Sunan Abu Dawood 1157

نماز کا بیان

1157Sunan Abu Dawood

اگر امام کسی عذر کی بناء پر عید کے دن نماز نہ پڑھا سکے تو دوسرے دن پڑھائے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِفَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا، وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ.

ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں، روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔

Narrated Abu Umayr ibn Anas (RA) : Abu Umayr reported on the authority of some of his paternal uncles who were Companions of the Prophet ﷺ : Some men came riding to the Prophet ﷺ and testified that they had sighted the new moon the previous day. He (the Holy Prophet), therefore, commanded the people to break the fast and to go out to their place of prayer in the morning.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العیدین ١ (١٥٥٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٧، ٥٨) (صحیح )