مکحول کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟ تو ابوموسیٰ نے کہا: چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح، یہ سن کر حذیفہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اس پر ابوموسیٰ نے کہا: میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا، جہاں پر میں حاکم تھا، ابوعائشہ کہتے ہیں: اس (گفتگو کے وقت) میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔
Abu Aisha (RA) said: Saeed bin al-As asked Abu Musa al-Ashari and Hudhaifah bin al-Yaman: How would the Messenger of Allah ﷺ utter the takbir (Allah is most great) in the prayer of the day of sacrifice and of the breaking of the fast. Abu Musa said: He uttered takbir four times as he did at funerals. Hudhaifah said: He is correct. Then Abu Musa said: I used to utter the takbir in a similar way when I was the governor of Basrah. Abu Aisha (RA) said: I was present there when Saeed bin al-As asked.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٦) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠٤٦/م )
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابو واقد الیثی ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: آپ ﷺ ان میں ق والقرآن المجيد اور اقتربت الساعة وانشق القمر پڑھتے تھے۔
Ubaid Allah bin Abdullah bin Utbah bin Masud said: Umar bin al-Khattab asked Abu Waqid al-Laithi: What did the Messenger of Allah ﷺ recite during the prayer on the day of sacrifice and on the breaking of the fast ? He replied: He recited at both of them Surah al-Qaf, By the Glorious Quran [50] and the Surah The Hour is nigh (54).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العیدین ٣ (٨٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣)، (٥٣٤، ٥٣٥)، سنن النسائی/العیدین ١١ (١٥٦٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٧ (١٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ العیدین ٤ (٨)، مسند احمد (٥/٢١٧، ٢١٨، ٢١٩) (صحیح )
عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn as-Saib: I attended the Eid prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . When he finished the prayer, he said: We shall deliver the sermon; he who likes to sit for listening to it may sit and he who likes to go away may go away. Abu Dawud said: this is a mursal tradition (i. e. the successor Ata directly reporting from the Prophet ﷺ and omitting the link of the Companions).
ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں، روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔
Narrated Abu Umayr ibn Anas (RA) : Abu Umayr reported on the authority of some of his paternal uncles who were Companions of the Prophet ﷺ : Some men came riding to the Prophet ﷺ and testified that they had sighted the new moon the previous day. He (the Holy Prophet), therefore, commanded the people to break the fast and to go out to their place of prayer in the morning.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العیدین ١ (١٥٥٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٧، ٥٨) (صحیح )
بکر بن مبشر انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے ١ ؎۔
Narrated Bakr ibn Mubashshir al-Ansari (RA) : I used to go to the place of prayer on the day of the breaking of the fast, and on the day of sacrifice along with the Companions of the Messenger of Allah ﷺ . We would walk through a valley known as Batn Bathan till we came to the place of prayer. Then we would pray along with the Messenger of Allah ﷺ and return through Batn Bathan to our house.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تو یہ حدیث ضعیف ہے دوسرے اس کا تعلق پچھلے باب سے ہے، سنن ابوداود کے بعض نسخوں میں پچھلے ہی باب میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٦) (ضعیف) (اسحاق بن سالم مجہول راوی ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال ؓ بھی تھے، آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار (بلال ؓ کے کپڑے میں نکال نکال کر) ڈالنے لگیں۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ came out on the day of the breaking of the fast and prayed two rakahs, before and after which he did not pray. He then went to women, taking Bilal with him, and commanded them to given alms. So one began to put her ear-ring and another her necklace (in the garment of Bilal).
عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر پلٹی اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی ١ ؎۔
Abbad bin Tamim (al-Muzini) reported on the authority of his uncle: The Messenger of Allah ﷺ took the people out (to the place of prayer) and prayed for rain. He led them in two rakahs of prayer in the course of which he recited from the Quran in a loud voice. He turned around his cloak and raised his hands, prayed for rain and faced the qiblah
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہوگیا اور نیچے کا اوپر، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہوگیا اور بایاں کنارہ داہنی طرف، اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آجائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آجائے۔
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ) سے (جو صحابی رسول تھے) سنا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقا کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہے۔ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔
Abbad bin Tamim al Mazini said on the authority of his uncle (Abdullah bin Zaid b Asim) who was a Companion of the Messenger of Allah ﷺ : One day the Messenger of Allah ﷺ went out to make supplication for rain. He turned his back towards the people praying to Allah, the Exalted. The narrator Sulaiman bin Dawud said: He faced the qiblah and turned around his cloak and then offered two rakahs of prayer. The narrator Ibn Abi Dhib said: He recited from the Quran in both of them. The version of Ibn al-Sarh adds: By it he means in a loud voice.
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم (ابن شہاب زہری) سے سابقہ سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کرلیا، پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔
The above-mentioned tradition has also been transmitted by Muhammad bin Muslim through a different chain of narrators. But there is no mention of prayer in this version. The version adds: He turned around his cloak, putting its right side on his left shoulder and its left side on his right shoulder. Thereafter he made supplication to Allah.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١١٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٧) (صحیح )
عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقا پڑھی، آپ ﷺ کے اوپر ایک سیاہ چادر تھی تو آپ نے اس کے نچلے کنارے کو پکڑنے اور پلٹ کر اسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا جب وہ بھاری لگی تو اسے اپنے کندھے ہی پر پلٹ لیا۔
Abdullah bin Zaid said: The Messenger of Allah (pbuh)prayed for rain wearing a black robe with ornamented border. The Messenger of Allah (pbuh)wanted to reverse it from bottom to top by holding the bottom. But when it was too heavy he turned it round on his shoulders.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١١٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٧) (صحیح )
عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف بارش طلب کرنے کی غرض سے نکلے، جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے پھر اپنی چادر پلٹی۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ishaq ibn Abdullah ibn Kinanah reported: Al-Walid ibn Utbah or (according to the version of Uthman) al-Walid ibn Uqbah, the then governor of Madina, sent me to Ibn Abbas to ask him about the prayer for rain offered by the Messenger of Allah ﷺ . He said: The Messenger of Allah ﷺ went out wearing old clothes in a humble and lowly manner until he reached the place of prayer. He then ascended the pulpit, but he did not deliver the sermon as you deliver (usually). He remained engaged in making supplication, showing humbleness (to Allah) and uttering the takbir (Allah is most great). He then offered two rakahs of prayer as done on the Eid (festival). Abu Dawud said: This is the version of al-Nufail. What is correct is Ibn Utbahs
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١١٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٧) (صحیح )
عبداللہ بن زید مازنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف نکلے، اور (اللہ تعالیٰ سے) بارش طلب کی، اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے، اپنی چادر پلٹی۔
Abdullah bin Zaid said: The Messenger of Allah (pbuh)went out to the place of prayer to pray for rain. When he wanted to make supplication, he faced the qiblah and turned around his cloak.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١١٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٧) (صحیح )
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ولید بن عتبہ نے (عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے، جو مدینہ کے حاکم تھے) ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز استسقا کے بارے پوچھوں تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے، عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے، آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں: آپ نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا، گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے۔
Narrated Abdullah bin Zaid al Mazini (RA) : Abdullah bin Zaid al Mazini said: The Messenger of Allah (pbuh) went out to the place of prayer and made supplication or rain, and turned around his cloak when the faced the qiblah.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٨ (٥٥٨)، سنن النسائی/الاستسقاء ٣ (١٥٠٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٥٣ (١٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٦٩، ٣٥٥) (حسن )
عمیر مولیٰ آبی اللحم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر (اللہ تعالیٰ سے) بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔
Narrated Umayr, the client of AbulLahm (RA) : Umayr saw the Prophet ﷺ praying for rain at Ahjar az-Zayt near az-Zawra, standing, making supplication, praying for rain and raising his hands in front of his face, but not lifting them above his head.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٠٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة ٤٣ (٥٥٧)، مسند احمد (٥/٢٢٣) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس (بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر) روتے ہوئے آئے تو آپ ﷺ نے یوں دعا کی: اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل یعنی اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزہ اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے نہ آنے والی ہو ۔ جابر ؓ کہتے ہیں: یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The people came to the Prophet ﷺ weeping (due to drought). He said (making supplication): O Allah! give us rain which will replenish us, abundant, fertilising and profitable, not injurious, granting it now without delay. He (the narrator) said: Thereupon the sky became overcast.
انس ؓ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقا کے علاوہ کسی دعا میں (اتنا) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے (اس موقعہ پر) آپ اپنے دونوں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی ١ ؎۔
Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ was not accustomed to raise his hands in any supplication he made except when praying for rain. He would then raise them high enough so much so that the whiteness of his armpits was visible.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت ان بہت سی روایتوں کے معارض ہے جن سے استسقا کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ انس ؓ کی اس روایت کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ آپ نے جو نفی کی ہے وہ اپنے علم کی حد تک کی ہے، جس سے دوسروں کے علم کی نفی لازم نہیں آتی، یا یہ کہا جائے کہ اس میں ہاتھ زیادہ اٹھانے (رفع بلیغ) کی نفی ہے، یعنی دوسری دعاؤں میں آپ ہاتھ اتنا اونچا نہیں اٹھاتے تھے جتنا استسقا میں اٹھاتے تھے حتى رأيت بياض إبطيه کے ٹکڑے سے اس قول کی تائید ہو رہی ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔
Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ used to make supplication for rain in this manner. he spread his hands keeping the inner side (of hands) towards the earth, so I witnessed the whiteness of his armpits.
محمد بن ابراہیم (تیمی) کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔
Narrated Muhammad bin Ibrahim: A man who witnessed the Prophet ﷺ reported to me that he saw the Prophet ﷺ praying at Ahjar al-Zait spreading his hands.