امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ، عَنْوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَجَهَرَ بِآمِينَ، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ خَدِّهِ.
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے زور سے آمین کہی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے گال کی سفیدی دیکھ لی۔
Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying; when the imam recites “ not of those with whom thou art angry, nor of those who go astray” (surah al-fatihah, verse 7) say Amin, for if one’s words (utterance of amin) synchronise with those of the angles, he will be forgiven his past sins.