of people attend Friday prayer; One is present in a frivolous way and that is all he gets from it; another comes with a supplication, Allah may grant or refuse his request as He wishes; another is present silently and quietly with-out stepping over a Muslim or annoying anyone, and that is an atonement for his sins till the next Friday and three days more, the reason being that Allah, the Exalted, says: He who does a good deed will have ten times as much (vi. 160).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨١، ٢١٤) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہوجائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you becomes defiled during prayer, he should hold his nose and then turn away. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammad bin Salamah and Abu Usamah from Hisham on the authority of his father from the Prophet ﷺ . They did not mention the name of Aisha (RA) .
Notes · وضاحت
١ ؎: ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں گے کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے کیوں کہ شرم کی بات (ہوا خارج ہوجانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٠٤٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٨ (١٢٢٢) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اٹھ کر نماز پڑھو ١ ؎۔
Jabir said: I came (to the mouse) while the Prophet ﷺ was giving the (Friday) sermon. He asked: Did you pray, so-and-so? He replied: No. He said: Stand and pray.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں سلیک غطفانی ؓ (مسجد میں) آئے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم نے کچھ پڑھا؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو ۔
Jabir and Abu Salih reported on the authority of Abu Hurairah (RA) : Sulaik al-Ghatafani came (to the mosque) while the Messenger of Allah ﷺ was giving the (Friday) sermon. He asked him: Did you pray something ? He said: No. He said: Offer two rakahs and make them short.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٧ (١١١٤)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٤، ١٢٣٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٦) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ سلیک ؓ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ١ ؎۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Jabir bin Abdullah. This version adds: He (the Prophet) turned to the people and said: When one of you comes (on Friday) while the imam is preaching, he should pray two rakahs and make them short.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ٹکڑے سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم سلیک غطفانی ؓ کے ساتھ خاص تھا نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان کا تعاون کریں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٣٩)، مسند احمد (٣/٢٩٧) (صحیح )
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے صحابی عبداللہ بن بسر ؓ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص (اسی طرح) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے ۔
Abu al-Zahiriyyah said: We were in the company of Abdullah bin Busr, the Companion of the Prophet ﷺ , on a Friday. A man came and stepped over the people. Abdullah bin Busr said: A man came and stepped over the people while the Prophet ﷺ was giving the sermon on Friday. The Prophet ﷺ said: Sit down, you have annoyed (the people).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٢٠ (١٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥١٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٨، ١٩٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: When any of you dozes in the mosque (on Friday), he should change his place.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٢ (الجمعة ٢٧) (٥٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢، ٣٢، ١٣٥) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ (خطبہ دے کر) منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرلیتا، یعنی اپنی گفتگو مکمل کرلیتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے، یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: I saw the Messenger ﷺ would descend from the pulpit and a man stop him for his need. He would remain standing with him until his need was fulfilled. Then he would stand and pray. Abu Dawud said: This tradition is not well known from the narrator Thabit. Jarir bin Hazim is the only narrator of this tradition.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٦ (الجمعة ٢١) (٥١٧)، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٨٩ (١١١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٢٧) (ضعیف) (والصحیح ہو الحدیث رقم: ٢٠١) (جریر بن حازم سے وہم ہوا ہے، اصل واقعہ عشاء کا ہے نہ کہ جمعہ کا، جیسا کہ حدیث نمبر: ٢٠١ میں ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone obtains a rakah in the prayer (along with the imam), he has obtained the whole prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: سنن ابن ماجہ میں باب ماجاء فیمن أدرک من الجمع ۃ رکع ۃ کے تحت تین حدیثیں ہیں، پہلی بسند ابن ابی ذئب عن الزہری عن ابی سلمہ و سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ ۃ عن النبی ﷺ کا لفظ یہ ہے: من أدرک من الجمعة ركعة فليصل إليها أخرى اور دوسری حدیث بطریق ابن عیینہ عن الزہری عن ابی سلم ۃ عن ابی ہریرہ ۃ عن النبی ﷺ مثل سیاق ابی داود مروی ہے، اور تیسری روایت بسند یونس بن یزید الأیلی عن الزہری عن سالم عن ابن عمرعن النبی ﷺ ہے اور اس کا سیاق یہ ہے: من أدرک ركعة من صلاة الجمعة أو غيرها فقد أدرک الصلاة اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت سے کم پائے گا تو اس کی جمعہ کی نماز فوت ہوجائے گی، یعنی وہ جمعہ کے بدلے ظہر کی چار رکعتیں پڑھے گا، یہی جمہور کا مذہب ہے، اور ابوداود اور ابن ماجہ کی تبویب سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر پوری ایک رکعت نہ پائے، مثلاً: دوسری رکعت کے سجدے میں شریک ہو، یا قعدہ (تشہد) میں تو جمعہ نہیں ملا، اب وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے، بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، اور بعض کے نزدیک جمعہ میں شامل ہونے والا اگر ایک رکعت سے کم پائے یعنی جیسے رکوع کے بعد سے سلام پھیرنے کے وقت کی مدت تو وہ جمعہ دو رکعت ادا کرے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے:ما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا ( کہ امام کے ساتھ جو ملے وہ پڑھو اور جو نہ ملے اس کو پوری کرلو) تو جمعہ میں شریک ہونے والا نماز جمعہ ہی پڑھے گا، اور یہ دو رکعت ہی ہے، امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے، اور اس کی تائید مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے کی ہے۔ ( ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذی علی سنن الترمذی حدیث رقم: ٥٢٤ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن النسائی/المواقیت ٣٠ (٥٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٤٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣ (١٥)، دی/الصلاة ٢٢(١٢٥٦، ١٢٥٧) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں اور جمعہ کے روز سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑجاتا تو (بھی) انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔
Al-Numan bin Bashir said: The Messenger of Allah ﷺ used to recite at the twoEidds (festivals) and on Friday, Glorify the name of your most high Lord. (87) and Has the story of the overwhelming reached you? (88) He said: When a festival (Id) and a Friday coincided, he recited them both (at the two prayers).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣) (٥٣٣)، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٥)، والعیدین ٣١ (١٥٩١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١٢٠)، ١٥٧ (١٢٨١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٣، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٣ (١٤٢٥) (صحیح )
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن سورة الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
Al-Dahhak bin Qais asked al-Numan bin Bashir: What did the Messenger of Allah ﷺ recited on Friday after reciting the Surah al-Jumuah (62). He replied: He used to recite, Had the story of overwhelming event reached you ? (88).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٤) سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٧)، دی/الصلاة ٢٠٣ (١٦٠٧، ١٦٠٨) (صحیح )
ابن ابی رافع کہتے ہیں ابوہریرہ ؓ نے نماز جمعہ پڑھائی تو (پہلی رکعت میں) سورة الجمعہ اور دوسری میں إذا جاءک المنافقون پڑھی، ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے (نماز جمعہ میں) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی ؓ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
Ibn Abi Rafi said: Abu Hurairah led us in the Friday prayer and recited Surah al-Jumuah and When the hypocrites come to you (63) in the last rakah. He said: I met Abu Hurairah when he finished the prayer and said to him: You recited the two surah that Ali used to recite at Kufah. Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting them on Friday.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٧ (الجمعة ٢٢) (٥١٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ١٤١٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز جمعہ میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite in the Friday prayer: Glorify the name of your most high Lord (Surah 87) and Has the story of the overwhelming event reached you? (Surah 88).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٣)، (تحفة الأشراف: ٤٦١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧، ١٣، ١٤، ١٩) (صحیح )
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، (جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی کیا ہے۔
Nafi said: Ibn Umar saw a man praying two rakahs after the Friday prayer on the same place (where he offered the Friday prayer). He pushed him and said: Do you offer four rakahs of Friday prayer ? Abdullah (bin Umar) used to pray two rakahs in his house after the Friday prayer, and he used to say: This is how the Messenger of Allah ﷺ did.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٤٣ (١٤٣٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٠ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٩ (٩٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٢٨)، والجمعة ١٨ (٨٨٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٩ (الجمعة ٢٤) (٥٢٢)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٣(٦٩)، مسند احمد (٢/٤٤٩، ٤٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٤(١٤٧٧) (صحیح )
نافع کہتے ہیں ابن عمر ؓ جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ اسے پڑھتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Nafi said: Ibn Umar used to lengthen his prayer before the Friday prayer and would offer two rakahs after it in his house. He used to say that the Messenger of Allah ﷺ would do that.
ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق، جسے معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی، جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو تم نے کیا ہے، اسے پھر دوبارہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ، جب تک کہ بات نہ کرلو یا نکل نہ جاؤ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کرلی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے ١ ؎۔
Umar bin Ata bin Abu al-Khuwar said that Nafi bin Jubair sent him to al-Saib bin Yazid bin Ukht Namir to ask him about something Muawiyyah had seen him do in prayer. He said: I offered the Friday prayer along with him in enclosure. When I uttered the salutation I stood up in my place and prayed. When he went in, he sent me a message saying: Never again do what you have done. When you pray the Friday prayer, you must not join another prayer to it till you have engaged in conversation or gone out, for the Prophet of Allah ﷺ gave the precise command not to join on prayer till you have engaged in conversation or gone out.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے بعد سنت گھر آ کر پڑھی جائے، اگر مسجد میں پڑھی جائے تو دوسری جگہ ہٹ کر پڑھے، یا درمیان میں کسی سے کچھ باتیں کرلے، یا کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرے جس سے لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ فرض اور سنت میں فرق و امتیاز ہوگیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٥، ٩٩) (صحیح )
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ جب مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینے میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر واپس آتے اور (گھر میں) دو رکعتیں ادا کرتے، مسجد میں نہ پڑھتے، ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایسا کرتے تھے۔
Ata said: When Ibn Umar offered the Friday prayer in Makkah he would go forward and pray two rakahs, he would then go forward and pray four rakahs; but when he was in Madina, he offered the Friday prayer, then returned to his house and prayed two rakahs, not praying them in the mosque. Someone mentioned this to him and he replied that the Messenger of Allah ﷺ used to do it.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (محمد بن صباح کی روایت میں ہے) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو (گھر پر) دو رکعت اور پڑھو۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying (this is the version of the narrator Ibn al-Sabbah): If anyone of you prays after the Friday prayer, he should say for rakahs. According to the version of the narrator Ibn Yunus, the tradition goes: When you have offered the Friday prayer, pray after it four rakahs. He said: My father said to me: My son, if you have said two rakahs in the mosque, then you comes to your house, pray two rakahs more.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٥٩٠، ١٢٦٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨١)، سنن الترمذی/الجمعة ٢٤ (٥٢٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩٥ (١١٣٠)، مسند احمد (٢/٢٤٩، ٤٤٢، ٤٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٧ (١٦١٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray two rakahs in his house after the Friday prayer. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted in a similar way by Abdullah bin Dinar from Ibn Umar.