ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (رکھنے) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ ﷺ نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ ﷺ (حجرہ سے) اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہوگیا، آپ ﷺ منبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایا: تم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ (اگر تم اسے پکارو گے) تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا ، اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين ، لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين یعنی تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت (رزق) بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی، اسی وقت (اللہ کے حکم سے) آسمان سے بادل اٹھے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی آپ ﷺ اپنی مسجد نہیں آسکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید (عمدہ) ہے، اہل مدینہ ملك يوم الدين پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The people complained to the Messenger of Allah ﷺ of the lack of rain, so he gave an order for a pulpit. It was then set up for him in the place of prayer. He fixed a day for the people on which they should come out. Aisha (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ , when the rim of the sun appeared, sat down on the pulpit, and having pronounced the greatness of Allah and expressed His praise, he said: You have complained of drought in your homes, and of the delay in receiving rain at the beginning of its season. Allah has ordered you to supplicate Him has and promised that He will answer your prayer. Then he said: Praise be to Allah, the Lord of the Universe, the Compassionate, the Merciful, the Master of the Day of Judgment. There is no god but Allah Who does what He wishes. O Allah, Thou art Allah, there is no deity but Thou, the Rich, while we are the poor. Send down the rain upon us and make what Thou sendest down a strength and satisfaction for a time. He then raised his hands, and kept raising them till the whiteness under his armpits was visible. He then turned his back to the people and inverted or turned round his cloak while keeping his hands aloft. He then faced the people, descended and prayed two rakahs. Allah then produced a cloud, and the storm of thunder and lightning came on. Then the rain fell by Allahs permission, and before he reached his mosque streams were flowing. When he saw the speed with which the people were seeking shelter, he ﷺ laughed till his back teeth were visible. Then he said: I testify that Allah is Omnipotent and that I am Allahs servant and Messenger. Abu Dawud said: This is a ghraib (rate) tradition, but its chain is sound. The people of Madina recite maliki (instead of maaliki) yawm al-din (the master of the Day of Judgement). But this tradition (in which the word maalik occurs) is an evidence for them.
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوئے، اسی دوران کہ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! گھوڑے مرگئے، بکریاں ہلاک ہوگئیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، چناچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا اور دعا کی۔ انس ؓ کہتے ہیں: اس وقت آسمان آئینہ کی طرح صاف تھا، اتنے میں ہوا چلنے لگی پھر بدلی اٹھی اور گھنی ہوگئی پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا، پھر جب ہم (نماز پڑھ کر) واپس ہونے لگے تو پانی میں ہو کر اپنے گھروں کو گئے اور آنے والے دوسرے جمعہ تک برابر بارش کا سلسلہ جاری رہا، پھر وہی شخص یا دوسرا کوئی آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر گرگئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش بند کر دے، (یہ سن کر) آپ ﷺ مسکرائے پھر فرمایا: اے اللہ! تو ہمارے اردگرد بارش نازل فرما اور ہم پر نہ نازل فرما ۔ انس ؓ کہتے ہیں: تو میں نے بادل کو دیکھا وہ مدینہ کے اردگرد سے چھٹ رہا تھا گویا وہ تاج ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: The people of Madina had a drought during the time of the Prophet ﷺ . While he was preaching on a Friday, a man stood up and said: Messenger of Allah, the horses have perished, the goats have perished, pray to Allah to give us water. He spread his hands and prayed. Anas said: The sky was like a mirror (there was no cloud). Then the wind rose; a cloud appeared (in the sky) and it spread: the sky poured down the water. We came out (from the mosque after the prayer) passing through the water till we reached our homes. The rain continued till the following Friday. The same or some other person stood up and said: Messenger of Allah, the houses have been demolished, pray to Allah to stop it. The Messenger of Allah ﷺ smiled and said: (O Allah), the rain may fall around us but not upon us. Then I looked at the cloud which dispersed around Madina just like a crown.
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس ؓ کو کہتے ہوئے سنا، پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی اللهم اسقنا اے اللہ! ہمیں سیراب فرما اور آگے انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔
Narrated The above mentioned tradition has been narrated by Anas through a different chain of transmitters: The Messenger of Allah ﷺ raised his hands in front of his face and said: O Allah! Give us water. the narrator then reported then reported the tradition like the former.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش کے لیے دعا مانگتے تو فرماتے: اللهم اسق عبادک وبهائمك، وانشر رحمتک، وأحي بلدک الميت اے اللہ! تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر، اور اپنی رحمت عام کر دے، اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما (یہ مالک کی روایت کے الفاظ ہیں) ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, quoted his grandfather as saying: When the Messenger of Allah ﷺ prayed for rain, he said: O Allah! Provide water for Your servants and Your cattle, display Your mercy and give life to Your dead land. This is the wording of Malik.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨١٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستسقاء عن عمرو بن شعیب مرسلاً ٢ (٣) (حسن )
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں (عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد عائشہ ؓ ہیں) کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے، پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا ١ ؎ آپ ﷺ تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو (کھڑے کھڑے) غشی طاری ہوگئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے، جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو الله أكبر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو ۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): There was an eclipse of the sun in the time of the Prophet ﷺ . The Prophet stood for a long time, accompanied by the people. He then bowed, then raised his head, then he bowed and then he raised his head, and again he bowed and prayed two rakahs of prayer. In each rakah he bowed three times. After bowing for the third time he prostrated himself. He stood for such a long time that some people became unconscious on that occasion and buckets of water had to be poured on them. When he bowed, he said, Allah is most great; and when he raised his head, he said, Allah listens to him who praises Him, till the sun became bright. then he said: The sun and the moon are not eclipsed on account of anyones death or on account of anyones birth, but they are two of Allahs signs, He produces dread in His servants by means of them. When they are eclipsed, hasten to prayer
Notes · وضاحت
١ ؎: تین رکوع والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت ” دو، دو رکوع “ کی ہے جیسا کہ حدیث نمبر ( ١١٨٠) میں آرہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١)، سنن النسائی/الکسوف ١٠ (١٤٧١)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٦) (صحیح) (لیکن تین رکوع والی بات صحیح نہیں ہے، صحیح دو رکوع ہے، جیسا کہ حدیث نمبر: ( ١١٨٠ ) میں آ رہا ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن لگا، یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی، لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا ١ ؎، اللہ اکبر کہا، پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے، پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج (صاف ہو کر) نکل چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہوجاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہوجائے ، اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ had died. The people began to to say that there was an eclipse on account of the death of Ibrahim. The Prophet ﷺ stood up and led the people in prayer performing six bowings and four prostrations. he said: Allah is most great, and then recited from the Quran and prolonged the recitation. He then bowed nearly as long as he stood. He then raised his head and recited from the Quran but it was less than the first (recitation). He then bowed nearly as long as he stood. He then raised his head and then recited from the Quran for the third time, but it was less than the second recitation. He then bowed nearly as long as he stood. he then raised his head and then recited from the Quran for the third time, but it was less than the second recitation. he then bowed nearly as long as he stood. Then he raised his head and went down for prostration. he made two prostrations. He then stood and made three bowings before prostrating himself, the preceding bowing being more lengthy than the following, but he bowed nearly as long as he stood. He then stepped back during the prayer and the rows (of the people) too stepped back along with him. Then he stepped forward and stood in his place, and the rows too stepped forward. he then finished the prayer and the sun had become bright. He said: O people, the sun and the moon are two of Allahs signs; they are not eclipsed on account of a mans death. So when you see anything of that nature, offer prayer until the sun becomes bright. The narrator then narrated the rest of the tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: ی ہ روایت بھی شاذ ہے، صحیح روایت دو رکوع کی ہے، جیسا کہ خود جابر ؓ کی اگلی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٤)، سنن النسائی/الکسوف ١٢ (١٤٧٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٧٤، ٣٨٢) (صحیح) (چھ رکوع والی بات شاذ ہے، صحیح ” چار رکوع “ ہے )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی، (اس میں) آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا (رکوع) کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا (قیام) کیا، پھر دو سجدے کئے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح (دو رکعت میں) چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔
Narrated Jabir: There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ on a hot day. The Messenger of Allah ﷺ led his Companions in prayer and prolonged the standing until the people began to fall down. He then bowed and prolonged it; then he raised his head and prolonged (the stay); then he bowed and prolonged it; then he raised his head and prolonged (the stay); then he made two prostrations and then stood up; then he did in the same manner. He thus performed four bowings and four prostrations. Then the narrator narrated the rest of the tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے دلیل ہے جو ہر رکعت میں دو رکوع کے قائل ہیں، اور یہ دوسری روایت ہی باب سے مطابقت رکھتی ہے لیکن چونکہ جابر بن عبداللہ ؓ کے دونوں شاگرد عطاء اور ابوالزبیر نے اختلاف کیا ہے، عطا نے جابر ؓ سے چھ رکوع کی روایت کی ہے اور ابوالزبیر نے ان سے چار رکوع کی روایت کی ہے، اسی لئے مصنف نے صرف دوسری روایت کے ذکر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے عطا کی روایت بھی ذکر کردی اگرچہ وہ باب سے مطابقت نہیں رکھتی۔ امام بخاری اور دوسرے ائمہ نے کہا ہے کہ کسوف (سورج گرہن) کی ان احادیث کو بیان جواز پر محمول کرنا درست نہیں جب تک کہ نماز استسقا میں تعدد واقعہ نہ ہو اور اس میں تعدد واقعہ نہیں پایا جاتا ہے، کیونکہ ان تمام روایات کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی سورج گرہن کی اس نماز سے ہے جسے آپ ﷺ نے اپنے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات کے دن پڑھی تھی، ایسی صورت میں دو رکوع والی روایتوں کی ترجیح واجب ہے کیونکہ وہ زیادہ صحیح اور مشہور ہیں، اس کے برخلاف ائمہ فقہ و حدیث کی ایک جماعت نے تعدد واقعہ قرار دے کر ان روایتوں کو بیان جواز پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسوف کی مدت لمبی ہوجائے تو رکوع کی تعداد تین سے لے کر پانچ تک بڑھا دینا جائز ہے، امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں اسے قوی کہا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے الله أكبر کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ ﷺ نے لمبی قرات کی پھر الله أكبر کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا، پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر آپ ﷺ نے الله أكبر کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، (پھر رکوع سے سر اٹھایا) اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اس طرح (دو رکعت میں) آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہوگیا۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ came tot he mosque; he stood up and uttered the takbir (Allah is great); the people stood in rows behind him; the Messenger of Allah ﷺ recited from the Quran for a long time; then he uttered the takbir (Allah is most great) and performed bowing for a long time, then he raised his head and said: Allah listens to him who praises Him; our Lord, and to Thee be praise; then he stood up and recited from the Quran for a long time, but it was less than the first (recitation); he then bowed for a long time, but it was less than the first bowing; he then said, Allah listens to him who praises Him; our Lord, and to Thee be praise. he then did so in the second rakah. he thus completed four bowings and four prostrations. The sun had become bright before he departed.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ٤ (١٠٤٦)، ٥ (١٠٤٧)، ١٣ (١٠٥٨)، والعمل في الصلاة ١١ (١٢١٢)، وبدء الخلق ٤ (٣١٩٩)، صحیح مسلم/ الکسوف ١ (٩٠١)، سنن النسائی/ الکسوف ١١ (١٤٧٦)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٥٢ (١٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الصلاة ٢٧٩ (الجمعة ٤٤) (٥٦١)، موطا امام مالک/صلاة الکسوف ١ (١)، مسند احمد (٦/٧٦، ٧٨، ١٦٤، ١٦٨)، سنن الدارمی/ الصلاة ١٨٧ (١٥٦٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی، جیسے عروہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اور ام المؤمنین عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے دو رکعت پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیا۔
Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prayed at the solar eclipse as reported in the tradition narrated by Urwah from Aisha (RA) from the Messenger of Allah ﷺ that he offered two rakahs of prayer bowing twice in each rakah.
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں (دو رکعت) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورة کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔
Narrated Ubayy bin Kab (RA) : An eclipse of the sun took place in the time of the Messenger of Allah ﷺ . The Prophet ﷺ led them in prayer. He recited one of the long surahs, bowing five times and prostrating himself twice. He then stood up for the second rakah, recited one of the long surahs, bowed firve times, prostrated himself twice, then sat where he was facing the qiblah and made the supplication till the eclipse was over.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣٤) (ضعیف) (بلکہ منکر ہے کیوں کہ ابو جعفر رازی ضعیف ہیں اور ثقات کی مخالفت کئے ہوئے ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری (رکعت) بھی اسی طرح پڑھی۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ prayed at solar eclipse; he recited from the Quran and then bowed; then he recited from the Quran and then bowed; he then recited from the Quran and bowed; he then recited fromt eh Quran and bowed. Then he prostrated himself and performed the second rakah similar to the first.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ٤ (٩٠٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٩ (الجمعة ٤٤) (٥٦٠)، سنن النسائی/الکسوف ٨ (١٤٦٨-١٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٢١٦، ٢٢٥، ٢٩٨، ٣٤٦، ٣٥٨)، سنن الدارمی/ الصلاة ١٨٧(١٥٣٤) (تین طریق سے ابن عباس ؓ کی روایت میں دو رکوع، اور دو سجدہ کا تذکرہ ہے، اس لئے علماء کے قول کے مطابق حبیب نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اور یہ مدلس ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے) (ملاحظہ ہو: ضعیف سنن ابی داود ٢ ؍ ٢٠ )
اسود بن قیس کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن عباد عبدی (جو اہل بصرہ میں سے ہیں) نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب ؓ کے خطبہ میں حاضر رہے، سمرہ ؓ نے (خطبہ میں) کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے اپنا اپنا نشانہ لگا رہے تھے یہاں تک کہ جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو نیزہ یا تین نیزہ کے برابر رہ گیا تو اسی دوران وہ دفعۃً سیاہ ہوگیا پھر گویا وہ تنومہ ١ ؎ ہوگیا، تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: تم ہمارے ساتھ مسجد چلو کیونکہ اللہ کی قسم سورج کا یہ حال ہونا رسول اللہ ﷺ کی امت میں کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، تو ہم چلے تو دیکھتے ہیں کہ مسجد بھری ٢ ؎ ہے پھر نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، اور ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام کیا کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی نماز میں اتنا لمبا قیام نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ اتنا لمبا رکوع کیا کہ اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ٣ ؎ پھر آپ ﷺ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی بھی کسی نماز میں ہمارے ساتھ نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ ﷺ نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں: دوسری رکعت پڑھ کر آپ ﷺ کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہوگیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر احمد بن یونس نے نبی اکرم ﷺ کا پورا خطبہ بیان کیا۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : When, a boy from the Ansar and I were shooting (arrows) towards two of our targets, the sun was sighted by the people at the height of two or three lances above the horizon. It became black like the black herb called tannumah. One of us said to his companion: Let us go to the mosque; by Allah, this incident of the sun will surely bring something new in the community of the Messenger of Allah ﷺ . As we reached it, we suddenly saw that he (the Prophet) had already come out (of his house). He stepped forward for a long time as much as he could do so in the prayer. But we did not hear his voice. He then performed a bowing and prolonged it as much as he could do in the prayer. But we did not hear his voice. He then prostrated himself with us and prolonged it which he never did in the prayer before. But we did not hear his voice. He then did similarly in the second rakah. The sun became bright when he sat after the second rakah. Then he uttered the salutation. He then stood up, praised Allah, and extolled Him, and testified that there was no god but Allah and testified that he was His servant and Messenger. Ahmad ibn Yunus then narrated the address of the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک قسم کا پودا ہے جس کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے۔ ٢ ؎: فإذا هو بَارِزٌ میں غلطی ہوئی ہے، صحیح فإذا هو بأُزُزٍ ہے، أُزُزْ جس کے معنی بھیڑ اور بڑے مجمع کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب ہم مسجد پہنچے تو دیکھا کہ لوگ مسجد میں جمع ہیں اور وہ بھری ہوئی ہے۔ ٣ ؎: ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کو قرات کی آواز دور ہونے کے سبب سنائی نہ دے رہی ہو، ویسے یہ حدیث ضعیف ہے صحیح روایات میں جہری قرات کا تذکرہ موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٠ (الجمعة ٤٥) (٥٦٢)، سنن النسائی/الکسوف ١٥ (١٤٨٥)، ١٩ (١٤٩٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٢ (١٢٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤، ١٦، ١٧، ١٩، ٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی ثعلبہ لین الحدیث ہیں )
قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے نکلے اس دن میں آپ کے ساتھ مدینہ ہی میں تھا، آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں لمبا قیام فرمایا، پھر نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہوگیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک یہ نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ اللہ (بندوں کو) ڈراتا ہے لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو جیسے تم نے قریب کی فرض نماز پڑھی ہو ١ ؎۔
Narrated Qabisah al-Hilali (RA) : There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ . He came out bewildered pulling his garment, and I was in his company at Madina. He prayed two rakahs and stood for a long time in them. He then departed and the sun became bright. He then said: There are the signs by means of which Allah, the Exalted, produces dread (in His servants). When you see anything of this nature, then pray as you are praying a fresh obligatory prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کسوف اپنے سے پہلے فرض نماز کے مطابق ہوگی، لیکن صاحب منتقی الأخبار امام عبدالسلام ابن تیمیہ نے ان احادیث کو ترجیح دی ہے جن میں تکرار رکوع کے ساتھ دو رکعتوں کا ذکر ہے کیونکہ وہ روایتیں صحیحین کی ہیں اور متعدد طرق سے مروی ہیں جب کہ یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکسوف ١٦ (١٤٨٧، ١٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابو قلابہ مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، نیز سند و متن میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، کبھی تو قبیصہ کا نام لیتے ہیں، کبھی نعمان بن بشیر ؓ کا جیسا کہ حدیث نمبر (١١٩٣) میں آ رہا ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے إرواء الغليل للألباني، نمبر: ٦٦٢ )
ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا، پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی، اس میں ہے: یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے۔
Narrated Qabisah al Hilali (RA) : The solar eclipse took place. . . The narrator then narrated the tradition like that of Musa. The narrator again said: Until the stars appear (in the heaven).
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ ﷺ نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورة البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورة آل عمران کی قرآت کی ہے۔
Narrated Aisha (RA) : There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ came out and led the people in prayer. he stood up and I guessed that he recited Surah al-Baqarah. The narrator then further transmitted the tradition. He (the Prophet) then prostrated himself twice, and then stood up and prolonged the recitation. then I guessed his recitation and knew that he recited Surah Al-i-Imran.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٥، ١٦٣٥٢، ١٧١٨٥)، وقد أخرجہ: (حم ٦/٣٢) (حسن) صححه الحاکم (1/ 333 )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): The Messenger of Allah (may peace be upon on him) recited from teh Quran in a loud voice in the prayer at an eclipse.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کسوف (گرہن) کی نماز میں قرات جہری ہونی چاہیے، یہی جمہور محدثین کا مذہب ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی، آپ ﷺ نے سورة البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : An eclipse of the sun took place. the Messenger of Allah ﷺ prayed along with the people. He stood up for a long time nearly equal to the recitation of Surah al Baqarah. H then bowed. The narrator then transmitted the rest of the tradition.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصلاة ٥١ (٤٣١)، الکسوف ٩ (١٠٥٢)، صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٧)، سنن النسائی/الکسوف ١٧ (١٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٨، ٣٥٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز (کسوف) جماعت سے ہوگی۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): There was an eclipse of the sun. The Messenger of Allah ﷺ commanded a man who summoned: The prayer will be held in congregation
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے، جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو ۔
Narrated Aisha (RA) (May Allah be pleased with her): The sun and the moon are not eclipsed on account of anyones death or on account of anyones birth. So when you see that, supplicate Allah, declare His greatness, and give alms.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧١٤٨، ١٧١٧٣) (صحیح )