Sunan Abu Dawood 1189

نماز کا بیان

1189Sunan Abu Dawood

صلوٰة کسوف میں قرأت کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَذَا عِنْدَ الْقَاضِي، وَالصَّوَابُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خُسِفَتِ الشَّمْسُفَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا بِنَحْوٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی، آپ ﷺ نے سورة البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : An eclipse of the sun took place. the Messenger of Allah ﷺ prayed along with the people. He stood up for a long time nearly equal to the recitation of Surah al Baqarah. H then bowed. The narrator then transmitted the rest of the tradition.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصلاة ٥١ (٤٣١)، الکسوف ٩ (١٠٥٢)، صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٧)، سنن النسائی/الکسوف ١٧ (١٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٨، ٣٥٨) (صحیح )