نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 38 of 55

1133Sunan Abu Dawood

جمعہ کے بعد نفل نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ، قَالَ: فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ، فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ: مِرَارًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ.

ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا: آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بارہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Ibn Jurayj said: Ata told me that he saw Ibn Umar pray after the Friday prayer. He moved a little from the place where he offered the Friday prayer. Then he would pray two rakahs. He then walked far away from that place and would offer four rakahs. I asked Ata: How many times did you see Ibn Umar do that? He replied: Many times. Abu Dawud said: This has been narrated by AbdulMalik ibn Abu Sulayman, but did not narrate it completely.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الجمعة ٤٢ (١٤٢٩)، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٩) (صحیح )
1134Sunan Abu Dawood

عیدین کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ: مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ ؟قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ.

انس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) ان کے لیے (سال میں) دو دن ہیں جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں تو آپ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ ، تو ان لوگوں نے کہا: جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں: ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن ۔

Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, the people had two days on which they engaged in games. He asked: What are these two days (what is the significance)? They said: We used to engage ourselves on them in the pre-Islamic period. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has substituted for them something better than them, the day of sacrifice and the day of the breaking of the fast.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین (١٥٥٧)، مسند احمد (٣/١٠٣، ١٧٨، ٢٣٥، ٢٥٠) (صحیح )
1135Sunan Abu Dawood

عید کی نماز کا وقت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ.

یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر ؓ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔

Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : Yazid ibn Khumayr ar-Rahbi said: Abdullah ibn Busr, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ came out along with the people on the day of the breaking of the fast or on the day of sacrifice (to offer the prayer). He disliked the delay of the imam, and said: We would finish (our Eid prayer) at this moment, that is, at the time of forenoon.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٠ (١٣١٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٦) (صحیح )
1136Sunan Abu Dawood

عورتوں کا نماز عیدین کے لئے جانا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ، عَنْمُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِقِيلَ: فَالْحُيَّضُ ؟ قَالَ: لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَقَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ: تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا.

ام عطیہ ؓ کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن (عید گاہ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں ، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے ۔

Umm Atiyyah said: The Messenger of Allah ﷺ commanded us to bring out the secluded women on the day of Eid (festival). He was asked: What about the menstruous women ? He said: They should be present at the place of virtue and the supplications of the Muslims. A woman said: Messenger of Allah, what should we do it one of us does not possess an outer garment ? He replied: Let her friend lend a part of her garment.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٣ (٣٢٤)، والصلاة ٢ (٣٥١)، والعیدین ١٥ (٩٧٤)، ٢٠ (٩٨٠)، ٢١ (٩٨١)، والحج ٨١ (١٦٥٢)، صحیح مسلم/العیدین ١ (٨٩٠)، والجھاد ٤٨ (١٨١٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧١ (٥٣٩)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضہ ٢٢ (٣٩٠)، والعیدین ٢ (١٥٥٩)، ٣ (١٥٦٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦٥ (١٣٠٨)، (تحفة الأشراف: (١٨٠٩٥، ١٨١٠١، ١٨١١٠، ١٨١١٢، ١٨١١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٤، ٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٣ (١٦٥٠) (صحیح )
1137Sunan Abu Dawood

عورتوں کا نماز عیدین کے لئے جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيَّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَوَلَمْ يَذْكُرْ: الثَّوْبَ، قَالَ: وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ امْرَأَة تُحَدِّثُهُ، عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى، قَالَتْ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ.

اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔

This tradition has also been narrated by Umm Atiyyah in a similar manner through a different chain. She added: The menstruating women should keep themselves away from the place of prayer of the Muslims. She did not mention the garment. She narrated this tradition from Hafsah mentioning a woman who asked about another woman saying: O Messenger of Allah. . . . She then reported the tradition like that narrated by Musa mentioning the garment.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٥) (صحیح )
1138Sunan Abu Dawood

عورتوں کا نماز عیدین کے لئے جانا

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ،عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَتْ: وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ.

اس طریق سے بھی ام عطیہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ١ ؎۔

This tradition has also been narrated by Umm Atiyyah though a different chain of transmitters. She said: We were commanded to go out (for offering the Eid prayer). She further said: The menstruating women stood behind the people and they uttered the takbir (Allah is most great) along with the people.

Notes · وضاحت
١ ؎: ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدین میں عورتوں کو لے جانا سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٣٦، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٥، ١٨١١٤، ١٨١٢٨) (صحیح )
1139Sunan Abu Dawood

عورتوں کا نماز عیدین کے لئے جانا

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، وَمُسْلِمٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّوَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ.

ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن خطاب ؓ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ (آ کر) دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے، نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔

Umm Atiyyah said: When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, he gathered the women of Ansar in a house, and sent to us (to them) Umar bin al-Khattab. He stood at the door and gave the salutation to us and we returned it (the salutation) to him. Thereupon, he said: I am the messenger of the Messenger of Allah ﷺ to you. He commanded us to bring out the menstruating women and the virgins for both the Eid prayers, and that the Friday prayer is not obligatory on us. He prohibited us to accompany the funeral procession.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٠)، وقد أخرجہ: (٥/٨٥، ٦/٤٠٨) (ضعیف )
1140Sunan Abu Dawood

عید کے دن خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. ح وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى، مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے، ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا، تو ابو سعید خدری ؓ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا: اس شخص نے اپنا حق ادا کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔

Abu Saeed al-Khudri said: Marwan brought out the pulpit onEidd. He began preaching before the prayer. A man stood and said: You opposed the sunnah, O Marwan. You brought out the pulpit on theEidd, it was not brought out before: and you began preaching before the prayer. Abu Saeed al-Khudri said: Wh is this (man) ? They (people) said: So-and so son of so-and-so. He has performed his duty. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who observes and evil deed should change it with his hand if he can do so; if he cannot do, (he should change it) then with his tongue; if he cannot do then (he should change it) with his heart, and that is the weakest degree of the faith.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٠ (٤٩)، سنن الترمذی/الفتن ١١ (٢١٧٢)، سنن النسائی/الإیمان ١٧ (٥٠١١، ٥٠١٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٥ (١٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠، ٢٠، ٤٩، ٥٢، ٥٣، ٥٤، ٩٢)، وأعادہ المصنف فی الملاحم (٤٣٤٠) (صحیح )
1141Sunan Abu Dawood

عید کے دن خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ تُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ. قَالَ: تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: فَتَخَتَهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم ﷺ فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال ؓ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال ؓ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں، کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کچھ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ stood on the day of the breaking of the fast (Id) and offered prayer. He began the prayer before the sermon. He then addressed the people. When the Prophet ﷺ finished the sermon, he descended (from the pulpit) and went to women. He gave them an exhortation while he was leaning on the hand of Bilal. Bilal was spreading his garment in which women were putting alms; some women put their rings and others other things.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٧ (٩٦١)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین ٦ (١٥٦٣)، ١٩ (١٥٧٦)، مسند احمد (٣/٣١٤، ٣١٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٨ (١٦٤٤) (صحیح )
1142Sunan Abu Dawood

عید کے دن خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَشَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ. قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: أَكْبَرُ عِلْمِ شُعْبَةَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ.

عطاء کہتے ہیں: میں ابن عباس ؓ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے، پھر نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ (اس میں یہ بھی ہے کہ) آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ (اپنے زیورات وغیرہ بلال کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out on Eid (the festival day). He first offered the prayer and then delivered the sermon. He then went to women, taking Bilal with him. The narrator Ibn Kathir said: The probable opinion of Shubah is that he commanded them to give alms. So they began to put (their jewellery).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٦٣)، والعیدین ١٦ (٩٧٥)، ١٨ (٩٧٧)، والزکاة ٣٣ (١٤٤٩)، والنکاح ١٢٥ (٥٢٤٩)، واللباس ٥٦ (٥٨٨٠)، والاعتصام ١٦ (٧٣٢٥)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٤)، سنن النسائی/العیدین ١٣ (١٥٧٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٥ (١٢٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٦، ٢٤٣، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٧، ٣٦٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٨ (١٦٤٤)، و انظر ما یأتي برقم (١١٥٩) (صحیح )
1143Sunan Abu Dawood

عید کے دن خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِفَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ ﷺ ان کی طرف چلے اور بلال ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔

The above mentioned tradition has also been narrated by Ibn Abbas to the same effect through a different chain of transmitters. This version adds: He (the Prophet) thought that women could not hear (his sermon). So he went to them and Bilal was in his company. He gave them exhortation and commanded them to give alms. Some women put their ear-rings and other their rings in the garment of Bilal.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٣) (صحیح )
1144Sunan Abu Dawood

عید کے دن خطبہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُعْطِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَجَعَلَ بِلَالٌ يَجْعَلُهُ فِي كِسَائِهِ، قَالَ: فَقَسَمَهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی اسی حدیث میں ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی (صدقہ میں) دینے لگیں اور بلال ؓ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں، پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کردیا۔

The above mentioned tradition has also bee transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators. This version adds: The women began to give their ear-rings and rings in alms. Bilal began to collect them in his garment. He (the Prophet) then distributed them among the poor Muslims.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٤٢، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٣) (صحیح )
1145Sunan Abu Dawood

کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنُوِّلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو عید کے دن ایک کمان دی گئی تو آپ ﷺ نے اس پر (ٹیک لگا کر) خطبہ دیا۔

Al-Bara said: Someone presented a bow to the Prophet ﷺ on the Eid (festival). So he preached leaning on it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٢، ٣٠٤) (حسن )
1146Sunan Abu Dawood

عید کی نماز کے لئے اذان نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِفَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَتَاهُنَّ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں اور اگر رسول اللہ ﷺ کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا ١ ؎، رسول اللہ ﷺ اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا، پھر آپ ﷺ نے ہمیں صدقے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں (یعنی بالیوں اور ہاروں) کی طرف اشارے کرنے لگیں، وہ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا چناچہ وہ ان کے پاس آئے پھر (صدقہ لے کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس لوٹ آئے۔

Abdur-Rahman bin Abis said: A man asked Ibb Abbas (RA) : Have you been present along with the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: Yes. Had there been no dignity for me in his eyes, I would not have been present with him due to my minority. Then the Messenger of Allah ﷺ came to the point that was near the house of Kathir bin al-Salt. He prayed and afterwards preached. He (Ibn Abbas) did not mention the adhan (call to prayer) and the iqamah. He then commanded to give alms. The women began to point to their ears and throats (to give their jewelry in alms).

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے قرابت کا شرف حاصل تھا اس لئے مجھے آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع ملا ورنہ میری کمسنی کی وجہ سے لوگ مجھے آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا نہ ہونے دیتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٦٣)، العیدین ١٦ (٩٧٥)، ٨١ (٩٧٧)، النکاح ١٢٥ (٥٢٤٩)، الاعتصام ١٢٥ (٥٢٤٩)، سنن النسائی/العیدین ١٨ (١٥٧٦)، (تحفة الأشراف: ٥٨١٦) (صحیح )
1147Sunan Abu Dawood

عید کی نماز کے لئے اذان نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الْعِيدَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ. وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، أَوْ عُثْمَانَ، شَكَّ يَحْيَى.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان ؓ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ offered the Eid prayer without the adhan and the iqamah. Abu Bakr and Umar or Uthman also did so. The narrator Yahya is doubtful about Uthman.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٢)، ١٩ (٩٧٨)، التفسیر ٣ (٤٨٩٥)، صحیح مسلم/العیدین ٨ (٨٨٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٥ (١٢٧٤)، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٨) (صحیح )
1148Sunan Abu Dawood

عید کی نماز کے لئے اذان نہیں ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک دو بار نہیں (بارہا) عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔

Jabir bin Samurah said: I prayed the Eid prayer with the Prophet ﷺ not once or twice (but many times) without the adhan and the iqamah.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العیدین (٨٨٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٧ (الجمعة ٣٢) (٥٣٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٩٤، ١٠٧) (حسن صحیح )
1149Sunan Abu Dawood

عیدین کی تکبیرات کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would say the takbir (Allah is most great) seven times in the first rakah and five times in the second rakah on the day of the breaking of the fast and on the day of sacrifice (on the occasion of both the Eid prayers, the two festivals).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہی سارے محدثین، امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا مذہب ہے، لیکن امام مالک اور امام احمد کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیریں تکبیر تحریمہ ملا کر ہیں، اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قیام کے علاوہ، اور امام شافعی کے نزدیک پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ زائد سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ زائد پانچ تکبیرات (اور سبھی کے نزدیک یہ تکبیریں دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے کہی جائیں گی)، امام ابوحنیفہ کے نزدیک پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیریں ہیں، لیکن اس کے لئے کوئی مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٦ (١٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٥، ٧٠) (صحیح )
1150Sunan Abu Dawood

عیدین کی تکبیرات کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: سِوَى تَكْبِيرَتَيِ الرُّكُوعِ.

اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ، اس میں ہے (یہ تکبیریں) رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔

The above mentioned tradition has also been narrated by Ibn Shihab through a different chain of transmitters to the same effect. This version adds: Except the two takers pronounced at the time of the bowing.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦٤٢٥) (صحیح )
1151Sunan Abu Dawood

عیدین کی تکبیرات کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَالتَّكْبِيرُ فِي الْفِطْرِ سَبْعٌ فِي الْأُولَى، وَخَمْسٌ فِي الْآخِرَةِ، وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر (زوائد) کے بعد ہے ۔

Abd bin Amr bin al-As said: The Prophet of Allah ﷺ said: There are seven takers in the first rakah and five in the second rakah of the prayer offered on the day of the breaking of the fast.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٦ (١٢٧٨)، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٠) (حسن )
1152Sunan Abu Dawood

عیدین کی تکبیرات کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي يَعْلَى الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ الْأُولَى سَبْعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا: سَبْعًا وَخَمْسًا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر الله أكبر کہتے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے، ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ used to say on the day of the breaking of the fast seven takbirs in the first rakah and then recite the Quran, and utter the takbir (Allah is most great). Then he would stand, and utter the takbir four times. Thereafter he would recite the Quran and bow. Abu Dawud said: This has been narrated by Waki and Ibn al-Mubarak. Their version goes: Seven (in the first rakah) and five (in the second).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١٥١، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٨) (حسن صحیح) (لیکن أربعاً کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ خمساً ہے )