ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ﷺ نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔
Ibn Shihab (al-Zuhr) reported on the authority of Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathmah that the Messenger of Allah ﷺ did not make two prostrations when are made when one is doubtful until the people met him. Abu Dawud said; this tradition has also been transmitted by al-Zahidi from al-zuhr from Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi HAthman from thre prophet ﷺ . This version goes: he did not make two prostrations on account of forgetfulness.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٢٢ (١٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٨٠، ١٥١٩٢) (صحیح) (صحیح مرفوع احادیث سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی تو دو ہی رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے نماز کم کردی ہے؟ تو آپ ﷺ نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر (سہو کے) دو سجدے کئے۔
Abu Hurairah reported; The Prophet ﷺ offered the noon prayer and he gave the salutation at the end of two rakahs. He was asked. Has the prayer been shortened ? then he offered two rakahs of the prayer and made two prostrations (at the end of it).
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے ، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے، ابوسفیان نے ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس میں ہے: پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Prophet ﷺ finished two rakahs of an obligatory prayer, a man asked him: Messenger of Allah, has the prayer been shortened, or have you forgotten? he replied: I did not do all that. The people said: Messenger of Allah, you did that. Therefore, he offered another two rakahs or prayer and did not make two prostrations due to forgetfulness. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Dawud al-Hussain from Abu Sufyan, freed slave of Ibn Abi Ahmad on the authority of Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . This version goes: He then made two prostrations while he was sitting after the salutation.
Notes · وضاحت
١ ؎: ثم انصرف ولم يسجد سجدتي السهو ( پھر آپ پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے) کا ٹکڑا ” شاذ “ ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو ہی رکعت میں آپ نے سلام پھیر دیا، پھر انہوں نے محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح جسے انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ذکر کیا، اس میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے۔
Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer and gave the salutation after two rakahs of prayer. He narrated this tradition like that of Ibn Sirin from Abu Hurairah. This version adds; he gave the salutation and prostrated two prostrations due to forgetfulness.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٤ (١٢١٣)، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٨) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اندر چلے گئے۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ ﷺ حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کردی گئی ہے؟ (یہ سن کر) آپ ﷺ اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
Imran bin Husain said: The Messenger of Allah ﷺ gave the salutation at the end of three rakahs in the afternoon prayer, then went into the apartment (according to the version of maslamah). A man called al-Khirbaq who had long arms got up and said ; has the prayer been shortened, Messenger of Allah ? He came out angrily trailing his cloak and said: Is he telling the truth ? they said; Yes. He then prayed that rakah, then gave the salutation, then made two prostrations, then gave the salutation.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٤)، سنن النسائی/السھو ٢٣ (١٢٣٧، ١٢٣٨)، ٧٥ (١٣٣٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٤ (١٢١٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٢٩، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠، ٤٤١) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ ، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، (یہ سن کر) آپ ﷺ نے دو سجدے کئے اس کے بعد کہ آپ سلام پھیر چکے تھے۔
Abdullah (bin Masud) said: The Messenger of Allah ﷺ prayed five rak’ahs in the noon prayer. He was asked whether the prayer had been extended. He asked what they meant by that. The people said: you prayed five rak’ahs. Then he made two prostrations after having given the salutation.
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی (ابراہیم کی روایت میں ہے: تو میں نہیں جان سکا کہ آپ ﷺ نے اس میں زیادتی کی یا کمی) ، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کیا؟ ، لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے، پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا، لیکن انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو ، اور فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہوجائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے، پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے، اس کے بعد سلام پھیرے پھر (سہو کے) دو سجدے کرے ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ offered prayer. The version of the narrator Ibrahim goes: I do not know whether he increased or decreased (the rakahs of prayer). When he gave the salutation, he was asked: Has something new happened in the prayer, Messenger of Allah? He said: What is it? They said: You prayed so many and so many (rakahs). He then relented his foot and faced the Qiblah and made two prostrations. He then gave the salutation. When he turned away (finished the prayer), he turned his face to us and said: Had anything new happened in prayer, I would have informed you. I am only a human being and I forget just as you do; so when I forget, remind me, and when any of you is in doubt about his prayer he should aim at what is correct, and complete his prayer in that respect, then give the salutation and afterwards made two prostrations.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣١ (٤٠١)، الإیمان ١٥ (٦٦٧١)، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٢)، سنن النسائی/السہو ٢٥ (١٢٤٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٣ (١٢١٢)، (تحفة الأشراف: ٩٤٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٩، ٤١٩، ٤٣٨، ٤٥٥) (صحیح )
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص (نماز میں) بھول جائے تو دو سجدے کرے ، پھر آپ ﷺ پلٹے اور سہو کے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حصین نے اعمش کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
This tradition has also been transmitted by Abdullah (bin Masud) through a different chain of narrators. This version goes; when one of you forgets (in his prayer), he should perform two prostrations. Then he turned away, and performed two prostrations (due to forgetfulness). Abu Dawud said: The narrator Husain also reported it like al-Amash.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٩(٥٧٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٩٥ (١٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٤٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢٤) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کردیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز زیادہ ہوگئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ ﷺ مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں ۔
Abdullah (bin Masud) said; The Messenger of Allah ﷺ led us in five rak’ahs of prayer. When he turned away (i, e, finished his prayer), the people whispered among themselves. He asked; what is the matter with you ? They said: Messenger of Allah, has (the number of the rak’ahs of) the prayer been increased ? he said: No. they said; you have offered five rak’ahs of prayer. He then turned away and performed two prostrations, and afterwards gave the salutation. He then said: I am only a human being, I forget, as you forget.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ المساجد ١٩ (٥٧٢)، سنن النسائی/السہو ٢٦ (١٢٥٧، ١٢٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٣٨، ٤٤٨) (صحیح )
معاویہ بن حدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی، ایک شخص نے آپ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں، تو آپ ﷺ لوٹے، مسجد کے اندر آئے اور بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اگر میں دیکھوں (تو پہچان لوں گا) ، پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص تھا، لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔
Narrated Muawiyah ibn Khudayj: One day the Messenger of Allah ﷺ prayed and gave the salutation while a rakah of the prayer remained to be offered. A man went to him and said: You forgot to offer one rakah of prayer. Then he returned and entered the mosque and ordered Bilal (to utter the Iqamah). He uttered the Iqamah for prayer. He then led the people in one rakah of prayer. I stated it to the people. They asked me: Do you know who he was? I said: No, but I can recognise him if I see him. Then the man passed by me, I said: It is he. The people said: This is Talhah ibn Ubaydullah.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان ٢٤ (٦٦٥)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے، پھر جب اسے نماز پوری ہوجانے کا یقین ہوجائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز (درحقیقت) پوری ہوچکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہوجائیں گے، اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہوجائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابو سعید خدری ؓ سے، اور ابوسعید نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔
Ata bin Yasar said that Abu Saeed Al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when one of you is in doubt about his prayer (i. e, how much he has prayed), he should throw away his doubt and base his prayer on what he is sure of. When he is sure about the completion of his prayer, he should make two prostrations (at the end of the prayer). If the prayer is complete, the additional rak’ah and the two prostrations will be supererogatory prayer. If the prayer is incomplete, the additional rak’ahs will compensate it, and the two prostrations will be a disgrace for the devil.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١)، سنن النسائی/السھو ٢٤ (١٢٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٢ (١٢١٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٦٣، ١٩٠٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٦(٦٢ مرسلاً )، مسند احمد (٣/٣٧، ٥١، ٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (حسن صحیح )
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے، پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے، اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں (سجدوں) کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہوجائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے ۔
Narrated Ata ibn Yasar (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you is in doubt about his prayer, and does not know how much he has prayed, three or four rakahs, he should pray one (additional) rakah and make two prostrations while sitting before giving the salutation. If the (additional) rakah which he prayed is the fifth one, he will make it an even number by these two prostrations. If it is the fourth one, the two prostrations will be a disgrace for the devil.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ( ١٠٢٤ )، (تحفة الأشراف: ٤١٦٣ ، ١٩٠٩١ ) (صحیح) (یہ حدیث بھی حدیث نمبر: (١٠٢٤) کی طرح مرفوع اور متصل ہے، اس میں امام مالک نے ابو سعید خدری ؓ کو جان بوجھ کر حذف کردیا ہے جیسا کہ ان کا طریقہ ہے)
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے، زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے، پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہوجائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے ۔ پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک، حفص بن میسرہ، داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔
Zaid bin Aslam reported on the authority of the chain of Malik: The Prophet ﷺ said: If one of you is in doubt about his prayer, and if he is sure that he prayed three rakah, he should stand and complete one rakah along with its prostrations. Then he should sit and recite the tashahhud. When he finishes the prayer, and there remains nothing except salutation, he should make two prostrations while he is sitting and afterwards should give the salutation. The narrator then narrated the tradition similar to that of Malik. Abu Dawud said: Similarly, this tradition has been narrated by Ibn Wahb from Malik, Hafs bin Maisarah, Dawud bin Qais and Hisham bin Saad. But Hisham projected it to Abu Saeed al-Khudri.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٠٢٤، ١٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤١٦٣) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہوجائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے ١ ؎۔
Abu Ubaydah reported, on the authority of his father Abdullah (ibn Masud), the Messenger of Allah ﷺ as saying: When you offer the prayer, and you are in doubt about the number of rakahs whether offered three or four, and you have prayed four rakahs in all probability in your opinion, you should recite tashahhud and make two prostrations while you are sitting before giving the salutation. afterwards you should recite the tashahhud and give the salutation again. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Abd al-Wahid from Khusaif, but he did not report it as a statement of the Prophet ﷺ . The version of Abd al-Wahid has been corroborated by Sufyan, Sharik, and Israil. They differed amongst themselves about the text of the tradition and they did not narrate it with the continuous chain up to the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ابوعبیدہ نے ابن مسعود ؓ سے نہیں سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
ن الکبری / السہو ١٢٦ (٦٠٥)، وانظر رقم: (١٠١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢٨، ٤٢٩ موقوفاً ) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کرلے ١ ؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے (یعنی دل میں وسوسہ ڈالے) کہ تو نے حدث کرلیا ہے تو اس سے کہے: تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے ٢ ؎۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you prays, and he does not know whether he prayed more or less rakahs (than those prescribed by the Shariah), he should perform two prostrations while he is sitting. If the devil comes to him, and tells him (suggests him): You have been defiled, he should say: You have told a lie, except that he feels smell with his nose, or sound with his ears (then his ablution will break). These are the wording; of the tradition reported by Aban. Abu Dawud said: Mamar and Abi bin al-Mubarak mentioned the name Iyad bin Hilal and al-Awzai mentioned the name of Iyad bin Abi Zuhair.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث اور ابوہریرہ ؓ کی اگلی حدیث دونوں مجمل ہیں، انہیں کی دیگر روایات سے یہ ثابت ہے کہ تلاش و تحری کر کے یقینی پہلو پر بنا کرے، یا ہر حال میں کم پر ہی بنا کرے باقی رکعت پوری کر کے سجدہ سہو کرے، خالی سجدہ سہو کافی نہیں ہے، بعض سلف نے کہا ہے: یہ اس کے لئے ہے جس کو ہمیشہ شک ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎: یعنی اسے یقین ہوجائے کہ حدث ہوگیا ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٣٩٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٩ (١٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧١)، سنن النسائی/السہو ٢٤ (١٢٤٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١٦ (٦٢)، مسند احمد (٣/١٢، ٣٧، ٥٠، ٥١، ٥٣، ٥٤)، دی/الصلاة ١٧٤ (١٥٣٦) (ضعیف) (ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، مگر ابوہریرہ کی حدیث (١٠٣٠) نیز دیگر صحیح احادیث سے اسے تقویت ہو رہی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; When one of you stands up to pray, the devil comes to him and confuses him so that he does not know how much he has prayed. If any of you has such an experience, he should perform two prostrations while he is sitting. Abu Dawud said; This tradition has been narrated in a similar manner by Ibn ‘Uyainab, Mamar and al-Laith.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨)، والعمل فی الصلاة ١٨ (١٢٢٢)، والسھو ٦ (١٢٣١)، ٧ (١٢٣٢)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٨٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٣٨٩)، والمساجد ١٩ (٥٧٠)، سنن النسائی/الأذان ٣٠ (٦٧١)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٧٩ (٣٩٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٥ (١٢١٦)، موطا امام مالک/السہو ١(١)، مسند احمد (٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١، ٤٦٠، ٥٠٣، ٥٢٢، ٥٣١) وتقدم برقم (٥١٦) (صحیح )
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے (دو سجدے کرے) ۔
This tradition has also been transmitted by Muhammad bin Muslim through a different chain of narrators. This version adds; “While he is sitting before he gives the salutation. ”
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔
This traditions has also been narrated by Muhammad bin Muslim al-Zuhr through a different chain of transmitters and to the same effect. This version adds; He should perform two prostrations before giving the salutation.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٥ (١٢١٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٥٢) (حسن صحیح )