Sunan Abu Dawood 1135

نماز کا بیان

1135Sunan Abu Dawood

عید کی نماز کا وقت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ.

یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر ؓ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔

Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : Yazid ibn Khumayr ar-Rahbi said: Abdullah ibn Busr, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ came out along with the people on the day of the breaking of the fast or on the day of sacrifice (to offer the prayer). He disliked the delay of the imam, and said: We would finish (our Eid prayer) at this moment, that is, at the time of forenoon.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٠ (١٣١٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٦) (صحیح )