نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 28 of 55

931Sunan Abu Dawood

نماز میں چھینک کا جواب دینا جائز نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الْإِسْلَامِ، فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قَالَ لِي: إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ، وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَقُلْ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ رَافِعًا بِهَا صَوْتِي، فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِهِمْ حَتَّى احْتَمَلَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شُزْرٍ ؟ قَالَ: فَسَبَّحُوا، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ ؟، قِيلَ: هَذَا الْأَعْرَابِيُّ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنُكَ. فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

معاویہ بن حکم سلمی ؓ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو مجھے اسلام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں چناچہ جو باتیں مجھے معلوم ہوئیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب تمہیں چھینک آئے تو الحمد الله کہو اور کوئی دوسرا چھینکے اور الحمد الله کہے تو تم يرحمک الله کہو۔ معاویہ ؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک نماز میں کھڑا تھا کہ اسی دوران ایک شخص کو چھینک آئی اس نے الحمد الله کہا تو میں نے يرحمک الله بلند آواز سے کہا تو لوگوں نے مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو میں اس پر غصہ میں آگیا، میں نے کہا: تم لوگ میری طرف کنکھیوں سے کیوں دیکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے سبحان الله کہا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: (دوران نماز) کس نے بات کی تھی؟ ، لوگوں نے کہا: اس اعرابی نے، آپ ﷺ نے مجھ کو بلایا اور مجھ سے فرمایا: نماز تو بس قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے لیے ہے، تو جب تم نماز میں رہو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہیئے ۔ معاویہ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر شفیق اور مہربان کبھی کسی معلم کو نہیں دیکھا۔

Wail b, hujr said that he prayed behind the Messenger of Allah ﷺ , and he said Amin loudly and saluted at his right and left sides until I saw the whiteness of his cheek.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٩) (ضعیف) (فلیح بن سلیمان میں سوء حفظ ہے، انہوں نے اس حدیث میں آدمی کے چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے کا تذکرہ کیا ہے، معاویہ سلمی کا قول: فكان فيما علمت ... فقل: يرحمک الله نیز یحییٰ بن ابی کثیر کی سابقہ حدیث یہ دونوں باتیں مذکور نہیں ہیں، اور اس کا سیاق فلیح کے سیاق سے زیادہ کامل ہے، فی الجملہ فلیح کی روایت اوپر کی روایت کے ہم معنی ہے، لیکن زائد اقوال میں فلیح قابل استناد نہیں ہیں، خود ابوداود نے ان کے بارے میں کہا ہے:صدوق لا يحتج به واضح رہے کہ فلیح بخاری و مسلم کے روای ہیں ( ھدی الساری: ٤٣٥) ابن معین، ابو حاتم اور نسائی نے ان کی تضعیف کی ہے، اور ابن حجر نے صدوق کثير الخطا کہا ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٩ ؍ ٣٥٣- ٣٥٤ )
932Sunan Abu Dawood

امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، قَالَ: آمِينَ وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ولا الضالين پڑھتے تو آمین کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے تھے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ recited the verse Not of those with whom Thou art angry, nor of those who go astray, he would say Amin so loudly that those near him in the first row would hear it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٧٢ (٢٤٨)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ٤ (٨٨٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤ (٨٥٥)، مسند احمد (٤/٣١٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٩ (١٢٨٣) (صحیح )
933Sunan Abu Dawood

امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ، عَنْوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَجَهَرَ بِآمِينَ، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ خَدِّهِ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے زور سے آمین کہی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے گال کی سفیدی دیکھ لی۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying; when the imam recites “ not of those with whom thou art angry, nor of those who go astray” (surah al-fatihah, verse 7) say Amin, for if one’s words (utterance of amin) synchronise with those of the angles, he will be forgiven his past sins.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٨) (حسن صحیح )
934Sunan Abu Dawood

امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَلَا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، قَالَ: آمِينَ، حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الصَّفِّ الْأَوَّلِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين کی تلاوت فرماتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف میں سے جو لوگ آپ سے نزدیک ہوتے اسے سن لیتے۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; When the Imam says Amin, say Amin, for if anyone’s utterance of Amin synchronnises with that of the angles, he will be forgiven his past sins. Ibn shihab (al Zuhrl) said; The Messenger of Allah ﷺ used to say Amin (At the end of the Fatihah)

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤ (٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابن عم ابوہریرة لین الحدیث ہیں )
935Sunan Abu Dawood

امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب امام غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہوجائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

Bilal reported that he said: Messenger of Allah, do not say Amin before me.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١١ (٧٨٠)، ١١٣ (٧٨٢)، و تفسیر الفاتحة ٣ (٤٤٧٥)، والدعوات ٦٣ (٦٤٠٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٤ (٩٣٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١١(٤٥)، مسند احمد (٢/٢٣٨، ٤٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٨ (١٢٨١)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ١٨ (٤١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٣ (٢٥٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤ (٨٥١) (صحیح )
936Sunan Abu Dawood

امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: آمِينَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگی اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ آمین کہتے تھے۔

Narrated Abu Zuhayr an-Numayri (RA) : Abu Misbah al-Muqrai said: We used to sit in the company of Abu Zuhayr an-Numayri. He was a companion of the Prophet ﷺ , and he used to narrate good traditions. Once a man from among us made a supplication. He said: End it with the utterance of Amin, for Amin is like a seal on the book. Abu Zuhayr said: I shall tell you about that. We went out with the Messenger of Allah ﷺ one night and came upon a man who made supplication with persistence. The Prophet ﷺ waited to hear him. The Prophet ﷺ said: He will have done something which guarantees (Paradise for him) if he puts a seal to it. One of the people asked: What should he use as a seal? He replied: Amin, for if he ends it with Amin, he will do something which guarantees (Paradise for him). Then the man who questioned the Prophet ﷺ came to the man who was supplicating, and said to him: So-and-so, end it with Amin and receive the good news. These are the words of Mahmud. Abu Dawud said: Al-Muqrai is a clan of Himyar.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٣٢٣٠، ١٥٤٢) (صحیح )
937Sunan Abu Dawood

امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ.

بلال ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; Glorifying Allah applies to men and clapping applies only to women.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اتنی مہلت دیا کیجئے کہ میں سورة فاتحہ سے فارغ ہوجاؤں تاکہ آپ کی اور میری آمین ساتھ ہوا کرے ابوہریرہ ؓ یہ بات مروان سے کہا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢) (ضعیف) (ابوعثمان نہدی کی ملاقات بلال ؓ سے نہیں ہے )
938Sunan Abu Dawood

امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ مُحْرِزٍ الْحِمْصِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُصَبِّحٍ الْمَقْرَائِيُّ، قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي زُهَيْرٍ النُّمَيْرِيِّ، وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَيَتَحَدَّثُ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ، فَإِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَاءٍ، قَالَ: اخْتِمْهُ بِآمِينَ، فَإِنَّ آمِينَ مِثْلُ الطَّابَعِ عَلَى الصَّحِيفَةِ. قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ: أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ ؟ قَالَ: بِآمِينَ، فَإِنَّهُ إِنْ خَتَمَ بِآمِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى الرَّجُلَ، فَقَالَ: اخْتِمْ يَا فُلَانُ بِآمِينَ وَأَبْشِرْ. وَهَذَا لَفْظٌ مَحْمُودٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْمَقْرَاءُ: قَبِيلٌ مِنْ حِمْيَرَ.

ابومصبح مقرائی کہتے ہیں کہ ہم ابوزہیر نمیری ؓ کے پاس بیٹھا کرتے تھے، وہ صحابی رسول تھے، وہ (ہم سے) ا چھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے، جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے: اسے آمین پر ختم کرو، کیونکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے۔ ابوزہیر نے کہا: میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں؟ ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچے جو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر سننے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے (اپنی دعا پر) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہوگئی ، اس پر ایک شخص نے پوچھا: کس چیز سے وہ مہر لگائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آمین سے، اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہوگئی ۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص (جس نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تھا) اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا: اے فلاں! تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہوجاؤ۔

Sahl bin Saad said: The Messenger of Allah ﷺ went to Banu Amr bin Awf to effect reconciliation between them. in the meantime the time of prayer came and the Muadhdhin came to Abu Bakr and asked: Will you lead the people in prayer? I pronounce the Iqamah. He said ; Yes. So Abiu Bakr led the prayer, and the Messenger of Allah ﷺ came back while the people were praying. He penetrated through the rows and stood in the first row. The people clapped but Abu Bakr did not pay any attention to it during prayer. When the people clapped increasingly, he paid attention. He saw the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ made a sign to him (saying); Stay at your place. Abu BAkr raised his hands and praised Allah for the commandment the Messenger of Allah ﷺ had given him (to lead the people in prayer). Abu Bakr then stepped back and stood in the row. The Messenger of Allah ﷺ stepped forward and led the prayer. When he finished the prayer, he said; Abu Bakr, what prevented you staying (at your place) when I already commented you to do so? Abu Bakr said ; it was not befitting for the son of Abu Quhafah (Abu Bakr) to lead the prayer in the presence of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said; What is the matter that I saw you clapping frequently during prayer? If anything happens to someone during prayer, he should say “Glory be to Allah, ” for when he glorifies Allah. He pays attention to him. Clapping applies only to women. Abu Dawud said: This is operative in the obligatory prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٢) (ضعیف) (اس کے راوی صبیح بن محرز لین الحدیث ہیں )
939Sunan Abu Dawood

نماز میں تالی بجانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز میں مردوں کو سبحان الله کہنا چاہیئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہیئے ١ ؎۔

Sahl bin Saad said; Fighting took place amongst the tribe of Banu Amr bin Awf. This (the news) reached the prophet ﷺ . He came to them for their reconciliation after the noon prayer. he said to Bilal; If the time of the afternoon prayer comes, and I do not return to you, then ask Abu Bakr to lead the people in prayer. When the time of the afternoon prayer came, Bilal called the Adhan and pronounced the Iqamah and then asked Abu Bakr (to lead the prayer). He stepped forward. The narrator reported this tradition to the same effect. In the end he (the prophet) said; if anything happens to you during prayer, the men should say” Glory be to Allah, ” and the women should clap.

Notes · وضاحت
١ ؎: دوران نماز امام سے کچھ بھول چوک ہوجائے تو اس کو اس کی غلطی بتانے کے لیے مرد ” سبحان اللہ “ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٥ (١٢٠٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢٢)، سنن النسائی/السھو ١٥ (١٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٥ (١٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٦٠ (٣٦٩)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٣١٧، ٣٧٦، ٤٣٢، ٤٤٠، ٤٧٣، ٤٧٩، ٤٩٢، ٥٠٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٣) (صحیح )
940Sunan Abu Dawood

نماز میں تالی بجانا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ ؟ فَأُقِيمَ، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَّلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ؟قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا فِي الْفَرِيضَةِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے، اور نماز کا وقت ہوگیا، مؤذن نے ابوبکر ؓ کے پاس آ کر پوچھا: کیا آپ نماز پڑھائیں گے، میں تکبیر کہوں؟ ابوبکر ؓ نے کہا: ہاں (تکبیر کہو میں نماز پڑھاتا ہوں) ، تو ابوبکر ؓ نماز پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ آگئے اور لوگ نماز میں تھے، آپ ﷺ صفوں کو چیرتے ہوئے (پہلی) صف میں آ کر کھڑے ہوگئے تو لوگ تالی بجانے لگے ١ ؎ اور ابوبکر ؓ کا حال یہ تھا کہ وہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ پر نگاہ پڑی، آپ ﷺ نے ان سے اشارہ سے فرمایا: تم اپنی جگہ پر کھڑے رہو ، تو ابوبکر ؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر جس کا رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا، اللہ کا شکر ادا کیا، پھر پیچھے آ کر صف میں کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے، پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو اپنی جگہ پر قائم رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ ، ابوبکر ؓ نے عرض کیا: ابوقحافہ ٢ ؎ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھائے، پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: کیا بات تھی؟ تم اتنی زیادہ کیوں تالیاں بجا رہے تھے؟ جب کسی کو نماز میں کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ سبحان الله کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ فرض نماز کا واقعہ ہے۔

Isa bin Ayyub said: Clapping by women means that one should strike her left hand with the two fingers of her right hand.

Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ ابوبکر ؓ کو رسول اللہ ﷺ کی آمد کا علم ہوجائے۔ ٢ ؎: ابوقحافہ ابوبکر ؓ کے والد کی کنیت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٥ (١٢٠٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤٢١)، (تحفة الأشراف: ٤٧٤٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٧ (٧٨٥)، ١٥(٧٩٤)، السہو ٤ (١١٨٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٥ (١٠٣٤)، موطا امام مالک/قصة الصلاة ٢٠ (٦١)، مسند احمد (٥/٣٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٤) (صحیح )
941Sunan Abu Dawood

نماز میں تالی بجانا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: إِنْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِكَ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ أَقَامَ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، قَالَ فِي آخِرِهِ: إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ، وَلْيُصَفِّحْ النِّسَاءُ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی آپس میں لڑائی ہوئی، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی، تو آپ ظہر کے بعد مصالحت کرانے کی غرض سے ان کے پاس آئے اور بلال ؓ سے کہہ آئے کہ اگر عصر کا وقت آجائے اور میں واپس نہ آسکوں تو تم ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چناچہ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی اور ابوبکر ؓ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا تو آپ آگے بڑھ گئے، اس کے اخیر میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: جب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو مرد سبحان الله کہیں اور عورتیں دستک دیں ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ used to make a sign during prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٣٦ (٧١٩٠)، سنن النسائی/الإمامة ١٥ (٧٩٤)، (تحفة الأشراف: ٤٦٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٣٢، ٣٣٦)، دی/الصلاة ٩٥(١٤٠٤) (صحیح )
942Sunan Abu Dawood

نماز میں تالی بجانا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: قَوْلُهُ التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ: تَضْرِبُ بِأُصْبُعَيْنِ مِنْ يَمِينِهَا عَلَى كَفِّهَا الْيُسْرَى.

عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد التصفيح للنساء سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Saying Tasbih applies to men during prayer and clapping applies to women. Anyone who makes a sign during his prayer, a sign which is intelligible by implication, should repeat it (i. e. his prayer). (Abu Dawud commented on the Hadith saying, this is a result of confusion. )

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩١٨٨) (صحیح )
943Sunan Abu Dawood

نماز میں اشارہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں اشارہ کرتے تھے ١ ؎۔

Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you gets up to pray, he must not remove pebbles, for mercy is facing him.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے بوقت ضرورت نماز میں اشارے کا جواز ثابت ہوتا ہے جیسے اشارے سے سلام کا جواب دینا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٨) (صحیح )
944Sunan Abu Dawood

نماز میں اشارہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْأَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، مَنْ أَشَارَ فِي صَلَاتِهِ إِشَارَةً تُفْهَمُ عَنْهُ فَلْيَعُدْ لَهَا، يَعْنِي الصَّلَاةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ وَهْمٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبحان الله کہنا مردوں کے لیے ہے یعنی نماز میں اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہیں، جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جاسکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث وہم ہے ١ ؎۔

Muaiqib reported the Prophet ﷺ as saying ; Do not remove pebbles while you are praying; if you do it out of sheer necessity, do it only once to smooth the pebbles.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ام سلمہ ؓ کی روایت جس میں عصر کے بعد دو رکعتوں کے پڑھنے کا ذکر ہے اور ام المومنین عائشہ و جابر ؓ کی روایتیں جن میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک بیماری میں بیٹھ کر نماز پڑھائی تو لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے اشارہ سے انہیں بیٹھ جانے کے لئے کہا دونوں روایتیں اس کے مخالف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٥٥) (ضعیف) (محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز یونس سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں تو ہوسکتا ہے کہ یہاں انہیں سے غلطی ہوئی ہو )
945Sunan Abu Dawood

دوران نماز کنکریاں ہٹانا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَرْوِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَى.

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کا سامنا کرتی ہے، لہٰذا وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے ١ ؎۔

Abu Hurairah said that the Messenger of Allah ﷺ forbade putting hands on the waist during prayer. Abu Dawud said; The word Ikhtisar means to put one’s hands on one’s waist.

Notes · وضاحت
١ ؎: کنکریوں پر ہاتھ پھیرنے سے مراد انہیں برابر کرنا ہے تاکہ ان پر سجدہ کیا جاسکے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٩)، سنن النسائی/السھو ٧ (١١٩٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٣ (١٠٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٠، ١٦٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٨) (ضعیف) (ابوالأحوص لین الحدیث ہیں )
946Sunan Abu Dawood

دوران نماز کنکریاں ہٹانا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَمْسَحْ وَأَنْتَ تُصَلِّي، فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةٌ تَسْوِيَةَ الْحَصَى.

معیقیب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نماز پڑھنے کی حالت میں (کنکریوں پر) ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو، اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کرلو ۔

Narrated Umm Qays bint Mihsan (RA) : Hilal ibn Yasaf said: I came to ar-Raqqah (a place in Syria). One of my companions said to me: Do you want to see any of the Companions of the Prophet ﷺ ? I said: A good opportunity. So we went to Wabisah. I said to my friend: Let us first see his mode of living. He had a cap with two ears stuck (to his head), and wearing a brown silken robe. He was resting on a staff during prayer. We asked him (about resting on the staff) after salutation; He said: Umm Qays daughter of Mihsan said to me that when the Messenger of Allah ﷺ became aged and the flesh grew increasingly on him, he took a prop at his place of prayer and rested on it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٨ (١٢٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٢ (٥٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٧ (٣٨٠)، سنن النسائی/السھو ٨ (١١٩٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٢ (١٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦، ٥/٤٢٥، ٤٢٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٧) (صحیح )
947Sunan Abu Dawood

کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَاصِرَتِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں الاختصار سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں:الاختصار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے ١ ؎۔

Zaid bin Arqam said ; One of us used to speak to the man standing by his side during prayer. Then the Quranic verse “ And stand up with devotion to Allah”

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ یہودیوں کا فعل ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ابلیس کو زمین پر اسی ہیئت میں اتارا گیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة ١٧ (١٢٢٠)، صحیح مسلم/المساجد ١١ (٥٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٩ (٣٨٣)، سنن النسائی/الافتتاح ١٢ (٨٨٩)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٩٠، ٢٩٥، ٣٣١، ٣٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٨ (١٤٦٨) (صحیح )
948Sunan Abu Dawood

لکڑی سے ٹیک لگا کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَابِصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الرَّقَّةَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيمَةٌ، فَدَفَعْنَا إِلَى وَابِصَةَ، قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ، فَنَنْظُرُ إِلَى دَلِّهِ، فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ، وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ، وَإِذَا هُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى عَصًا فِي صَلَاتِهِ، فَقُلْنَا: بَعْدَ أَنْ سَلَّمْنَا ؟: فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ.

ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ میں رقہ ١ ؎ آیا تو میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہیں کسی صحابی سے ملنے کی خواہش ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ (ملاقات ہوجائے تو) غنیمت ہے، تو ہم وابصہ ؓ کے پاس گئے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: پہلے ہم ان کی وضع دیکھیں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک ٹوپی سر سے چپکی ہوئی دو کانوں والی پہنے ہوئے تھے اور خز ریشم کا خاکی رنگ کا برنس ٢ ؎ اوڑھے ہوئے تھے، اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نماز میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر ہم نے سلام کرنے کے بعد ان سے (نماز میں لکڑی پر ٹیک لگانے کی وجہ) پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھ سے ام قیس بنت محصن نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عمر جب زیادہ ہوگئی اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو آپ ﷺ نے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون بنا لیا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔

Abdullah bin Amr said: It has been narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ said: The Prayer of a man in sitting condition is half the prayer (wins him half the reward of prayer). I came to him and found him prayer in sitting condition. I placed my hand on my head (in surprise). He said: what is the matter, Abdullah bin Amr? I said; Messenger of Allah ﷺ you have been reported to me as saying: the prayer of a man in sitting condition is half the prayer, but you are praying in sitting condition. He said: yes, but I am not like one of you.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک شہر کا نام ہے جو شام میں دریائے فرات پر واقع ہے۔ ٢ ؎: ایک قسم کا لباس جس میں ٹوپی اسی سے بنی ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٥) (صحیح )
949Sunan Abu Dawood

نماز میں گفتگو کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا يُكَلِّمُ الرَّجُلَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ: وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی وقوموا لله قانتين اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو (سورۃ البقرہ: ٢٣٨) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔

Abdullah bin Buraidah said: Imran bin Hussain asked the prophet ﷺ about the prayer a man offers in sitting condition. He replied: his prayer in standing condition is better than his prayer in sitting condition, and his prayer in sitting condition is half the prayer he offers in standing condition, and his prayer in lying condition is half the prayer he offers in sitting condition.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٢ (١٢٠٠)، و تفسیر البقرة ٤٢ (٤٥٣٤)، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٨٥ (٤٠٥)، و تفسیر البقرة (٢٩٨٦)، سنن النسائی/السھو ٢٠ (١٢٢٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٨) (صحیح )
950Sunan Abu Dawood

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِفَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ؟، قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّكَ قُلْتَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے ، میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے (تعجب سے) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ ﷺ نے پوچھا: عبداللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟ ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں سچ ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں ١ ؎۔

Imran bin Husain said: I had a fistula; so I asked the prophet ﷺ . He said: offer prayer in standing condition; if you are unable to do so, then in sitting condition: if you are then at your side (i. e, in lying condition).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرا معاملہ تمہارے جیسا نہیں ہے مجھے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی پورا ثواب ملتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٦٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤١ (١٢٢٩)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٦ (١٩)، مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢، ٢٠١، ٢٠٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٤٢٤) (صحیح )