نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 31 of 55

993Sunan Abu Dawood

نماز میں ہاتھ ٹیکنے کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَهُوَ مُشَبِّكٌ يَدَيْهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تِلْكَ صَلَاةُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ.

اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز پڑھ رہا ہو اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے ہوئے ہو، تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ کا کہنا ہے کہ یہ غضب کی شکار مغضوب عليهم قوم یہود کی نماز ہے۔

Ismall bin Umayyah said: I asked about a man who intertwines his fingers while he is engaged in prayer. He said that Ibn Umar had said: This is the prayer of those who earn the anger of Allah.

Takhrij · تخریج
تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٠٤) (صحیح )
994Sunan Abu Dawood

نماز میں ہاتھ ٹیکنے کی کراہت کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَهَذَا لَفْظُهُ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَتَّكِئُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ: سَاقِطًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ لَهُ: لَا تَجْلِسْ هَكَذَا، فَإِنَّ هَكَذَا يَجْلِسُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا (ہارون بن زید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ بائیں پہلو پر پڑا ہوا دیکھا پھر (آگے) دونوں (الفاظ میں) متفق ہیں تو انہوں نے اس سے کہا: اس طرح نہ بیٹھو کیونکہ اس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو عذاب دیئے جائیں گے۔

Nafi said: Ibn Umar saw a man resting on his left hand while he was sitting during prayer. The version of Harun bin Zaid goes: He was lying on his left side. the agreed version goes: he said to him: Do not sit like this, because those who are punished sit like this.

Takhrij · تخریج
تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٥١٣)، وقد أخرجہ: حم (٢/١١٦) (حسن )
995Sunan Abu Dawood

قعدہ اولی میں تخفیف کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قَالَ: قُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ: حَتَّى يَقُومَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر (بیٹھے) ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ تو سعد بن ابراہیم نے کہا: کھڑے ہونے تک ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ was in the first two rakahs as though he were on heated stones. The narrator Shubah said: We said: Till he (the Prophet) got up.

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آخری قعدہ کی بہ نسبت پہلے قعدہ میں آپ جلدی کھڑے ہوجاتے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٦٦)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٥ (١١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٦، ٤١٠، ٤٢٨، ٤٣٦، ٤٦٠) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے )
996Sunan Abu Dawood

نماز میں سلام پھیرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ. ح وحَدَّثَنَاتَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ. ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَالَ إِسْرَائِيلُ: عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَحَدِيثُ إِسْرَائِيلَ لَمْ يُفَسِّرْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: شُعْبَةُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ، حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ أَنْ يَكُونَ مَرْفُوعًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں اور بائیں السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کی گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سفیان کی روایت کے الفاظ ہیں اور اسرائیل کی حدیث سفیان کی حدیث کی مفسر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے زہیر نے ابواسحاق سے اور یحییٰ بن آدم نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن اسود سے، انہوں نے اپنے والد اسود اور علقمہ سے روایت کیا ہے، اور ان دونوں نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ ابواسحاق کی اس حدیث کے مرفوع ہونے کے منکر تھے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ used to give the salutation to his left and right sides until the whiteness of his cheek was seen, (saying: Peace be upon you, and mercy of Allah twice. Abu Dawud said: This is a version of the tradition reported by Abu Sufyan. The version of Israil did not explain it. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Zubayr from Abu Ishaq and Yahya ibn Adam from Israil from Abu Ishaq from Abdur Rahman ibn al-Aswad from his father from Alqamah on the authority of Abdullah ibn Masud. Abu Dawud said: Shubah used to reject this tradition, the tradition narrated by Abu Ishaq as coming from the Prophet ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب علقمہ کا عطف عن أبيه پر ہو اور اگر علقمہ کا عطف عن عبدالرحمن پر ہو تو ترجمہ یہ ہوگا کہ ابواسحاق نے اسے عبدالرحمن سے اور انہوں نے اپنے والد سے اور اسی طرح ابواسحاق نے علقمہ سے اور انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (٢٩٥)، سنن النسائی/السھو ٧١ (١٣٢٣، ١٣٢٤، ١٣٢٥، ١٣٢٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٨ (٩١٤)، (تحفة الأشراف: ٩١٨٢، ٩٥٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٠، ٤٠٦، ٤٠٩، ٤١٤، ٤٤٤، ٤٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٧ (١٣٨٥) (صحیح )
997Sunan Abu Dawood

نماز میں سلام پھیرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قَيْسٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْعَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَكَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته اور اپنے بائیں جانب السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔

Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I offered prayer along with the Prophet ﷺ . He would give the salutation to his right side (saying): Peace be upon you and mercy of Allah; and to his left side (saying): Peace be upon you and mercy of Allah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٧٦) (صحیح )
998Sunan Abu Dawood

نماز میں سلام پھیرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، وَوَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُرْمِي بِيَدِهِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے دائیں اور بائیں اشارے کرتا، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی (نماز میں) اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہے، گویا اس کا ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہے، تم میں سے ہر ایک کو بس اتنا کافی ہے (یا یہ کہا: کیا تم میں سے ہر ایک کو اس طرح کرنا کافی نہیں؟ ) ، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ دائیں اور بائیں طرف کے اپنے بھائی کو سلام کرے۔

Jabir bin Samurah said: When we prayed behind the Messenger of Allah ﷺ , one of us gave the salutation and pointed with his hand to the man to his right side and left side. When he finished his prayer, he said: What is the matter that one of you points with his hand (during prayer) just like the tails of restive horses. It is sufficient for one of you, or is it not sufficient for one of you to say in this manner? And he pointed with his finger; one should salute his brother at his right and left side.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣١)، سنن النسائی/السھو ٥ (١١٨٦)، ٦٩ (١٣١٩)، ٧٢ (١٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ٢٢٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧) (صحیح )
999Sunan Abu Dawood

نماز میں سلام پھیرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخْذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ.

اس طریق سے بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے ۔

The aforesaid tradition has also been narrated by Mis’ar through a different chain of transmitters to the same effect. This version adds: Is it not sufficient for one of you or for one of them that he puts his hand on his thigh, and then gives the salutation to his brother to his right and left sides.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٠٧) (صحیح )
1000Sunan Abu Dawood

نماز میں سلام پھیرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، قَالَ زُهَيْرٌ: أُرَاهُ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں؟ نماز میں سکون سے رہا کرو ۔

Jabir bin Samurah said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon us while the people were raising their hands. The narrator Zubair said: I think ( they were raising the hands) during prayer. He (the prophet) said: What is the matter, I see you raising your hands as if they are the tails of restive horses! Maintain tranquility during prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الصلاة ٢٧ (٤٣٠)، سنن النسائی/السہو ٥ (١١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٣، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧) (صحیح )
1001Sunan Abu Dawood

امام کو سلام کا جواب دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ، وَأَنْ نَتَحَابَّ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے اور آپس میں دوستی رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ commanded us to respond to the salutation of the imam. and to love each other, and to salute each other.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٠ (٩٢٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٧) (ضعیف) (اس کے روای سعید شامی ضعیف ہیں اور قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں نیز: حسن بصری کا سمرة سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع ثابت نہیں )
1002Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد تکبیر کہنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ يُعْلَمُ انْقِضَاءُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر سے جانا جاتا تھا۔

Ibn Abbas said: The end of the prayer of the Messenger of Allah ﷺ was known by the takbir (pronounced aloud).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٥ (٨٤٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢٣ (٥٨٣)، سنن النسائی/السھو ٧٩ (١٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٢) (صحیح )
1003Sunan Abu Dawood

نماز کے بعد تکبیر کہنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ،أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّرَفْعَ الصَّوْتِ لِلذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ وَأَسْمَعُهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں یہی دستور تھا، ابن عباس کہتے ہیں: جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔

Ibn Abbas said: To raise the voice for making the mention of Allah after the people had finished their obligatory prayer was for in vogue the time of the Messenger of Allah ﷺ . Ibn Abbas said: I used to know by it when they finished the prayer and would listen to it (making the mention of Allah).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٥ (٨٤١)، صحیح مسلم/المساجد ٢٣ (٥٨٣)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٧) (صحیح )
1004Sunan Abu Dawood

سلام مختصر کرنے بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ. قَالَ عِيسَى: نَهَانِي ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَبَا عُمَيْرٍ عِيسَى بْنَ يُونُسَ الْفَاخُورِيَّ الرَّمْلِيَّ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ الْفِرْيَابِيُّ مِنْ مَكَّةَ تَرَكَ رَفْعَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: نَهَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ رَفْعِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلام کو کھینچ کر لمبا نہ کرنا سنت ہے ۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے مجھے اس حدیث کو مرفوع کرنے سے منع کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوعمیر عیسیٰ بن یونس فاخری رملی سے سنا ہے انہوں نے کہا ہے کہ جب فریابی مکہ مکرمہ سے واپس آئے تو انہوں نے اس حدیث کو مرفوع کہنا ترک کردیا اور کہا: احمد بن حنبل نے انہیں اس حدیث کو مرفوع روایت کرنے سے منع کردیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Shortening the salutation is sunnah (commendable). The narrator Isa said: Ibn al-Mubarak prohibited me from reporting this tradition as a statement of the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: I heard Abu Umar Isa bin Yunus al-Fakhuri al-Ramil saying: When al-Firyabi returned from Makkah, he gave up narrating this tradition as a statement of the Prophet ﷺ . He said: Ahmad bin Hanbal forbade to report this tradition directly from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٢٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٣٢) (ضعیف) (اس کے راوی ” قرة “ کی ثقاہت میں کلام ہے )
1005Sunan Abu Dawood

نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ.

علی بن طلق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دوران نماز بغیر آواز کے ہوا خارج ہو تو وہ (نماز) چھوڑ کر چلا جائے اور وضو کرے اور نماز دہرائے ١ ؎۔

Ali bin Talq reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When any of you breaks wind during prayer, he must withdraw, perform ablution, and repeat the prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: علی بن طلق ؓ کی یہ روایت صحت کے اعتبار سے ام المومنین عائشہ ؓ کی اس روایت سے زیادہ راجح ہے جو کتاب الطہارۃ میں آئی ہے اور جس میں ہے: من أصابه قيء في صلواته أو رعاف فإنه ينصرف ويبني على صلاته کیونکہ اگرچہ علی بن طلق اور عائشہ ؓ دونوں کی روایتوں میں کلام ہے لیکن علی بن طلق ؓ کی روایت کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور عائشہ ؓ کی روایت کو کسی نے صحیح نہیں کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٥، (تحفة الأشراف: ١٠٣٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی عیسیٰ اور مسلم دونوں لین الحدیث ہیں )
1006Sunan Abu Dawood

جس جگہ فرض پڑھے ہوں اس جگہ نفل نہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ ؟قَالَ: عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، زَادَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ فِي الصَّلَاةِ: يَعْنِي فِي السُّبْحَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے ۔ عبدالوارث کی روایت میں ہے: آگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے۔ حماد کی روایت میں في الصلاة کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Cannot any one of you (according to the version of the narrator AbdulWarith) step forward or backward or at his right or left. The version of Hammad added: during prayer; that is, in supererogatory prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٧ (٨٤٨ تعلیقاً )، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٣ (١٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٥) (صحیح )
1007Sunan Abu Dawood

جس جگہ فرض پڑھے ہوں اس جگہ نفل نہ پڑھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ، فَقَالَ: صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ، فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ، فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ، فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِكْ أَهْلُ الْكِتَابِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ، فَقَالَ: أَصَابَ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدْ قِيلَ: أَبُو أُمَيَّةَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ.

ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہا: یہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھی ہے، وہ کہتے ہیں: اور ابوبکر و عمر ؓ اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے، اور ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا، اللہ کے نبی کریم ﷺ نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا، یہاں تک کہ ہم نے آپ ﷺ کے گالوں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے، پھر وہ شخص جس نے آپ ﷺ کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر ؓ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، اتنے میں نبی اکرم ﷺ نے نظر اٹھائی (اور یہ صورت حال دیکھی) تو فرمایا: خطاب کے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی ۔

Narrated Al-Azraq ibn Qays: An imam of ours, whose kunyah (surname) was Abu Rimthah, led us in prayer and said: I prayed this prayer, or one like it, with the Prophet ﷺ . Abu Bakr and Umar were standing in the front row on his right and there was a man who had been present at the first takbir in the prayer. The Prophet of Allah ﷺ offered the prayer, then gave the salutation to his right and his left so that we saw the whiteness of his cheeks, then turned away as Abu Rimthah (meaning himself) had done. The man who has been present with him at the first takbir in the prayer then got up to pray another prayer, whereupon Umar leaped up and, seizing him by the shoulders, shook him and said: Sit down, for the People of the Book perished for no other reason than that there was no interval between their prayers. The Prophet ﷺ raised his eyes and said: Allah has made you say what is right, son of al-Khattab. Abu Dawud said: Sometimes the name of Abu Umayyah is narrated instead of Abu Rimthah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤١، ١٢٠٣٧) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی اشعث اور منہال دونوں ضعیف ہیں ’ لیکن دونوں کی متابعت کے ملنے سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحيحة: 3173، وتراجع الألباني: 9 )
1008Sunan Abu Dawood

سجدہ سہو کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِمَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ خَرَجَ سَرْعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ: ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصُرَتِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ: لَمْ أَنْسَ، وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُقَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟فَأَوْمَئُوا، أَيْ نَعَمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ. قَالَ: فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: سَلَّمَ فِي السَّهْوِ، فَقَالَ: لَمْ أَحْفَظْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ ﷺ کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کردی گئی ہے، نماز کم کردی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر ؓ بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے (اس سلسلہ میں) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ ﷺ ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ ، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ ﷺ اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد الله أكبر کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر الله أكبر کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر الله أكبر کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر الله أكبر کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ﷺ نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ ؓ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین ؓ نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ led us in one of the evening (Asha) prayers, noon or afternoon. He led us in two Rak’ahs and gave the salutation. He then got up going towards a piece of wood which was placed in the front part of the mosque. He placed his hands upon it, one on the other, looking from his face as if he were angry. The people came out hastily saying: the prayer has been shortened. Abu Bakr and Umar were among the people, but they were too afraid to speak to him. A man whom the Messenger of Allah ﷺ would call “ the possessor of arms” (Dhu al-Yadain) stood up (asking him): Have you forgotten. The Messenger of Allah, or has the prayer been shortened? He said: I have neither forgotten nor has it been shortened. He said: Messenger of Allah, you have forgotten. The Messenger of Allah ﷺ turned towards the people and asked: did the possessor of arms speak the truth? They made a sign, that is, yes. The Messenger of Allah ﷺ returned to his place and prayed the remaining two Rak’ahs, then gave the salutation; he then uttered the takbir and prostrated himself as usual or prolonged. He then raised his head and uttered the takbir; then he uttered the takbir and made prostration as usual or made longer (prostration). Then he raised his head his and uttered the takbir (Allah is most great). The narrator Muhammad was asked: Did he give the salutation (while prostrating) dueto forgetfulness? He said: I do not remember it from Abu Hurairah. But we Are sure that Imran bin Husain (in his version) said; he then gave the salutation.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٤١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٨٨ (٤٨٢)، والأذان ٦٩ (٧١٤)، والسھو ٣ (١٢٢٧)، ٤ (١٢٢٨)، ٨٥ (١٣٦٧)، والأدب ٤٥ (٦٠٥١)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٠ (٣٩٩)، سنن النسائی/السھو ٢٢ (١٢٢٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٤ (١٢١٤)، مسند احمد (٢/٢٣٧، ٢٨٤) (صحیح )
1009Sunan Abu Dawood

سجدہ سہو کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ بِإِسْنَادِهِ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَقُلْ: بِنَا، وَلَمْ يَقُلْ: فَأَوْمَئُوا، قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ وَلَمْ يَقُلْ: وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَتَمَّ حَدِيثُهُ، لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ: فَكَبَّرَ وَلَا ذَكَرَ رَجَعَ.

اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے صلى رسول الله ﷺ کہا ہے صلى بنا رسول الله ﷺ نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے فأومئوا کہا ہے (جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ) انہوں نے فقال الناس نعم کہا ہے، اور مالک نے ثم رفع کہا ہے، وكبر نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے، یعنی مالک نے رفع وکبر کہنے کے بجائے صرف رفع پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے ثم کبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہوگئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ فكبر. نہیں کہا ہے اور نہ ہی رجع . کا ذکر کیا ہے۔

This tradition has been narrated through a different chain of transmitters; but the version of Hammad is more perfect. This version goes; then the Messenger of Allah ﷺ prayed; it does not have the words, “led us (in prayer), ” nor the words “they made a sign”. Thereupon the people said: Yes. He then raised his head. The version does not mention the words “he uttered the takbir. He then uttered the takbir and made the prostration as usual or prolonged it. He then raised his head”. The narrator then prostration as usual or prolonged it. He then raised his head”. The narrator then finished the tradition and did not mention the words that follow it. He did not mention the words “they made a sign”, but Hammad bin Zaid mentioned them in his version. Abu dawud said: Anyone who narrated this tradition did not mention the words “ then he uttered the takbir”, nor the words “he returned”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦٩ (٧١٤)، السہو ٤(١٢٢٨)، أخبار الآحاد ١(٧٢٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٦ (٣٩٩)، سنن النسائی/السہو ٢٢ (١٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٤٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٥ (٦٠)، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٤٢٣) (صحیح )
1010Sunan Abu Dawood

سجدہ سہو کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَمَّادٍ كُلِّهِ إِلَى آخِرِ قَوْلِهِ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: فَالتَّشَهُّدُ، قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: كَانَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ، وَلَا ذَكَرَ: فَأَوْمَئُوا، وَلَا ذَكَرَ: الْغَضَبَ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ، عَنْ أَيُّوبَ، أَتَمُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول: نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم تک ذکر کی۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں: میں نے ان سے (یعنی محمد بن سیرین سے) پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے، لیکن اس روایت میں آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے، حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے۔

Abu Hurairah said ; The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer. He then narrated the same version reported by Hammad up to the words “we are sure that Imran bin Husain said: then he gave the salutation. ” The narrator said: I asked; What about the Tashahud? He replied: I did not hear thing about the tashahhud, but it is more liking to me that one should recite the tashahhud. This version has not the words “whom he called the possessor of arms (Dhu al-yadain). ” Nor the words “they made a sign, ” nor the word “anger”. The tradition narrated by Hammad from Ayyub is more perfect.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السہو ٤ (١٢٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٦٨٩) (صحیح )
1011Sunan Abu Dawood

سجدہ سہو کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ، أَنَّهُ كَبَّرَ وَسَجَدَ، وَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ،وَحُمَيْدٌ، وَيُونُسُ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، أَنَّهُ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ. وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامٍ، لَمْ يَذْكُرَا عَنْهُ هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍأَنَّهُ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ.

ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا اور سجدہ کیا، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حبیب بن شہید، حمید، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ ﷺ نے الله أكبر کہا، پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا پھر الله أكبر کہا۔

The above mentioned tradition has also been narrated by Abu Hurairah through a different chain of transmitters. This version goes: the Prophet ﷺ uttered the takbir and prostrated himself (in a tradition relating to the incidence of the possessor of arms [Dhu al-yadain]). The narrator Hisham, I, e, Ibn Hassan said: he uttered the takbir ; then he uttered the takbir and prostrated himself. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Habib bin al-shahid, Humaid, Yunus, and Asim bin al-Ahwal, from Muhammad on the authority of Abu Hurairah none of them mentioned what Hammad bin Zaid mentioned from from Hisham that he uttered the takbir; then uttered the takbir and prostrated himself. Hammad bin Sulaimah and Abu BAkr bin Ayyash also narrated this tradition from Hisham, but they did not narrate from him what HAmmad bin zaid narrated that he uttered the takbir and again uttered the takbir.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٤١٥، ١٤٤٦٩) (شاذ) (ہشام بن حسان نے متعدد لوگوں کے برخلاف روایت کی ہے )
1012Sunan Abu Dawood

سجدہ سہو کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حَتَّى يَقَّنَهُ اللَّهُ ذَلِكَ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے: اور آپ ﷺ نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا کامل یقین دلا دیا ۔

This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version goes: he did not make two prostrations (at the end of prayer) due to forgetfulness until Allah gave him satisfaction about it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣١٩٢، ١٥٢٠٥، ١٤١١٥) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن کثیر مصیصی کثیر الغلط ہیں )