امام کو سلام کا جواب دینا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ، وَأَنْ نَتَحَابَّ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ.
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے اور آپس میں دوستی رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ commanded us to respond to the salutation of the imam. and to love each other, and to salute each other.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٠ (٩٢٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٧) (ضعیف) (اس کے روای سعید شامی ضعیف ہیں اور قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں نیز: حسن بصری کا سمرة سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع ثابت نہیں )