نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 29 of 55

951Sunan Abu Dawood

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، فَقَالَ: صَلَاتُهُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، وَصَلَاتُهُ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا، وَصَلَاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے ١ ؎ اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔

Aishah said: I never saw the Messenger of Allah ﷺ reciting the Quraan in his prayer at night in sitting condition until he became old. Then he used to sit in it (the prayer) and recite the Quran until forty or thirty verses remained, then he stood and recited them and prostrated himself.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے آدھا ہے “۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٥)، ١٨ (١١١٦)، ١٩ (١١١٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٢ (٣٧١)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٩ (١٦٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤١ (١٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٥، ٤٤٢، ٤٤٣) (صحیح )
952Sunan Abu Dawood

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَ بِي النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ مجھے ناسور تھا ١ ؎، میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو (لیٹ کر) پہلو کے بل پڑھو ۔

Aishah, wife of the prophet ﷺ , said: when the prophet ﷺ prayed sitting, he recited the Quran in sitting condition. When the amount of his recitation remained about thirty or forty verses he stood up and recited them standing. He then bowed and prostrated and then did so in the second Rak’ah of the prayer. Abu Dawud said: Alqamah bin Waqqas narrated this tradition on the authority of Aisha (RA) from the Prophet ﷺ to the same effect.

Notes · وضاحت
١ ؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الصلاة ١٥٧ (٣٧٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٩ (١٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٢) (صحیح )
953Sunan Abu Dawood

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَكَانَ يَجْلِسُ فِيهَا فَيَقْرَأُ حَتَّى إِذَا بَقِيَ أَرْبَعُونَ أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ سَجَدَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہوگئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ used to pray standing at night for a long time, and used to pray sitting at night for a long time. When he prayed standing, he bowed standing, and when he prayed sitting, he bowed sitting.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ٢٠ (١١١٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٢)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٥٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٠ (١٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٠٣، ١٦٨٦٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/٤٦، ٨٣، ١٢٧، ٢٣١) (صحیح )
954Sunan Abu Dawood

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہوجاتے، پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں (بھی) اسی طرح کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

Abdullah bin Shaqiq said: I asked Aisha (RA) whether the Messenger of Allah ﷺ recited a whole Surah (of the Quran) in one Rak’ah of the prayer. She replied: (He recited from among) the Mufassal surahs. I asked: Did he pray (at night) sitting? She replied: (he prayed sitting) when the people made him old.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ تقصیر الصلاة ٢٠ (١١١٩)، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٩، ١٧٧٣٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح )
955Sunan Abu Dawood

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُدَيْلَ بْنَ مَيْسَرَةَ، وَأَيُّوبَ يُحَدِّثَانِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔

Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I said that I should look at the prayer of the Messenger of Allah ﷺ how he prays. The Messenger of Allah ﷺ stood up and faced the qiblah (i. e. the direction of Kabah) and uttered the takbir (Allah is most great); then he raised his hands till he brought them in front of his ears; then he caught hold of his left hand with his right hand (i. e. folded his hands). When he was about to bow, he raised them (his hands) in a like manner. Then he sat, stretched out his left foot (to sit on it), placed his left hand on his left thigh, and kept away the tip of his right elbow from his right thigh, joined two fingers, formed a ring, to do so. And the narrator Bishr made a ring with the thumb and the middle finger.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠١، ١٦٢٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٠، ٢٢٧، ٢٦١، ٢٦٥) (صحیح )
956Sunan Abu Dawood

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فِي رَكْعَةٍ ؟ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَ، قَالَ: قُلْتُ: فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا ؟ قَالَتْ: حِينَ حَطَمَهُ النَّاسُ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: (ہاں) مفصل کی، پھر میں نے پوچھا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس وقت لوگوں (کے کثرت معاملات) نے آپ ﷺ کو شکستہ (یعنی بوڑھا) کردیا۔

Abdullah bin Umar (RA) said: A Sunnah of the prayer is that you should raise your right foot, and make your left foot lie (on the ground).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧١، ٢٠٤) (صحیح) الشطر الثاني منہ
957Sunan Abu Dawood

تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چناچہ آپ ﷺ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا، پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا، (رفع یدین کیا) وہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں (یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی) بند کرلی اور (بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر (راوی) نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا ١ ؎۔

(There is another chain) reported from Yahya who said: I heard Al-Qasim saying: Abdullah bin Abdullah informed me that he heard Abdullah bin Umar (RA) saying: From the Sunnah of the prayer is to lay your left foot on the ground, and raise your right foot.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اور اس کے علاوہ جتنی حدیثیں اس سلسلے میں آئی ہیں، ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ شروع ہی سے آپ اسی طرح (انگلی کے) اشارہ کی شکل پر بیٹھتے ہی تھے نہ یہ کہ جب أشہدان لاإلہ إلاللہ پڑھتے تب انگلی سے اشارہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨١) (صحیح )
958Sunan Abu Dawood

تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔

(There is another chain) from Yahya with his chain and similar (to the previous hadith). Abu Dawud said: Hammad bin Zaid also said (the wording): From the Sunnah (narrating) from Yahya just as Jarir did.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٥ (٨٢٧)، سنن النسائی/التطبیق ٩٦ (١١٥٧)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٢(٥١) (صحیح )
959Sunan Abu Dawood(961)

تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بِإِسْنَادِهِ، مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: عَنْ يَحْيَى أَيْضًا، مِنَ السُّنَّةِ. كَمَا قَالَ جَرِيرٌ. حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَرَاهُمُ الْجُلُوسَ فِي التَّشَهُّدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔

(There is another chain) from Yahya bin Saeed that Al-Qasim bin Muhammad saw them sitting in Tashah-hud, so he mentioned the Hadith.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩) (صحیح ) اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے یحییٰ سے من السنة کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔ انظر حدیث رقم: (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩) (صحیح ) اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے یحییٰ سے من السنة کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔ انظر حدیث رقم: (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩) (صحیح ) یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے (اپنے ساتھیوں کو) تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ انظر حدیث رقم (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٧٢٧٩، ١٩١٢٠٤) (صحیح )
962Sunan Abu Dawood

تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيم، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى اسْوَدَّ ظَهْرُ قَدَمِهِ.

ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہوگئی تھی۔

It was reported from Ibrahim that he said: When the Prophet ﷺ would sit in the prayer, he would place his left foot horizontally - so much so that the upper-part of his foot became black.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٢٦٩، ١٨٤٠٤) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، ابراہیم نخعی کی اکثر روایتیں تابعین سے ہوتی ہیں )
963Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَحْمَدُ: قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَاعْرِضْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ. زَادَ أَحْمَدُ، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي حَدِيثِهِمَا الْجُلُوسَ فِي الثِّنْتَيْنِ كَيْفَ جَلَسَ.

محمد بن عمرو کہتے کہ میں نے ابو حمید ساعدی ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا، اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دس اصحاب کی موجودگی میں، جن میں ابوقتادہ بھی تھے، ابوحمید کو یہ کہتا سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: تو آپ پیش کیجئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر الله أكبر کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس (آخری) سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ ﷺ کس طرح بیٹھے تھے؟ ١ ؎۔

Abu Humaid al-Saeedi said (in the presence of ten compansions of the prophet): I am more informed than any of you regarding the manner in which the Messenger of Allah ﷺ offered his prayer. They said: Present it. The narrator then reported the tradition, saying: he bent the toes of his feet turning them towards the Qiblah when he prostrated, then he uttered “ Allah is most great, ” and raised (his head), and bent his left foot and sat on it, and he did the same in the second Rakah. The narrator then transmitted the tradition, and added: In the prostration (i. e., the Rakah) which ended at the salutation, he sat on the hips at the left side. ahmad (b. Hanbal) added: they said: You are right. This is how he used to pray. They (Ahmed and Musaddad) did not mention in their versions how he sat after offering two rak’ahs of prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں نے پہلے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٣٠، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧) (صحیح )
964Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ.

محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ (ایک مجلس میں) بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے یہی مذکورہ حدیث بیان کی، اور ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا کہا: جب آپ ﷺ دو رکعت کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھتے اور جب اخیر رکعت کے بعد بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر (دائیں جانب) آگے نکال لیتے اور اپنے سرین پر بیٹھتے۔

Muhammad bin Amr bin Ata was sitting in the company of a few Companions of the Messenger of Allah ﷺ . He then narrated his tradition, but he did not mention the name of Abu Qatadah. He said: When he ( the Prophet) sat up the two rak’ahs he sat on his left foot; and when sat up after the last rak’ah he put out his left foot and sat on his hip.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٣٠، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧) (صحیح )
965Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ.

محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ ﷺ دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔

Muhammad bin Amr al-Amir said: I was sitting in the company ( of the Companions). He then narrated this tradition saying: When he (the Prophet) sat up after two rak’ahs, he sat on the sole of his left foot and raised his left foot. When he sat up after four rak’ahs, he placed his left hip on the ground and put out his both feet on one side.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٣٣، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧) (صحیح )
966Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسٍ أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، فَذَكَرَ فِيهِ، قَالَ: فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى فَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ فَلَمَّا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ مَا ذَكَرَ عَبْدُ الْحَمِيدِ فِي التَّوَرُّكِ وَالرَّفْعِ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ.

عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد سہل ساعدی ؓ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا، اور جب آپ ﷺ (سجدے سے سر اٹھا کر) بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا، پھر الله أكبر کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا، پھر آپ ﷺ لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح الله أكبر کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے تو الله أكبر کہہ کر اٹھے، پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے، جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔

Abbas or Ayyash bin Sahl al-Saeed that he attended a company in which his father was also present. He then narrated this tradition saying: He (the Prophet) prostrated himself, he depended on his palms, knees and the toes of his feet. When he sat up, he sat on his hips, and raised his other foot. He then uttered the takbir (Allah is most great) and prostrated himself. He uttered the takbir and stood up and did not sit on his hips. Then he repeated (the same) and offered the second rak’ah; he uttered the takbir in the same manner, and sat up after two rak’ahs. When he was about to stand up, he stood up after saying the takbir. Then he offered the last two rak’ahs. When he saluted, he saluted on his right and left sides. Abu Dawud said: in this tradition there is no mention of sitting on hips and raising hands when he stood after two rak’ahs as narrated by Abu al-Hamid.

Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: ٧٣٣، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٢) (ضعیف) (اس کے راوی عیسیٰ لین الحدیث ہیں اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایت کے خلاف ہے )
967Sunan Abu Dawood

چوتھی رکعت میں تورک کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ وَلَا الْجُلُوسَ، قَالَ: حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ.

فلیح کہتے ہیں: عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے، پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا، وہ کہتے ہیں: یہاں تک کہ آپ ﷺ فارغ ہوگئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں۔

Abbas bin Sahl said: Abu Humaid, Abu usaid, Sahl bin Saad and Muhammad bin Maslamah got together. Then he narrated this tradition. He did not mention the raising of hands when he stood after two rak’ahs, nor did he mention sitting. He said: When he finished (his prostration), he spread his foot (on the ground) and turned the toes of his right feet towards the qiblah (and then he sat on his left foot).

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٣٣، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٢) (صحیح )
968Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُوَ بِهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود سلام ہے، بلکہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہے التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين آداب، بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس (دعا کے پڑھنے) کا ثواب پہنچے گا (پھر یہ کہو) : أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں پھر تم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو، وہ اس کے ذریعہ دعا کرے ۔

Abd Allah bin Masud said: when we (prayed and) sat up during prayer along the Messenger of Allah (may peach be upon him), we said: “Peace be to Allah before it is supplicated for His servants; peace be to so and so. “The Messenger of Allah ﷺ said: Do not say “Peace be to Allah, ”for Allah Himself is peace. When one of you sits (during the prayer), he should say: The adoration of the tongue are due to Allah, and acts of worship and all good things. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. When you say that, it reaches every upright servant in heavens and earth or between heavens and earth. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it.

Notes · وضاحت
وضاحت: السلام عليك أيها النبي بصیغۂ خطاب آپ ﷺ کی حیات میں کہا جاتا تھا لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام بصیغۂ غائب کہتے تھے جیسا کہ صحیح سند سے مروی ہے: أن الصحابة کانوا يقولون والنبي ﷺ حي: ” السلام عليك أيها النبي “ فلما مات قالوا: ” السلام على النبي “ ” نبی اکرم ﷺ جب باحیات تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ” السلام علیک ایہا النبی “ کہتے تھے اور جب آپ کی وفات ہوگئی تو السلام علی النبی کہنے لگے، اسی معنی کی ایک اور حدیث عبداللہ بن مسعود ؓ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے نیز ام المؤمنین عائشہ ؓ لوگوں کو السلام علی النبی کہنے کی تعلیم دیتی تھیں (مسندالسراج: ٩/١-٢، والفوائد: ١١/٥٤ بسندین صحیحین عنہا)، (ملاحظہ ہو: صفۃ صلاۃ النبی للألبانی ١٦١-١٦٢ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٨ (٨٣١)، ١٥٠ (٨٣٥)، والعمل فی الصلاة ٤ (١٢٠٢)، والاستئذان ٣ (٦٢٣٠)، ٢٨ (٦٢٦٥)، والدعوات ١٧ (٦٣٢٨) والتوحید ٥ (٧٣٨١)، صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٢)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٠ (١١٦٣، ١١٦١)، والسھو ٤١ (١٢٧٨)، ٤٣ (١٢٨٠)، ٥٦ (١٢٩٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٤ (٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٢٤٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٠٣ (٢٨٩)، والنکاح ١٧ (١١٠٥)، مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٨٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٤، ٤٢٢، ٤٢٣، ٤٢٨، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٥٠، ٤٥٩، ٤٦٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٤ (١٣٧٩) (صحیح )
969Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ،عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عُلِّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ شَرِيكٌ: وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ، قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ: اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ شریک کہتے ہیں: ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ آپ ﷺ ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں: اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن و بارک لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاکرين لنعمتک مثنين بها قابليها وأتمها علينا اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزارو ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : We did not know what we should say when we sat during prayer. The Messenger of Allah ﷺ was taught (by Allah). He then narrated the tradition to the same effect. Sharik reported from Jami, from Abu Wail on the authority of Abdullah ibn Masud something similar. He said: He used to teach us also some other words, but he did not teach them as he taught us the tashahhud: O Allah, join our hearts, mend our social relationship, guide us to the path of peace, bring us from darkness to light, save us from obscenities, outward or inward, and bless our ears, our eyes, our hearts, our wives, our children, and relent toward us; Thou art the Relenting, the Merciful. And make us grateful for Thy blessing and make us praise it while accepting it and give it to us in full.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (شریک کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
970Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُبِيَدِي فَحَدَّثَنِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِفَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ.

قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑا (اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے) اور رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں (اتنا اضافہ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کرلی تو تمہاری نماز پوری ہوگئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہوجاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Alqamah said that Abdullah ibn Masud caught hold of his hand saying that the Messenger of Allah ﷺ caught hold of his (Ibn Masuds) hand and taught him the tashahhud during prayer. He then narrated the (well known) tradition (of tashahhud). This version adds: When you say this or finish this, then you have completed your prayer. If you want to stand up, then stand, and if you want to remain sitting, then remain sitting.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٤٧٤)، وانظر رقم (٩٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢٢) (شاذ) (إذا قلت ... الخ کا اضافہ شاذ ہے صحیح بات یہ ہے کہ یہ ٹکڑا ابن مسعود کا اپنا قول ہے )
971Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتَ فِيهَاوَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَاوَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے: التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته آداب بندگیاں، اور پاکیزہ صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: اس تشہد میں وبرکاته اور وحده لا شريك له کا اضافہ میں نے کیا ہے ١ ؎۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The adoration of the tongue are due to Allah, and acts of worship, all good things. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Ibn Umar said: I added: “And Allah’s blessings, peace be upon us, and upon Allah’s upright servants. I testify that there is not god but Allah. “Ibn Umar said: I added to it: He is alone, no one is His associate, and I testify that Muhammad is His servant and His Messenger.

Notes · وضاحت
١ ؎: تشہد میں یہ دونوں اضافے نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہیں ایسا ہرگز نہیں کہ ابن عمر ؓ نے اپنی طرف سے ان کا اضافہ خود کردیا ہو بلکہ آپ نے اپنے اس تشہد میں ان کا اضافہ ان صحابہ کرام ؓ سے لے کر کیا ہے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے انہیں روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وراجع: موطا امام مالک/الصلاة ١٣(٥٣)، (تحفة الأشراف: ٧٣٩٦) (صحیح )
972Sunan Abu Dawood

تشہد کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قَالَ: فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَهَا، قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَعَلَّمَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُحِبُّكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ. فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ: وَبَرَكَاتُهُ، وَلَا قَالَ: وَأَشْهَدُ، قَالَ: وَأَنَّ مُحَمَّدًا.

حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا (ابھی) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا: حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ ؓ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ١ ؎ اور جب وہ الله أكبر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی الله أكبر کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہوگیا ٢ ؎ اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے سمع الله لمن حمده یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہوجائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے: التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں: وبرکاته کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی أشهد کہا بلکہ وأن محمدا کہا ہے۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : Hittan ibn Abdullah ar-Ruqashi said: Abu Musa al-Ashari led us in prayer. When he sat at the end of his prayer, one of the people said: Prayer has been established by virtue and purity. When Abu Musa returned (from his prayer or finished his prayer), he gave his attention to the people, and said: Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. He said: You might have said them, Hittan. He replied: I did not say them. I was afraid you might punish me. One of the people said: I said them and I did not intend by them (anything) except good. Abu Musa said: Do you not know how you utter (them) in your prayer? The Messenger of Allah ﷺ addressed us, and taught us and explained to us our way of doing and taught us our prayer. He said: When you pray a (congregational) prayer, straighten your rows, then one of you should lead you in prayer. When he says the takbir (Allah is Most Great), say the takbir, and when he recites verses Not of those upon whom is Thy anger, nor of those who err (i. e. the end of Surah i. ), say Amin; Allah will favour you. When he says Allah is most great, and bows, say Allah is most great and bow, for the imam will bow before you, and will raise (his head) before you. The Messenger of Allah ﷺ said: This is for that. When he says Allah listens to the one who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be praise, Allah be praised, Allah will listen to you, for Allah, the Exalted, said by the tongue of His Prophet ﷺ : Allah listens to the one who praises Him. When he says Allah is most great and prostrates, say: Allah is most great and prostrate, for the imam prostrates before you and raises his head before you. The Messenger of Allah ﷺ said: This is for that. When he sits, each one of you should say The adorations of the tongue, all good things, and acts of worship are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allahs mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allahs upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. This version of Ahmad does not mention the words and His blessings nor the phrase and I testify; instead, it has the words that Muhammad.

Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم کی روایت میں يجبكم ہے یعنی: اللہ تمہاری دعا قبول کرلے گا۔ ٢ ؎: یعنی امام تم سے جتنا پہلے رکوع میں گیا اتنا ہی پہلے وہ رکوع سے اٹھ گیا اس طرح تمہاری اور امام کی نماز برابر ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٤)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣١)، والتطبیق ٢٣ (١٠٦٥)، ١٠١ (١١٧٣)، والسھو ٤٤ (١٢٨١)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ٢٤ (٩٠١)، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠١، ٤٠٥، ٤٠٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٧١ (١٣٥١) (صحیح )