ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔
Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ assaying: What is the matter that people raise their (Upwards) in prayer. He then said sternly: They should stop doing that, otherwise their sight will be snatched away.
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آجائیں ورنہ (ہو سکتا ہے کہ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے ۔
Aishah said: the Messenger of Allah ﷺ once prayed with a sheet of cloth upon him. It had prints and paintings. He said: The prints of this (sheet) distracted my attention; take it to Abu Jahm and bring a blanket to me.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٦ (٤٣٠)، سنن النسائی/ السہو ٥ (١١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٨ (١٠٤٥)، مسند احمد (٥/١٠٨) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ ، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی، اور فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔
The above-mentioned tradition has also been narrated by Aisha (RA) through a different chain of transmitters. This version adds: He (the prophet) took a kind of sheet of cloth known as kurdi which belongs to Abu Jahm. The people told him; Messenger of Allah, the (former) sheet of cloth was better than this kind of kurdi sheet.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٢ (٧٥٠)، سنن النسائی/السھو ٩ (١١٩٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٨ (١٠٤٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٢، ١١٥، ١١٦، ١٤٠، ٢٥٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٧ (١٣٣٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کردیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ (ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ ۔
Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah (RA) : The iqamah for the morning prayer was pronounced and the Messenger of Allah ﷺ began to offer prayer while he was looking at the mountain-pass. (Abu Dawud elaborated that the Prophet had sent a horseman to the mountain-pass at night in order to keep watch. )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے ابوجہم کی کردی چادر لے لی، تو آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! وہ (باریک نقش و نگار والی) چادر اس (کر دی چادر) سے اچھی تھی ۔
Abu Qatadah said: The Messenger of Allah ﷺ was leading the people in prayer with Umamah daughter of Zainab daughter of the Messenger of Allah ﷺ (in his lap). When he prostrated, he put her down and when he got up (after prostration) he lifted her up.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٤٠٣، ١٧٠٢٣)، ویاٹی ہذا الحدیث في اللباس (٤٠٥٢)، (حسن )
سہل بن حنظلیہ ؓ کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔
Narrated Abu Qatadah (RA) : We were sitting in the mosque when the Messenger of Allah ﷺ came upon us carrying Umamah daughter of Abul As ibn ar-Rabi. Her mother was Zaynab daughter of the Messenger of Allah ﷺ . She (Umamah) was a child and he (the Prophet) was carrying her on his shoulder. The Messenger of Allah ﷺ led (the people) in prayer while she was on his shoulder. When he bowed he put her down and took her up when he got up. He kept on doing so until he finished his prayer.
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ١ ؎۔
Abu Qatadah al-Ansari said: I saw the Messenger of Allah ﷺ leading the people in prayer with Umamah daughter of Abu al-As on his neck (shoulder). When he prostrated, he put her down. Abu Dawud said: The narrator Makhramah did not hear from his father except one tradition.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر لڑکا یا لڑکی تنگ کرے اور نماز نہ پڑھنے دے تو اس کو گود میں اٹھا کر یا کندھے پر بٹھا کر نماز پڑھنی درست ہے۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع کو اپنے کندھے اٹھائے ہوئے تھے، امامہ کی والدہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ تھیں، امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں، وہ آپ ﷺ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے، اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی پوری نماز ادا کی۔
Abu Qatadah, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ , said: While we were waiting for the Messenger of Allah ﷺ for the noon or afternoon prayer, and Bilal had already called him for prayer, he came upon us with Umamah daughter of Abu al-As and daughter of his daughter on his neck. The Messenger of Allah ﷺ stood at the place of prayer and we stood behind him and she (Umamah) (all this time) was in her place. He uttered the takbir and we also uttered. When the Messenger of Allah ﷺ intended to bow, he took her and put her down, and then he bowed and prostrated till he finished his prostration. He then got up and took her and returned he to her place. The Messenger of Allah ﷺ kept on doing that in every rak’ah until he finished his prayer. May peace be upon him.
ابوقتادہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی امامہ بنت ابوالعاص ؓ آپ کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Kill the two black things during prayer, the snake and scorpion.
صحابی رسول ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے اور بلال ؓ آپ کو نماز کے لیے بلا چکے تھے، اتنے میں آپ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور اس حال میں کہ (آپ کی نواسی) امامہ بنت ابوالعاص ؓ جو آپ کی صاحبزادی زینب ؓ کی بیٹی تھیں آپ کی گردن پر سوار تھیں تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں، ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے الله أكبر کہا تو ہم لوگوں نے بھی الله أكبر کہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر (اپنی گردن پر) اسی جگہ بٹھا لیا، جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں، رسول اللہ ﷺ برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was praying with his door bolted. I came and asked to have the door opened. He walked and opened the door for me. He then returned to his place for prayer. He (the narrator Urwah) mentioned that the door faced the qiblah.
Takhrij · تخریج
تفرد أبو داود بھذا السیاق، وانظر أصلہ في رقم (٩١٨)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٤) (ضعیف) (اس حدیث میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور انہوں نے روایت عنعنہ سے کی ہے، حدیث میں ظہر یا عصر کی تعیین ہے، نیز بلال ؓ کا ذکر ہے ان کے بغیر اصل حدیث صحیح ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز میں دونوں کالوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو (اگر دیکھو تو) قتل کر ڈالو ۔
Abdullah (bin Masud) said: We used to salute the Messenger of Allah ﷺ while he was engaged in prayer and he would respond to our salutation, but when we returned from the Negas, we saluted him and he did not respond to us. He said: Prayer demands one’s whole attention
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٩٠)، سنن النسائی/السھو ١٢ (١٢٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٦ (١٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٥٥، ٢٧٣، ٢٧٥، ٢٨٤، ٤٩٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٨ (١٥٤٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی (نماز کی جگہ) پر واپس لوٹ گئے ١ ؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : We used to salute during prayer and talk about our needs. I came to the Messenger of Allah ﷺ and found him praying. I saluted him, but he did not respond to me. I recalled what happened to me in the past and in the present. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said to me: Allah, the Almighty, creates new command as He wishes, and Allah, the Exalted, has sent a fresh command that you must not talk during prayer. He then returned my salutation.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے واسطے چلنا یا دروازہ کھولنا یا لاٹھی اٹھا کر سانپ بچھو مارنا، یا بچے کو گود میں اٹھا لینا پھر بٹھا دینا، ان سب اعمال سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ ﷺ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی (بادشاہ حبشہ) کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا: نماز (خود) ایک شغل ہے ۔
Narrated Suhayb: I passed by the Messenger of Allah ﷺ who was praying. I saluted him and he returned it by making a sign. The narrator said: I do not know but that he said: He made a sign with his finger. This is the version reported by Qutaybah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٣ (١٢٠١)، ١٥ (١٢١٦)، مناقب الأنصار ٣٧ (٣٨٧٥)، صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٣٨)، ن الکبری / السھو ٩٩ (٥٤٠)، (تحفة الأشراف: ٩٤١٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٩ (١٠١٩)، مسند احمد (١/ ١٧٦، ١٧٧، ٤٠٩، ٤١٥، ٤٣٥، ٤٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ (پہلے) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کرلیتے تھے، تو (ایک بار) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہوگئی ١ ؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو ، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
Jabir said: The prophet of Allah ﷺ sent me to Banu al-Mustaliq. When I returned to him, he was praying on his camel. I talked to him; he made a sign to me with his hand like this. I again talked to him; he made a sign to me with his hand like this. I was hearing him reciting the Quran and he was making a sign with his head. When he finished his prayer, he said; what did you do about the mission for which I had sent you; nothing prevented me from talking to you except that I was praying.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں سوچنے لگا کہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد تو نہیں ہوئی ہے جس سے رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئے ہوں۔
Takhrij · تخریج
ن / الکبری/ السہو ١١٣ (٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ٩٢٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٧)، ٤٣٥، ٤٦٣) (حسن صحیح )
صہیب ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں: مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے إشارة بأصبعه کا لفظ کہا ہے، یعنی آپ ﷺ نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا، یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went to Quba to offer prayer. Then the Ansar (the Helpers) came to him and gave him a salutation while he was engaged in prayer. I asked Bilal (RA) : How did you find the Messenger of Allah ﷺ responding to them when they gave him a salutation while he was engaged in prayer. He replied: In this way, and Jafar ibn Awn demonstrated by spreading his palm, and keeping its inner side below and its back side above.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٥٩ (٣٦٧)، سنن النسائی/السھو ٦ (١١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٩ (١٠١٩)، مسند احمد (٤/٣٣٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٤ (١٤٠١) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا، میں (وہاں سے) لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی، آپ ﷺ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا، میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ ﷺ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا، میں آپ ﷺ کو قرآت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: میں نے تم کو جس کام کے لیے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا؟، میں نے تم سے بات اس لیے نہیں کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: There is no loss in prayer nor in salutation. Ahmad (b. Hanbal) said: This means, I think, that you do not salute nor you are saluted by others. The loss of a man in his prayer is that a man remains doubtful about it when he finishes it.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٢٧١٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/السھو ٦ (١١٩٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٩ (١٠١٨)، مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٣٤، ٣٣٨، ٣٨٠، ٢٩٦)، ویأتي برقم: (١٢٢٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے، تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں نے بلال ؓ سے پوچھا: جب انصار نے رسول اللہ ﷺ کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ ﷺ کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟ بلال ؓ کہا: آپ ﷺ اس طرح کر رہے تھے، اور بلال ؓ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے، جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: There is no loss in salutation and in prayer. Abu Dawud said: According to the version of Ibn Mahdi, this tradition has been narrated by Ibn Fudail as a statement of Abu Hurairah and not as a saying of the Prophet ﷺ
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الصلاة ١٥٥ (٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٣٨، ٨٥١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز میں نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے ١ ؎، احمد کہتے ہیں: جہاں تک میں سمجھتا ہوں مطلب یہ ہے کہ (نماز میں) نہ تو تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور نماز میں نقصان یہ ہے کہ آدمی نماز سے اس حال میں پلٹے کہ وہ اس میں شک کرنے والا ہو۔
Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami said: I was praying with the Messenger of Allah ﷺ . A man in the company sneezed, and I said: May Allah have mercy on you! The people gave me disapproving looks, so I said: Woe is to me! What do you mean by looking at me? They began to strike their hand on their thighs; then I realised that they were urging me to be silent. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer – for whom I would give my father and mother as ransom-he did not beat, scold or revile me, but said: No talk to people in lawful in this prayer, for it consists only in glorifying Allah, declaring His greatness, and reciting the Quran or words to that effect said by the Messenger of Allah ﷺ . I said: Messenger of Allah, we were only recently pagans, but Allah has brought Islam to us, and among us there are men who have recourse to soothsayers (kahins). He replied: Do not have recourse to them. I said: Among us are there are men who take omens. He replied: That is something which they find, but let it not turn them away (from what they intended to do). I said: among us there are men who draw lines. He replied: There was a prophet who drew lines; so if the line of anyone tallies with this line, that might come true. I said: A slave-girl of mine used to tend goats before (the mountain) Uhud and al-Jawaniyyah. Once when I reached her (suddenly) I found that a wolf had taken away a goat of them. I am a human being; I feel grieved as others do. But I gave her a good knocking. This was unbearable for the Messenger of Allah ﷺ . I asked: Should I set her free ? He replied: Bring her to me. So I brought her to him. He asked (her): Where is Allah ? She said: In the heaven. He said: Who am I ? She replied: You are the Messenger of Allah. He said: Set her free, for she is believer.
Notes · وضاحت
١ ؎: سلام میں نقص نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ تم سلام کا مکمل جواب دو اس میں کوئی کمی نہ کرو یعنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے جواب میں صرف وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ہی پر اکتفا نہ کرو بلکہ ” وبرکاتہ “ بھی کہو، ایسے ہی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں صرف وعلیکم السلام ہی نہ کہو بلکہ ورحمۃ اللہ بھی کہو، اور نماز میں نقص کا ایک مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدے پورے طور سے ادا نہ کئے جائیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ نماز میں اگر شک ہوجائے کہ تین رکعت ہوئی یا چار تو تین کو جو یقین ہے چھوڑ کر چار کو اختیار نہ کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٤٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٦١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ سلام میں نقص ہے اور نہ نماز میں ۔ معاویہ بن ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح لا غرار في تسليم ولا صلاة کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے (بلکہ ابوہریرہ ؓ کا قول بتایا ہے) ۔
Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami said ; when I came to the Messenger of Allah ﷺ I learnt many things about islam. One of the things that I was taught was that it was that it was pointed out me. When you sneeze, praise Allah (I, e, say “praise be to Allah”); and when someone sneezes and praises Allah, say “ May Allah have mercy on you. Meanwhile I was standing along with the Messenger of Allah ﷺ during prayer, all of a sudden a man sneezed, and he praised Allah. So I said, “may Allah have mercy on you”, in a loud voice. The people gave me disapproving looks so much so that I took ill of it. So I said: what do you mean by looking at me with furtive glances. Then they glorified Allah. When the prophet ﷺ finished his prayer, he asked; who was the speaker? The Prophet told him; this Bedouin. The Messenger of Allah ﷺ called me and said to me: Prayer is meant for the recitation of the Quran, and making mention of Allah. When you are in it (prayer), this should be your work therein. I never saw an instructor more lenient than the Messenger of Allah ﷺ
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٤٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٦١) (صحیح )
معاویہ بن حکم سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (حالت نماز میں) يرحمک الله کہا، اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے، میں نے (اپنے دل میں) کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کردیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، میرے ماں باپ رسول اللہ ﷺ پر قربان ہوں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف اتنا فرمایا: نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ، یا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں (ابھی) نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہم کو (جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر) دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس مت جاؤ ۔ میں نے کہا: ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ان کے دلوں کا وہم ہے، یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے ۔ پھر میں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیر (خط) کھینچتے ہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی خط (لکیریں) کھینچا کرتے تھے، اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہوا، وہ صحیح ہے ۔ میں نے کہا: میرے پاس ایک لونڈی ہے، جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی، ایک بار میں (اچانک) پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں، مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کردیا تو یہ بات رسول اللہ ﷺ پر گراں گزری، میں نے عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ ، میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ ﷺ نے (اس لونڈی سے) پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ ، اس نے کہا: آسمان کے اوپر ہے، پھر آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے ۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ recited the verse Nor of those who go astray (Surah al-Fatihah, verse 7), he would say Amin; and raised his voice (while uttering this word).