عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء: چہرہ ١ ؎، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; when you come to pray while we are prostrating ourselves, you must prostrate yourselves, and do not reckon it anything (rak’ah) he has been present at the prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: چہرہ میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں سجدے میں پیشانی کا زمین پر لگنا ضروری ہے اس کے بغیر سجدے کا مفہوم پورے طور سے ادا نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ٩١ (٢٧٢)، سنن النسائی/التطبیق ٤١ (١٠٩٥)، ٤٦ (١١٠٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٥)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو چاہیئے کہ دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو چاہیئے کہ انہیں بھی اٹھائے ۔
Abu saeed al-Khudri said: The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah ﷺ due to the prayer in which he led the people.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٣٩ (١٠٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦) (صحیح )
Narrated Al-Bara ibn Azib: Al-Bara described to us (the nature of prostration). He placed his hands (palms), reclined on his knees, and raised his hips; he said: This is how the Messenger of Allah ﷺ used to prostrate himself.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ براء بن عازب ؓ نے ہمیں سجدہ کرنے کا طریقہ بتایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک لگائی اور اپنی سرین کو بلند کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔
Anas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; Adopt a moderate position when prostrating yourselves, and see that none of you stretches out his forearms (on the ground) like a dog.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی شریک ضعیف ہیں )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سجدے میں اعتدال کرو ١ ؎ اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
Maimunah said: When the Prophet ﷺ prostrated himself, he kept his arms so far away from his sides that if a lamb had wanted to pass under his arms, it could have done so.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنی ہیئت درمیانی رکھو اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے جدا ہوں اور پیٹ ران سے جدا ہو۔
ام المؤمنین میمونہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ (بغل سے) جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے دونوں ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I came to the Prophet ﷺ from behind. I saw the whiteness of his armpits and he kept his arms away from his sides and raised his stomach (from the ground).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٦ (٢٣٨)، سنن النسائی/التطبیق ٥٢ (١١١٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣١، ٣٣٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٩ (١٣٧٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ کے پیچھے سے آیا (اور آپ سجدے میں تھے) تو میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ ﷺ اس طرح سجدہ کئے ہوئے تھے کہ اپنے دونوں بازو پسلیوں سے جدا کئے ہوئے تھے اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے ہوئے تھے۔
Narrated Ahmar ibn Jaz (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ prostrated himself, he kept his arms far away from his sides so much so that we took pity on him.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ١/٢٩٢، ٣٠٢، ٣٠٥، ٣١٦، ٣١٧، ٣٣٩، ٣٤٣، ٣٥٤، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح )
احمر بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں (آپ کی تکلیف و مشقت پر) رحم آجاتا۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: when one of you prostrates himself, he should not stretch out his forearms ( on the ground) like a dog and he should join both of his thighs.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٠)، (تحفة الأشراف: ٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٠، ٤/٣٤٢، ٥/٣١) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Companions of the Prophet ﷺ complained to the Prophet ﷺ about the hardship when they kept their forearms far away from their sides while prostrating. He said: Take help with the elbows (by spreading them on the ground and sticking them to the sides).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٥٩٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٨٥ (٢٦٩)، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩٢)، مسند احمد (٢/٣٨١) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨٣٧/٢ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: زانو (گھٹنے) سے مدد لے لیا کرو ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Saeed ibn Ziyad ibn Subayh al-Hanafi said: I prayed by the side of Ibn Umar and I put my hands on my waist. When he finished his prayer, He said: This is a cross in prayer; the Messenger of Allah ﷺ used to forbid it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹیک دیا کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٠٠ (٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٩، ٤١٧) (ضعیف) ( محمد بن عجلان کی اس حدیث کو سمی سے ان سے زیادہ ثقہ، اور معتبر رواة نے مرسلا ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٩ ؍ ٨٣٢ )
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی) کی شکل ہے ١ ؎، اس سے رسول اللہ ﷺ منع فرماتے تھے ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn ash-Shikhkhir: I saw the Messenger of Allah ﷺ praying and a sound came from his breast like the rumbling of a mill owing to weeping.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں۔ ٢ ؎: مؤلف نے ترجمۃ الباب میں الاقعاء کا ذکر کیا ہے لیکن اس سے متعلق کوئی روایت یہاں درج نہیں کی ہے، ابن عباس ؓ کی إقعاء والی روایت اس سے پہلے الإقعاء بين السجدتين باب (١٤٣) کے تحت گزری۔
عبداللہ بن شخیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے چکی کی آواز کے مانند آواز آتی تھی۔
Zaid bin Khalid al-Juhani reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anyone who performs ablution and performs his ablution well, and then he offers two rak’ahs of prayers in a way that he does not forget ( anything in it), will be forgiven all his past sins.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل ٤٤ (٣٠٥)، سنن النسائی/السھو ١٨ (١٢١٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥، ٢٦) (صحیح )
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں ١ ؎ تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
Uqbah. B Amir al-Juhani reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Any one performs ablution and performs the ablution perfectly and then offers two rak’ahs of prayers concentrating on them with his heart and face but paradise will necessarily fall to his lot.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے دنیاوی خیالات اور نماز سے غیر متعلق امور ذہن میں نہیں لاتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٧) (حسن )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ۔
Narrated Al-Miswar ibn Yazid al-Maliki (RA) : The Messenger of Allah ﷺ recited - Yahya (sub narrator) said: Sometimes al-Miswar said: I prayed along with the Messenger of Allah ﷺ and witnessed that he recited - the Quran during the prayer and omitted something (i. e. some verses inadvertently) which he did not recite. A man said to him: Messenger of Allah, you omitted such-and-such verse. The Messenger of Allah ﷺ said: Why did you not remind me of it? The narrator Sulayman said in his version: He (the man) said: I thought that it (the verse) was repealed.
مسور بن یزید مالکی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں قرآت کر رہے تھے، (یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے) تو آپ ﷺ نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا (نماز کے بعد) ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ: میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہوگئی ہیں۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہوگیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب ؓ سے پوچھا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ ، ابی نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں (لقمہ دینے سے) کس چیز نے روک دیا؟ ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ said: Ali, do not instruct the imam during the prayer. Abu Dawud said: The narrator Abu Ishaq heard only for traditions from al-Harith, this tradition is not one of them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٧٦٦، ١١٢٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٤) (حسن )
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah, the Most High, continues to turn favourably towards a servant while he is engaged in prayer as long as he does not look to the side (by turning the neck), but if he does so, He turns away from him.
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی! تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور حدیث ان میں سے نہیں ہے۔
Aishah said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about looking to the sides during prayer. He said: It is something which the devil snatches from a servant’s prayers.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤٦) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث اعور نہایت ضعیف راوی ہے، نیز یہ حدیث ابواسحاق نے حارث سے نہیں سنی )
ابوذر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔
Abu Saeed al-Khudri said: The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah ﷺ who had led the people I prayer. Abu Ali said: Abu Dawud did not recite this tradition when he recited his collection (of sunan) for the fourth time.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ١٠ (١١٩٦)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٤ (١٤٦٣) (حسن) (اس کے راوی ابو الأحوص لین الحدیث ہیں، بعض لوگوں کے نزدیک مجہول ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨٤٣/م، و صحیح الترغیب: ٥٥٢-٥٥٤ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے (یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے) ۔
Jabir bin Samurah said (this is the version of the narrator Uthman): The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque and saw there some people praying raising their hand towards the heaven. (This Is the common version:) He said: People must stop raising their eyes to the heaven. The narrator Musaddad said: During prayer, otherwise their sight will be taken away.