اس سند سے بھی ابوموسیٰ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں (سلیمان تیمی) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو، اور انہوں نے تشہد میں أشهد أن لا إله إلا الله کے بعد وحده لا شريك له کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ کا قول: فأنصتوا محفوظ نہیں ہے، اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے۔
This tradition has also been transmitted by Hittan bin Abdullah al-Ruqashi through a different chain of narrators. This version adds: When he ( the imam) recites the Quran, keep silence (and listen attentively). And in the tashahhud this version adds after the words “I testify that there is no god but Allah” the words “He is alone, and there is no associate of Him. ” Abu Dawud said: His word And keep silence is not guarded; it has been narrated by Sulaiman al-Taimi alone in his version.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us the tashahhud as he would teach us the Quran, and would say: The blessed adoration of the tongue, acts of worship (and) all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is Allah’s Messenger ﷺ .
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠٤ (٢٩٠)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٣ (١١٧٥)، والسھو ٤٢ (١٢٧٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٢) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے اما بعد کے بعد کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم نماز کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو: التحيات الطيبات والصلوات والملک لله پھر دائیں جانب سلام پھیرو، پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیفہ (جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا) یہ بتارہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے ١ ؎۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded us (to recite) when we sit in the middle of the prayer or at its end before the salutation: The adorations of the tongue, all good things, acts of worship, and the Kingdom are due to Allah. Then give salutation to the right side; then salute your reciter (i. e. the imam) and yourselves. Abu Dawud said: Sulaiman bin Musa hails from Kufah and he lives in Damascus. Abu Dawud said: This collection of traditions indicates that al-Hasan (al-Basri) heard traditions from Samurah (b. Jundub).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملے کا باب سے تعلق یہ ہے کہ یہ الفاظ جنہیں سلیمان بن سمرہ نے اپنے والد سمرہ ؓ سے روایت کیا ہے اس صحیفہ کے الفاظ ہیں جنہیں سمرہ نے املا کرایا تھا اور جنہیں ان سے ان کے بیٹے سلیمان نے روایت کیا ہے، ابوداود کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح سلیمان بن سمرہ کا سماع اپنے والد سمرہ سے ثابت ہے اسی طرح حسن بصری کا سماع بھی ثابت ہے کیونکہ یہ دونوں طبقہ ثالثہ کے راوی ہیں تو جب سلیمان اپنے والد سمرہ سے سن سکتے ہیں تو حسن بصری کے سماع کے لئے بھی کوئی چیز مانع نہیں، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے صرف عقیقہ والی حدیث سنی ہے اور باقی حدیثیں جو سمرہ سے وہ روایت کرتے ہیں وہ اسی صحیفہ میں لکھی ہوئی حدیثیں ہیں سمرہ سے ان کی سنی ہوئی نہیں ہیں ابو داود نے اسی خیال کی تردید کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦١٧) (ضعیف) (اس کے راوی سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہیں )
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود وسلام بھیجا کریں، آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللهم صل على محمد وآل محمد کما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد یعنی اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج ١ ؎ جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے اور محمد اور آل محمد پر اپنی برکت ٢ ؎ نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے ۔
Kaab bin Ujrah said: We said or the people said: Messenger of Allah, you have commanded us to invoke blessing on you and to salute you. As regards salutation we have already learnt it. How should we invoke blessing? He said: Say: “O Allah, bless Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst bless Abraham and Abraham’s family. O Allah, grant favours to Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst grant favours to Abraham; Thou art indeed praiseworthy and glorious.
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کی وضاحت ابوالعالیہ نے اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مطلب نبی اکرم ﷺ کی مدح و ستائش اور تعظیم کرنا اور فرشتوں وغیرہ کے درود بھیجنے کا مطلب اللہ تعالیٰ سے اس مدح و ستائش اور تعظیم میں طلب زیادتی ہے، ابوالعالیہ کے اس قول کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کرنے کے بعد اس مشہور قول کی تردید کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے درود کا معنیٰ رحمت بتایا گیا ہے۔ ٢ ؎: برکت کے معنیٰ بالیدگی و بڑھوتری کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جو بھلائیاں تو نے آل ابراہیم کو عطا کی ہیں وہ سب نبی اکرم ﷺ کو عطا فرما اور انہیں قائم و دائم رکھ اور انہیں بڑھا کر کئی گنا کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٧٠)، و تفسیر الأحزاب ١٠ (٤٧٩٧)، والدعوات ٣٢ (٦٣٥٧)، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٤ (٤٨٣)، سنن النسائی/السھو ٥١ (١٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٥ (٩٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١١١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤١، ٢٤٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨١) (صحیح )
اس سند سے بھی شعبہ نے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی ۔
This tradition has also been reported by Shubah through a different chain of narrators. This version adds: Bless Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst bless Abraham.
اس طریق سے بھی حکم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی برکت نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مسعر نے کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے: كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد اور آگے انہوں نے اسی کے مثل بیان کیا ہے۔
This has been transmitted by al-Hakam through a different chain of narrators. This version has: O Allah, bless Muhammad and Muhammad’s family as didst bless Abraham. Thou art indeed praiseworthy and glorious. O Allah grant favours of Muhammad and Muhammad’s family as Thou didst grant favour to Abraham’s family. Thou art indeed praiseworthy and glorious. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Zubair bin Adi as narrated by Mis’ar, except that his version goes: As Thou didst bless Abraham’s family. Thou art indeed praiseworthy and glorious. And grant favours to Muhammad. He then narrated the tradition in full.
عمرو بن سلیم زرقی انصاری کہتے ہیں کہ مجھے ابو حمید ساعدی ؓ نے خبر دی ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کہو: اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم و بارک على محمد وأزواجه وذريته كما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد اے اللہ! محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے اپنی رحمت آل ابراہیم پر نازل فرمائی، اور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی، بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے ۔
Abu Humaid al-Said said: Some people asked: Messenger of Allah, how should we invoke blessings on you? He said: Say, ” O Allah, bless Muhammad, his wives and his off springs, as Thou didst bless Abraham’s family, and grant favours to Muhammad’s family, his wives and off springs, as Thou didst grant favours to Abraham’s family. Thou art indeed praiseworthy and glorious.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٩)، والدعوات ٣٣ (٦٣٦٠)، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٧)، سنن النسائی/السھو ٥٥ (١٢٩٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٥ (٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٢ (٦٦)، مسند احمد (٥/٤٢٤) (صحیح )
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سعد بن عبادہ ؓ کی مجلس میں تشریف لائے تو بشیر بن سعد ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش انہوں نے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کہو ۔ پھر راوی نے کعب بن عجرہ ؓ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور اس کے اخیر میں في العالمين إنک حميد مجيد کا اضافہ کیا ہے۔
Abu Masud al-Ansari said: The Messenger of Allah ﷺ came to us in a meeting of Saad bin Ubadah. Bashir bin Saad said to him: Allah has commanded us to invoke blessings on you, Messenger of Allah. How should we invoke blessings on you? The Messenger of Allah ﷺ kept silence so much so that we wished he would not ask him. Then the Messenger of Allah ﷺ said: Say. He then narrated the tradition like that of Kaab bin Ujrah. This version adds in the end: In the universe, Thou art praiseworthy and glorious.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٥)، سنن الترمذی/تفسیر الأحزاب (٣٢٢٠)، سنن النسائی/السہو ٤٩ (١٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٢ (٦٧)، مسند احمد (٤/١١٨، ١١٩، ٥/ ٢٧٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨٢) (صحیح )
اس سند سے بھی عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری ؓ) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: یوں کہو اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد اے اللہ! نبی امی محمد اور آپ کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما ۔
This tradition has also been reported by Uqbah bin Amr through a different chain of narrators. This version adds: Say, O Allah, bless Muhammad, the Prophet, the unlettered, and Muhammad’s family.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کردیا جائے تو وہ ہم اہل بیت پر جب درود بھیجے تو کہے: اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as sayings: if anyone would like to have the fullest measure granted to him when he invokes blessings on us, the members of the prophet’s family, he should say: O Allah, bless Muhammad, the unlettered Prophet, his wives who are the mother of the faithful, his off springs, and the people of his house as Thou didst bless the family of Abraham. Thou art indeed praiseworthy and glorious.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤٥) (ضعیف) (اس کے راوی حبان الکلابی میں کلام ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you finishes the last tashahhud, he should seek refuge in Allah from four things: the punishment in Hell, the punishment in the grave, the trail of life and death, and the evil of Antichrist.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٨)، سنن النسائی/السھو ٦٤ (١٣١١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٦(٩٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٣٧٧)، مسند احمد (٢/٢٣٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٦ (١٣٨٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ تشہد کے بعد یہ کہتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to say after the tashahhud: O Allah, I seek refuge in Thee from the punishment in Hell, and I seek refuge in Thee from the punishment in the grave, and I seek refuge in Thee from the trial of antichrist, and I seek refuge in Thee from the trial of life and death.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٨)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٤)، سنن النسائی/الجنائز ١١٥ (٢٠٦٥)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨(٣٣)، مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١)، ویأتي برقم (١٥٤٢) (حسن صحیح )
محجن بن ادرع ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کرلی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے: اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بےنیاز، بےمقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا ۔
Narrated Mihjan ibn al-Adra: The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque and saw a man who had finished his prayer, and was reciting the tashahhud saying: O Allah, I ask you, O Allah, the One, the eternally besought of all, He begetteth not, nor was He begotten, and there is none comparable unto Him, that you may forgive me my sins, you are Most Forgiving, Merciful. He (the Prophet) said: He was forgiven (repeating three times. )
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ٥٨ (١٣٠٢)، (تحفة الأشراف: ١١٢١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٨) (صحیح )
علی بن عبدالرحمٰن معاوی کہتے ہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، میں نے عرض کیا: رسول اللہ ﷺ کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ﷺ نماز میں بیٹھتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے، اشارہ کرتے ١ ؎ اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
Abdur-Rahman al-Muawl said: Abdullah bin Umar (RA) saw me playing with pebbles during prayer. When he finished his prayer, he forbade me (to do so) and said: Do as the Messenger ﷺ used to do. I asked him: How would the Messenger of Allah ﷺ do? He said: When he sat during the prayer (for reciting the tashahhud), he placed his right hand on his right thigh, and clenched all his fingers, and pointed with the finger which is adjacent to the thumb, and he placed his left hand on his left thigh.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے سلام پھیرنے تک برابر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اشارہ کرنے کے بعد انگلی کے گرا لینے یا لا إله پر اٹھانے اور إلا الله پر گرا لینے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
عبداللہ بن زبیر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے، عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔
Abdullah bin al-Zubair said: When the Messenger of Allah ﷺ sat during the prayer ( at the tashahhud), he placed his left foot under his right thigh and shin and spread his right foot and placed his left hand on his left knee and placed his right hand on his right thigh, and he pointed with his forefinger.
عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ١ ؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم ﷺ اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn az-Zubayr: The Prophet ﷺ used to point with his finger (at the end of the tashahhud) and he would not move it. Ibn Juraij said: And Amr bin Dinar added: He (Ziyad) said: Amir informed me from his father that he saw the Prophet ﷺ supplicating like that. And the Prophet ﷺ would brace himself with his left hand on his left knee.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے کا جملہ شاذ ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی انگلی کو اٹھانے کے بعد اسے حرکت دے دے کر دعا کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٣٥ (١٢٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣) (شاذ) ( ولا يحركها کے جملہ کے ساتھ شاذ ہے) قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى (صحیح )
اس طریق سے بھی عبداللہ بن زبیر ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث (یعنی پچھلی حدیث) زیادہ مکمل ہے۔
Abdullah bin al-Zubair narrated the above mentioned tradition on the authority of his father saying: He kept his look fixed on the finger he was pointing.
نمیر خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا۔
Narrated Abu Malik Numayr al-Khuzai (RA) : I saw the Prophet (peace be upon him placing his right hand on his right thigh and raising his forefinger curving it a little.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ٣٦ (١٢٧٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٧ (٩١١)، (تحفة الأشراف: ١١٧١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧١) (ضعیف) (اس کے راوی مالک لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے: آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھنے سے ، اور ابن شبویہ کی روایت میں ہے: آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے ، اور ابن رافع کی روایت میں ہے: آدمی کو اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے ، اور انہوں نے اسے باب الرفع من السجود میں ذکر کیا ہے، اور ابن عبدالملک کی روایت میں ہے کہ آدمی کو نماز میں اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited, according to the version of Ahmad ibn Hanbal, that a person should sit during prayer while he is leaning on his hand. According to the version of Ibn Shibwayh, he prohibited that a man should lean on his hand during prayer. According to the version of Ibn Rafi, he prohibited that a man should pray while he is leaning on his hand, and he mentioned this tradition in the chapter on Raising the head after prostration. According to the version of Ibn AbdulMalik, he prohibited that a man should lean on his hand when he stands up after prostration.
Notes · وضاحت
١ ؎: عبدالرزاق کے تلامذہ نے اسے چار وجوہ پر روایت کیا ہے جس میں دوسری اور تیسری وجہ پہلی وجہ کے مخالف نہیں البتہ چوتھی پہلی کے صریح مخالف ہے اور ترجیح پہلی وجہ کو حاصل ہے کیونکہ اس کے روایت کرنے والے احمد بن حنبل ہیں جو حفظ وضبط اور اتقان میں مشہور ائمہ میں سے ہیں اس کے برخلاف ابن عبدالملک کو اگرچہ نسائی وغیرہ نے ثقہ کہا ہے لیکن مسلم نے انہیں ثقہ کثیر الخطا کہا ہے ایسی صورت میں ثقہ کی مخالفت سے ان کی روایت منکر ہوگی اسی وجہ سے تخریج میں ابن عبدالملک کی روایت کو منکر کہا گیا ہے، رہی وہ حدیث جس میں یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگائے بغیر تیر کی مانند اٹھتے تھے تو وہ من گھڑت اور موضوع ہے، سجدے سے دونوں ہاتھ ٹیک کر اٹھنے کے مسنون ہونے کی دلیل صحیح بخاری میں مالک بن حویرث ؓ کی روایت ہے جس میں ہے: وإذا رفع رأسه عن السجدة الثانية واعتمد على الأرض ثم قام یعنی رسول اللہ ﷺ جب دوسرے سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھتے اور زمین پر ٹیک لگاتے پھر کھڑے ہوتے۔
Takhrij · تخریج
تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٠٤)، وقد أخرجہ: حم (٢/١٤٧) (صحیح )