نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 41 of 55

1193Sunan Abu Dawood

حالت کسوف میں دو رکعت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہوگیا۔

Narrated An-Numan ibn Bashir: There was an eclipse of the sun in the time of the Prophet ﷺ . He began to pray a series of pairs of rakahs enquiring about the sun (at the end of them) till it became clear.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکسوف ١٦ (١٤٨٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٢ (١٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧١، ٢٧٧) (منکر) (دیکھئے حدیث نمبر: ١١٨٥ )
1194Sunan Abu Dawood

حالت کسوف میں دو رکعت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ: أُفْ أُفْ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ، فَفَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا، تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ ﷺ سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، پھر اخیر سجدے میں آپ ﷺ نے پھونک ماری اور اف اف کہا: پھر فرمایا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟ ، پھر رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہوگیا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ stood up and he was not going to perform bowing till he bowed; and he was not going to raise his head till he raised (after bowing); and he was not going to prostrate himself till he prostrated himself; and he was not going to raise his head till he raised (at the end of prostration); he did similarly in the second rakah, he then puffed in the last prostration saying; Fie, Fie! He then said: My Lord, didst Thou not promise me that Thou wouldst not punish them so long as I will remain among them? Didst Thou not promise me that Thou will not punish them so long as they continue to beg pardon of Thee. The Messenger of Allah ﷺ finished the prayer, and the sun was clear. The narrator then narrated the tradition (in full).

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکسوف ١٤ (١٤٨٣)، ٢٠ (١٤٩٧)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٤ (٣٠٧)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف ٣ (١٠٤٥)، ٨ (١٠٥٨)، صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١٠)، مسند احمد (٢/١٧٥) (صحیح) (ہر رکعت میں دو رکوع کے ذکر کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ صحیحین میں مروی ہے )
1195Sunan Abu Dawood

حالت کسوف میں دو رکعت پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفُ الشَّمْسِ الْيَوْمَ ؟ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُو رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُحَمِّدُ وَيُهَلِّلُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا، تو میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح، تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا، اس وقت آپ نے (نماز کسوف کی دونوں رکعتوں) میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔

Narrated Abdur-Rahman bin Samurah (RA) : During the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ I was shooting some arrows when an eclipse of the sun tok place. I, therefore, threw them (the arrows) away and said: I must see how the Messenger of Allah ﷺ acts in a solar eclipse today. So I came to him; he was standing (in prayer) raising his hands, glorifying Allah, praising Him, acknowledging that He is the only Deity, and making supplication till the sun was clear. He then recited two surahs and prayed two rakahs.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الکسوف ٥ (٩١٣)، سنن النسائی/ السکوف ٢ (١٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٦١، ٦٢) (صحیح )
1196Sunan Abu Dawood

تاریکی وغیرہ کے موقع پر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أَنَسًا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَلْ كَانَ يُصِيبُكُمْ مِثْلُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ الْمَسْجِدَ مَخَافَةَ الْقِيَامَةِ.

نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انس بن مالک ؓ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی، تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا: ابوحمزہ! کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آجاتے تھے۔

Narrated Anas ibn Malik: Ubaydullah ibn an-Nadr reported on the authority of his father: Darkness prevailed in the time of Anas ibn Malik, I came to Anas and said (to him): Abu Hamzah, did anything like this happen to you in the time of the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: Take refuge in Allah. If the wind blew violently, we would run quickly towards the mosque for fear of the coming of the Day of Judgment.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٥) (ضعیف) (اس کے راوی نضر بن عبداللہ قیسی مجہول ہیں )
1197Sunan Abu Dawood

کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے پر سجدہ کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاتَتْ فُلَانَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا، وَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی فلاں بیوی کا انتقال ہوگیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گرپڑے، ان سے کہا گیا: کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی (یعنی بڑا حادثہ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہوسکتی ہے؟۔

Ikrimah said: Ibn Abbas was informed that so-and-so, a certain wife of the Prophet ﷺ , had died. He fell down prostrating himself. He was questioned: Why do you prostrate yourself this moment? He said: The Messenger of Allah ﷺ said: When you see a portent (an accident), prostrate yourselves. And which portent (accident) can be greater than the death of a wife of the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ المنا قب ٦٤ (٣٨٩١)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٧) (حسن )
1198Sunan Abu Dawood

مسافر کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ، رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (حسب معمول) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The prayer was prescribed as consisting of two rakahs both when one was resident and when travelling. The prayer while travelling was left according to the original prescription and the prayer of one who was resident was enhanced.

Notes · وضاحت
١ ؎: اضافہ صرف چار رکعت والی نماز ظہر، عصر اور عشاء میں کیا گیا، مغرب کی حیثیت دن کے وتر کی ہے، اور فجر میں لمبی قرات مسنون ہے اس لئے ان دونوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک سفر میں قصر واجب ہے اور بعض کے نزدیک رخصت ہے چاہے تو پوری پڑھے اور چاہے تو قصر کرے مگر قصر افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١ (٣٥٠)، وتقصیر الصلاة ٥ (١٠٩٠)، فضائل الصحابة ٧٦ (٣٧٢٠)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٥)، سنن النسائی/الصلاة ٣ (٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١ (٩)، مسند احمد (٦/٢٣٤، ٢٤١، ٢٦٥، ٢٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩(١٥٥٠) (صحیح )
1199Sunan Abu Dawood

مسافر کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْيَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى: إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ؟ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَصَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ.

یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے کہا: مجھے بتائیے کہ (سفر میں) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کردیں گے ، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ١ ؎۔

Narrated Yala bin Umayyah (RA) : I remarked to Umar al-Khattab (RA) : Have you seen the shortening of the prayer by the people today while Allah has said: If you fear that those who are infidels may afflict you, whereas those days are gone now? He replied: I have wondered about the same matter for which you wondered. So I mentioned this to the Messenger of Allah ﷺ . He said: It is an act of charity which Allah has done to you, so accept his charity.

Notes · وضاحت
١ ؎: قصر نماز حالت خوف کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امت کی آسانی کے لئے اسے سفر میں مشروع قرار دیا گیا خواہ سفر پر امن ہی کیوں نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٥ (٣٠٣٤)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٣ (١٠٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥، ٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح )
1200Sunan Abu Dawood

مسافر کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ بَكْرٍ.

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔

The above mentioned tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Abdullah bin Abi Ammar who narrated it in like manner. Abu Dawud said: This has been transmitted by Abu Asim and Hammad bin MAsadah as transmitted by Ibn Bakr.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٩) (صحیح )
1201Sunan Abu Dawood

قصر کی مسافت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ،فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ، شُعْبَةُ شَكَّ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.

یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ١ ؎۔

Narrated Yahya bin Yazid al-Hannani (RA) : I asked Anas bin Malik (RA) about the shortening of the prayer (while travelling). He said: When the Messenger of Allah ﷺ went out on a journey of three miles or three farsakh (the narrator Shubah doubted), he used to pray two rakahs.

Notes · وضاحت
١ ؎: قصر کے لئے مسافت کی تحدید میں رسول اکرم ﷺ کا کوئی صریح قول نہیں ہے، فعلی احادیث میں سب سے صحیح یہی حدیث ہے، اس کے مطابق (اکثر مسافت تین فرسخ کے مطابق) نو میل کی مسافت سے قصر کی جاسکتی ہے، جو کیلو میٹر کے حساب سے ساڑھے چودہ کیلو میٹر ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩١)، (تحفة الأشراف: ١٦٧١)، وقد أخرجہ: حم (٣/ ١٢٩) (صحیح )
1202Sunan Abu Dawood

قصر کی مسافت

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ١ ؎۔

Narrated Anas bin Malik (RA) : I prayed along with the Messenger of Allah ﷺ four rakahs at the noon prayer at Madina and two rakahs at the afternoon prayer in Dhu al-Hulaifah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر کی آبادی سے باہر نکل جائے تو اس کے لئے قصر کرنا جائز ہوجاتا ہے، ذوالحلیفہ مدینہ سے (مکہ کے راستے میں) تیرہ کیلو میٹر کی دوری پر ہے، جو اہل مدینہ کی میقات ہے، اس وقت یہ ” ابیار علی “ سے بھی مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٥ (١٠٨٩)، والحج ٢٤ (١٥٤٦)، ٢٥ (١٥٤٨)، ١١٩ (١٧١٤)، والجہاد ١٠٤ (٢٩٥١)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (٥٤٦)، سنن النسائی/الصلاة ١١ (٤٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٦، ١٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ١١٠، ١١١، ١٧٧، ١٨٦، ٢٣٧، ٢٦٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٨)، ویأتي في الحج برقم ١٧٧٣) (صحیح )
1203Sunan Abu Dawood

سفر میں اذان دینے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ، يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا ١ ؎ اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کردیا ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah is pleased with a shepherd of goats who calls to prayer at the peak of a mountain, and offers prayer, Allah, the Exalted, says: Look at this servant of Mine; he calls to prayer and offers it and he fears Me. So I forgive him and admit him to paradise.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں تنہا آدمی کے لیے بھی اذان مشروع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان (٢٦/٦٦٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٧) (صحیح )
1204Sunan Abu Dawood

مسافر کو شک کہ نماز کا وقت ہوا یا نہیں پھر نماز پڑھے تو درست ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْمِسْحَاجِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقُلْنَا: زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ، صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ.

مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے کہا: ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو، انہوں نے کہا: جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے: سورج ڈھل گیا یا نہیں ١ ؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔

Narrated Mishaj bin Musa (RA) : I asked Anas bin Malik (RA) : Narrate to us what you heard the Messenger of Allah ﷺ say. He said: When we travelled along with the Messenger of Allah ﷺ , we would say: Did the sun pass the meridian or not? But he (the Prophet) would offer the noon prayer and then proceed.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام کو وقت ہوجانے کا یقین ہے تو مقتدیوں کے شک کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٥ (١١١١)، ١٦ (١١١٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٤)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٧)، مسند احمد (٣/ ١١٣، ٢٤٧، ٢٦٥) (صحیح )
1205Sunan Abu Dawood

مسافر کو شک کہ نماز کا وقت ہوا یا نہیں پھر نماز پڑھے تو درست ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: گرچہ نصف النہار ہوتا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا۔

Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ halted at a certain place (while on a journey), he would not leave that place till he offered the noon prayer. A man said to him: Even if in the middle of the day? He replied: Even if in the middle of the day.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٢ (٤٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٠، ١٢٩) (صحیح )
1206Sunan Abu Dawood

دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَفَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا.

معاذ بن جبل ؓ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے، ایک دن آپ ﷺ نے نماز مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی ٢ ؎ پھر اندر (قیام گاہ میں) ٣ ؎ چلے گئے، پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔

Narrated Muadh bin Jabal (RA) : They (the Companions) proceeded on the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah ﷺ . He combined the noon and afternoon prayers and the sunset and night prayers. One day he delayed the prayer and came out (of his dwelling) and combined the noon and the afternoon prayers. He then went it and then came out and combined the sunset and the night prayers.

Notes · وضاحت
جمع کی دو قسمیں ہیں: ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی نماز کو آخر وقت میں اور دوسری نماز کو اول وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک نماز کو دوسری کے وقت میں جمع کر کے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے یہ دونوں جمع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لئے ہوئی ہے، اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے، کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا مشکل ہے۔ ٢ ؎: اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین (دو نماز کو ایک وقت میں ادا کرنے) کی رخصت ایام حج میں عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بھی دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے۔ ٣ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جمع بین الصلاتین کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٦)، والفضائل ٣ (٧٠٦/١٠)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٤ (١٠٧٠)، وانظر مایأتي برقم: ١٢٢٠، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة ٤٢ (٥٥٣)، موطا امام مالک/قصرالصلاة ١(٢)، مسند احمد (٥/٢٢٩، ٢٣٠، ٢٣٣، ٢٣٦، ٢٣٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢(١٥٥٦) (صحیح )
1207Sunan Abu Dawood

دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَسَارَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ، فَقَالَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فِي سَفَرٍ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، فَنَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ کو صفیہ ١ ؎ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے (اور چلتے رہے) یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے نظر آنے لگے، تو عرض کیا کہ نبی اکرم ﷺ کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کرتے، پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہر کر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Ibn Umar was informed about the death of Safiyyah (the wife of the Prophet) when he was at Makkah. He proceeded till the sun set and the stars shined. He said: When the Prophet ﷺ was in a hurry about something while on a journey, he would combine both these prayers. He proceed till twilight had disappeared. He then combined both of them (the prayers).

Notes · وضاحت
١ ؎: صفیہ، ابن عمر ؓ کی بیوی تھیں، مؤلف کے سوا دیگر کے نزدیک یہ ہے کہ ” حالت نزع کی خبر دی گئی “، نسائی کی ایک روایت میں یہ ہے کہ صفیہ نے خود خط لکھا کہ میں حالت نزع میں ہوں جلدی ملیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( (تحفة الأشراف: ٧٥٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٦ (١٠٩١)، والعمرة ٢٠ (١٨٠٥)، والجہاد ١٣٦ (٣٠٠٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٧ (٥٥٥)، سنن النسائی/المواقیت ٤٣ (٥٩٦)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١(٣)، مسند احمد (٢/٥١، ٨٠، ١٠٢، ١٠٦، ١٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢(١٥٥٨) (صحیح )
1208Sunan Abu Dawood

دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ، وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلُ ذَلِكَ إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الْمُفَضَّلِ، وَاللَّيْثِ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں تو رسول اللہ ﷺ عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے، اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے، اسی طرح آپ مغرب میں کرتے، اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے، کریب نے ابن عباس ؓ سے، ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : On the expedition to Tabuk if the sun had passed the meridian before the Messenger of Allah ﷺ moved off, he combined the noon and the afternoon prayers; but if he moved off before the sun had passed the meridian, he delayed the noon prayer till he halted for the afternoon prayer. He acted similarly for the sunset prayer; if the sun set before he moved off, he combined the sunset and the night prayers, but if he moved off before sunset, he delayed the sunset prayer till he halted for the night prayer and then combined them. Abu Dawud said: Hisham bin Urwah narrated this tradition from Husain bin Abdullah, from Kuraib on the authority of Ibn Abbas from the Prophet ﷺ like the tradition narrated by Mufaddal and al-Laith.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٠٦، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٠) (صحیح )
1209Sunan Abu Dawood

دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَطُّ فِي السَّفَرِ إِلَّا مَرَّةً. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَمْ يَرَ ابْنَ عُمَرَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا قَطُّ إِلَّا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، يَعْنِي لَيْلَةَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ، وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب عن نافع عن ابن عمر سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر ؓ کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ never combined the sunset and night prayers while on a journey except once. Abu Dawud said: This has been narrated by Ayyub from Nafi from Ibn Umar as a statement of Ibn Umar. Ibn Umar was never seen combining these two prayers except on the night he was informed about the death of Safiyyah. The tradition narrated by Makhul from Nafi indicates that he (Nafi) saw Ibn Umar doing so once or twice.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٣) (صحیح )
1210Sunan Abu Dawood

دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَحْوَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا إِلَى تَبُوكَ.s

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا ١ ؎۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہوگا ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے، نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔

Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ combined the noon and the afternoon prayers, and combined the sunset and night prayers without any danger or journey. Malik said: I think it so happened during rain. Abu Dawud said: Hammad bin Salamah narrated it like manner from Abu al-Zubair, it has also been narrated by Qurrah bin Khalid from Abu al-Zubair. He said: It is so happened in a journey that we made to Tabuk.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ حالت حضر (قیام کی حالت) میں بھی ضرورت کے وقت دو نماز کو ایک ساتھ جمع کیا جاسکتا ہے، البتہ اس کو عادت نہیں بنانا چاہیے۔ ٢ ؎: لیکن صحیح مسلم کی ایک روایت میں من غير خوف ولا مطر (یعنی بغیر کسی خوف اور بارش) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥) سنن النسائی/المواقیت ٤٦ (٦٠٢)، (تحفة الأشراف: ٥٦٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ١٢ (٥٤٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١ (١٨٧)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١(٤)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٣، ٢٨٣، ٣٤٩) (صحیح )
1211Sunan Abu Dawood

دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ combined the noon and afternoon prayers, and the sunset and night prayers at Madina without any danger and rain. He was asked: What did he intend by it ? He replied: He intended that his community might not fall into hardship.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت قیام میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع بین الصلاتین بوقت ضرورت جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس ؓ سے مروی یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” جو دو نماز کو بغیر کسی عذر کے جمع کرے تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہوگیا “ ضعیف ہے، اس کی اسناد میں حنش بن قیس راوی ضعیف ہے، اس لئے یہ استدلال کے لائق نہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یہ ضعیف حدیث ان صحیح روایات کی معارض نہیں ہوسکتی جن سے جمع کرنا ثابت ہوتا ہے، اور بعض لوگ جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید آپ ﷺ نے کسی بیماری کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو یہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ یہ ابن عباس ؓ کے اس قول کے منافی ہے کہ اس (جمع بین الصلاتین) سے مقصود یہ تھا کہ امت حرج میں نہ پڑے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥) سنن الترمذی/ الصلاة ١ (١٨٧)، سنن النسائی/المواقیت ٤٦ (٦٠٣)، (تحفة الأشراف: ٥٤٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٥٤) (صحیح )
1212Sunan Abu Dawood

دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، أَنَّ مُؤَذِّنَ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الصَّلَاةُ، قَالَ: سِرْ سِرْ حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ غُيُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُ فَسَارَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ نَافِعٍ نَحْوَ هَذَا بِإِسْنَادِهِ.

نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ کے مؤذن نے کہا: نماز (پڑھ لی جائے) (تو) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چناچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Waqid: The muadhdhin of Ibn Umar said: prayer (i. e. the time of prayer has come). He said: Go ahead. He then alighted before the disappearance. He then offered the night prayer. He then said: When the Messenger of Allah ﷺ was in a hurry about something, he would do as I did. Then he travelled and covered a distance of three days journey on the day. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Ibn Jabir from Nafi with the same chain.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٠ ) (صحیح) (لیکن اس حدیث میں وارد لفظ قبل غیوب الشفق شفق غائب ہونے سے قبل شاذ ہے، صحیح لفظ حتی غاب الشفق شفق غائب ہونے کے بعد ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ١٢٠٧ میں ہے )