اس طریق سے بھی ابن جابر سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے: اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
This tradition has also been transmitted by Ibrahim bin Musa al-Razi, from Isa, on the authority of Ibn Jabir to the same effect. Abu Dawud said: Abdullah bin al-Ala narrated on the authority of Nafi saying: When the twilight was about to disappear, he alighted and combined both (the prayers).
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔ سلیمان اور مسدد کی روایت میں بنا یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صالح مولیٰ توامہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں بغير مطر بغیر بارش کے الفاظ ہیں۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer at Madina eight of seven rakahs, in the noon and afternoon prayers, and the sunset and night prayers. The narrator Sulaiman and Musaddad did not say the words led us. Abu Dawud said: The aforesaid tradition has also been narrated by Salih, the client of Tumah on the authority if Ibn Abbas saying: Not during rain.
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آگئی ہے تو ہم نے کہا: نماز (ادا کرلیں) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہوجانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر ؓ نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Abdullah ibn Dinar said: The sun set when I was with Abdullah ibn Umar. We proceeded, and when we saw that the evening came, we said prayer. He went on travelling until the twilight disappeared and the stars became thick. He then slighted and combined the two prayers. Then he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ ; when he hastened his travelling, he would pray like this prayer of mine. He said: He would combine the two prayers after the passing of a part of night. Abu Dawud said: This has been transmitted by Asim ibn Muhammad from his brother on the authority of Salim and this has also been narrated by Ibn Abu Najih from Ismail ibn Abdur Rahman ibn Dhuwayb saying that Ibn Umar would combine the two prayers after the disappearance of twilight.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کردیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب لدعوات تھے، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔
Narrated Anas bin Malik (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ proceeded before the sun had declined, he delayed the noon prayer till the time of the afternoon prayer, he would then alight and combine the two prayers. If the sun declined before he moved off, he would offer the noon prayer and rode (the beast) - may peace be upon him. Abu Dawud said: The narrator Mufaddal was the judge of Egypt. His supplication was accepted by Allah; he was the son of Fudalah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ تقصیر الصلاة ١٥ (١١١١)، ١٦ (١١١٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٤)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٧)،(تحفة الأشراف: ١٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٤٧، ٢٦٥) (صحیح )
اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہوجاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔
The above mentioned tradition has also been reported by Uqail through a different chain of narrators. He said: He would delay the evening prayer till he combined the evening and the night prayers when the twilight disappeared.
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے، اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے، اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ١ ؎۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ was engaged in the Battle of Tabuk. If he moved off before the sun had declined, he would delay the noon prayer till he would combine it with the afternoon prayer and would offer them together. If he moved off after the sun had declined, he would combine the noon and afternoon prayers, and then he proceeded; if he moved off before the evening prayer, he would delay the evening prayer; he would offer it along with the night prayer, he would delay the evening prayer; he would offer it along with the night prayer. If he moved off after the evening prayer, he would offer the night prayer earlier and offer it along with the evening prayer. Abu Dawud said: This tradition has not been narrated by anyone except by Qutaibah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سند اور متن میں قتیبہ منفرد ہیں، دونوں سندوں اور متنوں میں فرق کے لئے دیکھئے حدیث نمبر: (١٢٠٦ )۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں والتين والزيتون پڑھی۔
Narrated Al-Bara (RA) : We went out on a journey along with the Messenger of Allah ﷺ . He led us in the night prayer and he recited in one of the rakahs: By the fig and the olive.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٠ (٧٦٧)، ١٠٢ (٧٦٩)، و تفسیر التین ١ (٤٩٥٢)، والتوحید ٥٢ (٧٥٤٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١١٥ (٣١٠)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٣ (١٠٠٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠ (٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٥ (٢٧)، مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٦، ٢٩١، ٣٠٢، ٣٠٣) (صحیح )
براء بن عازب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا، لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: I accompanied the Messenger of Allah ﷺ on eighteen journeys and I never saw him fail to pray two rakahs when the sun had passed the meridian before offering the noon prayer.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٦ (الجمعة ٤١) (٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٩٢، ٢٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابو بسرة غفاری لین الحدیث ہیں )
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر ؓ کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ (نماز کی حالت میں) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل ١ ؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر ؓ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر ؓ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے (سفر میں) عثمان ؓ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔
Narrated Hafs bin Asim: I accompanied Ibn Umar on the way (on a journey). He led us in two rakahs of (the noon) prayer. Then he proceeded and saw some people standing. He asked: What are they doing ? I replied: They are glorifying Allah (i. e. offering supererogatory prayer). He said: If I had offered the supererogatory prayer (while travelling), I would have completed prayer, my cousin. I accompanied the Messenger of Allah ﷺ during the journey, he did not pray more than two rakaat until his death. I also accompanied Abu Bakr, and he prayed two rakaat and nothing more until he died. I also accompanied Umar, and he prayed two rakaat and nothing more until he died. I also accompanied Uthman, and he prayed two rakaat and nothing more until he died. Indeed Allah, the Exalted, said: Certainly you have in the Messenger of Allah an excellent exemplar
Notes · وضاحت
١ ؎: نفل کی دو قسمیں ہیں: راتب سنتیں اور غیر راتب سنتیں، راتب سنتیں فرض نماز سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں، اور غیر راتب عام نفلی نماز کو کہا جاتا ہے تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسافر عام نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ سنن رواتب میں اختلاف ہے اور اس حدیث سے راتب سنتیں ہی مراد ہیں، اس سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ سفر میں سنن رواتب کا نہ پڑھنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١١ (١١٠١)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٩)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٤ (١٤٥٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٥ (١٠٧١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (الجمعة ٣٩) (٥٤٤)، مسند احمد (٢/٢٤، ٥٦)، سنن الدارمی/المناسک ٤٧ (١٩١٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر نفل پڑھتے تھے، خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے، البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے ١ ؎۔
Narrated Ibn Umar (RA) : While travelling the Messenger of Allah ﷺ would pray voluntary prayer on his riding beast in whatever direction it turned; and he would observe witr prayer, but he did not offer the obligatory prayers upon it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ فرض کے سوا نفلی نماز اور وتر بھی سواری پر ادا کی جاسکتی ہے، ان کے لئے قبلہ رخ ہونے کی شرط نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حالت سفر میں عام نفل پڑھ سکتے ہیں، اور وتر اور فجر کی سنت سفر اور حضر دونوں میں تاکیداً پڑھنی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٧ (١٠٩٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠)، سنن النسائی/الصلاة ٢٣ (٤٩١)، والمساجد ٤٦ (٧٤٠)، والقبلة ٢ (٧٤٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٣ (١٦٣١)، (تحفة الأشراف: ٦٩٧٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٨ (٤٧٢)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣١ (١٦٨٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٧(١٢٠٠)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة ٣ (١٥)، مسند احمد (٢/٥٧، ١٣٨) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کرلیتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہوجائے۔
Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ was on a journey and wished to say voluntary prayer, he made his she-camel face the qiblah and uttered the takbir (Allah is most great), then prayed in whatever direction his mount made his face.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٠ (١١٠٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠)، سنن النسائی/المساجد ٤٦ (٧٤٢)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة ٧ (٢٦)، مسند احمد (٣/٢٠٣) (حسن )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں (واپس) آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں (آپ کا) سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent me on some business, and when I came to him he was praying on (the back of) his riding beast (moving) towards the east and making the prostration lower than the bowing.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رکوع اور سجدہ دونوں اشارے سے کرتے اور دونوں میں جھکتے تھے، لیکن سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٤٣ (٣٥١)، (تحفة الأشراف: ٢٧٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣ ٣٣٢، ٣٧٩، ٣٨٨) (صحیح )
عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ آپ نے کہا: مشکل میں ہوں یا سہولت میں، انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں: یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Ata ibn Abu Rabah asked Aisha (RA) : Can women offer prayer on a riding beast? She replied: They were not permitted to do so in hardship or comfort. Muhammad ibn Shuayb said: This (prohibition) applies to the obligatory prayers.
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا، آپ ﷺ صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے: اے مکہ والو! تم چار پڑھو، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں ١ ؎۔
Narrated Imran ibn Husayn: I went on an expedition with the Messenger of Allah ﷺ , and I was present with him at the conquest. He stayed eighteen days in Makkah and prayed only two rakahs (at each time of prayer). And he said: You who live in the town must pray four; we are travellers.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس قسم کی ضعیف حدیثوں سے قصر کی مدت کی تحدید درست نہیں کیونکہ ان میں اس طرح کا چنداں اشارہ بھی نہیں ملتا کہ اللہ کے رسول اگر مزید ٹھہرنے کا ارادہ کرتے تو نماز پوری پڑھتے اس بات کے لئے واضح ثبوت غزوہ تبوک کا وہ سفر ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بیس دن تک قیام کیا اور برابر قصر کرتے رہے، اور غزوہ حنین میں چالیس روز تک قصر فرماتے رہے، نیز غازی کی مثال ایسے مسافر کی ہے جس کو اپنے سفر یا قیام کے بارے میں کوئی واضح بات نہ معلوم ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (الجمعة ٣٩) (٥٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٠، ٤٣١، ٤٣٢، ٤٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سترہ دن مکہ میں مقیم رہے، اور نماز قصر کرتے رہے، تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے، اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے، اس میں ہے: آپ ﷺ انیس دن تک مقیم رہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ had a stop of seventeen days in Makkah and he shortened the prayer (i. e. prayed two rakahs at each time of prayer). Ibn Abbas said: He who stays seventeen days should shorten the prayer; and who stays more than that should offer complete prayer. Abu Dawud said: The other version transmitted by Ibn Abbas through a different chain adds: He (the Prophet) had a stop of nineteen days (in Makkah).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨٠)، المغازي ٥٢ (٤٢٩٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (الجمعة ٤٠) (٥٤٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٣) (شاذ) ( اس کے راوی حفص بن غیاث گرچہ ثقات میں سے ہیں، مگر اخیر عمر میں ذرا مختلط ہوگئے تھے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ عاصم الأحول کے تمام تلامذہ کے برخلاف سترہ دن کی روایت کر بیٹھے ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا، آپ ﷺ نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ stayed fifteen days in Makkah in the year of Conquest. Shortening the prayer. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abdah bin Sulaiman, Ahmad bin Khalid al-Wahbi, and Salamah bin Fadli on the authority of Ibn Ishaq ; but they did not mention the name of Ibn Abbas.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٦٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٩) (ضعیف منکر) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے اور اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ stayed in Makkah seventeen days and prayed two rakahs (at each time of prayer).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣٠٢١، ٣١٥) (ضعیف منکر) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، اور اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں )