عید کی نماز کے لئے اذان نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الْعِيدَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ. وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، أَوْ عُثْمَانَ، شَكَّ يَحْيَى.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان ؓ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ offered the Eid prayer without the adhan and the iqamah. Abu Bakr and Umar or Uthman also did so. The narrator Yahya is doubtful about Uthman.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٢)، ١٩ (٩٧٨)، التفسیر ٣ (٤٨٩٥)، صحیح مسلم/العیدین ٨ (٨٨٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٥ (١٢٧٤)، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٨) (صحیح )